سنا ہے زمین سے توانائی کا اخراج ہو تو زلزلہ آتا ہے! آج یہ بھی تماشا دیکھا کہ جب زلزلہ آتا ہے تو یار لوگوں کی توانائی بھی خارج ہو جاتی ہے اور جان کی امان کو جو گھر لوگوں نے بنا رکھے ہیں اُن سے ہی باہر نکل کھڑے ہوئے جان کی امان کو!! اونچی اونچی عمارتوں کی تعریف کرنے والے کھلے میدانوں کو بھاگے! بہادروں پر خوف کا سایہ دیکھ کر ہنسی آئی کہ واہ کیا بے بسی پائی ہے حضرت انسان نے۔
پندرہ سیکنڈ میں اوقات کا اندزہ ہو گیا! مگر پھر کہاں اعمال میں درستگی آ سکتی ہے کرسی پر سوار جان بچانے کو آیۃ کرسی کا ورد کرتے جب سڑک پر پہنچے تو علاقے کی عورتوں کی بے پردگی میں دیکھ کر پھر سے شیطان کے ہمنواہ ہو کر آنکھوں کی گمراہی کا شکار ہوئے تب احساس ہوا کہ اللہ کی یاد موت سے جڑی ہے یہاں موت ٹلی وہاں پھر وہی پرانی روش۔
زلزلہ زمین ہی نہیں ہلاتا بندے بھی ہلا دیتا ہے اور یہ جھٹکے اُن ہی کو زمین پر لاتے ہیں جو اندر سے اس قدر کمزور ہو چکے ہوں کہ زمین پر جا گریں! خاک کی اصل تو زمین ہی ہے مگر کوئی اصل کو خود سے لوٹنا نہیں چاہتا۔
ووٹ کس کو؟
الیکشن کا زور ہے! میڈیا ہو یا شوشل میڈیا، گھر ہو یا گلی، دفتر ہو یا بازار، ہر طرف سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں! ہر ایک کا لیڈر عمدہ و با کمال ہے۔ اُس سے اچھا و اصولوں والا کوئی اور نہیں ہے۔ جس سے پوچھو وہ اپنے رہنما کو ہی قابل بتاتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے کسی جگہ ہونے والی کسی بچث میں یہ ثابت ہو جائے کہ اُس کی چنے گئے لیڈر میں کوئی خامی یا کمزوری ہے یا ماضی میں وہ کوئی غلط کام کر چکا ہے تو جواب میں سامنے والا آپ کے ممکنہ انتخاب میں کیڑے نکالے گا یا کیڑے ڈالنے کی کوشش کرے گا!
ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جو ووٹ ڈالتے ہوئے شخصیت پسندی کے شکار ہیں! انتخاب یقین شخصیت کے نام پر کیا جانا ہے مگر شخصیت ہی کا انتخاب کیوں؟
ہم میں سے کتنے جانتے ہیں کہ منشور واقعی اہم ہے؟ اور ہم میں سے کتنے آگاہ ہیں کہ سابق حکمرانوں نے پہلے کیا منشور دیا تھا؟ اور اُس میں سے انہوں نے کون سا منشوری نقطہ یا وعدہ پورا کیا؟
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کی سیاسی جماعت کا تعلیم ، صحت، مواصلات، و دیگر شعبہ زندگی سے متعلق کیا منشور ہے؟ مجھے یقین ہے اکثریت نا واقف ہو گی! بلکہ سچ کہو تو سابقہ تجربہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے منشور پیش کرنے والے خوداُسے ایک کاغذ کے ٹکڑے سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
ایسے میں میں اب تک کم از کم ووٹ دینے سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کر رہا ہوں!
مکمل تحریر پڑھیں ←
ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جو ووٹ ڈالتے ہوئے شخصیت پسندی کے شکار ہیں! انتخاب یقین شخصیت کے نام پر کیا جانا ہے مگر شخصیت ہی کا انتخاب کیوں؟
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کی سیاسی جماعت کا تعلیم ، صحت، مواصلات، و دیگر شعبہ زندگی سے متعلق کیا منشور ہے؟ مجھے یقین ہے اکثریت نا واقف ہو گی! بلکہ سچ کہو تو سابقہ تجربہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے منشور پیش کرنے والے خوداُسے ایک کاغذ کے ٹکڑے سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
ایسے میں میں اب تک کم از کم ووٹ دینے سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کر رہا ہوں!
