مائیکرو سیفلی پیدائش کے دوران لگے والی ایک ایسی بیماری ہے جس کی بناء پر نومولود کے دماغ کی پرورش رک جاتی ہے۔ گجرات کے ایک بزرگ شاہ دولے کا مزار ایسے بچوں کی پناہ گاہ ہے۔ اس بناء پر ان بچوں کو شاہ دولہ کے چوہے کہا جاتا ہے کہ سر و دماغ چھوٹا رہ جانے سے چہرہ بہت باریک و پتلا ہوتا ہے۔ ایک قیاس والا الزام یہ بھی افواہ کی صورت میں مشہور ہے کہ یہاں اولاد کی منٹ قبول ہونے پر جو پہلی اولاد یہاں چھوڑ کر جاتی ہے وہ مکمل تندرست ہوتی ہے مگر مکینیکل طریقے سے سر کو کسی سانچے نما شے میں قید کر کے دماغ کی پرورش روک دی جاتی ہے اور آکسیجن کی کمی سے سر و دماغ کی ساخت چھوٹی رہ جاتی ہے۔
شاہ دولہ کے چوہے اس اعتبار سے آسانی سے پہچانے جاتے ہیں کہ ان کے سر و دماغ کی ساخت چھوٹی ہوتی ہے۔ اگر دماغ کی بڑھوتی رک جائے تو دولہ شاہ کے چوہے تخلیق ہوتے ہیں تو اگر سوچ کی بڑھوتی کو کسی خاص سیاسی لیڈر کی محبت میں قید کر دیا جائے، کسی مخصوص مذہبی رنگ میں مقید کر دیا جائے، کسی لسانی تعصب کے سانچے میں باندھ دیا جائے تو کیا وہ بھی ایک طرح کے دولے شاہ کے چوہوں کے مقابلے کا گروہ نہیں بن جائے گا؟
کیا ہم ہم میں سے اکثر اپنے منفرد انداز کے دولے شاہ کے چوہے نہیں ہیں؟ غور کریں؟ کیا ہم نے اپنے شعور کی پرورش کو روک نہیں دیا؟ کیا ہم نے اپنی پسند سے متضاد سچائیوں کو نہ ماننے کے لئے تاویلیں نہیں جمع کر رکھیں؟ کیا ہمیں صرف اپنی پسند کا سچ سننے کی عادت نہیں ہو گی؟
کچھ دھیان تو دیں؟
پاک بیتی
شیری مزاری پارٹی چھوڑ گئی وجہ بیٹی، شاہ محمود قریشی اور پرویز الٰہی اب تک پارٹی کا حصہ ہیں وجہ ان کے بیٹے۔ جو پارٹی میں ہیں وہ محدود ہیں، یا تو جیل تک یا پھر گھر تک۔
کسی نے کہاں جنہوں نے electable پارٹی کو دیئے تھے اب وہ ہی انہیں نکال رہے ہیں۔ پانچ چھ سال پہلے پی ٹی آئی کے لئے جو ن۔لیگ کے ساتھ کیا گیا تھا وہ اب پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ فرق یہ ہے پہلے نیازی صاحب لاڈلے تھے تو گود لیئے گئے تھے جنہوں نے گود لیا یہ جب ان کے ہی سر چڑھے تو پہلے انہوں نے عاق کیا اب در بدر کرنے کا ارادہ ہے۔ اول اول دربدر کرنے کا ارادہ نہ تھا مگر اس گھمنڈ نے ہی مروایا جس کی بنا پر یہ بد تمیزی کا شکار تھے۔
اچھے بچے بنو تو تحت عطا کرنے والے بد تمیزی کرنے پر تختہ دار پر بھی چڑھا دیتے ہیں۔ پہلے بھی ایک کو وزیراعظم بنانے کو ملک دولخت کیا تھا مگر پھر بگڑنے پر سزا موت سنا دی۔ پہلے بھی ایک کو شہر کا بھائی بنایا تھا پھر آوارہ ہونے پر اسے اپنی ہی بنائی پارٹی سے بے دخل کر کے عبرت کا نشان بنا دیا۔ پہلے بھی ایک کو اہل بتاتے تھا مگر ڈسنے کی تیاری دیکھ کر نااہل قرار دیا۔ اب والا کیسے بچے گا؟
طاقتور اس وقت تک طاقتور ہیں جب تک اقتدار میں رہنے والا اس کا احسان مند رہے۔ صاحب اقتدار ہونے کا احساس اصل اقتدار ملنے سے ذیادہ پرفریب ہوتا ہے۔ احساس میں مبتلا احسان کی گرفت میں رہتا ہے۔ بادشاہ گر ہونا بادشاہ ہونے سے ذیادہ بہتر ہیں۔ وہ بادشاہ گر ہیں اب تک۔ آپ مانے یا نہ مانے وہ ثابت کر رہے ہیں۔
کوفے والے ہر جگہ آباد ہیں۔ مشکل وقت آئے تو پہچانے جاتے ہیں۔ اقتدار میں شریک ہی بعد میں ملزم ٹھہرنے پر سلطانی گواہ بنتے ہیں۔ ان کا سلطانی گواہ بنانا تو ان کی فطرت ہے جیسے اقتدار ملتے ہی اپنا اصل چہرہ آشکار کرنا جناب کا ایک فطری عمل تھا۔ اگر جناب اقتدار کو پانے و اقتدار میں رہنے کو سب کچھ کر سکتے ہیں تو مخالف کو ایسا کرنے پر اب طعنہ دینا بھی منافقت ہے۔
انصاف یا رعایت
وقت
"ایک دور تھا سر پر اتنے بال تھے کہ بالوں میں کنگھی ٹوٹتی تھی اب یہ حال ہے کہ کنگھی میں بال ٹوٹتے ہیں۔ ایک یہ دور ہے کہ کوئی واجبی صورت دوشیزہ بھی متوجہ نہیں ہوتی ایک دور تھا مرد و زن دونوں سے بڑی محنت خود کو بچانا پڑتا تھا"
ملزم ظہیر، یوتھیاپا اور لبرلز
فیصلہ
