عنوان تجویر کریں!

دنیاوی زندگی یا آپ صرف اسے زندگی ہی کہہ لیں یہ روح و جسم کےملاپ کے بعد ہی وجود میں آئی!جہاں روح مکمل طور پر سمجھ سے باہر ہے تو میرے جیسوں کو تو اس جسم کے بارے میں بھی کچھ علم نہیں!ان دونوں یعنی جسم و روح کی بیماری کی تشخیص و علاج کے معالج بھی مختلف ہیں!کیونکہ ان کی اپنی اپنی بیماریاں اور اُن بیماریوں کے اپنے اپنے علاج ہیں! اور اپنی اپنی خوراک! ایک کی بیماری جہاں دوسرے کو زخمی کرتی ہے تو وہاں ہی اُس بیماری کا علاج دونوں کو ہی توانا کرتا ہے! ان میں سے اگر ایک کا وجود میں رہنا ممکن نہ ہو تو دوسرا بھی عموما اپنی بقاء کی جنگ ہار جاتا ہے!ایک کا خمیر اس دنیا سے ہے تو دوسرے کا بیرون دنیا سے!تبھی خیال آتا ہے دونوں کو یکجا رکھنے کو دنیاوبیرون دنیا کو ساتھ لےکرچلنا پڑے گا! ایک کو خوراک دنیا سے ملتی ہے تو دوسرے کو طاقت بیرون دنیا سے اور جو توازن خراب ہوا تو تب دنیا و بیرون دنیا میں سے ایک گیا یا دونوں ہی!
مکمل تحریر پڑھیں ←

قابض فوج بمقابلہ محافظ فوج

فوج جب سرحدوں کی حفاظت کے بجائے اپنی عوام کو بندوق کے روز پر فتح کرنے نکلے تو تاریخ بتاتی ہے کہ ملک کی فاتح بیرونی طاقتیں ہوتی ہیں! ایسے ملکوں کی عوام عموما بیرونی حملہ آوروں کی آمد پر اگر قوم نہ بنے تو اُن کی رخصتی کے بعد اقوام میں بدل جاتی ہیں! حملہ آور ایسے موقعوں پر "لوٹ کا مال" جسے مال غنیمت مانا جاتا ہے سے آگے اگر حاصل کرنا چاہے تو اتنا کہ اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت اُن نئی آزاد "اقوام" سےایسے کرواتے ہیں جیسے مالک نوکر سےاپنے کام!
قابض کا قبضہ اگر لمبا ہو تو آزادی کی جدوجہد بغاوت ہوتی ہے۔ حملہ آور جب حاکم کا روپ اپنا لے تو عموما مقامی کارندے اپنوں سے غداری کو حاکموں سے وفاداری جان کر اپنی پہچان کو داغدار کر کے اپنوں کی محکومی کو طوالت بخشتے ہیں! بہادری کی داستانیں صرف بغاوتوں سے ہی جنم نہیں لیتی بلکہ آزادی کی داستانوں کو کچلنے والوں کی بہادریاں بھی بطور مثال پذیرائی پاتی ہیں!بہادر جان پر ہی نہیں کھیلتا بلکہ جانوں سے بھی کھیل جاتا ہے۔!
اچھائی و برائی کا فیصلہ عام طور پر اعمال سے نہیں نیتوں سے ہوتا ہے! کاوش سے نہیں مقصد سے ہوتا ہے! مگر منزل کے تعین کو منتخب راستہ کامیابی کا ہو تو تب بھی راستے اہم ہیں! صرف نتائج ہی نہیں طریقہ کار بھی بتاتا ہے قابض کون ہے اور محافظ کون۔ !
(لکھا تو میں نے ہی ہے مگر اگر آپ کو سمجھ آ جائے تو مجھے بھی سمجھا دینا)
مکمل تحریر پڑھیں ←

