یہ بھی سائنس ہے

ارے بھائی!!!! آپ جو بھی کرو! مان لو ! جان لو ! سمجھو لو! وہ سائنس ہے، کسی کا کیا سناؤ! خود میں نے جب انٹر (ایف ایس سی) کیا تو لپک کے بی اے میں جا ایڈمیشن لیا، جو پوچھے کیا کر رہے ہو ہمارا جواب ہوتا بی اے، دوسری جانب سے رد عمل ہوتا اچھا! بھائی آرٹس پڑھی جا رہی ہے! خوب۔۔۔۔ چند ایک نے اپنی ایک آنکھ بند کر کے یوں بھی کہا “اوہ! بی اے کے بعد بیاہ کا ارادہ تو نہیں ہے ناں“۔ ہم کہتے جی پہلے پڑھائی تو مکمل کر لے پھر ان چکروں میں پڑیں گے۔۔۔۔ چکر ہی ہیں ناں! ۔۔۔ جی بات ہو رہی تھی گریجوایشن کی تو جب داخلہ لیا تو ہم با ہوش و حواس میں آرٹس پڑھنے جا رہے تھے۔۔۔ مگر کورس کی کتابیں خریدی تو ہم پر افشاں ہوا کہ یہ بھی سائنس ہے۔۔۔۔ لو جی! ہر مضمون کا پہلا باب اس بات پر بحث کر رہا ہوتا تھا کہ یہ جو مضمون آپ پڑھ رہے ہیں سائنس ہے، سیاسیات سائنس ہے، معاشیات سائنس ہے، جغرافیہ سائنس ہے، معاشرے کا علم سائنس ہے، فلسفہ سائنس ہے، تاریخ سائنس ہے، یہ سائنس ہے وہ سائنس ہے، اس میں سائنس ہے، اُس میں سائنس ہے، فلاں سائنس ہے اور فلاں فلاں بھی سائنس ہے ۔۔۔۔ ہم ٹھہرے “شریف النفس“ بندے بحث میں کیا پڑنا لہذا بلا چوں چڑاں مان گئے کہ بھائی سائنس ہی ہو گی! اب اتنے سارے لوگ کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔۔ مزید اس پر امتحان میں تو (تمام مضامین کے پرچے میں) صاف کہا گیا کہ یہ سائنس ہے بیان کریں، ہم تو پہلے ہی سر تسلیِم خم کر چکے تھے لہذا جواب میں سنی سنائی بلکہ پڑھی پڑھائی ( پٹی درحقیقت رٹی رٹائی پٹی ) پرچے میں دے ماری!!! کہ یہ سائنس ہے اور کچھ نہیں!!! ، اہل یونیورسٹی نے خوش ہو کر ( کہ ایک اور الو بن گیا آرٹس کو سائنس مان گیا) ہمیں کامیاب قرار دے دیا۔۔۔۔۔ کہا تم پاس ہو خبر دار جو اب گیجوایشن کے پاس بھی بھٹکے، سند دی بی اے کی۔۔۔۔۔۔ ہم جا پہنچے اپنے استاد کے پاس کہ سر پرچے میں پوچھا اور ہر مضمون کہ پہلے باب میں بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کر نے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا ہے کہ یہ سائنس ہے تو ڈگری کیوں آرٹس کی ؟؟؟ بی اے کے بجائے بی ایس سی کی کیوں نہیں ؟ وہ بھی آخر ہمارے استاد تھے کہنے لگے “یہ بھی سائنس ہے“۔۔۔ کر لو گل!! ہون آرام اے۔۔۔۔ یہ پوسٹ پڑھی کچھ پلے پڑا؟؟؟ نہیں ناں!!! ارے یہ بھی سائنس ہے!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
طریقہ احتجاج پر احتجاج