اقتدار کا نشہ
نشہ فرد کی عقل کو ماند ہی نہیں کرتا بلکہ اکثر اس کی سمجھ بوجھ کو بھی مکمل طور پر "متاثر" کرتا ہے۔ مدہوشی میں کیئے گئے فیصلے کبھی بھی ہوش مندی میں کئے گئے فیصلوں جیسے بہتر نہیں ہوتے۔ اقتدار کی غلام گردشوں کا حصہ ہنا بھی ایک قسم کا نشہ ہے جوالگ ہی مدہوشی کا سبب بنتا ہے۔ تخت سے جڑے رہنے کی خواہش اور اپنی طاقت کو بڑھانے کا شوق! فرد کو قانون کی لاقانونیت کے لئے پر اکساتا ہے۔ تاریخ ایسے افراد کو ولن بتاتی ہے جبکہ وہ جو بنتی تاریخ میں جی رہے ہوتے ہیں اس وقٹ خود کو مسیحا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
متواسط طبقہ اور مہنگا ازاربند
ہم میں سے ہر ایک ہر معاملے کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے کا عادی ہے اس کی وجہ اس کا اپنا خاص ماحول جس میں اس نے نشوونما پائی یا وہ طبقہ جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔ فرد کی معاشی حیثیت بھی اس کے ماحول و تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ کسی کے لئے پچاس ہزار ایک ماہ کے لئے کافی ہیں اور کوئی اس میں بمشکل ایک ہفتہ "گزارا" کر پاتا ہے۔
جب ہم نے اپنی وکالت شروع کی یعنی اپنے سینئر سے الگ ہوئے تو ایک پہلا مسئلہ جس سے ہمارا واسطہ پڑا وہ سائل سے معاوضے کا تعین تھا۔ جس لاء فرم سے ہم نے وکالت سیکھنے کی ابتداء کی تھی وہ ایک اونچے طبقے سے تعلق رکھتی تھی لہذا میرے ریفرنس کے افراد کے لئے اس حیثیت کی فیس ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ وکالت کے آغاز میں اس بات کی تو سمجھ آ گئی کہ معاوضہ طلب کرتے وقت صرف مسئلہ کی پچیدگی ہی نہیں بلکہ سائل کی قوت خرید کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔
متواسط طبقے کے سائل سے جس ضمانت کے ہم چالیس ہزار طلب کرتے تھے چند ہمارے دوست وہ کام بیس ہزار میں اور کچھ سینئر وکلاء اسے طرز کی ضمانت کے ڈیڑھ سے تین لاکھ روپے فیس کی مد میں لیتے تھے۔ فرق ٹریٹمنٹ کا ہوتا تھا بس۔ قانون و دلائل میں کیا فرق ہونا ہے بشرطیکہ وکیل محنتی ہو۔ وہ کہتے ہے ناں ایک امیرزادے کے ہاتھوں قتل ہو گیا تو اس کا باپ ایک وکیل کے پاس اپنا کیس لے کر گیا معاملات طے ہو رہے تھے تو امیرزادے کا باپ وکیل کی "کم" فیس کی بناء پر بددل ہو گیا کہ جو اس قدر کم معاوضہ مانگ رہا ہے اس نے کیا مقدمہ لڑنا ہے لہذا وہ ایک دوسرے وکیل کے پاس کیس لے گیا بھاری معاوضہ دینے کے بعد بھی اس کے بیٹے کو سزا ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد باپ کی ملاقات پہلے والے وکیل سے ہوئی تو اس نے بچے کے مقدمے بارے پوچھا تو باپ نے آگاہ کیا کہ اسےسزا ہو گئی ہے جس پر وکیل صاحب بولے " دیکھ لیں جو کام آپ نے پندرہ لاکھ میں کروایا وہ میں تین میں کردیتا"۔
یہ قیمت یا معاوضہ کا فرق وکالت ہی نہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی میں نام (جسے آپ برانڈ کہہ لیں) اور ٹریٹمنٹ (اسے آپ پریزنٹیشن یا سہولت کہہ لیں) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میرے والد جب اپنی نوکری سے ریٹائر ہوئے تو باقی پاکستانیوں کی طرح انہوں نے بھی ریٹائزمنٹ کے بعد حج کا رادہ کر رکھا تھا۔ حج ایک مشقت والی عبادت ہے لہذا اس مشقت کو کم کرنے کے لئے انہوں نے سرکاری کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر سے حج پر جانے کا پروگرام بنایا 2016 میں جب سرکار پونے چار لاکھ کا حج کروا رہی ی میرے والدین نے جو پیکج لیا وہ ساڑھے سات لاکھ فی کس والا تھا حرم و مدینہ میں قریب رہائش و دیگر سہولیات کی بنا پر ان کا حج با آسانی ہوا۔ تب ہمیں معلوم ہوا کہ مولانا طارق جمیل صاحب پندرہ لاکھ فی کس کے حساب سے حج کا پیکج دے رہے ہیں۔
باندھنے میں سہل، کھولنے میں رواں۔۔۔۔ ٹی جے ناڑے
— حُسین (@Jafar_Hussein) April 29, 2021