اظہار رائے کو پابند کرنے کی آزادی
جن اردو بلاگرز نے لاہور میں ہونے والی اردو بلاگرز کانفرنس میں شرکت کی وہ مسرت اللہ جان سے واقفیت رکھتے ہوں گے ! جناب مختلف ویب سائیٹ پر کالم یا تحریرں لکھتے رہتے ہیں! آج صبح معلوم ہوا جناب نے ایک کالم سچ ٹی وی پر لکھا جس کی بناء پر جناب کو امیریکن کونسلیٹ کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی جس کے خلاف انہیں ابتدا میں ایف آئی آر کٹوانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا مگر بعد میں ہائی کورٹ کی مداخلت سے وہ ابتدائی رپورٹ درج کروانے میں کامیاب ہوئے۔
نہ معلوم ہم کب آزاد ہو گے! اپنے ملک میں ہم یوں غلام ہیں کہ بعض دفعہ احساس ہوتا ہے کہ آزادی کی ایک جدوجہد اور درکار ہے ابھی!
مکمل تحریر پڑھیں ←
نہ معلوم ہم کب آزاد ہو گے! اپنے ملک میں ہم یوں غلام ہیں کہ بعض دفعہ احساس ہوتا ہے کہ آزادی کی ایک جدوجہد اور درکار ہے ابھی!
ہائے اوئے کہاں جا پھنسا!!
Shoiab Safdar Ghumman
الیکشن
آزاد عدلیہ
آئین پاکستان
پاکستان
تعلیم
جعلی ڈگری
عدالت
قانون
Islam
Pakistan
Urdu
نظریاتی اختلاف ہو تو الگ بات ہے! مگر کیا کریں وہ تو شخصیت پسندی کی بیماری میں مبتلا فرد ہے! برداشت اُس میں یوں بھی نہیں کہ وہ خود سے متضاد نظریات رکھنے والوں کو جہالت کی ڈگری عطا کرنے کا ہنر جانتا ہے!شخصیت پسندی ایک ایسی بیماری جو انتخاب کو آسان مگر درست انتخاب کو ناممکن بنا دیتی ہے! جو ایسا سمجھتیں ہیں وہ دراصل اُس کی نظر میں اُس کی پسندیدہ شخصیت سے نا واقف ہیں۔ اُس کی پسندیدہ شخصیت میں کوئی بُرائی ہو ہی نہیں سکتی!وہ سمجھتا ہے ہر بُرے آدمی کو اچھا آدمی بُرا لگتا ہے اور اس ہی لئے اُس کی پسندیدہ شخصیت میں کوئی خرابی نہیں!اُسے بُرا سمجھنے والے دراصل خود اچھے نہیں ہیں! اُس کی شعوری سوچ کی ترقی کے ساتھ ساتھ اُس کی پسندیدہ شخصیت اگرچہ تبدیل ہوتی رہی مگر اسے حسن اتفاق ہی کہا جاتا ہے ہے ہر بار اُس کی پسندیدہ شخصیت اقتدار میں ہوتی جس کا اظہار وہ اُس شخصیت سے ضرور کرتا کہ وہ سچ کے پرچار کرنے کا عادی تھا مگر اس حق گوئی کو اُس کے حاسدین نے خوشامد کانام دیا۔
وہ نظریاتی اختلاف کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ جو اختلاف نظر آئے وہ ہی نظریاتی ( یعنی نظر +آتی) اختلاف ہے لہذا وہ مخالفین سے اپنا اختلاف اس حد تک کرتا ہے کہ نظر آئے چاہے کہیں بھی لہذا یہ اختلاف مختلف وجوہات کی بناء پر کبھی گلی محلے اور کبھی تھانہ کچہری میں نظر آتا ہے۔وہ جانتا تھا حق کی جنگ میں بندے کو مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، اپنی اس حق سچ کی لڑائی میں اُسے بھی جیل کی ہوا کھانی پڑی! مگر اُس نے ہمت نہ ہاری اور باطل کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ، چونکہ محبت و جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے لہذا اُس نے سب ہی کیا اگر کچھ رہ گیا ہو تو اُس کی کسر وہ بعد میں پوری کر دیتا مگر!!! خدمت کی راہ میں وہ ہی بندہ آ گیا جس کے سامنے وہ باطل کی ہار کی جدوجہد کے سلسلے میں پیش ہوتا رہا تھا!