طریقہ احتجاج پر احتجاج

ناجائز و غلط کام کرنے کا کوئی طریقہ جائز نہیں ہو سکتا، مگر اگر جائز و درست کام کے پیچھے بھی صرف!!غلط نیت کار فرماں ہو تو منزل بھی جائز نہیں رہتی نہیں ہوتا۔ لہذا منزل کے لئے غلط راہ کا انتخاب کسی طرح درست نہیں، اس سے منزل ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جاتی ہے۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے مگر اسے یاد نہیں رکھتا!! آج شام کو آفس میں جب ٹی وی آن کیا تو اس پر جس طرح کی خبریں سنائی جا رہی تھی انھیں سن کر نہ صرف افسوس ہوا بلکہ شرمندگی بھی محسوس ہوئی!!! توہین رسالت کے سلسلے میں ہونے والا مظاہرہ ہنگامے کی شکل اختیار کر گیا!!! مارچ میں شریک افراد نے لاہور میں توڑ پھوڑ کی!!! عمارتوں ، گاڑیوں، دفاتر، دوکانوں اور یہاں تک کہ پنجاب اسمبلی کو بھی آگ لگا دی!!!! یہ کس چیز کا پیغام ڈینا چاہتے تھے؟؟؟؟ کہ ہم ناموس رسالت کے لئے جمع ہوئے ہیں؟؟؟؟؟ نا سمجھ !!!! مقصد کیا تھا؟ اگر یہ کہ توہین رسالت پر احتجاج کرنا تو جو حرکتیں ہوئیں ہیں ان سے تو خود اس اللہ کے رسول کی حرمت پر داغ آتا ہے!!! جس کی ناموس کے لئے وہ جمع ہوئے تھے!!!! خود وہ کیا سوچ رہے ہوں گے !!! کیسی امت ہے!!! جن باتوں کی ہدایت ان کو بھولے ہوئے ہیں!!! کیا تاثر دینا چاہ رہے ہیں یہ لوگ؟؟؟؟ میں ایسے طریقہ احتجاج پر احتجاج کرتا ہو!!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

توہین کا عالمی بحران

ہمارے چند دوستوں کی رائے ہے کہ کچھ بھی ہو جائے ایک بات تو ہے کہ اگر پاکستانی قوم کو دیکھو تو ان میں لاکھ اختلاف ہو بعض معاملات میں یہ ایک ہیں!! دوسرا یہ کہ مسلمان لاکھ گمراہ ہوں ! دین سے دور ہو مگر اپنے دین کے خلاف بات سن کر ایک ہو جاتے ہیں!!!! اب مجھے معلوم ہے کہ آپ میں سے اکثریت کی رائے اس سلسلے میں ان سے ملتی ہے!!!! مگر کیا کرے مجھے اختلاف ہے اس پر بھی!!!!! یہ مکمل سچ نہیں کہ ہم کسی ایک معاملہ میں بھی مکمل اتفاق کرتے ہوں، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اکثریت ایک جانب ہوتی ہے!!! میری یہ سوچ اب مزید پختہ ہو گئی ہے! توہین رسالت کے واقعہ کے بعد خاص کر!!! انٹرنیٹ پر مختلف انگریزی بلاگ پڑھے!!! خاکوں کے شائع کئے جانیں والی بات پر اگر طرف چند غیر مسلم بلاگر اس عمل کو غلط اور غیر اخلاقی کہا ہے (جب کہ اسے آزادی رائے قرار دینے