twitter for tweeting

twitter for tweeting

twitter ایک اچھی سروس ہے!  اُس کی پیدائش کا قصہ تو خود  اُس ٹیم کا ساتھی بیان کر چکا ہے! پاکستان سے صرف وہ احباب اپنے موبائیل سے tweet کر سکتے تھے جنہوں نے GPRS آن کروایا ہوتا تھا مگر اب ismspk کی مہربانی سے آپ ایک سادہ ایس یم ایس سے اپنا پیغام tweet کر سکتے ہیں! مگر اس کے لئے آپ کو ismspk کی رکنیت لینا ہو گی!

اور میرا نہیں خیال یہ کوئی مہنگا سودا ہے! ویسے تو آپ  ismspk کے ذریعے پاکستان میں اپنے کسی بھی دوست کو نہ صرف ایس ایم ایس کرسکتے ہیں بلکہ اُس کا جواب بھی آپ وہاں موصول کر سکتے ہیں مگر twitter سے اس کا یہ ملن کمال ہے! ہاں خرچہ وہ ہی جو ایک ایس ایم ایس کا آپ کو ادا کرنا ہوگا جو آپ کی سروس آپ سے چارج کرے گی! اگر آپ نے کوئی ایس ایم ایس کا پیکج لیا ہوا ہے تو کمال ہو گیا ہے آپ کے لئے!

طریقہ کار بہت سادہ ہے ismspk کے ممبر بنے اپنا فون نمبر(موبائیل)  دے یاد سے Receive SMS  والے خانے کو لازمی منتخب کریں! ممبر بنے کے دوران جس نمبر سے دعوتی کوڈ آٓیا  اُسے اپنے پاس محفوظ کر لیں! اب ismspk کی  setting میں جا کر اپنے twitter کے اکاؤنٹ کو Integration کر لیں!!! بس اب آپ نے جو پیغام بھی twitter پر دینا ہو اُُ؃س سے قبل tweet لکھ کر  ismspk والوں کے نمبر پرایس ایم ایس کر دیں بات ختم!!!

اور  اگر آپ twitter  پر ہیں تو مجھ پر نظر رکھے شاید کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Tongue out

اور اگر دعوت نامہ چاہٗے ہو ممبر بننے کے لئے تو بتا دینا بندہ حاضر ہےismspk  کی ممبر سازی میں حصہ ڈال دے گا!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
چلو کوئی تو دلپسند خبر ملی۔

چلو کوئی تو دلپسند خبر ملی۔

یوں تو اَسے اچھی خبر کہا جائے گا مگر سچی بات ہے اس خبر کو سُن کر یقین نہیں آ رہا! مجھے امید نہیں تھی کہ کبھی ایسا ہو گا! واقعی ہم اپنے محسنوں کو اُن کی زندگی میں عزت و احترام واپس لوٹا دیں گے! بنیادی طور پر یہ ہمارا قومی مزاج تو نہیں، ماضی تو ایسا شاندار نہیں ہے! جب پہلے پہل یہ خبر مجھ تک پہنچی تو میں نے اَسے رد کر دیا تھا ! میرا رد عمل تھا، “”چل اوٗئے! ایسا نہیں ہوسکتا! یہ عدالتیں ایسا نہیں کر سکتی، ڈوگر والا کیس سامنے ہے پھر یہ اسلام آباد کی  ہائی کورٹ؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ تو ویسے بھی ابھی تک مخصوص آئینی سقم کی بنیاد پر ہے ہی غیر آئینی عدالت”

مگر شکر ہے میری سوچ فیصلے ہی حد تک غلط ثابت ہوئی!

تمام محب وطن پاکستانیوں کو اپنے ہیرو کی آزادی مبارک ہو!

ہاں اب باقی دنیا کے ردعمل کو دیکھنا ہو گا! اور یہ بھی منفی ہونے کی صورت میں حکومت کیا حکمت عملی اپناتی ہے؟ نیز عدالتی حکم پر کتنا اور کب تک عمل ہوتا ہے؟

مکمل تحریر پڑھیں ←

موٹے جملے

نذر، نیاز، تحفہ، تحائف، انسانوں اور دیوتاؤں دونوں کو ورغلانے کی یکساں مقدرت رکھتے ہیں۔


جیل، مدرسہ، مذہبی ادارے انسان کو آدمی نہیں بناتے ہاں آدمی ہی صرف آدمیت سکھا سکتا ہے۔


جان پہچان کی تعریف یہ بھی ہے کہ ہم اس سے بے دھڑک قرض حاصل کرتے رہیں، لیکن قرض کی واپسی یا خود اس کو قرض دیتے وقت تامل کریں۔


ہم اُس شخص کو جو صبح شام ہماری خوشامد کرتا ہے اور ہماری شان میں جھوٹے قصیدے پڑھتا ہے پسند کرتے ہیں لیکن ہم اُن لوگوں کو ناپسند کرتے ہیں اور نہ ہی اچھا سمجھتے ہیں، جن کے قصیدے کسی وجہ سے ہم کو پڑھنا پڑھتے ہیں۔


