لا یغیرُ ما۔۔۔

بُرائی سے نفرت ہی کرتا تھا پہلے
کہ بزرگوں سے مَیں نے یہی کچھ سنا تھا
پھر اک وقت آیا_______کہ اوروں کی خاطر،
بُری چیز کو بھی بُری چیز کہتے ہوئے
مَیں جھجکنے لگا!
اب بُرائی کو اچھا سمجھنے لگا ہُوں
یہی “ارتقا“ کی وہ دلدل ہے جس سے بچانا
کسی کے بھی بس میں نہیں ہے
اگر مَیں نہ چاہوں!

شاعر: محسن بھوپال

مکمل تحریر پڑھیں ←

اصل دہشت گرد اور ہم ملزم

آج کل تہذیبوں کا تصادم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے جاری ہے، جس میں ظالم یا دہشت گرد قرار دیا جانے والا خود کو بے قصور ثابت کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ یہ میڈیا کی دنیا ہے اور یہ میڈیا ہماری پولیس سے بھی آگے، کہتے ہیں پاکستانی پولیس کی چھتر پریڈ سے شیر خود کو بکری کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ میڈیا شیر کے بکری ہونے کا ایسا پروپیگنڈا کرتا ہے کہ شیر خود ہی یہ باور کرنے جاتا ہے کہ وہ بکری ہے۔
اجمل قصاب پاکستانی ہے ایسا کسی اور نے نہیں پاکستانی نادان میڈیا نے دنیا کو ثابت کر کے دیا۔ یوں تو یہ معاملہ کافی حد تک ویسے ہی گھمبیر تھا کہ محمود میاں کی سمجھ ہی نہیں آئی وہ ہمارے ملک کے مشیر قومی سلامتی ہیں یا ۔۔۔۔۔؟ دوسرا شیری رحمان عرف عام میں سُٹے بار کے موبائل نمبر سے بی بی سی کو تصدیقِ ایس ایم ایس کی کچھ سمجھ نہیں آئی!
ہمارے حکمرانوں کے اعمال ہی ایسے ہیں! وہ اُن کو جو ہمارے ہی دشمن ہیں انعامات سے نوازتے ہیں! مسلم عوام اگر فرعون وقت کو الواداعی تحفہ میں جوتوں سے نوازتی ہے تو یہ اُس کے ساتھی  کو ہلال قائداعظم کے ایواڈ سے، ہمیں ویسے ہی اُس “باؤ“ سے “چڑ“ ہے!
اچھا تو بات کا آغاز ہو تھا دہشت گرد قرار دیئے جانے سے! اب تک یوں تو دہشت گردی کی تعریف ہی پر اتفاق نہیں ہو سکا مگر بھر بھی یہ کہا جاتا ہی جو کوئی کیفے، بس، باراز، ہوٹل وغیرہ میں بم دھماکا کر کے عام انسانوں کی جان لے دہشت گرد! اگر  یہ سچ ہے تو جس نے سب سے پہلے اس عمل کی بیاد رکھی وہ دہشت گردی کا بانی ہو گا ناں!!
تاریخ کا کسی کیفے میں پہلا بم دھماکا 17مارچ 1937 کو یافا میں یہودیوں نے کروایا، بم کا پہلا استعمال فلسطین میں اسی سال اگست و ستمبر میں یہودیوں کی جانب سے کیا گیا، ھفیاء شہر کے بازار اگلے ہی برس جولائی کی چھ کو بم دھماکہ کا نشانہ اہل یہود کی مہربانی سے بنے۔ 1946 میں بائیس جولائی کو انہوں نے ہی القدس شہر کے ہوٹل میں بم دھماکا کروایا۔ اس کے علاوہ ایک لمبی فہرست اسے کی کارناموں کی سامنے آئی ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

چلو PC چلیں!

