شاہ رخ جتوئی کی رہائی کیوں ممکن ہوئی؟؟؟

شاہ رخ جتوئی ضمانت پر رہا ہوچکا ہے اس کی رہائی کے ساتھ ہی سوشل اور روایتی میڈیا پر فیصلہ پر تنقید جاری ہے ۔عام افراد پاکستانی قانون سے نا واقف ہیں سو ان کو بس یہی نظر آرہا ہے کے ہمیشہ کی طرح ایک دولت مند شخص سزا سے بچ گیا ۔
پاکستان میں کچھ جرائم نا قابل راضی نامہ ہیں اور کچھ قابل راضی نامہ ہیں۔ قتل کا مقدمہ دفعہ 309 اور 310 تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری دفعہ 345 ذیلی دفعہ 2 کے تحت عدالت مجاز کے اجازت سے قابل راضی نامہ ہوتا ہے ۔ مگر چونکہ اس قتل سے عام لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا تھا (جو دراصل میڈیا کوریج کا نتیجہ تھا) اس لیے مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں جو کہ ناقابل راضی نامہ ہے ۔شاہ رخ کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہو گئی مگر اپیل کے دوران شاہ زیب کے وارثان سے راضی نامہ ہوگیا، مگر اس کے باوجود شاہ رخ کی رہائی ممکن نہ تھی۔ اس کی دو وجوہات تھیں. 1 ۔دہشت گردی کی دفعہ کی موجودگی میں راضی نامہ ممکن نہ تھا۔
2۔۔دفعہ 338 ای (2) تعزیرات پاکستان کے تحت اگر کسی قبل راضی نامہ کیس میں سزا ہو جائے اور اپیل میں راضی نامہ ہو تو عدالت کی صوابدید ہوگی کہ اس کو تسلیم کرے یا نہ کرے جس کے الفاظ یوں ہیں!
“All questions relating to waiver or compounding of an offence or awarding of punishment under Section 310, whether before or after the passing of any sentence, shall be determined by trial Court”

مزید براں دفعہ 311 تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کے کیس میں راضی نامہ ہونے کے باوجود عدالت اصول "فساد فی الآ رض" کے تحت تعزیر میں ملزم کو سزا دےسکتی ہے۔
اس سلسلے میں ذیل کا فیصلہ ایک نظیر ہے۔
“Ss. 302(b)1149, 186/149, 353/149, 148/149 & 311---Anti-Terrorism Act (XXVII of 1997), S.7---Criminal Procedure Code (V of 1898), S.345(2)---Constitution of Pakistan (1973), Art.185(3)---Parties had compromised the matter and compensation had already been received by the complainants---Permission to compound the offence, therefore, was accorded under S.345(2), Cr.P.C.---Accused, however, had committed the murder of two young boys who were confined in judicial lock-up in a brutal and shocking manner, which had outraged the public conscience and they were liable for punishment on the principle of "Fasad-fil-Arz"---Accused had taken the law in their hands without caring that police stations or Court premises were the places where law protected the life of citizens---Consequently, in exercise of jurisdiction under S.311, P.P.C. death sentence of two accused was reduced to imprisonment for life under S.302(b), P.P.C. and under S.7 of the Anti-Terrorism Act, 1997 on both the counts---Similarly, sentences of imprisonment for life awarded to two other accused under S.302(b), P.P.C. was reduced to fourteen years' R.I., but their life imprisonment awarded under S.7(b) of the Anti-Terrorism Act, 1997, was maintained on both the counts with benefit of S.382-B, Cr.P.C.---Remaining sentences awarded to accused were kept intact---All sentences were directed to run concurrently. (P L D 2006 Supreme Court 182)

ایسا ہی ایک فیصلہ PLD 2006 Peshawar page 82 ہے باقی عموما عدالتیں فساد فی الآ رض کی تعریف میں عموما سفاکی کے جز کو دیکھی ہیں۔ . مگر سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں دہشت گردی کی دفعات ختم کردی کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ذاتی دشمنی کی وجہ سے کیا گیا جرم دہشت گردی کے ذمرے میں نہیں آتا۔
“Ss. 6 & 7---Act of terrorism---Scope---Occurrence which resulted due to a personal motive/enmity for taking revenge did not come within the fold of "terrorism"---Mere fact that crime for personal motive was committed in a gruesome or detestable manner, by itself would not be sufficient to bring the act within the meaning of terrorism or terrorist activities---Furthermore, in certain ordinary crimes, the harm caused to human life might be devastating, gruesome and sickening, however, this by itself would be not sufficient to bring the crime within the fold of terrorism or to attract the provisions of Ss. 6 or 7 of the Anti-Terrorism Act, 1997, unless the object intended to be achieved fell within the category of crimes, clearly meant to create terror in people and/or sense of insecurity. (2017 S C M R 1572)

اب ٹرائل کورٹ راضی نامہ کو تسلیم کرنے کی پابند تھی ۔جس سے شاہ رخ جتوئی کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ۔ مگر اب بھی سرکار سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ اپیل دائر کرسکتی ہے۔ جو یقیناً وہ نہیں کریگی مگر پرائیویٹ سطح پر دائر کر دی گئی ہے۔اس مقدمہ سے ایک بار پھر اس تاثر کو تقویت ملی کہ پاکستان میں امیر آدمی کے سزا سے بچنے کے بہت سے راستے ہوتے ہی,مگر درحقیقت ایسا بالکل نہیں ہے اس قانون کے تحت ہر طبقے کے افراد فیض یاب ہوئے ہیں اور یہ قانون خاندانوں کی دشمنوں کے کے اختتام کا سبب بھی بنتا ہے. مگر اگر اس قانون سے کسی کو اختلاف ہے تب اس کی تبدیلی اسمبلی سے ہی ممکن ہے بذیعہ ترمیم کیونکہ فیڈریل شریعت کورٹ (PLD 2017 page 8 FEDERAL-SHARIAT-COURT ) سے ایسی ایک پٹیشن جس میں متعلقہ دفعات 306 (b) اور (c), 307(1) (b) اور (c), 309(1), 310(1) کوچیلنج کیا گیا تھا رد کر دی گئی ہے ۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

