ہندوستان کے چیف جسٹس نے توہین آمیز انداز میں ایک نوجوان کو "کاکروچ" کہا، اور وہاں کی نئی نسل نے اسی طنزیہ اور توہین آمیز لفظ کو ردِعمل کے طور پر اپنی اجتماعی شناخت اور ایک پلیٹ فارم کی علامت بنا لیا۔ اس پلیٹ فارم کی پہلی بڑی تحریک اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے تعلیم جیسے اہم مسئلے پر چلی۔ جنتر منتر، دہلی میں پیپر آؤٹ ہونے کے معاملے پر جوابدہی کے مطالبے کو اہمیت دلانے اور حکمران طبقے کو پیغام دینے کے لیے وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا، اور یہ منتر چل گیا۔
حکمران جماعت ایک (متعصب) مذہبی گروہ پر مشتمل ہے، لہٰذا اس کی مخالفت کے لیے ایک متضاد نظریاتی گروہ درکار ہے۔ بظاہر آپ کہہ سکتے ہیں کہ سیکولر طبقہ ان کا مخالف ہے، مگر وہاں مکمل سیکولر طبقے کے بجائے اکثریت ایسے لوگوں کی نظر آئی جو سوشلسٹ خیالات سے متاثر ہیں۔
میں نے بھارت کے بارے میں کتابوں، انٹرنیٹ، یوٹیوب اور دیگر ویب سائٹس کے ذریعے وہاں کے لوگوں کو پڑھا اور سنا ہے۔ زمینی سطح پر جائزہ لینے کا کبھی موقع نہیں ملا، اور شاید ایسا ممکن بھی نہ ہو۔ لیکن اس کے باوجود میرا قوی قیاس اور احساس یہی ہے کہ یہ کامیاب احتجاج ممکن ہے بی جے پی کو کمزور کر دے، مگر سیکولر ہندوستان کی طرف واپسی فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں کے نظام میں اس وقت تقریباً تمام اہم ریاستوں اور اداروں میں بی جے پی اپنے لوگ داخل کر چکی ہے۔
سوشل میڈیا کی یہ نسل بہت زیادہ outspoken ہے، اس لیے پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں ان کے لیے ریاستی نظام کا حصہ بننا، خصوصاً جب سرکاری اداروں میں ملازمت کے مواقع آئیں، آسان نہیں ہوگا۔ تبدیلی کے لیے اولین اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ ان حلقوں اور جگہوں پر موجود ہوں جہاں طاقت ہے، جہاں فیصلے ہوتے ہیں، جہاں پالیسیاں بنتی ہیں، تبدیل کی جاتی ہیں اور ان پر عمل درآمد کا فیصلہ ہوتا ہے۔ مگر کئی معاشروں میں جب آپ کی پروفائل اور خیالات ہی آپ کی شناخت بن جائیں تو ریاستی نظام میں داخل ہونے کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔ یوں تبدیلی کا جذبہ رکھنے والے بہت سے لوگ فیصلہ سازی کے مراکز تک پہنچنے سے پہلے ہی دوڑ سے باہر ہو جاتے ہیں۔