آپ کو اگر کوئی کہے کہ چلو PC چل کر چائے پیتے ہیں! تو لازم آپ کا خیال “پرل کانٹی نینٹل“ ہوٹل کی طرف جائے گا! مگر کبھی آپ مجھ سے ملیں تو پہلے پہل تو میں آپ کو لسی کی دعوت دوں گا! جو لازمی سی بات ہے کسی بھی “ناگوری ملک شاپ“ سے تو مل سکتی ہے مگر شاید پرل کانٹی نینٹل سے نہیں! دوئم اگر میں چائے کی دعوت دوں تو میں آپ کو PC چلنے کو ہی کہوں مگر وہ ہر گز پرل کانٹی نینٹل نہیں ہو گا! بلکہ “پٹھان کیفے“ ہو گا! جی ہاں میں ہر کوئٹہ کیفے یا ایسے دوسرے چائے کے کھوکھے یا ریسٹورینٹ کو “پٹھان کیفے“ کو “PC“ ہی کہتا ہوں!
میرا ماننا ہے یہ درحقیقت “پرل کانٹی نینٹل“ سے بہتر ہیں! یہاں کے اسٹاف سے آپ کی بہت جلد بن جاتی ہے! آپ کو دیکھاوے والے “رکھ رکھاؤ“ کی کوئی ضرورت نہیں ہے! سب سے بڑی بات دیوار پر بے شک یہ درج ہوتا ہے کہ یہاں پر “سیاسی گفتگو کرنا منع ہے“ مگر ہر کوئی ملکی سیاست پر اپنے رائے درج کرواتا نظر آتا ہے! ایسے کیفے میں تین چار جگہ اعلان چپسا ہوتا ہے “نقد بڑے شوق سے اُدھار اگلے چوک سے“ مگر مجھ کیسے کئی افراد کا بل ایک ایک ہفتے بعد ادا ہوتا ہے مگر خان صاحب کبھی تنگ نہیں کرتے!
ایک اہم فوقیت یہ کہ اس مہنگائی میں “پٹھان کیفے“ جیب پر بھاری نہیں پڑتا! جبکہ “پرل کانٹی نینٹل“ میں “ہائے ٹی“ بل کے اعتبار سے واقعی “ہائے“ (اردویا پنجابی والا) ٹی بن جاتی ہے!!!
یہ ہی نہیں جیسے محبت دلوں کو یکجا کر دیتی ہے ایسے ہی میرے PC کی چائے کے تمام اجزاء یکجا ہوتے ہیں!
تو کیا خیال ہے؟ PC چلیں!

مکمل تحریر پڑھیں ←

او! خبیثَ!

وکالت میں کئی قصے سنانے سے تعلق رکھتے ہیں! یہ قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے!