کمرشلائز رمضان اور ڈسکو عید

کہتے ہیں اپنے شہر کے کسی گھر والے ایک دودھ والے سے لڑ رہے تھے کہ تو نے کل کیسا دودھ دیا جسے پی کر گھر کے سارے بچے و بڑے بیمار پڑ گئے تھے یوں خراب و ملاوٹ والا دودھ دے کر کیوں حرام کھاتے ہوں؟ گوالے نے معذرت کی کہ کل غلطی سے یاد نہ رہا اور میں آپ لوگوں کے گھر خالص دودھ دے گیا تھا! مستقبل میں یہ غلطی نہیں کروں گا! بات سادہ سی ہے یہ حال اب معاشرے کا ہے کہ خالص شے ہضم ہی نہیں ہوتی ہمیں ہر شے میں ملاوٹ درکار ہے خواہ خواہش خالص کی ہو۔
مذہب یقین شے نہیں مگر معاشرے کا رجحان بتاتا ہے کہ ہمیں دین اسلام کا خالص پن بھی تنگ کرتا ہے! ہمارے ایک دوست مقامی مسجد میں امام و خطیب تھے انہوں نے اپنی مسجد انتظامیہ سے کئی بار کہا کہ مجھے تنظیم کی دوسری مسجد میں بھیج دیا جائے مگر اُن کی خطابت (جمعہ کا خطبہ) کا علاقہ دیوانہ تھا لہذا انتظامیہ اُن کی درخواست کو ایک طرف کر دیتی لہذا اُنہوں نے اپنے ایک دوست سے اس سلسلےمشورہ کیاکیا کرو دوست نے مشورہ دیا کہ اپنی خوبی کو ہی خامی بنا لو علاقے میں ذیادہ تر بینک کے ملازمین رہتے ہیں لہذا اس جمعے کو "سود" کی "افادیت" پر روشنی ڈال دو پھر دیکھوکیا ہوتا ہے لہذا جب اُس نے اہل علاقہ پر اپنے زور خطابت کا ایسا اثر چھوڑا کہ ہفتے کی نماز فجر کی امامت وہ دوسری مسجد میں کر رہے تھے۔
یار لوگوں رمضان پر ہونے والے ٹی وی افطار پر نقطہ چینی اس انداز میں کرتے جیسے ملک کی اکثریت امریکی ویزہ کے لئے اپلائی کر کے امریکہ کو گالیاں دیتی ہےغصہ امریکہ کی پالیسی پر نہیں ویزہ نہ دینے پر ہوتا ہے۔ ہر کسی کو آمر کی لیاقت پر شبہ ہے مگر اُس کی کی گئی ملاوٹ سے سب ہی محظوظ ہوتے ہیں۔ یہ نئی نسل کے مولوی ہیں! اللہ کو مانتے ہیں مگر اللہ کی پوری طرح نہیں مانتے۔ جتنی مان سکتے ہیں اُس ہی کومکمل اسلام قرار دیتے ہیں۔
دونمبری کرتے ہیں! دونمبر ہیں! ایک نمبر اسلام کیسے اپنا سکتے ہیں؟ اور کیسے ایک نمبر اسلام والوں کو اپنائیں گے؟ ہماری نانی کا جب انتقال ہوا تو قیاس لگانے والوں نے کہا کہ بڑی نیک بندی تھی جس کا جنازہ "حافظ صابر علی" نے پڑھا! پوچھا یہ کون صاحب ہیں؟ کہنے لگے اللہ والے ہیں ۔ کہا کیا ثبوت؟ بتانے والے نے بتایا یہ کم ثبوت ہے کہ لوگ دل سے عزت کرتے ہیں! ہم نے کہا یہ کافی نہیں کوئی اور ثبوت! سامنے والا بولا گھر کی معاشی حالت اچھی نہیں ، اگر یہ بندہ چاہتا تو دین فروشی سے مال بنا سکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا!خود کو پیر نہیں بناتا ورنہ لوگ مریدوں کی طرح چاہتے ہیں۔بات سن کردل نہیں مانا کہ جس کی بیٹیوں کا رشتہ لینے سے لوگ اس بناء پر راضی نہ ہوں کہ کچھ ذیادہ ہی نیک ہیں ایسی دیندار لڑکیوں کے ساتھ گزارہ کون کرے!! ایسے ایک نمبر بندے سے بندہ دور ہی اچھا ہے۔
رہبر کہہ گیا ہے میری امت کا فتنہ مال ہے! اُس کا کہا کیسے غلط ہو؟ ٹی وی پر مال بانٹا ہی مال بنانے واسطے بنایا جاتا ہے۔ یہ مال بانٹ پر مال بنانا ہی تو کمرشلزم ہے! رمضان تو کمرشلزم کی نظر ہوا ہی ہے مگر اس سے قبل ہی جو حال ہم نے عید کر دیا تھا کیا وہ دینی پیغامات کی مطابق تھا؟ نہیں ناں!! خرابی ایک دم نہیں آتی! مگر ابھی وقت ہی کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ خرابی ہے یوں اس کے دور ہونے کا امکان زندہ ہے کیا ہو جو یہ احساس بھی نہ رہے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
سیاست کا دل اور دماغ