تب وہ جج تھا تب بھی اُس سے اُسے آزاد نہ رہنے دیا تھا اب بھی وہ اُسے عوام کی خدمت سے روکنے پر بضد ہے! وہ جو حق کی جیت کے لئے ہر ڈگری کو استعمال کرتا تھا آج ڈگری اُس ہی کو اُس کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
وہ نظریاتی اختلاف کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ جو اختلاف نظر آئے وہ ہی نظریاتی ( یعنی نظر +آتی) اختلاف ہے لہذا وہ مخالفین سے اپنا اختلاف اس حد تک کرتا ہے کہ نظر آئے چاہے کہیں بھی لہذا یہ اختلاف مختلف وجوہات کی بناء پر کبھی گلی محلے اور کبھی تھانہ کچہری میں نظر آتا ہے۔وہ جانتا تھا حق کی جنگ میں بندے کو مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، اپنی اس حق سچ کی لڑائی میں اُسے بھی جیل کی ہوا کھانی پڑی! مگر اُس نے ہمت نہ ہاری اور باطل کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ، چونکہ محبت و جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے لہذا اُس نے سب ہی کیا اگر کچھ رہ گیا ہو تو اُس کی کسر وہ بعد میں پوری کر دیتا مگر!!! خدمت کی راہ میں وہ ہی بندہ آ گیا جس کے سامنے وہ باطل کی ہار کی جدوجہد کے سلسلے میں پیش ہوتا رہا تھا!
تب وہ جج تھا تب بھی اُس سے اُسے آزاد نہ رہنے دیا تھا اب بھی وہ اُسے عوام کی خدمت سے روکنے پر بضد ہے! وہ جو حق کی جیت کے لئے ہر ڈگری کو استعمال کرتا تھا آج ڈگری اُس ہی کو اُس کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔
ہم بھی امیدوار ہیں!!
Shoiab Safdar Ghumman
الطاف بھائی
الیکشن
پاکستان
کراچی
All Pakistan Muslim League
Election
Pakistan
Pervez Musharraf
گزشتہ سات سال سے ہم آپ کے سامنے ہیں! آپ ہمارے کردار سے واقف ہیں۔ ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خامی ہوتی ہیں ممکن ہے ہم میں بھی کچھ خامیاں ہوں۔ سیاست کے بارے ہمارےنظریات یقین اچھے نہیں مگر آج کے جمہوری دور میں ہم ووٹ کی طاقت سے ہی تبدیلی لا سکتے ہیں!
ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اچھی و عمدہ قیادت کا ملک میں فقدان ہے لہذا اس بات کا اظہار ہم اکثر و بیشتر کرتے رہے ہیں ۔ جب الیکشن کے فارم پُر ہونا شروع ہوئے تو عدالت میں بھی ہم نے اپنے ان خیالات کا اظہار اپنے دوستوں سے کیا لہذا پرسوں دوستوں سے مشورے کے بعد ہم نے اپنے حلقہ PS-121 سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر کے فارم جمع کروا دیئے تھے جو آج منظور ہو گئے ہیں!۔
آزاد امیدوار کی حیثیت سے فارم جمع کروائے تھے، مگر پھر APML نے ٹکٹ کا کہا ہے!ایم کو ایم کے امیدوار سے ہماری بات چیت چل رہی ہے دیکھے کیا رزلٹ نکلتا ہے!
آپ میں سے کون کون الیکشن کے سلسلے میں ہمارا ساتھ دے گا؟ جو حلقے میں رہتے ہیں وہ ووٹ ڈال دیں اور جو حلقے سے باہر ہے وہ نوٹ ڈال دے تاکہ الیکشن کے اخراجات میں آسانی ہو۔
اس طرح کا اپریل فول تو منایا جا سکتا ہے. اللہ اس جھوٹ کو معاف کرے.