※※※اقسام وکیل با زبان وکیل ※※※

(نوٹ یہ تحریر مجھے بذریعہ وٹس اپ موصول ہوئی لکھاری کا علم نہیں مگر حسب حال ہے)

‎ہم پر یہ راز کھلا کہ دیگر مخلوقات کی طرح وکیلوں کی بھی کئی اقسام پائ جاتی ہیں ۔

‎جن کی حتمی تفصیلات بارکونسل کے مستقل  افسران کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ۔کچھ ناکام وکیلوں کی مدد سے ہم تاحال وکیلوں کی جن اقسام کو دریافت کر پا ۓ وہ درج زیل ھیں

اصلی وکیل:

‎سب سے پہلے تو اصلی وکیل، یہ وکیلوں کی وہ کمیاب قسم ہے جو شاذ شاذ ہی نظر آتے ھیں۔یہ ھر نۓ قانون سے واقفیت کی کوشش میں سرگرداں نظر آتے ھیں۔ عموماََ ان کے جلو میں دو نہایت تابع فرماں قسم کے ننھے وکیل یعنی جونیئر ہوتے ہیں، جن میں سے ایک کے ہاتھ می مقدموں کی فائلیں اور دوسرے کے ہاتھوں میں کوئی پی ایل ڈی کی موٹی سی کتاب یا اصل وکیل کی ڈائری ہوتی ہے ، جو اس کے لئے کسی کتاب سے کم نہیں ہوتی یہ دونوں اصل وکیل کے دائیں بائیں چلتے ہوئے انتہائی ہنر مندی سے ایک ایسی مثلث تشکیل دے لیتے ہیں جس میں اصلی وکیل اور انکے درمیان شرقاََ غرباََ ڈیڑھ قدم کا فاصلہ اور آپس میں شمالََ جنوباََ ٹھیک تین قدم کا فاصلہ برقرار رہتا ہے ۔

‎اصلی وکیل اپنے مقدمات کی پیروی خود کریں یا کسی جونیئر کو بھیجیں ہر دو صورت میں انہیں مقدمے کی ٹھیک ٹھیک صورتحال معلوم ہوتی ہے ۔ اور یہ مقابلے کے وکیل سے ایک قدم آگے کی سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں گفتگو کم کرتے ہیں سوچتے زیادہ ہیں ان کے منہ سے نکلنے والا ایک ایک جملہ آئین کی پُر پیچ ندیوں میں نہایا ہوا، اور قانون کی موٹی موٹی کتابوں کی ہوا سے سکھایا ہوا ہوتا ہے ۔ اس پہلی قسم کے وکیلوں کو انسانوں کے بجائے کتابوں کے درمیان رہنا زیادہ پسند ہوتا ہے۔۔۔دفتر ان کا وقت زیادہ گزرتا ھے ۔سوائے جج حضرات کے ، یہ عام زندگی میں کسی سے نہیں الجھتے ، چونکہ یہ قسم شاذ و نادر نظر آتی ہے لہذا ان کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں۔

قبلی وکیل:

یہ عموماً میرون ٹائ میں ملبوس نظر آئیں گے اور اس تکلیف کے پیش نظر کے ان کو مقدمہ میں پیش ھو نے کی ابھی اجازت نہ ھے ان کا خیال ھوتا ھے کہ اگر موصوف استاد کی جگہ یہ ھوتے تو ان کی شعلہ بیانی قابل سماعت ھوتی جبکہ مستقبل میں اس کے بالکل برعکس ھوتا ھے اور دوران بحث اپنی آواز بمشکل سنائ دیتی ھے۔

منتھلی وکیل:

یہ قسم سرکاری دفاتر میں پائ جاتی ھے جن کو منتھلی تنخواہ کی ترسیل ان کے بینک اکاونٹ میں مل جاتی ھی اور ان کا کام صرف عدالتوں کے باھر کھڑے  ھو کر اس وکیل کا انتظار کرنا ھوتا ھے جس کو اس سرکاری ادارے نے متعین کیا ھوتا ھے۔  ان کے پاس ایک سرکاری گاڑی ھوتی ھے جس میں پیٹرول ڈلتا ھی رھتا ھے۔ ان کا قوانین کی تشریح سے کوئ واسطہ نہیں ھوتا اور الیکشن کے دن بھی وارد ھوتے ھیں۔

الیکشنلی وکیل:

یہ جوائنٹ سیکرٹری سے لے کر صدر تک کا الیکشن لڑتا ھے اور  وہ کچھ کرتا ھے جو ساری اقسام کے وکیل مل کر بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔  میرا مطلب بار کی خدمت۔۔۔۔۔ کرتا ھے۔۔۔

جبلی وکیل:

جبل عربی میں پہاڑ کو کہتے ھیں ۔۔۔تو شاھیں ھے بسیرا کر لا فرموں کی چٹانوں پر۔۔۔۔ اس وکیل کو اس کے علم کے عوض دس گنازیادہ  ڈالر ملتے ھیں۔ اس کی زندگی پرتعیش اور اکثر رنگین ھوتی ھے۔۔۔ فکر معاش اس کا مسلۂ نہیں ھوتا بلکہ مزید تر معاش از خود اس کی تلاش میں ھوتا ھے۔۔۔۔ویک اینڈ پر اس کا خرچہ ایک سول جج کی ماہانہ تنخواہ کے برابر ھو جایا کرتا ھے۔۔۔ یہ اکثر سوال کرتا پایا جاتا ھے کہ آجکل ھائ کورٹ کی عمارت کہاں واقع ھے۔۔۔وجود زن سے ان کی تصویر کائنات میں رنگ سنبھالے نہیں سنبھلتے۔۔۔۔۔پردہ پوشی درست است