بہادر ہونا آسان ہے، کوئی شخص بھی کسی بھی وقت جرات، ہمت سے کام لیکر بہادری کا مظاہرہ کر سکتا ہے، لیکن شعیف ہونا مشکل ہے، ہر وقت ساری زندگی شرافت کا دامن ہاتھ سے پکڑنا پڑتا ہے۔


ہم دنیا کو پڑھتے اُلٹے طریقے سے ہیں، اور الزام دنیا  کے سر رکھتے ہیں کہ دنیا دھوکہ دے رہی ہے۔


جب چوہا بلی کا مذاق اُڑانا شروع کردے تو سمجھ لو کہ اس کا بل نزدیک ہے۔


خنجر کو بے نیام کرنے سے پہلے یہ اطمینان کر لیجئے کہ اس کی دھار اچھی طریقے سے تیز کر لی گئی ہے۔

ایڈوکیٹ سید اظہار حیدر رضوی کی کتاب ‘وکالت اور جرح کا فن‘ سے انتخاب

مکمل تحریر پڑھیں ←
ہولوکاسٹ کل و آج

ہولوکاسٹ کل و آج

یہودی اپنی مظلومیت کی کہانی کا آغاز و اختتام ہولوکاسٹ سے کرتے ہیں! اور کئی لوگ ہولوکاسٹ کے حقیقت ہونے پر شک کا اظہار کرتے ہیں!
اگر ہولوکاسٹ ویسا ہی ہے جیسا اہل یہود باور کراتے ہیں تو ایک نظر موازنہ کرتے ہیں کہ آیا ہولوکاسٹ سے یہودیوں نے کیا سیکھا!!!

لوگوں کو مقید رکھنے کیلئے فصیل و دیوار کی تعمیر

 

آزادانہ تقل و حمل پر بندش کیلئے چیک پوائینٹ کا قیام

گرفتاریاں و تشدد

 

گھر و رہائش گاہوں کو مسمار کرنا

اور نشل کشی!

اب آپ خود بتائیں یہ تصاویر کیا بتا رہی ہیں!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

زید حامد، یوسف کذاب اور آڈیو ٹیپ

Brasstrack والے زید حامد کے متعلق یہ بات کنفرم کی حد تک ثابت ہو چکی ہے کہ وہ یوسف کذاب کے خلیفہ تھے!‌ توہین رسالت کے مرتکب!‌یوسف کذاب اِصے صدیق اکبر کہا کرتا تھا!‌ آج islamabadobserver کی اس پوسٹ‌ سے ایک آڈیو ٹیپ کا حؤالہ ملا جس میں‌یو سف زید حامد کا تعارف کرواتا ہے اور یہ کوئی ایک منٹ کے لئے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہیں!!!‌ساتویں‌ منٹ‌ میں‌تعارف ہے!

آگے اللہ بہتر جانتا ہے!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے

اسرائیل کا غزہ پر فوجی دہشت گردی کا تیسرا ہفتہ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے اور ہنوز اس جارحیت کو روکنے کی تمام کاوشیں ناکام ہوئی ہیں، نیز اوباما کی حلف برداری تک یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر نہیں آتی! ممکن ہے اُس وقت اس جارحیت کو روک کر اسرائیل اِس کا سہرا اوبامہ کے سر ڈال دے اور ساتھ ہی آنے والے الیکشن میں اسرائیل کی حکمران پارٹی مخصوص فائدہ اُٹھائے۔

ان تین ہفتوں میں روزانہ پچپن کی اوسط سے اب تک قریب ایک ہزار ستر فلسطینی مسلمان شہید ہوئے، جن میں پانچ سو  تک بچے و خواتین شامل ہیں جو کُل شہادتوں کا قریب پنتالیس فیصد بنتا ہے، اس کے علاوہ پانچ ہزار تک زخمی ہوئے ہیں اور پانچ لاکھ کی تمام  آبادی متاثر و قریب نوے ہزار سے ایک لاکھ  بے گھر ہو چکے ہیں ۔

جبکہ  جواب میں صرف چودہ اسرائیلی مارے گئے! ہلاکتوں کی تعداد و فرق یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آیا یہ جنگ ہے یا اسرائیلی ریاست کی طرف سے کھلی دہشت گردی؟ اسرائیلی افواج نے پورے غزہ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے! ایک ایک رات میں قریب قریب ساٹھ ہوائی حملے غزہ پر ہوتے ہیں اور اسرائیل جواب میں چند حماس کے راکٹ کے حملوں کو جواز بناتا ہے جبکہ خود جون دوہزار آٹھ سے امن معاہدہ کے اختتام تک گاہے بگاہے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جن دوسو پچاس افراد کو شہید کرنے کا جرم اُسے یاد نہیں۔

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے!