مکمل تحریر پڑھیں ←
ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اچھی و عمدہ قیادت کا ملک میں فقدان ہے لہذا اس بات کا اظہار ہم اکثر و بیشتر کرتے رہے ہیں ۔ جب الیکشن کے فارم پُر ہونا شروع ہوئے تو عدالت میں بھی ہم نے اپنے ان خیالات کا اظہار اپنے دوستوں سے کیا لہذا پرسوں دوستوں سے مشورے کے بعد ہم نے اپنے حلقہ PS-121 سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر کے فارم جمع کروا دیئے تھے جو آج منظور ہو گئے ہیں!۔
آزاد امیدوار کی حیثیت سے فارم جمع کروائے تھے، مگر پھر APML نے ٹکٹ کا کہا ہے!ایم کو ایم کے امیدوار سے ہماری بات چیت چل رہی ہے دیکھے کیا رزلٹ نکلتا ہے!
آپ میں سے کون کون الیکشن کے سلسلے میں ہمارا ساتھ دے گا؟ جو حلقے میں رہتے ہیں وہ ووٹ ڈال دیں اور جو حلقے سے باہر ہے وہ نوٹ ڈال دے تاکہ الیکشن کے اخراجات میں آسانی ہو۔
اس طرح کا اپریل فول تو منایا جا سکتا ہے. اللہ اس جھوٹ کو معاف کرے.
خرچہ الیکشن!
Shoiab Safdar Ghumman
الیکشن
ایم کیو ایم
آزاد عدلیہ
آصف زرداری
آئین پاکستان
پاکستان
معاشرہ
Political prisoner
Urdu
آؤ جی جناب کیسے ہیں جناب!
“یار الیکشن کے سلسلے میں آیا ہوں”
سر ہم حاضر ہیں ہم آپ کو ہی ووٹ ڈالیں گے پریشان نہ ہوں
“ابھی ووٹ کے لئے نہیں آیا کسی اور کام سے آیا ہوں”
جی جی بھائی حکم!
“دیکھو گزشتہ تین سال سے میرا آپ سے ایک تعلق بن گیا ہے جو کام آپ تین سال سے کرتے آ رہے ہو ناں اُس کا اُلٹ آپ نے ان تین ماہ میں کرنا ہے”
مطلب کیا کرنا ہے؟
“یار پہلے سرکاری تقریبات کے اخراجات میں آپ ہر چیز و معاملے کی رسید اصل خرچے سے ذیادہ کی دیتے تھے ناں”
جی بھائ
“ہم نے آپ کا خیال کیا تھا تب بھی اب بھی کرے گے”
بھائی آپ حکم کرے
“بس اب کے رسیدوں میں چیزوں کی قیمت آدھی اور کبھی اُس سے بھی کم لکھ دینا”
بھائی وہ تو ٹھیک ہے مگر ۔۔۔۔
“یاراصل قیمت سمیت تیرا کمیشن تجھے مل جائے گاا بس اُس کی تصدیق کر دینا کر دینا کہ رسید والے چارجز درست ہیں جب الیکشن کمیشن والے آئیں! ویسے وہ نہیں آئیں گے! “
جو حکم بھائی کوئی مسئلہ نہیں!
مکمل تحریر پڑھیں ←
“یار الیکشن کے سلسلے میں آیا ہوں”
سر ہم حاضر ہیں ہم آپ کو ہی ووٹ ڈالیں گے پریشان نہ ہوں
“ابھی ووٹ کے لئے نہیں آیا کسی اور کام سے آیا ہوں”
جی جی بھائی حکم!
