نعت خواں: طاہر علی وینس (میرے ماموں)
یہ کیسی آفر ہے!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←دھرنا ہو گا!
مکمل تحریر پڑھیں ←ہوائی داڑھی اور شریعت!
“”اوئے کس پریشانی میں اِدھر اُدھر چل رہا ہے؟ “”
“یار مت پوچھ! پڑی ٹینشن ہے“
“’“کیا ہے ٹینشن جگر! شیئر نہیں کرے گا! “”
“یہ لیں خود ہی پڑھ لے اخبار!“
“نہیں یار! اشتہار کے اوپر جو ہے“
اچھا یہ (ز) کی گھر سے بھاگنے والی خبر
“ابے نہیں یہ پی آئی اے والی، جس میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے ملازمین پر داڑھی کی پابندی لگائی ہے اور فرنچ کٹ رکھنے کا حکم دیا ہے“
اچھا اچھا! گرم کیوں ہوتا ہے“ (خاموشی) “ٹھیک ہے! سمجھ آ گئی ہے! پڑھ لی ہے میں نے خبر
“تو کیا کہتے ہو؟“
یہ سب تو شریعت کے نفاذ کے لئے کیا ہے پی آئی اے والوں نے، ہوائی جہاز میں
“کیا مطلب؟ کیا بکواس ہے؟“
بھائی ابھی یہ پابندی لگی! پھر احتجاج ہو گا! حکومت اپنی رِٹ قائم کرنے کے لئے ہوائی جہاز کے عملے پر فوجی کاروائی کرے گی! دونوں طرف کا کافی نقصان ہوا گا! آخر میں ‘صوفی محمد‘ کی تلاش کی جائے گی اور امن معاہدہ ہوجائے گا اور وہ ‘صوفی محمد‘ داڑھی کی شرط حکومت سے منوائے گا اور فرنچ کٹ کا بھی ہامی ہوگا! بات ختم پیسہ ہضم
‘یہ کیا منطق نکالی جناب نے؟“
اب ایسے بہودہ فیصلوں کے لئے اور کیا بہانہ تراشہ جائے؟ ویسے ایک بات کنفرم ہے یہ حکم خواتین کے لئے نہیں ہے
کراچی اردو بلاگرز ایک ملاقات
آج ملیر میں ایک ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں عمار (ابن ضیاء) ، فہد (ابو شامل)، م م مغل، فہیم اور میں نے شرکت کی! اس ملاقات کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ میزبان سب سی آخر میں جائے ملاقات پر پہنچا! خاصی اچھی ملاقات رہی! م م مغل جلدی چلے گئے تھے! مگر جب تک رہے خالص اردو کے جھٹکے لگاتے رہے، انہوں نے یہ صرف یہ باور کروادیا کہ میں اردو سے ناواقف ہوں بلکہ ثابت بھی کر دیا! اس کے علاوہ اردو محفل، اُس کے پروجیکٹ ، ممبران ، اُن کے خیالات، اُس کی شخصیات ، اُن کی ممکنہ عمر، نئے پرانے بلاگ و بلاگرز، بلاگرز کی تحریریں اور اُس کی روشنی میں اُن کی شخضیات کا جائزہ مختلف جانب سے پیش کیا جاتا رہا! اور ویب کی دنیا میں اردو کے مستقبل پر بات ہوئی!
اِس ملاقات کی تصاویر یہ ہیں! جو ہمارے پاس ہیں! کچھ م م مغل کے کیمرے میں بھی محفوظ ہیں!۔

چار سال!
19فروری دو ہزار پانچ سے اردو بلاگنک کا آغاز کیا اور آج چار سال ہو گئے ہیں! تب اور اب میں بہت تبدیلی آ چکی ہے! بلاگز سے ورڈپریس پر گیا دو مرتبہ ڈیٹا ضائع ہوا! اب پھر واپس بلاگز پر! یہ سفر کیسا رہا؟ میرے مطابق ! ہاں ٹھیک ہی ہے! اللہ کرے آگے بھی اچھا ہو!
بچہ بنا باپ
اگر آپ پاکستان میں کسی سے اُس کی شادی و اولاد کا پوچھے تو آپ کو سوالات کو ایک مخصوص ترتیب سے رکھنا پڑے گا! یعنی اگر مرد و عورت غیر شادی شدہ ہوں تو اُن کی اولاد کے ہونے سے متعلق نہیں پوچھا جاتا! اور اگر وہ ماں یا باپ بن چکے ہوں تو یہ یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ “کیا آپ شادی شدہ ہیں؟“۔ مگر یار دوست دعوٰی کرتے ہیں کہ مغرب میں آپ یہ قسم کی ترتیب سے آزاد ہو کر کوئی بھی سوال پہلے کرسکتے ہیں! یہ بات اپنی اپنی اخلاقی معیار کے پیمانے میں دیکھی جاتی ہے!