والے غیر مسلم کی تعداد بہت بڑی ہے ) تو دوسری طرف مسلم بلاگر کی ایک محضوص تعداد اسے توہین رسالت نہیں سمجھتی!!! اور چند بلاگر اگر اسے توہین رسالت مانتے بھی ہیں تو اس پر رد عمل ظاہر کرنے کو درست عمل قرار نہیں دیتے!!! جو ردعمل ظاہر کرنے کا مشورہ دینے ہیں وہ یورپی یا ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کو بیوقوفی قرار دینے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک اخبار کی سزا پوری قوم کو کیوں؟ (جبکہ اکثر تبصرے وہاں یہ ہیں کہ اس بائیکاٹ کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آئیندہ ایسا نہ ہو!!! ایک معاشی دباؤ انہیں ایسا کرنے سے روک سکتا ہے)، اور کچھ پر امن احتجاج (بلکہ مارچ کا لفظ استعمال کیا جائے تو بہتر ہے) کو کافی قرار دینے ہیں۔ یورپی اخبارات کی آزادی رائے اور ان کے رد عمل پر بس یہ حیا ان کو نہیں آتی انہیں غصہ نہیں آتا دوسری جانب ایسے ممسلم بلاگر کی بھی بڑی تعداد ہے جو شدید احتجاج (بلکہ شدید تر) کے حامی ہیں!!!!! (دونوں طرح کے بلاگر آپ خود یہاں اور یہاں تلاش کر لیں مل جائیں گے) ہاں!!! دونوں طرف کے پاس اپنے دلائل ہیں!!! البتہ ذاتی طور پر میں ایسے پر امن احتجاج کا قائل نہیں جو صرف مارچ تک محدود ہو! یہ احتجاج نہیں رونا ہے خود کو کمزوز (ماڑا) ظاہر کرنا!! اور بقول حضرت باہو! ماڑا یا تو رو سکتا ہے یا بھاگ!! کہیں ہم راہ فرار کی تلاش میں تو نہیں؟؟؟؟ پر تشدد احتجاج کو بھی میں جائز قرار نہیں دیتا!!! بلکہ اس پر امن مارچ سے آگے کے اقدامات ہونے بھی لازم ہیں! ایسا کہ جس سے وہ آئیندہ ایسا کرنے سے باز آجائیں!!!! اب اگر وہ پشیمانی کا اظہار کرتے بھی ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ دل سے اس پر پشیمان ہوں!!! اور اسے آزادی رائے سمجھنا بھی غلط ہے!!! اگر ایسا ہوتا تو “جیلینڈ پوسٹن“ اس سے قبل حضرت عیسٰی کا کارٹون چھاپنے سے انکار نہیں کرتا، میں یہ نہیں کہہ رہا (نعوذبااللہ)انہیں ایسا کرنا چاہئے تھا! ہم باحیثیت مسلمان ان پر ایمان رکھتے ہیں اور جس قدر وہ حضرت عیسٰی سے عقیدت رکھتے ہیں ہم بھی اتنی ہی بلکہ شائد ان سے بھی ذیادہ!!! معاشی و سفارتی بائیکاٹ ہی اس وقت درست راستہ ہے!!!! اور یہ پر تشدد بھی نہیں!!! اس کے علاوہ جس سطح پر آپ اپنا احتجاج رکارڈ کروا سکے کروائیں!!!
پچھلي پوسٹ
مکمل تحریر پڑھیں ←
میٹھا بحران