آغاز وکالت میں شوشل ویلفیر کا نیا نیا شوق تھا! اب کچھ پرانا ہو گیا ہے ناں! مگر اپنا وکالت نامہ لگانے سے گھبراہٹ ہوتی تھی! ساتھ ہی کوئی تنہا کیس چلانے سے بھی! ایسا تنہا ہمارے ساتھ نہیں تھا، دیگر یار دوست بھی کچھ ایسی کیفیت کے حامل تھے! تب ہی کی بات ہے ہمارا ایک وکیل دوست ایک مائی اماں کے ساتھ راہ چلتے سامنے آ وارد ہوا! ہمارے یہ دوست بھی خلق خدا کے خدمت گزار بننے کے شوقین ہیں!
ماں جی موٹے موٹے آنسوؤں سے ساتھ پولیس والوں کو بد دعا دیتی جا رہی تھی! ‘اللہ کریں پولیس والوں کو اللہ اُٹھا لیں‘ اماں کے اکلوتے بیٹے کو پولیس والوں نے موبائل فون چھننے کے کیس میں جیل بھیج دیا تھا! ماں کا دعوٰی تھا کہ اُن کا بیٹا نہایت شریف و نونہال ہے! اُس نے کبھی ڈاکا تو کجھا راہ میں میں پڑی ہوئی کسی کی چیز پر ملکیت کا دعوٰی نہیں کیا!
اماں کے ساتھ اُن کے بیٹے کے کیس کی ایف آئی آر حاصل کرنے مطلوبہ کورٹ کے کلرک کے پاس جا پہنچے۔ دوست نے جیب سے جناب کو اُن کا مخصوص ‘ٹیکس‘ ادا کر کے ایف آئی آر حاصل کی! پھر اُس نے اپنے سینئر کا وکالت نامہ اماں کو دیا کہ بیٹے سے دستخط کروا کر لے آنا! وہ ہمارے منہ کی طرف دیکھنے لگی! بقول اُس کے مجھ سے یہ کام نہیں ہوتا، خیر پولیس وین کے ڈرائیور جو جیل سے قیدی لے کر اتا ہے اُس سے رابطہ کرکے اُس سے ذریعہ وکالت نامہ دستخط کروانے کا پروگرام بنایا! وہاں پہنچے وکات نامہ دیا! اب اُس کو مطلوبہ معلومات دیں! تو وہ مسکرا کر دیکھنے لگا! میرے دوست سے مجھے اشارہ کیا! جیسے کہہ رہا ہے پہلے میں نے نقد ویلفیر کی ہے اب تمہاری باری ہے! مفلسی میں آٹا گیلا! خیر مجبوری تھی! کام سے پہلے مزدوری ادا کی گئی!
اماں کو تسلی دے کر بھیج دیا! کورٹ کے دیگر ذاتی کیسوں سے فارغ ہو کر! لائبریری میں بنائے گئے پروگرام کے مطابق ملےآ ایف آئی آر کا مطالعہ کی! چند قانونی نقائض جو ہماری سمجھ میں اُس میں ایسے تھے تو کام آ سکتے تھے! نوٹ کئے! مزید کی تلاش کے لئے وہاں سے اُٹھ کر کورٹ میں جا کر فائل میں سے دیگر کاغذات کا مطالعہ کر کے اُس کیس کو ٹائپ کرکے پرنٹ نکالنے کی ذمہ داری اُٹھا کر ہم دفتر آگئے! اور دوست اپنے دفتر چلا گیا!
کیس ٹائپ کیا! دوست کو ای میل کیا اُس نے اُس ایک نظر دیکھا ہو گا! چند مزید باتیں ایڈ کی! واپس ای میل کیا! ہم نے پرنٹ نکال کر اگلے دن اُس کے حوالے کر دیا! بعد میں وکالت نامہ حاصل کرنا! اور ضمانت فائل کرنا اُس کے سر تھا! اور اس دوران ہونے والا خرچا بھی!!!
دوپہر میں اُس کا ایس ایم ایس آیا دو دن بعد کی تاریخ ملی ہے! ہم نے ڈائیری میں نوٹ کیا! کیس لاء تلاش کئے! اگلے دن دوست کو بتائے اُس نے بھی تیاری کر رکھی تھی! اُس کا کہنا تھا کیس وہ چلائے گا! میں نے کہا ٹھیک ہے! اماں کو بھی وہ ہی ڈیل کر رہا تھا!
مخصوص دن ہم دونوں کورٹ میں تھے! Bail چلائی! جج نے تین دن بعد آڈر پر رکھ دیا! اور اُس دن آرڈر نہیں آیا! جج صاحب نے معذرت کی کہ کام کے رش کی وجہ سے آڈر نہیں لکھوا سکا! دو دن معاملہ آگے چلا گیا! اور دو دن بعد ضمانت منظور ہو گئی! پچاس ہزار کی!
ماں کو بتایا! اور اسے کہا کہ اماں پندرہ بیس دن صبر کرنا! پھر ضمانت کم کرنے کی درخواست لگا دے گے تمہارے پاس کہاں پیسے ہوں گے!!! ا ٹھیک ہے کہہ کر وہ چلی گئی مگر اگلے ہی دن ایک بندے کو ساتھ لے کر کورٹ میں آ گئی! اُس کے گاڑی کے کاغذات ضمانت کے طور پر کورٹ میں داخل کروانے کے لئے! ضمانت کورٹ میں داخل ہوئی! کورٹ نے ویریفیکیشن کا آڈر کیا! اگلے دن بندہ باہر!
جس چیز نے مجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ جس مائی کے پاس پہلے فیس و کورٹ کے لئے پیسے نہیں تھے! بیٹے کی ضمانت منظور ہوتے ہی کیسے نہ صرف ضمانت کا انتظام ہو گیا؟ نیز اُ نے اس دن کورٹ میں بھی ہزار پندرہ سو روپے خرچ کر ڈالے! اور ہمیں صرف دعائیں دیں!!! خیر!
تیسرے دن دوست سے کورٹ میں ملاقات ہوئی تو اُس نے بتایا! کہ وہ مائی کا لڑکا ضمانت پر نکلنے کے بعد دفتر شکریہ کرنے آیا تھا ور میں سینئر سے ملاقات کروانے جب اُن کے کمرے میں اُسے لے کر گیا تو میرا سینئر اُس دیکھ کر کھڑا ہو گیا!
میں نے کہا کیوں؟
تو بتانے لگا کہ سینیئر نے اُس سے کہا کہ ‘اوہ خبیثَ! میرا موبائل تو نے چھینا تھا فلاں فلاں جگہ‘ اُس نے یہ تو نہیں کہا ہاں مگر تین گھنٹے بعد وہ اُس ہی ماڈل کا موبائل دینے آ گیا! اور مائی کو بیٹے کی حرکتوں کی خبر تھی!
کیا سمجھے!