“دیکھو گزشتہ تین سال سے میرا آپ سے ایک تعلق بن گیا ہے جو کام آپ تین سال سے کرتے آ رہے ہو ناں اُس کا اُلٹ آپ نے ان تین ماہ میں کرنا ہے”
مطلب کیا کرنا ہے؟
“یار پہلے سرکاری تقریبات کے اخراجات میں آپ ہر چیز و معاملے کی رسید اصل خرچے سے ذیادہ کی دیتے تھے ناں”
جی بھائ
“ہم نے آپ کا خیال کیا تھا تب بھی اب بھی کرے گے”
بھائی آپ حکم کرے
“بس اب کے رسیدوں میں چیزوں کی قیمت آدھی اور کبھی اُس سے بھی کم لکھ دینا”
بھائی وہ تو ٹھیک ہے مگر ۔۔۔۔
“یاراصل قیمت سمیت تیرا کمیشن تجھے مل جائے گاا بس اُس کی تصدیق کر دینا کر دینا کہ رسید والے چارجز درست ہیں جب الیکشن کمیشن والے آئیں! ویسے وہ نہیں آئیں گے! “
جو حکم بھائی کوئی مسئلہ نہیں!
اردو بلاگرز ہینگ آؤٹ
اردو بلاگرز کا یہ دوسرا ہینگ آؤٹ تھا! اس سے قبل ہونے والی آن لائن ملاقات کی داستان آپ بلال بھائی کے بلاگ پر پڑھ سکتے ہیں! گزشتہ رات ہونے والی ایک اور ایسی ملاقات کی ریکارڈنگ ذیل میں موجود ہے۔ کئی سابقہ بلاگرز کوشش کے باوجوداس ہینگ آؤٹ میں جگہ نہ بنا سکے جن میں جہانزیب اشرف نمایاں ہیں نیز قدیر جنجوعہ اس کے آن ایئر ہونے کی وجہ سے شرکت سے انکاری تھے۔ جناب خرم شبیر و ڈاکٹر منیر سے ایس ایم ایس پر اپنی مصروفات کی وجہ سے معذرت کی۔ اس بار عثمان لطیف جو کہ SEO ہیں نے اس آئن لائن ملاقات میں خصوصی شرکت کی ! اردو بلاگرز نے انہیں آئندہ آئن لائن ملاقات میں اردو بلاگرز کے حوالے سے SEO یعنی سرچ انجن (گوگل) میں عمدہ رینک کے حوالے سے ایک کلاس یا لیکچر کا وعدہ لیا ہے۔ اس آئن لائن ملاقات میں کس کس پہلو پر بات ہوئی اس کا ایک اندازہ آپ ویڈیوز سُن کر لگا سکتے ہیں!!! کل باری باری کُل تین سیشن ہوئے جن میں سے دو کی ریکارڈنگ ذیل میں ہے! جو احباب ویڈیوز نہیں دیکھ سکتے وہ آئی ٹی نامہ والے سے اس سلسلے میں کسی ٹوٹکے کی فرمائش کر لیں!! یا پھر بلال بھائی کو کہہ دے ایک مختصر پچھلی بار کی طرح عمدہ تحریر عنایت کریں۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
انتخاب
انتخاب کرنا آسان عمل نہیں ہے! یہ اُس وقت مزید دشوار معلوم ہوتا ہے جب اِس مرحلہ پر اپنے فائدے سے زیادہ اجتماعی فائدے کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے. ہمارے معاشرے و خاندانی نظام کی ساخت نے ہمیں بڑوں کی موجودگی میں فیصلہ کرنے سے باز رہنے جیسا رواج تخلیق کیا ہے کہ زندگی میں ہم ہر دوسرے تیسرے معاملہ میں جہاں انتخاب کا موقع ملتا ہے بڑوں کو یہ اختیار دے کر خود کو سعادتمند ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
سعادتمند مندی فیصلہ کے اختیار سے گریز کرنا نہیں بلکہ فیصلہ کو اُس صورت میں قبول کرنا ہے جب آپ کی مرضی بڑوں سے مختلف ہو جس کا اظہار آپ اُن کے سامنے اس انداز میں کر چکے ہوں کہ وہ آپ کی بات کو تسلیم کریں یا آپ کو ویسا کرنے کی اجازت دے. سعادتمندی کا اصل امتحان اُس وقت شروع ہوتا ہے جب بڑوں کا فیصلہ آپ کے حق میں نقصان کا باعث بن جائے تب آپ کا رویہ یہ بتاتا ہے کہ آپ سعادتمند ہیں یا سعادتمندی کا ڈرامہ کرتے ہیں۔