میٹھا بحران

آج کل ملک میں مٹھاس کا بحران چل رہا ہے، ہر کوئی تلخ ہو رہا ہے، لہجہ تلخ ہو تو بات خود ہی تلخ معلوم ہوتی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بات و حالات تلخ ہوں تو لہجہ کا میٹھا رہنا بھی ممکن نہیں۔
ایک پاکستانی اوسط سالانہ بائیس کلو کے قریب چینی کھا جاتا ہے، جو اس خطہ میں سب سے ذیادہ ہے، باقی خطے کے ممالک میں اوسط سات سے بارہ کلو سالانہ ہے، شائد پاک چین دوستی کی وجہ سے اہل وطن کو “چینی“ بھاتا ہے اور اس ہی بناء پر وہ “چینی“ کھاتا ہے!!!!!! کیونکہ “پاک چین دوستی کان کوئے“۔۔۔۔۔۔ ویسے اگر کھائی جانے والی “چینی“ کا نام بدل کر امریکی رکھ دیا جائے تو ممکن ہے کہ “چینی“ کے استعمال میں کمی ہو!!!! لیکن ہمارے دوست کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ ہر پاکستانی یہ کہہ کر “چینی“ کا استعمال مزید بڑھا دے گا کہ “میں اس امریکی کو نہیں چھوڑو گا“!!!!!!! اصل بات یہ ہے کہ اس وقت ملک میں ایک کلو چینی کی قیمت قریب ٤٢ سے ٤٣ روپے تک جا پہنچی ہے۔ جو سرکاری قیمت سے ١٢ سے ١٣ روپے ذیادہ ہے، اس مالیاتی سال کے شروع میں ایک کلو چینی ٢٢ روپے کی تھی یوں اب تک ایک سال میں کلو پیچھے ٩٥ سے ٩٩ فیصد قیمت میں اضافہ ہوا ہے جو اب تک ایک مالیاتی سال میں سب سے ذیادہ ہے۔ ہول سیل کی مارکیٹ میں سوداگروں کا کہنا ہے کہ شوگر ملز والے انہیں ١٠٠ کلو چینی ٣٧٥٠ سے ٣٨٥٠ کے درمیان کی قیمت میں مہیا کرتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم سرکاری قیمت پر چینی مہیا کرے؟؟؟ لہذا ہول سیل والے ٣٨٥٠ سے ٣٩٥٠ سے میں ١٠٠ کلو چینی فروخت کررہے ہیں۔اس بناء پر ریٹیل پرائز ٤١ سے ذیادہ ہے۔ شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال ہم نے ٤٠ روپے فی ٤٠ کلو کے حساب سے مارکیٹ سے گنا لیا اس کے بر عکس اس سال ٧٠ سے ٧٥ روپے فی ٤٠ کلو میں گنا پڑا، دوسرا گنے کی فصل بھی اس سال ٹھیک نہ تھی اس وجہ سے چینی کی قیمت میں اضافی ہوا ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے اپنے دعویٰ اور تحفظات ہیں۔ وہ الگ کہانی سناتے ہیں۔ ایک تاثر یہ ہے کہ چینی کی ایک بڑی مقدار افغانستان اسمگل ہوئی ہے جو اس بحران کا سبب بنی ہے یہ مقدار تقریبا١٥٠٠٠٠ سے ١٧٠٠٠٠ ٹن تک بتائی جاتی ہے حکومت اس بحران کا ذمہ دار شوگر ملز مالکان کو قرار دیتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ ملز مالکان نے قریب٢٥٠٠٠٠ سے ٣٥٠٠٠٠ ٹن تک چینی اپنے گوداموں میں چھپا رکھی ہے، اس ہی بناء پر یہ میٹھا بحران (اب کون اسے میٹھا کہے؟؟) آیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے پرائیویٹ سیکٹر کو مکمل ٹیکس اور دوسرے واجبات کی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ چینی باہر سے درآمد کر لیں خواہ وائٹ یا خام۔۔۔۔ ٥٠٠٠٠ ٹن چینی تو بھارت سے خریدی جارہی ہے، لو!!!! جن سے تعلقات میٹھے نہیں ہو سکے ان سے کوئی چینی میٹھی کیسے ملے گی؟؟؟؟ کڑوی چینی !!!! ایک طرف یہ تمام جھگڑے!!! دوسری طرف عوام جو چینی کی خرید کے لئے یوٹیلیٹی اسٹور کے باہر لمبی قطار میں لگے نظر آتے ہیں تا کہ سستی چینی خرید سکیں۔۔۔ لمبی قطار لمبا انتظار!!!! جب تک باری آتی ہے تو چینی ختم ہو جاتی ہے!!!! تلخ انتظار کے بعد تلخ جواب!!! کل آنا مال ختم!!! جن کو یہ تبرک مل جاتا ہے وہ خوشی مناتے ہیں!!! جی! تبرک ہی کہے نا!!! ایک گھنٹے کے انتظار کے صلے میں ٥٥ روپے میں ٢ کلو!!! ایک شخص کو اس سے ذیادہ نہیں ملے گی!! ہاں یوٹیلیٹی اسٹور والے سے دعا سلام ہے تو پھر پچھلے دروازے سے جتنی مانگی اتنی ملے گی!!! مگر اس کے حصہ کا بھی خیال رکھنا ہو گا! اس کے حصہ کا خیال صرف محلے کا دوکاندار رکھتا ہے اس لئے وہ اس کا!!!! حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹور کا کوٹہ دگنا کر دیا ہے پہلے ١١٠٠٠ ٹن تھا اب ٢٢٠٠٠ ٹن ہے۔۔۔ کوٹے کے ساتھ قیمت کا ذیادہ ہونا بھی ضروری تھا! اس لئے پہلے یوٹیلیٹی اسٹور میں چینی ٢٣ روپے کلو تھی اب ساڑھے ستائیس روپے ہے!!! جی کل وزیر اعظم صاحب نے اصل قیمت میں ٢٠ فیصد کا اضافہ کیا ہے یوں فی کلو ساڑھے چار روپے کا اضافہ ہو گیا ہے، اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اب چینی جتنی بھی سستی ہو عام مارکیٹ میں مگر ٢٨ روپے فی کلو سے ذیادہ ہی ہو گی۔۔۔ اب دیکھے یہ میٹھا بحران کب تک تلخیاں بکھیرتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
کھلی چھٹی