برطانوی اخبار “دی سن“ نے ایک خبر یا اسٹوری بریک کی کہ 13 سالہ ایلفی باپ بن گیا! اخباری نیوز سائیٹ و بلاگز پر اس خبر پر مختلف سوالات اُٹھے ہیں! اس خبر کے بریک ہونے سے امکان یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایلفی و چینٹیلے سٹیڈمین کے خاندانوں کو قریب ایک آدھ ملین ڈالر کی کمائی ہو جائے گی کیونکہ قریب پندرہ کے قریب ٹی وی والے اُن پر دستاویزی فلم بنانا چاہتے ہیں! پیسے کا لالچ بہت بُرا ہوتا ہے! اس لئے پانچ دن کی امیسی روکسین نامی بچی کے باپ ہونے کے دعویدار میدان میں اُتر آئے ہیں!
پچھلے دنوں میں نے عالمی بلاگ پر دو پوسٹ “طرز فکر“ (اول و دوئم) لکھی تھیں جس میں اپنے معاشری میں موجود کچھ مخصوص طرز فکر ویسے جیسے میں نے سنے لکھے دیئے! ایسے ہی طرز فکر مجھے ایلفی کے کم عمری میں باپ بننے کے بعد پرطانیہ میں دیکنھے کو آیا! جو میرے جیسوں کے لئے قابل غور ہے!
اس واقعے کو برطانوی معاشرے کے بگاڑ یا عدم توازن سے تعبیر کیا جا رہا ہے، اخلاقی اقدار زیر بحث آ رہی ہیں! اکیسویں صدی میں معاشرتی پستی کو ناپا جا رہا ہے! کوئی لبرل حلقوں کو قصوروار بتاتا ہے، اور کوئی اسکولوں میں جنسی تعلیم میں مزید بہتری کی ضرورت کو اہم جانتا ہے!
مختصر وہاں بھی کچھ ہمارے مولوی کی خصلت کے لوگ نظر آتے ہیں! کیا بات ہے!
تو ثابت یہ ہوا وہاں بھی مخصوص طرز فکر پایا جاتا ہے!!خواہ وجہ کوئی بھی ہو۔۔۔
فوری تعلیم، تیز خواندگی
لیں جی اگر آپ انگھوٹھا چھاپ ہیں تو دنوں میں اپنی تعلیم مکمل کرسکتے ہیں! اور نہ صرف خواندہ ہوسکتے ہیں بلکہ واہ واہ ہوسکتی ہے آپ کی!!! معاملہ بہت سادہ ساٹھ دنوں میں F.Sc کرلیں لوکل اسکول سے اور باقی کی تعلیم یہاں تک کہ Phd بھی کر سکتے ہیں انٹرنیشل ادارے سے
!! باقی عامر لیاقت کی طرح ٓآپ کی لیاقت اور بابر اعوان کی طرح قابلیت جعلی نکلے تو میرا قصور نہیں!!!
ڈاکٹر عبدالقدیر پاکستان میں یارورڈ یونیورسٹی بنائیں
twitter for tweeting
twitter ایک اچھی سروس ہے! اُس کی پیدائش کا قصہ تو خود اُس ٹیم کا ساتھی بیان کر چکا ہے! پاکستان سے صرف وہ احباب اپنے موبائیل سے tweet کر سکتے تھے جنہوں نے GPRS آن کروایا ہوتا تھا مگر اب ismspk کی مہربانی سے آپ ایک سادہ ایس یم ایس سے اپنا پیغام tweet کر سکتے ہیں! مگر اس کے لئے آپ کو ismspk کی رکنیت لینا ہو گی!
اور میرا نہیں خیال یہ کوئی مہنگا سودا ہے! ویسے تو آپ ismspk کے ذریعے پاکستان میں اپنے کسی بھی دوست کو نہ صرف ایس ایم ایس کرسکتے ہیں بلکہ اُس کا جواب بھی آپ وہاں موصول کر سکتے ہیں مگر twitter سے اس کا یہ ملن کمال ہے! ہاں خرچہ وہ ہی جو ایک ایس ایم ایس کا آپ کو ادا کرنا ہوگا جو آپ کی سروس آپ سے چارج کرے گی! اگر آپ نے کوئی ایس ایم ایس کا پیکج لیا ہوا ہے تو کمال ہو گیا ہے آپ کے لئے!
طریقہ کار بہت سادہ ہے ismspk کے ممبر بنے اپنا فون نمبر(موبائیل) دے یاد سے Receive SMS والے خانے کو لازمی منتخب کریں! ممبر بنے کے دوران جس نمبر سے دعوتی کوڈ آٓیا اُسے اپنے پاس محفوظ کر لیں! اب ismspk کی setting میں جا کر اپنے twitter کے اکاؤنٹ کو Integration کر لیں!!! بس اب آپ نے جو پیغام بھی twitter پر دینا ہو اُُس سے قبل tweet لکھ کر ismspk والوں کے نمبر پرایس ایم ایس کر دیں بات ختم!!!
اور اگر آپ twitter پر ہیں تو مجھ پر نظر رکھے شاید کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر دعوت نامہ چاہٗے ہو ممبر بننے کے لئے تو بتا دینا بندہ حاضر ہےismspk کی ممبر سازی میں حصہ ڈال دے گا!!!