مکمل تحریر پڑھیں ←

Operation Lionheart

“جگر کیسا ہے“
جگر چھلنی ہے!
“کیوں تجھے بھی بوتل لگ گئی ہے کیا؟“
بکواس نہ کر! یہ حرام تم ہی پیا کرو!
“تو پھر تیرا جگر کیوں چھلنی ہو گیا؟“
جب سے معلوم ہوا ہے سرحد کر دونوں جانب امریکی و پاکستانیوں افواج نے مشترکہ آپریشن شروع کیا ہے تب سے!
“اوئے بغیر داڑھی والے طالبان! تم لوگ سدا سے ایسے ہی ہو ایسے ہی رہو گے!“
بے خبر بندے! تجھے پتا ہے اُس آپریشن کا نام کیا ہے؟
“ہاں معلوم ہے ، آپریشن شیر دل!“
یہ نام تو اس کا سرحد کے اس پار پے ناں! مگر افغانستان میں اس کا نام Operation Lionheart ہے!
“ہاں ! انگریزی ترجمہ ٹھیک ہے!“
میں انگریری ترجمے کی بات نہیں کر رہا، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ درحقیقت یہ دسویں صلیبی جنگ کے ایک حصے کا نام ہے!!
“اوئے!! یہ کیا منطق نکالی ہے تو نے؟؟؟؟ دیکھ پاکستانی طالبان تو نہیں بن گیا ناں تو؟“
کیسے سمجھاؤ تجھے؟؟ دیکھ ٹھیک ہی شیردل کا انگریزی ترجمہ Lionheart ہے مگر یہ نام ہم نے نہیں رکھا! ہم نے دراصل ترجمہ کیا ہے! جنھوں نے رکھا ہے! اُن کے سربراہ نے جنگ کے آغاز پر ہی صلیبی جنگ کا نعرہ بلند کیا تھا!
“کیا بک رہا ہے آسان الفاظ میں بتا!“
بھائی آپریشن کا یہ نام امریکی افواج کا تجویر کردا تھا! جو انہوں نے اپنے ہیرو رچرڈ شیردل یعنی انگریزی میں Richard the Lionheart کے نام پر رکھا ہے! اور یہ وہ بندہ تھا جو صلاح الدین ایوبی کے خلاف صلیبی جنگوں میں لڑتا رہا ہے!!
“تم بھی ناں! اللہ تم لوگوں سے بچائے! یہ باتیں تم لوگ کہاں سے بنا لیتے ہو؟“

