وہ کہتی ہے کہ کیا اب بھی کسی کے لئے لال ہری چوڑیاں خریدتے ہو؟
میں کہتا ہوں اب کسی کی کلائی پر یہ رنگ اچھا نیہں لگتا
وہ کہتی ہے کہ کیا اب بھی کسی آنچل کو آکاش لکھتے ہو؟
میں کہتا ہوں اب کسی کے آنچل میں اتنی وسعت کہاں ہے
وہ کہتی ہے کہ کیا میرے بعد کسی لڑکی سے محبت ہوئی ہے تمہیں؟
میں کہتا ہوں ، محبت صرف لڑکی پر مشتمل نہیں ہوتی
وہ کہتی ہے کہ جاناں ! لہجے میں بہت اداسیت سی ہے؟
میں کہتا ہوں کہ تتلیوں نے بھی میرے دکھوں کو محسوس کیا ہے
وہ کہتی ہے کہ کیا اب بھی مجھے بے وفا کے نام سے یاد کرتے ہو؟
میں کہتا ہو کہ میرے نصیب میں یہ لفظ شامل نہیں ہے
وہ کہتی ہے کہ کبھی میرے ذکر پر رو بھی لیتے ہو؟
میں کہتا ہو کہ میری آنکھوں کو ہر وقت کی پھوار اچھی لگتی ہے
وہ کہتی ہے کہ تمہاری باتوں میں اتنی گہرائی کیوں ہے؟
میں کہتا ہو کہ تیری جدائی کہ بعد مجھ کو یہ عزاز ملا ہے
اردو میں ای میل
Shoiab Safdar Ghumman
گزرےزمانے میں رابطے کا واحدذریعہ خط تھا،مگر اب کئی ہیں،ان میں سے ایک طریقہ ای میل کا ہے،جو عام طور پر انگریزی یا رومن اردو میں کی جاتی ہے،اردو میں ای میل کے چند طریقوں میں ایک تو یہ ہے کہ آپ کوئ لونگو طرز کی کوئی سروس استعمال کرےیا پھر انپیج میں پیغام لکھ کر اسے تصویری فارمیٹ میں بدل کر اٹیچمنٹ کے ذریعہ بھیج دے۔ہاں جی میل یونیکوڈ کو سپورٹ کرتا ہے،مگر ہر شخص کے پاس (شاید)ابھی تک جی میل کا اکاؤنٹ نہیں ہے۔ویسے اگر کسی دوسری سروس سے ایسا تجربہ کیا جائے تو ای میل عجب طرز تحریر کی صورت میں دوسرے کے پاس جاتی ہے،ایسے ہی ایک تجربے کا ذکر شعیبکے
بلاگ کی ایک پوسٹ میں ہے۔ایک ایسا ہی تجربہ میں نے بھی کیا کسی حد تک کامیاب ہوا ہے۔اردو میں ای میل کرنے کے واسطے ای میل ایچ ٹی ایم ایل فارمیٹ میں بھیجی جائے تو دوسرا فرد ای میل پڑھ سکتا ہےشرط یہ ہے کی اس کے پاس اردو کا فونٹ ہو۔میل یوں تیار کی جائے گی۔
<div style="text-align: right; font-family:urdu font 1,urdu font 2;">
یہاں پر مطلوبہ ای میل یونیکوڈ فارمیٹ میں
</div>
urdu font
کی جگہ میں کوئی اردو کا فونٹبتائے مثلا
Urdu Naskh Asiatype
یادرہے جس لمحے یہ کوڈ لکھا جائے
Enable color and graphic
پر چیک نہ لگا ہو مگر بعد میں لکھ کر لگا دے اگر گرافک والا آپشن نہ ہو(نظر آئے) تو کوڈ کے شروع اور آخر میں ایچ ٹی ایم ایل کے ٹیگ لگا دیں
اس طریقہ کی چند خامیاں بھی ہیں
۱۔اگر جس کو میل کی گئی ہے اس کے پاس مطلوبہ اردو فونٹ نہیں ہیں تو اسے ای میل پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہو گا۔
۲۔ اگر اس نے ایچ ٹی ایم ایل فارمیٹ میں ای میل وصول کرنے کا آپشن بند کیا ہوا ہے تو بھی ای میل نہیں پڑھی جا سکتی۔
تم کہتے ہوکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Shoiab Safdar Ghumman
تم کہتے ہو
اُسے مجھ سے پیار ہے
مگر
جب وہ مجھ سے ملا تو
اُس نے
مجھے دیکھا تک نہیں
جب
میں نے اُسے پکارا تو
وہ بولا نہیں
جب بولا تو
مسکرایا نہیں
جب مسکرایا تو
اُس میں طنز تھا
مگر
تم کہتے ہو کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(میری اپنی تُک بندی)۔
کیوں کسی کو برا کہے کوئی
Shoiab Safdar Ghumman
دراصل ساری بات ڈگری کی ہوتی ہے۔برقعے والیاں، بےنقاب لمبی چوٹی والی کو آزاد خیال سمجھتی ہیں۔لمبی چوٹی والی کٹے بالوں والی کو بے حیا جانتی ہے۔بال کٹی کا خیال ہوتا ہے کہ اس کے تو صرف بال کٹے ہیں۔اصل خرافہ تو وہ ہے جو دن کے وقت ماسکارا بھی لگاتی ہے اور آئی شیڈو بھی۔آئی شیڈو والی کو یقین ہوتا ہے کہ وہ بے چاری تو اللہ میاں کی گائے ہے اصل میں تووہ اچھال چھکے جو دوپٹہ نہیںاوڑھتی
see through
کپڑے پہنتی ہےاور سب کے سامنے سگریٹ پینے سے نیہں چوکتی۔ سگریٹ نوش بی بی کے سامنے وہ فسادن ہوتی ہے جو نا محرموں کے ساتھ بیٹھ کر بلیو فلم دیکھتی ہے۔وغیرہ وغیرہ
اس طرح مردوں میں بھی نیکی تعلی موجود ہوتی ہے اور اس کی کئی ڈگریاں مقرر ہوتی ہیں۔جو شخص صرف نظرباز ہے اوراچٹتی نظر سے لڑکیوں کوآنکتا ہے وہ ان مردوں کو بد معاش سمجھتا ہے جولڑکیوں کی محفل میں راجہ اندر بن کربیٹھتے ہیں اور لطیفوں اور کہانیوں سےفضا کو غزل الغزلات کی طرح رومانٹک کردیتے ہیں۔عورتوں سے باتیں کرنے کےرسیا ان مردوں کوغنڈہ سمجھتے ہیں جو اندھیرے سویرے کواڑ کے پیچھے سیڑھیوں کے سائے میں غسل خانے کی سنک کے پاس چوری چھپے کسی لڑکی کوبازوؤں میں لے لیتے ہیں۔چوری چھپے بلے اڑانے والے ان حضرات کو عادی مجرم سمجتے ہیں جو کھلے بندوں آوازے کستے ہیں جو زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور زنا کار ان پر نکتہ چینی کر کے بے قیاس راحت محسوس کرتے ہیں جو زنا بلجبر کرتے ہیں اور قانون کی گرفت میں ملزم ٹھرائے جاتے ہیں
بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس)۔)
ایس ایم ایس میسنجر
Shoiab Safdar Ghumman
داؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کرے