نسلی وکیل:

‎ان کے علاوہ وکیلوں کی ایک قسم نسلی وکیل بھی ہے ، یہ وکیلوں کی وہ قسم ہے جو نسل در نسل
‎وکالت سے وابستہ ہے ان میں کچھ صرف ددیال کی طرف سے واکالت ورثے میں پاتے ہیں اور کچھ نجیب الطرفین وکیل ہوتے ہیں ادھر ابا اور دادا وکیل اور ادھر اماں اور نانا وکیل ۔ وکالت ان کی رگوں میں دوڑ تی ہے ۔ اور اگر انہیں وکالت سے دلچسپی نہ بھی ہو تب بھی یہ کامیاب وکیل ثابت ہوتے ہیں ۔ گھرانے کا گھرانا وکیل ہوتا ہے نہار منہ مقدموں کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ خاندان میں کوئی جج بھی ہوجائے تو سونے پہ سہاگہ ۔ نسلی وکیلوں کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی، انہیں بچپن ہی سے وکالت کے داؤ پیچ سکھائے جاتے ہیں جس سے یہ اسکول میں اساتذہ اور ساتھ پڑھنے والے بچوں کی زندگی مشکل کردیتے ہیں بعد کو یہی مشق شدہ تربیت جج صاحبان کے لئے دردِ سر بنتی ہے ۔ ایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ بھر ی عدالت میں مقدمے کی پیروی کے دوران دلائل دیتے ہوئے وکیل صاحب نے "آئی آبجیکٹ مائی لارڈ" کے بجائے روانی میں " آئی آبجیکٹ بڑے ماموں" کہہ دیا۔

‎ایک اعتبار سے یہ مظلوم بھی ہوتے ہیں کہ کسی مقدمے کی بیروری میں تاخیر سے پہنچنے پر جو ڈانٹ جج صاحب سے کمرہِ عدالت میں پڑتی ہے وہی ڈانٹ رات کو کھانے کی میز پر انہیں جج صاحب سے بحثیت والدِ محترم دوبار سننے کو ملتی ھے

کسلی وکیل:

‎نسلی وکیلوں کو جہاں بہت سے فوائد ہیں وہیں بہت سے نقصانات بھی ہیں ، ان کے مقابلے میں وکیلوں کی ایک دوسری قسم جسے "کسلی وکیل" کہا جاتا ہے ہمیشہ آرام سے رہتی ہے ۔ ان کی نسبت ان کی کسل مندی کی بنیاد پر ہے ۔ یہ انتہائی سست اور کاہل قسم کے وکیل ہوتے ہیں ، ایک تو عدالتی نظام کی رفتار پر پہلے ہی تنقید کی جاتی ہے ، کسلی وکیل اس رفتار کو اور سست کردیتے ہیں ، ذرا ذرا سی بات بلکہ بات بے بات پیروئی کی نئی تاریخ لینا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ " تاریخ پہ تاریخ ۔۔۔ تاریخ پہ تاریخ"جیسے مشہور فلمی ڈائیلاگ انہیں کسلی وکیلوں کی مرہونِ منت ہیں ۔ یہ زیادہ تر وقت اپنے دفاتر میں گزارتے ہیں بار کونسل میں کم آتے ہیں ۔ عدالتوں میں اس سے بھی کم جاتے ہیں ۔ یہ کبھی کبھی بار کونسل کے سوفوں میں یوں دھنس کے بیٹھے نظر آتے ہیں کہ کوٹ پشت سے اٹھ کر گدی سے ہوتا ہوا سر کے اوپر آکر ایک موکلہ سا بنا لیتا ہے جس سے منہ نکال کر یہ بے دلی اور نفرت سے چاک و چوبند وکیلوں کو گھورتے ہیں ۔ ویسے تو یہ تمام لوگوں کو گھورتے ہیں مگر ان کےغضب کا سب سے زیادہ شکار ، "پسلی وکیل " ہوتے ہیں ۔

پسلی وکیل:

‎جی ہاں ، "پسلی وکیل"یہ وہ وکیل ہیں جن کیلئے محاورے کا ڈیڑھ پسلی بھی زیادہ معلوم ہوتا ہے ۔ معصوم معصوم چہروں والے یہ ننھے وکیل ، اپنی خداداد صلاحیتوں کی وجہ سے پڑھائی میں بہت آگے ہوتے ہیں ۔ یہ بچپن میں غذا سے حاصل ہونے والی توانائی کا بڑا حصہ، اپنی ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں استعمال کرتے ہیں لہذا جسمانی نشونما کی رفتار سست پڑجاتی ہے ۔ اگر ایسے چار چھ پسلی وکیل ایک جگہ جمع ہوں اور پس منظر سے عدالت کی عمارت ہٹا دی جائے ، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسکول کے بچے سالانہ ٹیبلو کی تیاری کررہے ہیں ۔

‎ایسے وکیل عموماََ جرائم کے مقدموں سے دور رہتے ہیں ، عموماََ ایسے مقدمات کا انتخاب کرتے ہیں جس میں کسی زور آور موکل سے واسطہ نہ پڑےمثلاََ مالی بے ضابتگی، نام کی تبدیلی ، ملکیت کی منتقلی، اور صلاح نامہ وغیرہ

ٹسلی وکیل:

‎ ۔ان کے بالکل مخالف ، وکیلوں کی ایک سب سے خطرناک قسم پائی جاتی ہے جسے "ٹسلی وکیل " کہا جاتا ہے ۔ یہ "ٹسلی" لفظ ٹسل سے ہے ۔ بمعنی اڑ جانا، ضد کرنا، کینہ رکھنا، جھگڑا کرنا ، دشمنی رکھنا، اس لفظ میں یہ تمام کیفیات یکجا ہیں ۔ اس نوع کے وکلا ء کے پاس زیادہ تر مقدمات اپنے ہی قائم کردہ ہوتے ہیں ۔جو انہوں نے اپنے قرب و جوار کے لوگوں پر مختلف اوقات اور مختلف کیفیات میں دائر کئے ہوتے ہیں ۔جن میں عام طور سے محلے کا دھوبی ، حجام، گاڑی کا مکینک، بچوں کے اسکول کا ہیڈ ماسٹر، سسرالی رشتہ دار، الغرض جہاں جہاں ان کی ٹسل ہوجائے یہ وہیں مقدمہ داغ دیتے ہیں ۔ یہ وکیل اپنی وکالت کی سند کا بے دریغ استعمال اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں ۔ بعض اوقات تو مقدمہ ہارنے کے بعد مقابلے کے وکیل تک پر مقدمہ داغ دیتے ہیں ۔

وصلی وکیل:
‎البتہ وکیلوں کی سب سے زرخیز قسم وصلی وکیل ہوتے ہیں ۔ یہ صرف عدالتی شادیاں یعنی کورٹ میرج کرواتے ہیں۔ ان کے پاس کبھی مقدمات کی کمی نہیں ہوتی ۔ بلکہ عدالتی شادیوں کے نتیجے میں عداوتی مقدمات کا ایسا بیج بو تے ہیں جس سے دوسرے وکیلوں کا دال دلیہ بھی جاری ہوجاتا ہے ۔ حالانکہ بارکونسل میں ان کی زیادہ آؤ بھگت نہیں ہوتی مگر اعداد و شمار سے ثابت کرنا مشکل نہیں کہ یہی طبقہء وکیلاں ساٹھ فیصد وکیلوں کیلئے معاشی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

جی نہیں میں بلاگر نہیں رہا!!!!

یہ ابتدائی وکالت کے پہلے چھ ماہ کی بات ہے۔ ہمارے ایک دوست ایک فوجداری کیس میں پھنس گئے۔ چونکہ ان کی جان پہچان میں ہم ہی تھے، لہٰذا وہ مسئلہ بیان کیے بغیر ہمیں رفیق بنا کر لے گئے اور ایک پولیس والے سے ملوایا۔

چائے کیفے میں، اے ایس آئی صاحب ہمارے دوست کے "جرم" کی تفصیل بیان کر رہے تھے اور ساتھ ساتھ ہمارے لیے اپنے احسانات کی رعایتیں بھی بتا رہے تھے ۔ ہم صرف "جی جناب، شکریہ" کہتے رہے۔ وجہ سادہ تھی: جرم و قانون کی سمجھ تو نہ تھی، لیکن پولیس والا ہر بات پر کہتا،
"وکیل صاحب، آپ تو قانون سمجھتے ہیں، آپ ہی سمجھائیں۔"

گھر آ کر ہم نے متعلقہ کتاب کھولی اور حقیقت جانچی۔ معلوم ہوا کہ پولیس والا "کمائی" کر گیا، ورنہ معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا جتنا وہ بتا رہا تھا ۔

تب ہم نے سیکھا کہ جھوٹی تعریف اور کم علمی دونوں پروفیشنل زندگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اور یہ کہ جو علم نہ ہو، اس بارے ضرور پوچھیں، جان لیں اور پھر آگے بڑھیں۔ یہ خیال کہ ہمیں سب آتا ہے، اتنا خطرناک ہے جتنا یہ کہ کوئی شعبہ یا کیس پہلے نبردآزما ہو چکا ہو، اس لیے وہ بہتر جانتا ہو۔

گزشتہ دنوں میٹرک کے ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ باتوں باتوں میں پرانی یادیں تازہ ہوئیں۔ کسی بات پر اس نے کہا:
"تم تو سمجھتے ہو گے، آخر بلاگر ہو۔"

ہمیں یاد آیا کہ واقعی بلاگر ممکن ہے اپنی پروفیشنل زندگی کے مخصوص معاملات میں جانکاری رکھتا ہو، لیکن ہر فن کا ماہر نہیں۔ اہل علم وہی ہے جو علم حاصل کرنے کی جدو جہد جاری رکھے۔ صرف اظہار رائے صاحب علم ہونے کی دلیل نہیں 

مکمل تحریر پڑھیں ←

اور سڑک بن گئی!!!!