مکمل تحریر پڑھیں ←
سلمان بے تاثیر

سلمان بے تاثیر

گورنر پنجاب، سلمان تاثیر، سے قریب اب ہر پاکستانی ہی واقف ہے کہ یہ ہے کون! یہ بڑی شخصیت ہے ناں! ایک کامیاب کاروباری شخصیت! اسٹاک ایکسچینج ایک روشن خیال شخصیت! جناب ہے بیانات پڑھنے سے ہر گز تعلق نہیں رکھتے اس لئے کافی پڑھے جاتے ہیں! جناب کے ایک بیٹے آتش تاثیر بھارت میں ہوتے ہیں، میڈیا میں لکھتے ہیں! خود یہ بھی انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز، اردو اخبار آج کل اور ٹی وی بزنس پلس کے مالک ہیں! بچوں کے لئے بھی کوئی ٹی وی چینل کھولا ہے!
کسی کی ذاتی زندگی اُس کی ذاتی زندگی ہے! مگر ایک بار آپ اگر حکمران طبقے سے جا ملے تو میرا خیال ہے عوام کو آپ کی ذات کے بارے میں تمام جانکاری ہونی چاہئے! ذیل میں جناب کی چند ذاتی فیلمی تصاویر ہیں! جو ایک مخصوص کہانی بیان کرتی ہے! شریف حضرات دیکھنے سے پر ہیز کریں! ورنہ پھر شکایت کریں گے!! یہ ہے وہ ہے!!!

taseer family
ایک گروپ فیلمی تصویر! سلمان تاثیر، اُن کی بیگم، بیٹیاں صنم و شیربانو (کیا کہو؟ لباس قابل دید ہے! اور بیٹے شہریار اور شہبار

taseer
سلمان تاثیر ہاتھ میں جام!!

Salman Taseer
سلمان تاثیر اور مشرف کا حواری! جام بھی!

taseer wife
سلمان جام تھامے اور حسن اُن کے بیگم

taseer son
گورنر ہاؤس میں جام و شہریار

shhrayar
شہریار، جام و شباب

taseer son
شہریار جام تھامے، لڑکیوں کے جھرمٹ میں!

taseer son
شہریار کی ساتھی لڑکیاں جام تھامے!

tasser son
شہریار آہم آہم

نیچے تاثیر کی بیٹی شیر نانو کی تصاویر ہیں!
محفل میں مرد حضرات موجود تھے!!

اعتراض نہانے پر نہیں مردوں کے ساتھ نہانے پر ہے ثبوت ذیل میں ہے!

اب آپ مجھے تنگ نظر کہے گے! بھائی نہیں ہوں میں ایسا روشن خیال!! معذرت

اَپ ڈیٹ: یہ تصاویر کل 17 نومبر کو میڈیا کو پنجاب کے وزیر قانون ثناء اللہ نے جاری کی آج کسی اخبار نے شائع تو نہیں کی مگر خبر کو اخبار کا حصہ بنایا ہے! جیسے جنگ اخبار، وقت ، جناح، اور دیگر!
لو میرے بلاگ سے یہ بات کہاں تک پہنچ گئی!!!! ‘جب دوسرے ایسے دعوٰی کرتے ہیں تو میں میوں نہیں”۔۔۔۔حیرت ہے ناں!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

غیر حاضری معاف!

کچھ دنوں سے خیال آرہا ہے کیوں نا وہ دلچسپ قصے اس بلاگ کا حصہ بناؤ جو دوران وکالت اپنی نالائعقیوں کی بناء پر ہم بھگت چکے ہیں! ان میں چند ایک سبق آموز ہیں اور چند ایک صرف آموز! یہ سلسلہ قسط وار ہو گا!