اسرائیل نے قریب صرف چار سو دس فلسطینی بچے اپنی وحشت کا شکار بنائے ہیں اور قریب دوہزار زخمی کئے ہیں، یہ وہ تعداد ہے جو جمسانی طور پر متاثر ہوئے ہیں مگر نفسیاتی بیمار ہوئے یا متاثر اُن کا ابھی علم ہی نہیں! اب اسرائیل کو مستقبل میں خود کُش حملوں کی شکایت نہیں کرنی چاہئے کہ خودکُش بمبار تو وہ خود گزشتہ تین ہفتوں سے تیار کر رہا ہے۔

اپنوں کی لاشوں پر نا معلوم کتنے لوگوں نے بدلے کا عہد کیا ہو! اور کتنے آزاد فلسطین کی عملی جدوجہد کے راہی بننے کے خود سے آمادہ ہو چکے ہوں!۔ اسرائیل اس دوران غزہ کی آبادی کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر لے کر اُس پر اپنا جدید اسلحہ استعمال کر رہا ہے جو پہلے دیکھنے میں یوں نہیں آئے ظالم وہ بم گرا رہا ہے جن سے انسانی جسم بری طرح سے جھلس جاتا ہے اور انسان ایڑیاں رگڑرگڑ کر اپنی جان دے دیتا ہے۔

اس کے علاوہ  سفید فاسفورس (اس کا ستعمال جنیوا کنونشن کے تحت ممنوع ہے، 1995 میں اسرائیل نے اس پر دستخط کئے تھے)  بم جو انسانی گوشت کو ہڈیوں تک جلا دیتا ہے اُن کے زیراستعمال ہے ، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے زخمی ہسپتال میں لائے جا رہے ہیں جن کے جسم بری طرح سے جھلس چکے ہوتے ہیں (جس کا مشاہدہ محتلف جاری ہونے والے تصاویر سے ہوتا ہے)۔

امریکہ و اسرائیل کو حماس سے شکایت ہے جو ایک جمہوری عمل سے اقتدار میں آئی تھی اور ہے،  شکایت وہ اُن مسلم حکمرانوں سے کررہے ہیں جو اپنے اپنے ملک میں عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں!

اِسے کیا کہا جائے؟

چند مسلم حکمرانوں کے گھروں میں یہودی بیویاں ہیں! اہل بنی اسرائیل میں اگر مرد باہر شادی کر لے تو خارج مگر اگر عورت ایسا کرے تو اُس کی اولاد بنی اسرائیل کی اولاد کہلاتی ہے! اس لئے انہیں اعتراض نہیں ہوتا اپنی عورتوں پر۔ اس کا ثمر مصر کی پالسی کی صورت میں نظر آ رہا ہے! جہاں کے تاجروں کی بڑی تعداد یہودی بیویاں رکھتے ہیں۔

آج جب اہل فلسطین کو ضرورت ہے تو مصر نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں!

کسی بھی قسم کی تقل حمل بند ہے، خواراک و ادویات کے لئے منتظر فلسطینی سرحد کے اُس پار جبکہ خوارک و ادویات سرحد کے اس پار ہیں۔ امدادی ٹیموں کو بھی مصر فلسطین میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا صرف اٹھائیس زخمی مصر میں داخل ہو پائے ہیں۔ منافقت دیکھے اسرائیل سے ہر طرح معاہدے و کاروبار جاری ہیں مصر کے وہ فلسطینوں کو تیل دینے سے انکاری ہے مگر قابض اسرائیل سے اگلے پچیس سال تک آج کی کی قیمت میں تیل کی فراہمی کا وعدہ ایفا کر رہا ہے!

یار لوگ پُر امید ہیں مستقبل قریب میں سب اچھا ہو جائے گا!

اور آج کی صورت حال کا ذمہ دار حکمرانوں کو دیتے ہیں!

مگر میں نا امید ہوں ، آگے کچھ نہیں ہونے والا، ممکن ہے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام رُک جائے مگر مسلمانوں کا نہیں رکتا نظر آتا۔ ان کی آواز سننے والا بھی کوئی نہ ہو گا!

او آئی سی بھی صفر جمع صفر کا مجموعہ ہے اور بقول ضمیر جعفری یو این او میں یو دراصل یو ایس اے (امریکہ) کا ہے باقی سب کے لئے نو(NO) ہی نو ہے۔

جب تک عوام کے اعمال درست نہیں ہوں گے حکمران بھی اچھے نہیں ملیں گے، خود تو ہم ہر طرح کی برائیوں میں مبتلا رہے اور حاکم پاکباز ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟

کہیں غزہ کو سزا خود ہماری ھی وجہ سے تو نہیں مل رہی ہے

 

عالمی اخبار کے لئے لکھی گئی میری ایک تحریر!!

مکمل تحریر پڑھیں ←