یہ قریب بیس سال قبل کی بات ہے میرے رہائشی علاقے ماڈل کالونی کی ایک نہایت مصروف سڑک ماڈل کالونی روڈ مکمل طور پر تباہ تھی۔ ہم یار دوست اکثر مذاق میں کہتے کہ جس نے جھولے لینے ہیں وہ بائیک لے کر اُس طرف چلا جائے۔ مگر پھر ایک دن صبح صبح اس سڑک پر کارپیٹنگ ہوئی ہوئی تھی مکمل سڑک نئی نئی سی معلوم ہوتی تھی دیکھ کر حیرت اس لئے ہوئِی کہ ایک دن قبل جب وہاں سے گزر ہوا تھا تو "جھولے" لے کر آئے تھے مطلب سڑک خستہ حالت میں تھی۔ معلومات لینے پر معلوم ہوا کراچی کی مشہور زمانہ پارٹی کے لیڈران نے ایک جلسہ کی سلسلے میں تشریف لانا تھا س لئے ایک ہی رات میں انتظامیہ نے "فرض شناسی" کا ثبوت دیا جو اہل علاقہ کے لئے چند دنوں کی "سہولت" کی شکل میں برآمد ہوا۔
تب یہ جانا کہ اگر آپ کے علاقے میں بہتری چاہے وقتی یا مستقل ان "جلسوں" کے مرہون منت ہوتی ہے جن کے سبب انہیں آپ کے محلے آنا پڑے۔ یوں وہ سڑک ہر جلسے و سیاسی ایکٹیوٹی پر "نئی " سی ہو جاتی مگر اب پھر دو سالوں سے وہ دوبارہ اجڑی ہوئی ہے۔
قریب ڈھائی سال قبل عمرکوٹ میں تعیناتی ہوئی تو میرپور خاص سے عمر کورٹ تک کی روڈ کی حالت زار دیکھ کر افسوس بھی ہوتا اور غصہ بھی آتا کہ یہ ہماری صوبائی حکومت کام کیوں نہیں کرتی۔ مگر ڈیڑھ ماہ قبل اس سڑک کی قسمت جاگی اور یہ سڑک بہتر انداز میں کارپیٹ ہونا شروع ہوئی چونکہ سیاسی جماعتوں کے جلسے پہلے بھی ہوتے رہے مگر اس روڈ کی حالت جوں کی توں رہی اس لئے اول خیال یہ آیا کہ ممکنہ طور پر یہ الیکشن سے قبل کیا جانے والا کام ہے مگر جب گزشتہ اتوار مقامی رہنما کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لئے مختلف "رہنماؤں" اور خاص کر صوبے کے حاکم جماعت کے تمام وہ لیڈر جن کا تعلق سندھ سے تھا کی آمد ہوئی تو معلوم ہوا یہ "ترقیاتی پروجیکٹ" اس شادی کی بدولت ہے۔
ایسی ہی خبر اس سے قبل لاہور سے "بنت مریم" کے گھر اپنی والدہ کی آمد پر تعمیر کی جانے والی سڑک سے جڑی ہے۔ یوں یہ بات پکی ہو گئی ہے کہ ہمیں اپنے اپنے علاقے کی بہتری کے لئے یقین کوئی ایسی ہی تقریب رکھنی پڑے گی ورنہ کوئی امید بر نہیں آتی۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
بدمعاش ہیرو

بدمعاش ہیرو

ہمارے رویےہماری شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ ہماری شخصیت کی تعمیر میں وہ تمام عوامل شامل ہیں جن سے ہم متاثر ہوں ۔ گزشتہ چند سالوں سے ہماری درمیان ایک ایسی نسل پروان چڑ چکی ہے جو بدمعاشی، گالی ، بدتمیزی، پگڑی اچھالنے اور اوچھے پن کو قابل ستائش جانتی ہے اگر یہ اس فرد کے بارے میں یا کے لئے ہو جو ان  کی نظر میں ظالم ، چور یا برا ہے۔
ہمارے رویوں میں ایک خاص خامی جو داخل ہو چکی وہ یہ کہاگر ہم نے خود کو کسی گروہ سے منسلک کیا تو ہم اس کے ہر برے فعل کے لئے بھی نہ صرف جواز تلاش کرتے ہیں بلکہ اس کو درست قرار دینے کے لئے جھوٹ (پروپیگنڈے) تک کا سہارا لے لیتے ہیں۔ایسے رویے کو شخصیت کا حصہ بنانے میں ہمارے لکھاریوں و میڈیا نے بہت اہم کردار ادا کیا۔جنہوں نے ناانصافی کا خاتمہ لاقانونیت سے کرنے کا درس اپنے قصےکہانیوں سے دیا ۔
غلط راستہ درست منزل تک نہیں لے کر جا سکتا۔اونچی عمارتیں مضبوط بنیادوں کے مرہون منت ہوتی ہیں اور مضبوط بنیادیں غیرمیعاری مواد سے نہیں رکھی جاسکتی، پھر ہم غلط رویوں اور کمزور کرداروں سے ایک بہتر معاشرہ کیسے تعمیر کر سکتے ہیں۔

گزشتہ دنوں ضلع عمر کوٹ کی تحصیل کنری کے تھانے میں ایک مقامی وڈیرے کی ایس ایچ او سے بدتمیزی کی ویڈیو ایسی ہی ایک رویے کی عکاس ہے۔


محکمہ آب پاشی سے پانی کی باری پر شروع ہونے والا جھگڑا وڈیرے کے نقظہ نظر سے ظالم کا ہاتھ روکنے کی کاوش دراصل لاقانونیت کا مظاہرہ تھی۔ یہاں بھی دونوں طرف کے گروہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے ہیرو و ولن کی حمایت میں کہیں آدھے سچ اور کہیں پورے جھوٹ کا سہارا لیا۔
واقعہ کی جزیات اور حقیقت کے بیان سے بڑھ کر اہم یہ کہ ہم خود یہ جان لیں کہ اندھیرے کو روشنی سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ ایڈونچریس اور بدمعاش ہیرو پردے کی اسکرین پر تو گلیمر بکھیر سکتے ہیں مگر حقیقی زندگی میں اس آندھی کی ماند ہے جو تباہی پھیلاتی ہے اور ان جلتے دئیوں کوبھی بجھا دیتی ہے جو کسی حد تک روشنی کی وجہ تھے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