سیاست کا دل اور دماغ

یار لوگوں کو اعتراض ہے! یہ کیا ہو گیا؟ وہ گئے اُن کے در پر جن کو وہ دُھتکارتے تھے! وقت وقت کی بات ہے! اور ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔
چوہدری کو مزارعوں پر حکومت کرنے کو علاقے کے بدمعاشوں و غنڈوں کا ساتھ چاہئے ہوتا ہے! اب یہ ساتھ وہ چاہے اُن کو اپنے ڈیرے کر بلا کر حاصل کرے یا خود اپنے بندے اُن کے ٹھکانے پر بھیج کر!! اور بدمعاش کو تو اپنی جان بچانی ہوتی ہے کل کو وہ اپنے فائدہ و قانون کے شکنجے سے بچنے کو جس کے لئے بدمعاشی کرتا تھا ،آج خود اپنے لئے کسی اور کا اتحادی بن کر پہلے کے خلاف کام کرتا ہے!! کیا کرے ،جان کی امان اور روزی روٹی کا معاملہ ہے۔ سیاست کے سینے میںایسا دل ہوتا ہے جو صرف اپنے لئے دھڑکتا ہے اور دماغ وہ جو اپنے بارے میں سوچتا!!
اصول زندگی کا حصہ ہوتے ہے اور اصول یہ ہے کہ اپنے فائدہ کا سوچوں !
مکمل تحریر پڑھیں ←

ڈی این اے، اسلامی نظریاتی کونسل اور ہمارا قانون!!