زندگی میں ملنے والے کتنے فیصلے ایسے ہیں جو ہم اپنی ذات سے بلند ہو کر کرتے ہیں؟
لہذا جناب انتخابات آنے والے ہیں ایسی سعادت مندی سے باز آئیں کہ جہاں بڑوں نے کہا وہاں ووٹ ڈال دیا، یا بے فائدہ سمجھ کر ڈالا ہی نہیں یا یہ کہ ذاتی مفاد کو اجتماعی فائدے کے مقابلے میں اہم جان کر ووٹ بیچ دیا! جس کو آپ مخلص جانے تمام میں بہتر جانے اُسے منتخب کرے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
زندگی میں ملنے والے کتنے فیصلے ایسے ہیں جو ہم اپنی ذات سے بلند ہو کر کرتے ہیں؟
لہذا جناب انتخابات آنے والے ہیں ایسی سعادت مندی سے باز آئیں کہ جہاں بڑوں نے کہا وہاں ووٹ ڈال دیا، یا بے فائدہ سمجھ کر ڈالا ہی نہیں یا یہ کہ ذاتی مفاد کو اجتماعی فائدے کے مقابلے میں اہم جان کر ووٹ بیچ دیا! جس کو آپ مخلص جانے تمام میں بہتر جانے اُسے منتخب کرے۔
مادر کراچی
انٹرویو انگریزی میں ہے ۔
اگلے کی باری کے لئے عدت
اوئے کن سوچوں میں گم ہے
“یار ایک ٹینشن میں ہوں مگر جواب نہیں مل رہا؟”
کیسی ٹینشن؟
“یہ نگران حکومت کا عرصہ تین ماہ کیوں ہوتا ہے؟
یار یہ تو آئین میں درج ہے اس لئے
“ابے یہ تو مجھے بھی معلوم مگر یہ مدت ہی کیوں؟؟؟”
وہ اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں!
“مطلب؟”
اچھا سمجھاتا ہوں پہلے یہ بتا کہ عوام اسم مذکر ہے یا مونث؟
“قاعدے کے مطابق تو یہ مونث ہی ہے”
اور حکمران کیا ہیں؟
“حکمران چور ہیں”
ابے میں حکمران بطور اسم پوچھ رہا ہوں!
“تو کیا مجھ سے اردو کا پرچہ حل کروانے آیا ہے جو تذکیر و تانیث کھیل رہا ہے؟ چلو وہ مذکر ہے پھر”
تو سمجھ لے ناں تین حیض قریب تین ماہ ہی بنتے ہیں ناں
“لعنت ہے یار تیری منتق پر تیرا مطلب ہے وہ ہماری _____________________ ۔ تجھ سے تو کچھ پوچھنا ہی بے کار ہے”
مکمل تحریر پڑھیں ←
“یار ایک ٹینشن میں ہوں مگر جواب نہیں مل رہا؟”
کیسی ٹینشن؟
“یہ نگران حکومت کا عرصہ تین ماہ کیوں ہوتا ہے؟
یار یہ تو آئین میں درج ہے اس لئے
“ابے یہ تو مجھے بھی معلوم مگر یہ مدت ہی کیوں؟؟؟”
وہ اس لئے کہ ہم مسلمان ہیں!
“مطلب؟”
اچھا سمجھاتا ہوں پہلے یہ بتا کہ عوام اسم مذکر ہے یا مونث؟
“قاعدے کے مطابق تو یہ مونث ہی ہے”
اور حکمران کیا ہیں؟
“حکمران چور ہیں”
ابے میں حکمران بطور اسم پوچھ رہا ہوں!
“تو کیا مجھ سے اردو کا پرچہ حل کروانے آیا ہے جو تذکیر و تانیث کھیل رہا ہے؟ چلو وہ مذکر ہے پھر”
تو سمجھ لے ناں تین حیض قریب تین ماہ ہی بنتے ہیں ناں
“لعنت ہے یار تیری منتق پر تیرا مطلب ہے وہ ہماری _____________________ ۔ تجھ سے تو کچھ پوچھنا ہی بے کار ہے”