پنجابی نظم

اُٹھ شاہ حُسینا ویکھ لے اسّی بدلی بیٹھے بھیس
ساڈی جِند نمانی کُوکدی اسی رُلگئے وِچ پردیس
ساڈا ہر دم جی کُرلاوندا، ساڈی نِیر وگاوے اَکّھ
اساں جیوندی جاندے مر گئے، ساڈا مادھو ہوئیا وَکھ
سانوں سپّ سمے دا ڈنّگدا، سانوں پَل پَل چڑھدا زہر
ساڈے اندر بیلے خوف دے، ساڈے جنگل بن گئے شہر
اساں شوہ غماں وِچ ڈُبدے، ساڈی رُڑھ گئی ناؤ پتوار
ساڈے بولن تے پابندیاں، ساڈے سر لٹکے تلوار
اساں نیناں دے کھوہ گیڑ کے کِیتی وتّر دل دی بھوں
ایہ بنجر رہ نماننڑی، سانوں سجّن تیری سَونھ
اساں اُتوں شانت جاپدے، ساڈے اندر لگی جنگ
سانوں چُپ چپیتا ویکھ کے، پئے آکھن لوک ملنگ
اساں کُھبے غم دے کھوبڑے، ساڈے لمے ہو گئے کیس
پا تانے بانے سوچدے، اساں بُندے ریندے کھیس
ہُن چھیتی دوڑیں بُلھیا، ساڈی سولی ٹنگی جان
تینوں واسطہ شاہ عنایت دا، نہ توڑیں ساڈا مان
اساں پیریں پا لئے کُنگھرو، ساڈی پاوے جِند دھمال
ساڈی جان لباں تے اپّڑی، ہُن چھیتی مُکھ وِکھال
ساڈے سر تے سورج ہاڑھ دا، ساڈے اندر سِیت سیال
بن چھاں ہُن چیتر رُکھ دی، ساڈے اندر بھانبڑ بال
اساں مچ مچایا عشق دا، ساڈا لُوسیا اِک اِک لُوں
اساں خُود نوں بُھلّے سانولا، اساں ہر دم جپیا توں
سانوں چِنتا چِخا چڑھاون دی، ساڈے تِڑکن لَگے ہَڈّ
پَھڑ لیکھاں برچھی دُکھ دی ساڈے سینے دتی کَڈ
اساں دھُر تُوں دُکھڑے چاکدے ساڈے لیکھیں لکھیا سوگ
ساڈی واٹ لمیری دُکھ دی،ساڈے عُمروں لمے روگ
ساڈے ویہڑے پھوہڑی دُکھ دی،ساڈا رو رو چوئیا نور
ایہ اوکڑ ساڈی ٹال دے، تیرا جیوے شہر قصور
آ ویکھ سُخن دیا وارثا،تیرے جنڈیالے دی خیر
اَج پُتر بولی ماں دے پئے ماں نال رکھن وَیر
اَج ہیر تیری پئی سہکدی، اَج کَیدو چڑھیا رنگ
اَج تخت ہزارے ڈھے گئے،اَج اُجڑیا تیرا جھَنگ
اَج بیلے ہو گئے سنجڑے، اَج سُکیا ویکھ چنھا
اَج پِھرن آزُردہ رانجھڑے، اَج کھیڑے کر دے چاء
اَج ٹُٹی ونجھلی پریت دی، اَج مُکے سُکھ دے گِیت
بَن جوگی دَر دَر ٹولیا، سانوں کوئی نہ مِلیا مِیت
اساں اکھرموتی رولدے، اساں در در لاندے واج
کوئی لبھے ہِیر سیالڑی جیہڑی رنگے اپنا تاج
ساڈے ہتھ پیالہ زہر دا، اساں ویلے دے سُقراط
اساں کَھنڈ بنائیے کھار نوں ساڈی جگ توں وکھری بات
اُٹھ جاگ فریدا سُتّیا ہُن کر کوئی تدبیر
جِند ہِجر کریڑے پَھس کے اَج ہو گئی لیرو لِیر
سانوں جوبن رُتے ویکھ کے سَب آکھن بابا لوگ
کِس کھویا ساڈا جوبنا سانوں لگا کیہا روگ
اساں پیڑاں دا وَنجھ پالیا سانوں دُکھاں چاہڑی پان
سانوں غم دا پینجا پِنجدا ساڈے تُنبے اُڈدے جان
اساں بِیجے رُکھ انار دے سانوں لبھے تُمے کَوڑ
اساں مرن دیہاڑ اُڈیکدے ساڈی وَدھدی جاوے سَوڑ
ساڈے سِر تے رُکھ بلور دے ساڈی دھُپوں گہری چھاں
ساڈے تَنبو ساڑے سورجے ساڈی لُوسے دھرتی ماں
ساڈی اُجڑی حالت ویکھ کے پا رحمت دی اِک جھات
ساڈے سر توں اَنھی رات نوں ہُن کر سائیاں شبرات
ہُن آ باہو سُلطانیا سانوں درداں لیا لتاڑ
اَج توڑ زنجیری دُکھ دی اَج "ھُو" دا نعرہ مار
سانوں الف بنا دے پیاریا ساڈی مُک جائے بے دی لوڑ
مَن مُشّکے بوٹی عشق دی سب نِکلے دل دی کوڑ
ایتھے تِڑدے سب ایمان تے ایتھے اُڈدی عشق دی دھُوڑ
جو عشق سلامت منگدا پھڑ اُس نوں لیندے نُوڑ
ساڈا تالو جاوے سُکدا ساڈی ودھدی جاوے پیاس
بن بدل ساون ماہ دا ساڈی پوری کر دے آس
اساں اپنی قبرے آپ ہی لئے لہو دے دیوے بال
اساں بے بُریاں دے شہر وِچ ایہ کیتا نواں کمال
سائیں دمڑی شاہ دیا پیاریا تیرا جیوے سیف ملوک
ساڈے دیدے ترسن دید نوں ساڈے دل چوں اُٹھدی ہوک
سانوں گُڑھتی دے دے سُخن دی ساڈی کر دے صاف زبان
سانوں بُکّل وِچ لپیٹ کے ہُن بخشو عِلم گیان
اساں راتیں اُٹھ اُٹھ پِٹدے ساڈے کالجے پئے گئی سوج
اساں چَھم چَھم روندے پیاریا سانوں ہر دم تیری کھوج
اساں موہرا پِیتا سچ دا ساڈے نِیلے ہو گئے بُلھ
اساں رہ گئے کلّم کلّڑے ساڈا ویری ہویا کُل
ساڈے نَینِیں نِیندر رُس کے جا پُہنچی کیہڑے دیس
ہر راتیں چَھویاں مار دے سانوں لیف سرہانے کھیس
آ کوٹ مِٹھن دیا والیا لے جھبدے ساڈی سار
ہِک تِکھڑا نین نوکیلڑا ساڈے دل تِھیں ہویا پار
سانوں چڑھیا تَیئیا ہِجر دا ساڈا کر لے کوئی توڑ
سانوں بِرہن جوکاں لگیاں ساڈا لِتا لہو نچوڑ
اساں اپنے ہی گل لگ کے نِت پائیے سو سو وَین
ساڈی آ قسمت نوں چِمبڑی اِک بھکھاں ماری ڈین
ایہنوں کِیلو منتر پھوک کے ایہنوں کڈھو دیسوں دور
ایہہ پِچھل پیری اوتری ایتھے بن بن بیٹھے حور
اَج پے گیا کال پریت دا اَج نفرت کیتا زور
کر تتّا لوگڑپریم دا ساڈے جثے کرو ٹکور
ساڈی سوچ نوں پیندیاں دندلاں ساڈے جھل جھل ہف گئے ساہ
نِت پھندے بُن بُن سُخن دے اساں خُود نوں دیندے پھاہ
سانوں ویلا پَچھ لگاوندا اُتے گھڑیاں پاون لُون
دن راتاں مَچھ مریلڑے سانوں غم دی دلدل دھُون
سانوں لڑدے ٹھُونوے یاد دے ساڈا جُثہ نِیلو نِیل
سانوں کُوڑے کُوڑا آکھدے کیہ دیئے اساں دلیل
آ تلونڈی دے بادشاہ گرو نانک جی مہاراج
توں لاڈلا بولی ماں دا تیری جگ تے رہنی واج
لے فیض فرید کبیر توں کیتا اُلفت دا پرچار
توں نفرت دے وِچ ڈُبدے کئی بیڑے کیتے پار
تُوں مان ودھایا پُرش دا تُوں ونڈیا اَت پیار
پا سچ دی چھاننی پاپ چوں تُوں لِتا پُن نتار
تیرا وسے گُرو دوالڑا تیرا اُچا ہووے ناں
دِن راتیں سِیساں دیوندی تینوں نانک بولی ماں
اے شِو کمارا پیاریا منگ ماں بولی دی خیر
اساں ٹُر پئے تیری راہ تے اساں نپّی تیری پَیڑ
تُوں چھوٹی عُمرے پیاریا کیتا عمروں وَدھ کمال
تُوں ماں بولی دا بوٹڑا لیا لہو اپنے نال پال
توں بھنے پِیڑ پراگڑے توں پیتی گھول رسونت
تیرا لِکھیا گاہ نہ کڈھدے کئی سُر دے شاہ کلونت
پا چھاپاں چَھلے پینکھڑا لا ٹِکا نَتھ پازیب
تُوں ورت کے لفظ انوکھڑے بھری ماں بولی دی جیب
تُساں سب سُچجے سجڑے رل پیش کرو فریاد
رب ماں بولی دا اُجڑیا گھر فیر کرے آباد
چل چھڈ ندیمے قادری ہُن کر دے پُور کلام
تُوں سیوک بولی ماں دا تیرا جگ تے رہنا نام