تو جناب پہلا قصہ حاضر ہے! یہ دلچسپ ہے مگر سبق آموز نہیں! یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم ایل ایل بی کر کے تازہ تازہ اپنے سینئر کے پاس وکالت کے گُر سیکھنے جا پہنچے تھے! جوائن کئے کوئی ایک ماہ ہی ہوا تھا! ایک شام سینئر نے اپنے آفس میں بلایا کہا کہ یہ زازق خان صاحب کل کورٹ میں اپنا میڈیل سرٹیفکیٹ لے کر آ جائے گئے یہ ضمانت پر ہے مگر پچھلی دو تاریخوں پر غیر حاضر رہے ہیں ان کی Condonation کی درخواست دے دینا کہ بیماری کی وجہ سے غیر حاضری ہوئی! ہم نے ہدایات لیں رزاق صاحب کو ایک نظر دیکھا کہ صبح پہچاننے میں دشواری نہ ہو، اور کمرے سے باہر آ گئے۔
وہ صاحب جاتے ہوئے ہم سے ملنے آئے! ہم نے اُن سے پوچھا ‘کیا بیماری تھی آپ کو جو عدالت سے غیرحاضر ہوئے‘
کہنے لگے ‘یار ویسے ہی نہیں گیا وہ اب کورٹ سے نوٹس آیا تو ہوش آیا ہے!‘
تو زار کھلا کہ یہ معاملہ ہے! دریافت کی‘میڈیکل سرٹیفکیٹ کہاں سے لائے گے؟‘
کہنے لگے ‘کوئی مسئلہ نہیں‘ پھر آنکھ مارتے ہوئے گویا ہوئے! ‘میری ایک ڈاکٹر جاننے والی ہے، اُس سے ہی لے کر آؤ گا‘
میں نے کہا ‘ٹھیک ہے کل لے آنا میں اُس میں آپ کی بیماری کی درخواست بنا لو گا‘
اگلے دن ہم کورٹ پہنچے باقی کیسوں کو دیکھتے ہوئے جب اُس کورٹ میں پہنچے تو وہ صاحب وہاں موجود تھے۔ ہمیں دیکھتے ہی ہماری جانب لپکے۔ میڈیکل سرٹیفکیٹ ہمیں دیا، اور لگے سنانے قصہ اپنے اور اُس ڈاکٹر کے تعلق اور سرٹیفکیٹ لینے کا۔ ہم نے سرٹیفکیٹ پر ایک سرسری سی نظر ڈالی، پہلے سے بنائی ہوئی درخواست سے منسلک کیا، آگاہی لی کہ کیس کا نمبر کب آئے گا! معلوم ہوا دو چار کیسوں کے بعد ہی ہے لہذا کورٹ میں بیٹھ گئے، اور بندے کو باہر انتظار کرنے کو کہا۔
کورٹ میں کافی رش تھا! سینئر وکیل موجود تھے اور اُن کے جونیئر بھی، ہماری باری آئی، جج کے سامنے حاضر ہوئے، درخواست پیش کی، رازق میاں بھی پیش ہو گئے، جج نے ہماری طرف دیکھا ہم نے بتایا کہ بندہ بیمار تھا اس لئے نہ آ سکا، جج نے بات سمجھنے کے انداز میں سر ہلانے لگے! ایک نظر درخواست پر ڈالی پھر اُسے پلٹ کر میڈیکل سرٹیفکیٹ دیکھنے لگے! سر اُٹھا کر پہلے مجھے اور پھر میرے سینئر کے کلائینٹ پر ڈالی!
مجھے سے پوچھا ‘وکیل صاحب اس میڈیکل سرٹیفکیٹ کو پڑھا تھا آپ نے؟‘
میں نے کہا ‘جی سر‘
پھر اگلا سوال کیا ‘بغور‘
جواب عرض کی ‘جی ہاں‘ (دل میں کھٹکا ہوا معاملہ خراب لگتا ہے)
ہم نے رازق میاں پر نظر ڈالی! اور آنکھوں ہی سے سوال کیا! کوئی گڑبڑ تو نہیں! اتنے میں جج صاحب نے درخواست اپنے ریڈر کی طرف بڑھائی کہا ذرا ذرا اسے ایک نظر دیکھ لیں! میں نے ریڈر سے درخواست واپس لی، میڈیکل سرٹیفکیٹ پر ایک نظر ڈالی، دیکھا کہیں یہ تو نہیں لکھا کہ یہ کورٹ میں پیش کرنے کے لئے نہیں (اکثر ڈاکٹر یہ لکھ دیتے ہیں تا کہ کورٹ کی معاملات سے دور رہئے)، مگر ایسا نہیں تھا! ایک نظر اُس کے مضمون پر ڈالی کہیں اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں ٹھیک لگا! اب ہم نے جج پر ایک حیرت بھری نظر ڈالی!