کھلی چھٹی

عالم اسلام آج کل ایک عجیب مقام پر آ کھڑا ہوا ہے۔۔۔۔۔ اس کے پاس کوئی بھی مخلص لیڈر نہیں۔۔۔۔۔ اس مذہب کے پیروکار ایک عجیب الجھن کا شکار ہیں۔۔۔۔
اسے عجیب طرح کی صورت حال کا سامنا ۔۔۔۔ ہر نیا دن ایک نئے تنازعہ کے ساتھ آتا ہے، ایک نیا محاذ!!!! ایک نیا امتحان۔۔۔۔ دہشت گردی کا الزام!!! امن کے دشمن!!! جیسے الزام، انتہاپسندی!!!!! بنیاد پرست!!! جیسے خطاب۔۔۔۔ جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔۔۔ دراصل چور خود چور چور کا شور مچا کر دوسرے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔ اس کی تازہ ترین مثال ڈنمارک کے اخبار “جیلینڈ پوسٹن“ کی ہے جس نے رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی ہے، اس اخبار نے ٣٠ ستمبر ٢٠٠٥ کو چند تصویری خاکے شائع کیئے، کیا محمد ایسے ہوتے (نعوذبااللہ) کے عنوان کے تحت، جس پر قریب دو ہفتے بعد ٣٥،٠٠٠ افراد نے احتجاج کیا۔۔۔۔ بات وہاں ہی نہیںختم ہوئی، ١٠ جنوری ٢٠٠٦ کو ناروے کے اخبار “میگازِنٹ“ نے اس تصویری خاکوں کو دبارہ شائع کیا، جرمن اخبار “ڈائی ویلٹ“ ،فرانسیسی رونامہ “فرانس سوئر“ اور چند دوسرے اخبارات بشمول نیوزی لینڈ اور ہالینڈ کے اخبارات نے ان توہین امیز اور طنزیہ خاکوں کو “آزادی رائے“ کے بہانے سے اسلام دشمنی(اس کے علاوہ کیا کہا جائے؟) شائع کیا۔۔۔۔ ڈنمارک کی پولیس کو کئی مسلم تنظیموں نے شکایت کی ہے کہ اخبار “جیلینڈ پوسٹن“ کی یہ حرکت “ضابطہ فوجداری ڈنمارک“ کی دفعات ١٤٠ اور ٢٦٦(ب) کے تحت جرم ہے، دفعہ ١٤٠ کے تحت کسی بھی شخص کو ڈنمارک میں موجود کسی بھی مذہبی گروہ کی تمسخر اڑانے کی ممانعت ہے، جبکہ دفعہ ٢٦٦(ب) کسی ایسے بیان یا معلومات کو جرم گردانتا ہے جس سے کوئی گروہ مذہبی اعتبار سے خوفزدہ ہو،اسے اپنی ہتک محسوس ہو، یا خود کو کمتر محسوس کریں، اب دیکھیں کہ کیا رد عمل آتا ہے، کسی نئے بہانے کے لئے تیار رہے۔۔۔ یہ بھی خوب ہے،ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری، اہل مغرب جب بھی کوئی غلط کام یا اہل اسلام کے خلاف سازش یا شرارت کرتے ہیں تو اس پر پشیمان ہونے یا معافی مانگنے کے بجائے کوئی نا کوئی بہانہ تراش لیتے ہیں۔ کوئی پوچھے دل آزاری کی آزادی تو “آزادی رائے“ نہ ہے، آزادی کا مطلب کھلی چھٹی نہیں ہے، اگر ہے تو بھاڑ میں جائے ایسی آزادی ،ہر بات کی چند حدود ہوتی ہیں ان کو کراس نہیں کرنا چاہئے۔ اس حرکت سے بلا کسی شک شبہ کے اہل مسلم کے دل کو ٹھیس پہنچی ہے، ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں، جو امت ایک اللہ ،ایک رسول اور ایک قرآن کی بنیاد پر ایک ہے، جن کے قریب ان کا نبی رول ماڈل ہے، جن کی محبت کا مرکز اللہ اور اس کا رسول ہے، جو نعت کی محفل سجاتے ہوں، ان کے رول ماڈل کو مذاق کا نشانہ بنانہ کہاں تک درست ہے؟؟؟ شائد چند لوگ اسے غلط کہے مگر میری رائے بھی وہ ہی ہے جو اکثریت کی ہے کہ ان کا معاشی و معاشرتی بائیکاٹ جب تک وہ آئیندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ نہ کر لیں۔ جب وہ ایک ہو سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←