مکمل تحریر پڑھیں ←

گزری عیدیں!!

عید تو بچوں کی ہوتی ہے جب بچے تھے تو بڑوں کی زبانی یہ جملہ سن کر خیال آتا کیسے ہیں یہ ہمارے بڑے ہیں اپنی مرضی کر سکتے ہیں جیب میں پیسے ہیں جو چاہے کھائیں جیسا دل کرے ویسے کپڑے بنوائیں پھر بھی کہتے ہیں کہ عید ہماری ہے ان کی نہیں! عجیب لگتی تھی ان کی بات۔ اب ہم بچے نہیں رہے بڑے ہو گئے ہیں، کسی حد تک صاحب اختیار بھی ہیں اور جان گئے ہیں اس وقت کے بڑے ٹھیک کہتے تھے سچے تھے اب ہم بھی یہ ہی کہتے ہیں “عید تو بچوں کی ہوتی ہے “۔
جان گئے ہیں جو صاحب اختیار نظر آتے ہیں ان سے ذیادہ بے اختیار شاید ہی کوئی ہو جب ان کی خوشی دوسروں سے جڑ ی ہوئی ہوتی ہے۔ ذمہ دارویوں کا احساس من مانی کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہوتا ہے۔جان گئے ہیں ہم بچپن میں جن (والدین) کی اجازت کے طلب گار ہوتے تھے وہ دراصل ہماری خوشی کے آگے اپنی مرضیوں و خواہشوں کا گلا دبا دیتے تھے ۔ ہمارے نئے کپڑوں و جوتوں کے لئے اپنے پرانے جوڑوں کو استری کر کے عید والے دن زیب تن کرتے تھے۔ ہماری زندگی کی آسانی ان کی دشوار زندگی کا نتیجہ ہوتی تھی۔ تب نہ علم تھا نہ احساس! اب معلوم ہے مگر طاقت اب بھی اتنی نہیں کہ ان آسانیوں کا صلہ دے سکیں اُن دنوں کا بدل دے سکیں۔
ہماری میٹھی عید بھی ان کی عید قربان ہی ہوتی تھی۔ عید خوشی ہے ، خوشی احساس کا نام ہے اورعمر کی گنتی کے ساتھ اب احساس بدل گیا ہے یہ عید یقین بچپن کی عید سے مختلف ہے پہلے دوستوں و کزنوں کے ساتھ قہقہہ لگانا، ملنے والی رقم جو عیدی کہلاتی ہے اسے اپنی ذات پر خرچ کرنا اچھا لگتا ہے اب دعا ہے جنہوں نے میری عیدوں کو اپنی خوشیاں جانا اللہ توفیق دے ہے آنے والے دن میں اُن کی خوشیوں کا سبب و وسیلا بنو۔
آپ سب کو عید مبارک، اپنی خوشیوں میں انہیں یاد رکھیں جن کی خوشیاں آپ سے منسلک رہی ہے یا ہیں ۔ جانے انجانے میں انہیں دکھ یا تکلیف دینے سے اجتناب کریں یہ دکھ و تکلیف آپ کے ان سے رویے تک ہی محدود نہیں آپ کے ممکنہ دیگر دنیاوی معاملات سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔
وہ عیدیں جو گزر چکی اب میسر نہیں !مگر آنے والی عیدیں ممکن ہیں گزشتہ عیدوں سے بہتر ہوں، جنہیں بہتر بھی ہم ہی بنا سکتے ہیں۔خوش رہیں۔


