فرمان قائد

“رسول اکرم ایک عظیم رہبر تھے، آپ ایک عظیم قانون عطا کرنے والے تھے۔ آپ ایک عظیم مدبر تھے۔ آپ ایک عظیم فرمانروا تھے۔ جنہوں نے حکمرانی کی۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو بلا شبہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس بات کو بالکل نہیں سراہتے“

قائداعظم، 25 جنوری 1948ء ، عیدمیلادالبنی سے خطاب، کراچی

مکمل تحریر پڑھیں ←

حکمران کی نیت!

ایک بادشاہ سلامت ایک دن شام میں اپنے وزیر کے ہمراہ دارلحکومت سے باہر نکلے شہر سے باہر انہیں ایک چھوٹا باغ نظر آیا! بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا مجھے تو پیاس محسوس ہو رہی ہے چلو اس باغ سے پیاس کے بجھانے کا کوئی سبب بن جائے گا! وہاں جو پہنچے تو ایک بچے کو کھیلتا دیکھا! بادشاہ اپنے گھوڑے سے اُترا بچے کو آواز دی! جب وہ بچہ قریب آیا تو بادشاہ نے اُس سے کسی بڑے کی وہاں موجودگی کے بارے میں پوچھا! اُس بچے نے اپنی والدہ کا حوالہ دیا۔
بادشاہ نے اُس سے کہا کہ اپنی والدہ کو بتاؤ دواجنبی آئے ہیں! وہ پیاس کو مٹانے کہ لئے کچھ پانی (مشروب) کے طالب ہیں! بچہ دوڑ کے قریب ہی بنی ایک جھونپڑی میں داخل ہوا! وہاں سے نکلا ایک درخت کی جانب لپکا! ایک کینو توڑا اور پھر جھونپڑی میں داخل ہو گیا اور ایک پیالے میں جوس لا کر بادشاہ کو دیا! اس سے قبل بادشاہ باغ کی خوبصورتی کی دل ہی دل میں داد دے رہا تھا! اُس نے پیالہ ہاتھ میں تھامہ اور مشروب کی لذت و تاثیر نے اُسے بہت متاثر کیا! اُس نے بچے سے پوچھا کہ بیٹا یہ باغ کس کا ہے! بچے نے اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا!“میرا“!۔ بادشاہ نے اگلا ہی سوال اُس کے والد کے بارے میں پوچھا تو اُسنے معصومیت سے جواب دیا وہ تو اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں!
اُس لمحے بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ اس یتیم بچے نے اس باغ کا کیا کرنا ہے ایسا باغ تو شاہی ملکیت میں ہونا چاہئے، واپس محل جا کر اس باغ کو شاہی ملکیت میں لے لیتا ہوں! اور بچے اور اُس کی ماں کے لئے ایک ماہنامہ وظیفہ مقرر کر دیتا ہوں! پیالے میں سے جوس ختم کرنے کے بعد بادشاہ نے وہ پیالہ بچے کو واپس کیا، اور مزید جوس کی فرمائش کی! بچہ دوڑ کر جھونپڑی میں داخل ہوا، پھر بادشاہ نے دیکھا کہ وہ بچہ پھر دوڑ کر اُس ہی پرانے والے درخت سے ایک کینو توڑ کر جھونپڑی میں داخل ہو گیا! اس کے بعد یکے بعد دیگر بچے نے چار مزید چکر لگائے! اور پیالہ لا کر بادشاہ کو دیا! بادشاہ نے جب اُس رس کو پیا تو لذت پہلے جیسی نہ تھی!
بادشاہ نے لڑکے سے سوال کیا! پہلے تم نے ایک چکر لگایا تھا اب پانچ اُس درخت تک کیوں؟
بچہ کا جواب تھا پہلے ایک کینو سے ہی پیالہ بھر گیا تھا مگر اب پانچ میں بمشکل بھرا ہے۔
بادشاہ نے ایک سوال بچے کی جانب اور اُچھال دیاکہ! پہلا پیالہ ذیادہ لذیذ تھا کیا وجہ ہے یہ والا ویسا نہیں؟
بچے نے کہا میں اپنی امی سے پوچھ کر بتاتا ہوں! وہ بھاگ کر جھونپڑی میں گیا والدہ سے کہا کہ باہر جو دو اجنبی آئے ہیں وہ ایسے ایسے پوچھ رہے ہیں! والدہ سے جواب پا کر اُس نے بادشاہ کو بتایا کہ!

