"تم کہاں ہوتے اگر تمہاری ماؤں کو پیدا ہونے نہ دیا جاتا"
یہ جملہ اُس بھارتی اشتہار کا حصہ ہے جو آج تمام بڑے ہندوستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ اشتہار اس وقت بھارتی میڈیا میں زیر بحث ہے وجہ یہ کہ اس میں کپل دیو، وریندر سیواگ اور امجد علی کے ساتھ پاکستان کے سابق ایئر مارشل جناب تنویر محمود کی تصویر بھی بطور قومی ہیرو کے شائع کی گئی۔ اب وزیر وزارت بہبود خواتین و بچوں کرشنا تیرتھ صاحبہ پر وضاحتیں دے رہی ہیں۔ اشتہار ذیل میں ہے۔
ممکن ہے کہ یہ تحریک طالبان ہندوستان یا لشکر طیبہ کی سازش ہوں، اس سلسلے میں پاکستانی آئی ایس آئی نے اُن کی تربیت کی ہو، وہ رات کے اندھیرے میں کسی اُڑن طشتری میں بیٹھ کر ڈیپارٹمنٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ پبلسیٹی میں داخل ہوئے ہوں اور وہاں پہنچ کر انہوں نے لاہور و کراچی میں بیٹھے اپنے "کمانڈر" کے حکم کے تحت یہ سب کیا ہو، آپ کیا کہتے ہوں؟
یہ جملہ اُس بھارتی اشتہار کا حصہ ہے جو آج تمام بڑے ہندوستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ اشتہار اس وقت بھارتی میڈیا میں زیر بحث ہے وجہ یہ کہ اس میں کپل دیو، وریندر سیواگ اور امجد علی کے ساتھ پاکستان کے سابق ایئر مارشل جناب تنویر محمود کی تصویر بھی بطور قومی ہیرو کے شائع کی گئی۔ اب وزیر وزارت بہبود خواتین و بچوں کرشنا تیرتھ صاحبہ پر وضاحتیں دے رہی ہیں۔ اشتہار ذیل میں ہے۔
ممکن ہے کہ یہ تحریک طالبان ہندوستان یا لشکر طیبہ کی سازش ہوں، اس سلسلے میں پاکستانی آئی ایس آئی نے اُن کی تربیت کی ہو، وہ رات کے اندھیرے میں کسی اُڑن طشتری میں بیٹھ کر ڈیپارٹمنٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ پبلسیٹی میں داخل ہوئے ہوں اور وہاں پہنچ کر انہوں نے لاہور و کراچی میں بیٹھے اپنے "کمانڈر" کے حکم کے تحت یہ سب کیا ہو، آپ کیا کہتے ہوں؟

جی آپ نے کپیل دیو کی بجائے 'مچلنا دیو' لکھا ہے، اسے درست کر لیجیے، اور دوسری بات پاکستانی ائر مارشل بھارتیوں کا ہیرو کیوں بن گیا؟
جواب دیںحذف کریںکوئی خاص بات نہیں۔ اپ نے یقینا اس ے نیٹ پر دیکھا ہو گا
جواب دیںحذف کریںنہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔۔ ۔
جواب دیںحذف کریںجس عنوان کے تحت اشتہار دیا گیا ہے ۔ ایئر مارشل تنویر محمود کا نام اس میں شامل ہونا قابل اعتراض یا حیرانی کا باعث نہیں ہونا چاہیئے ۔ ویسے اعتراض برائے اعتراض کرنے والے ہر مُلک میں پائے جاتے ہیں
جواب دیںحذف کریںحیرت ہی ہو رہی ہے۔ ویسے اشتہار کے معیار سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہاں کا یہ شعبہ پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ سے بہت پیچھے ہے۔ البتہ انداز ویسا ہی ہے اوپر حکمران جماعت کے رہنماؤں اور پھر وزیر کی تصویر :) ۔
جواب دیںحذف کریںوکیل صاحب کیا بات ہے آپکے بلاگ پر بڑا سناٹا ہے جبکہ میڈیا تو آپ لوگوں کے خلاف سازشیں کررہا ہے آپ کے بار کے سابقہ صدر پر الزام لگا رہے ہیں کہ انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورذی کی ہےاور آپ احتجاج بھی نہیں کررہے؟
جواب دیںحذف کریںویسے کل کی ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں یا نہیں؟