جج نے کہا “وکیل صاحب ذرا سرٹیفکیٹ کے ہیڈر کو پڑھنا“
میں نے اب جو ہیڈر پر نظر ڈالی تو اُس پر درج تھا! “شازیہ میٹرنٹی سینٹر و ہسپتال“! کمرہ عدالت میں اچانک کئی سینئر ہلکے قہقہہ سے ہنسے! اور ہمارا گلا خشک ہو چکا تھا! پچاس افراد کی موجودگی میں بے عزتی کا احساس امنڈ آیا!
جج نے مسکراتے ہوئے ایک نظر رازق میاں پر ڈالی پھر ہم سے مخاطب ہوئے“وکیل صاحب! جہاں تک میں دیکھ رہا ہو آپ کا ملزم ایک مرد ہے، کیا آپ بتا سکتے ہیں انہیں کون سی ایسی بیماری ہو گئی کہ انہیں اپنا علاج کروانے میٹرنٹی ہوم جانا پڑا؟؟“
اب ہم کیا بولتے؟ ہم تو پہلے ہی جج کی طرف التجا بھری نظروں میں دیکھ رہے تھے! اب جو سوال انہوں نے داغ دیا تو اُس کو کوئی ناں کوئی تو جواب دینا تھا! ایک بار پھر میڈیکل سرٹیفکیٹ پر نظر ڈالی! تمام تع توانائی کو جمع کیا اور بولے “سر آخر میں ہسپتال بھی تو لکھا ہے!“
جج بولا “مگر میٹرنیٹی سینٹر پہلے لکھا ہے اس لئے اس سے یہ اخذ ہوا ہسپتال عورتوں کا ہوا“
اب ہماری ڈیٹائی کی باری تھی! لہذا مخاطب ہوئے! “جی سر! عموما ایسا ہی ہوتا ہے! مگر اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔“
جج نے ہمیں گور کر دیکھا! درخواست ہم نے اُس کے ریڈر کو پکڑا دی! جج نے اُس پر نوٹ لکھا! اور ہمیں دیکھتے ہوئے کہا “وکیل صاحب! پہلے کنفرم کر لیا کریں! میں اس بار تو چھوڑ رہا ہو! آئیندہ غلط بیانی مت کیجئے گا“
ہم نے کہا “سر شکریہ! مگر یہ صرف میٹرنٹی ہوم نہیں یہاں مرد حضرات بھی جاتے ہیں، علاقے کی سطح پر ایک منی ڈسپنسری ہے“ اور کورٹ سے باہر آ گئے!
رزاق میاں کو پکڑ لیا ابے لعنتی مروا دیا تھا! اور بھی بہت کچھ جو قابل سنسر ہے اُس سے کہا! پھر ہم کافی دن تک اُس جج کی کورٹ میں جانے سے جھجکتے رہے!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
صدر کی رہائش گاہ بنا شادی ھال

صدر کی رہائش گاہ بنا شادی ھال

پاکستان میں دونوں عیدوں کے درمیانی عرصہ میں شادیاں بہت ہوتی ہیں! سنت ہے شادی کرنا لہذا یہ ایک نیک کام ہے! خود ہمیں چھ سات شادیوں میں شرکت کی دعوت مل چکی ہے! کیا کریں جانا پڑتا ہے! شادی کرنے والے احباب یا تو سڑک پر ٹینٹ لگا کر یہ تقریب مناتے ہیں یا کوئی شادی ھال بُک کر کے!!
شادی کی ایک تقریب ہمارے ملک کے صدارتی محل میں بھی منائی گئی ہے! یار لوگ اسے بھی کرپشن و عوام کی دولت کا غلط استعمال کہتے ہیں!

اس میں کوئی حرج نہیں اگر کوئی بھی شخص اپنی شادی کی تقریب ایک مخصوص قیمت ادا کر کے وہاں منا سکتا ہو مگر اگر وقت کی سرکار یا حکمران سے تعلق اس کے اہلیت ٹہرے اور خرچ سرکاری ہو تو یہ قابل اعتراض و احتساب ہے! ویسے شاید ایوان صدر میں یہ شادی کی پہلی تقریب ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←