“والدہ کہہ رہی ہیں معلوم ہوتا ہے ہمارے بادشاہ وقت کی نیت میں کچھ گڑبڑ ہوئی ہے کیونکہ جب بادشاہ وقت کی نیت خراب ہو تب ہی ایسا ہوتا ہے! سونا بھی مٹی ہو جاتا ہے “

بادشاہ نے بات سنی پیالہ خالی کیا! بچے سے ایک اور پیالہ مشروب طلب کیا اپنے وزیر کے لئے اب کی بار بھی ایک ہی کینو سے پیالہ بھر گیا! وزیر نے جب رس پیا تو لذت سے متاثر ہونے کے بعد بادشاہ کو مشورہ دیا کہ ایسا باغ تو شاہی ملکیت میں ہونا چاہئے! اب آپ کو معلوم ہے اُس کا ردعمل کیا ہوا گا!
ہمارے ملک میں اگلے ماہ صدر کے الیکشن ہیں! تین مختلف شخصیات اس دوڑ میں شامل ہیں! جن میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کا جیتنا اب تک نظر آرہا ہے! آصف زرداری، مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے مشہور ہے! ہر پروجیکٹ میں کمیشن دس فیصد ہوتا تھا! اب نیا تناسب کیا ہو گا؟ فیصلہ ہونا باقی ہے تب تو وزیراعظم کا شوہر تھا! اب خود صدر ہو گا! خدا ہمارے حاکموں کی نیت کا فتور ختم کرے، خدا کرے۔
چند احباب کا خیال ہے ایسے حاکم عوام کے اعمال کی بنا پر نازل ہوتے ہیں! مگر یہ بھی سچ ہے کہ حکمران کی بدنیتی اُن مملکت کی رعایا کی معاشی بد حالی کا سبب بنتی ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←

جھڑپ

حسن نثار اور عرفان صدیقی دونوں ہی اچھے کالم نگار ہیں!! دونوں مجھے پسند ہیں!!! منیر نیازی کے انتقال پر عرفان صدیقی نے کالم میں حسن نثار کو مخاطب کیا تو وہاں سے بھی جواب آیا!!!!! یہ میٹھی جھڑپ مجھے اچھی لگی!!!!! دونوں اپنی اپنی وادی کے مکین ہیں!!! حسن نثار خود کو حقیقت پسند کہتے ہیں اور عرفان صدیقی اپنی جگہ سچے ہیں!!!!
ایک اور خبر صبح سے بار بار میرا آر ایس ایس ریڈر دیکھا رہا ہے!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

ہمارا موقف

جہازوں کی خیر اور گھوڑوں کی خیر
یہ مانا کہ “ڈالر“ کی بھرمار ہے
معاشی فتوحات کے باب میں
ہمارا موقف یہ سرکار ہے
دلائل نہیں ۔۔۔ “دال“ درکار ہے

(ضمیر جعفری)
مکمل تحریر پڑھیں ←
مکالمہ

مکالمہ

“ارے کچھ سنا! قائد کے مزار پر خواتین کیڈٹس گارڈ رکھی گئی ہیں“
“ہاں بھائی! چلو اچھا ہے“
“مگر میں اسے دوسری طرح دیکھتا ہوں“
“کس طرح؟“
“تم نے دیکھا ہو گا جب کبھی بل وغیرہ جمع کروانے کی قطار لگی ہو تو کچھ مرد حضرات یہ دیکھ کر کہ مردوں کی قطار لمبی اور خواتین کی قطار چھوٹی ہے تو گھر سہ اپنی ماں یا بہن یا بیوی یا بیٹی کو اس بنا پر کہ جلدی فارغ ہو جائیں گے لے آتے ہیں! جب وہ عورتوں کی قطار میں لگ کر بل جمع کروا رہی ہوتی ہیں تو یہ صاحب کسی دیوار کی چھاؤں میں کھڑے ہو کر یا تو سیگریٹ کے کش لگا رہے ہوتے ہیںیا کسی سے گپ“
“بات کچھ پلے نہیں پڑی!! کیا کہنا چاہ رہے ہو“
“بھائی وہ اپنے آرام کے لئے عورتوں کو گھر سے نکالتے ہیں یہاں بھی خود کو لبرل و روشن خیال ظاہر کرنے کے لئے عورت کو استعمال کیا جا رہا ہے“
“کیا بکواس ہے!! تم لوگ کیسی کیسی باتیں سوچتے رہتے ہو“

مکمل تحریر پڑھیں ←

غزل

تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو

میں تمھارے ہی دَم سے زندہ ہو
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروٌت ہو

تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو

تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے انگڑائی سے شکایت ہو

کس طرح چھوڑ دوں تمھیں جاناں
تم میری زندگی کی عادت ہو

کس لیے دیکھتی ہو ۔۔۔۔ آئینہ
تم تو خود سے بھی خوب صورت ہو

داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مِری آخری محبٌت ہو

(جون ایلیا)
مکمل تحریر پڑھیں ←
رہبر ترقی و کمال

رہبر ترقی و کمال

پنڈت جواہر لعل نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت نے قائداعظم کی رحلت کے بعد ان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا!!!
“اگر مسلم لیگ کے پاس ایک سو گاندھی اور ایک سو نہرو ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک جناح ہوتے تو پاکستان کبھی نہ بنتا“
مکمل تحریر پڑھیں ←