ہم نے سنا ہے علم و آگاہی جہالت سے نکالتی ہے. دانشوری دراصل سمجھ بوجھ و عقل کا نام ہے. بے خبری کیا ہے یہ بندہ خبر ہونے سے قبل نہیں جان سکتا. کامیابی صرف اور صرف محنت کا ثمر ہے یہ وہ ہی کہتے جو اپنی جہالت سے ناواقف ہوں. جس قدر ہم معلومات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں ہمارے علم میں اضافہ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے.
کامیابی دراصل آگاہی کی طرف سفر ہے. اس سفر میں گمراہی کی ابتداء اپنے علم کو کامل و مکمل جاننے سے شروع ہوتی ہے اور بندہ اپنی جہالت کے باوصف باقیوں کو کمتر جانتا ہے.
معلومات میں سے علم تک اور علم سے عمل تک کا سفر بندے کے دانشور یا جاہل ہونے کا اعلان کر دیتا ہے.
ہم معلومات تک محدود رہ کر خود کو دانشور کہہ کر اپنی جہالت کا اعلان کرتے ہیں.
بہت خوب ڈاکٹر صاحب
جواب دیںحذف کریںان سب باتوں کو کیٹگرائز کرنا ہی اپنے آپ میں ایک زہانت ہے.
بہت خوب ڈاکٹر صاحب
جواب دیںحذف کریںان سب باتوں کو کیٹگرائز کرنا ہی اپنے آپ میں ایک زہانت ہے.
سنا ہے کہ ارسطو کا ماننا تھا کہ ”اپنے لاعلم ہونے کا علم ہونا دراصل علم ہے۔“
جواب دیںحذف کریںبہرحال اپنے لاعلم ہونے کو تسلیم کرنے سے ہی سیکھنے کی ابتداء ہوتی ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں اکثریت اس بات پر بضد ہے کہ وہ دانشور ہے۔
آپ نے بہت خوبصورت بات کہہ دی ہے۔ ہمارا المیہ تو یہ ہے کہ ہماری معلومات میں بھی سنگین نقائص پائے جاتے ہیں، ایسے میں ان معلومات کے ذریعے ہم جو علم حاصل کرتے ہیں اور پھر اس علم کو عمل میں لاتے ہیں تو وہ ظاہر ہے جہالت جو نتائج نکلتے ہیں اس سے بھی زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
جواب دیںحذف کریںبہت عمدہ بات کردی جناب! لیکن معاملہ یہ ہے کہ آج کا دور ایسا ہے کہ جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے۔ جاہل عالم بنا بیٹھا ہے اور عالم کسرنفسی کا مارا ہے
جواب دیںحذف کریںبہت عمدہ
جواب دیںحذف کریںNida
جواب دیںحذف کریںمیں وکیل ہوں ڈاکٹر نہیں، ڈاکٹر بننے کو مجھے پی ایچ ڈی کرنا پڑے گی۔
ایم بلال ایم ،خورشید آزاد،ابوعبداللہاورمحمد اسد شکریہ