مکمل تحریر پڑھیں ←

ناکامی بھی بخشش ہے

وقت سے پہلے حاصل ہونے والی  کامیابی بڑی کامیابی کے راستے کی رکاوٹ بھی ہوسکتی ہے. جہد مسلسل پر حاصل ہونے والی بڑی کامیابی کئی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں و ناکامیوں کے ملاپ کا نتیجہ ہوتی ہیں . مسلسل ناکامیاں ممکن ہے مایوسی کی پرورش کرتی ہوں مگر مثبت رویہ رکھنے والے کو بطور انعام اپنی فیلڈ کا سب سے کامیاب فرد بنا دیتی ہے.


جب کبھی اپنے اردگرد نظر دہرائی جدوجہد کے ابتدا میں کامیابی حاصل کر کے مطمئن ہونے والوں کو کامیاب لوگوں کی فہرست میں پچھلی نشست میں دیکھا. کاوشوں کے نتائج پر اطمینان کرنے والے آگے بڑھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں. یہ خیال کہ ناکامیاں ہی کسی فرد کو ناکام بناتی ہیں اس وقت غلط ثابت ہوا جب کسی چھوٹی یا نچلی منزل پر مطمئن بیٹھے شخص کو دیکھا کہیں وہاں وہ اپنی اولین کامیابی کی بناء پر پہنچا تھا.


ایک بزرگ نے ہمیں ایک بار کہا تھا "پتر ناکامیوں کو سنبھال کر رکھا کر یہ مثالی کامیابی کی کنجی ہوتی ہیں" ہمیں یہ بات تب سمجھ میں نہیں آئی تھی مگر اب احساس ہوتا ہے ناکامی ایندھن کا کام بھی تو کرتی ہے بڑی منزل تک پہنچنے کے لئے ذیادہ ایندھن درکار ہوتا ہے شاید اس سے یہ مراد ہو کبھی خیال آتا ہے شاید چونکہ ہر ناکامی ایک نیا سبق دیتی ہے جو علم میں اضافہ کا سبب بنتا ہے اور مثالی کامیابی علم کے بغیر ممکن نہیں شاید ان کی یہ مراد ہو قیاس ہی کر سکتا ہوں مطلب سمجھنے میں مگر جس پہلو سے بھی دیکھو بات سچی ہی معلوم ہوتی ہے.


بات یہ ہے کہ ناکامی بھی تحفہ ہے بخشش ہے کھلے دل سے قبول کریں گے تو بڑی کامیابی عنایت ہو گی ورنہ منزل سے دور ہی رہے گی اور بندہ ہمیشہ ناکام. ناکامی کو تحفہ یا بخشش ماننے کا طریقہ یہ ہے کہ بندہ جدوجہد کرے.


مکمل تحریر پڑھیں ←

The Girl in The River

ماشاءاللہ! بہت عمدہ اور بہترین کام کیا ہے اس نے، وہ شروع سے نونہال تھی
"ابا آپ اسے کارنامہ سمجھتے ہیں"
اور کیا ایسی کارکردگی دیکھانے کی صلاحیت ہر کسی میں نہیں ہوتی!
"لیکن ابا اس نے ہمارے لئے تو کچھ بھی نہیں کیا"
نالائق! وہ اور تمہارے لئے کیا کرے
"مسئلہ کا حل یہاں ہے وہاں یوں... "
تجھے خود تو کچھ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی اب اس کی کامیابی پر الٹا منفی باتیں؟
" ابا! وہ غیر ہیں وہاں اپنے گھر کا مسئلہ اٹھانا اور یہاں چپ رہنا منافقت ہے! تبدیلی یہاں لانی ہے یا وہاں؟ اسے یہاں تبدیلی کی کوشش کرنی چاہئے"
شرم کر! شرم! وہ انعام جیتی ہے انعام لگی سمجھ، دفعہ ہو جا میرے گھر سے خبیث!
مکمل تحریر پڑھیں ←

قیدی

مجھے آئینہ پر ابھرتے اپنے عکس پر ہنسی آ رہی تھی کہ یہ میری حرکات و سکنات کا قیدی ہے، جو میں کروں گا یہ وہ ہی کرتب دیکھائے گا. اپنے عکس پر طنزیہ مسکراہٹ ڈالتے ہوئے جب میں پلٹا تو چاروں طرف مکمل اندھیرا چھا گیا، گھبرا کر میں نے مڑ کر دیکھا تو شیشے کے اس طرف روشن کمرے میں میرا عکس، ہم ذات، قہقہے لگا رہا تھا اور میرے چاروں طرف اندھیرا تھا.


مکمل تحریر پڑھیں ←