ہمیں شاید عادت ہو گئی ہے آسان بات کو دشوار کرنے کی اور سیدھی بات میں ابہام ڈالنے کی! گزشتہ دنوں جب اسلامی نظریاتی کونسل نے پریس ریلیز جاری کی تو جس انداز میں خبر ہم تک پہنچی یوں معلوم ہوا کہ جیسے اسلامی نظریاتی کونسل نے ڈی این اے کو بطور شہادت لینے سے ہی انکار کیا ہے! ہم بھی اول اول اس کو لے کر پریشان ہو گئے کہ یہ مولویوں نے کیا کیا!!! مگر بعد میں علم ہوا معاملہ یوں نہیں تھا!!
آپ ڈان اخبار اور دنیا پاکستان میں اس خبر کی سرخی دیکھیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ ابہام کس نے کہاں کیا!
ڈان نے خبر یوں لگائی “جنسی زیادتی کے مقدمات میں ڈی این اے ناقابل قبول
اور دنیا پاکستان نے یوں “زنا بالجبر ، ڈی این اے ٹیسٹ بطورمددگارشہادت قبول ہے: اسلامی نظریاتی کونسل”۔
بات یہ ہے کہ زنا بالجبر کی اسلامی سزا ہے سنگسار کرنا!! جو کہ حدود لاء کی دفعہ چھ اور دفعہ 17 کے تحت ہے! اور حدود لاء کی دفعہ آٹھ کے تحت یہ سزا اُس وقت ہی دی جائے گی جب یا تو ملزم خود اعتراف جرم کر لے یا پھر اُس کے اس گناہ یا جرم کی شہادت چار عینی گواہ دیں! اسلامی نظریاتی کونسل نے یہاں یہ رائے دی کہ زنا بالجبر کے مقدمات میں صرف ڈی این اے ٹیسٹ ہی کی بناء پر حد (یعنی سنگساری کی سزا ) نافذ نہیں کی جا سکتی اسے صرف ضمنی شہادت کے طور پر قبول کیا جائے گا! یعنی یہ شرعی شہادت نہیں! اور صرف اس کی بناء پر شرعی سزا نہیں ملے گی! اس میں کوئی حرج نہیں یہ ایک درست رائے ہے! کیوں؟
ایک عام خیال یا مغالطہ یہ پایا جاتا ہے کہ اگر چار گواہ نہ ہو تین یا اس سے کم گواہ ہوں یا شرعی شہادت نہ ہو تو ملزم کو کہا جائے گا “سر غلطی ہو گئی آپ گھر جاؤ، عیاشی کرو، آپ تو شریف آدمی ہو” ایسا نہیں ہے جناب! حدود کا نفاذ نہ ہونے پر ملزم با عزت آزاد نہیں کیا جاتا بلکہ تب بھی اگر ایسے شواہد و شہادتیں ہو جن سے اُس کا جرم ثابت ہوتا ہو تو وہ قابل سزا ٹھہرتا ہے! کیسے؟
حدود لاء کی دفعہ 10 کے تحت 25 سال تک قید(جو ہر گز 4 سال سے کم نہ ہو گی) اور 30 کوڑے مارے جائیں گے مجرم کو! مزید یہاں یہ بتانا بھی اہم ہو گا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت زنا بالجبر میں ہی عدالت ملزم کے مجرم ثابت ہونے پر موت کی سزا بھی دے سکتی ہے۔ صرف معلومات کے لئے عرض ہے کہ پڑوسی ملک بھارت میں اس جرم کی ذیادہ سے ذیادہ سزا موت نہیں ہے یعنی ہمارے یہاں سزا سخت ہے۔ اور ملتی بھی ہے یہ نہ سمجھا جائے کہ ملزم بچ جاتا ہو گا!
اسلامی نظریاتی کونسل کی اس رائے سے پہلے ہی سپریم کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ مختلف فیصلوں میں ڈی این اے ٹیسٹ کو معاون شہادت کا درجہ دے چکی ہیں بلکہ اکتوبر 2012 میں سپریم کورٹ سفارشات دی چکی ہے کہ زنا بالجبر کے کیسوں میں ڈی این اے کو لازمی قرار دیا جائے مگر دونوں (سپریم کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ) حد کے نفاذ کے لئے صرف ڈی این اے کو بطور شہادت قابل قبول نہیں سمجھتیں!! کیونکہ کہ صرف اور صرف ڈی این اے کی شہادت زنا بالرضا اور زنا بالجبر میں تفریق کرنے میں معاون نہیں ہے۔ اس سلسلے میں دیگر شہادتیں بھی درکار ہوتی ہیں۔
امید کرتا ہوں دوست بات کو سمجھ گئے ہو گے! یوں لگتا ہے ٹی وی میں ہونے والی مباحث لوگوں کو با علم کرنے کے بجائے گمراہ کرنے کو کیئے جاتے ہیں۔ مزید یہاں یہ بھی آگاہ کردوں کہ پاکستان میں اب تک کسی ملزم کے مجرم ثابت ہونے پر حد نافذ نہیں ہوئی نیز اسلامی نظریاتی کونسل کو آڑے ہاتھوں لینے والے ہی ان حدود کی سزاؤں کو غیر انسانی سمجھتے ہیں! یعنی نہ اُدھر خوش نہ ادھر!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

خواب جنون اور تعبیر

میرے ایک دوست ہیں نام لینا مناسب نہیں لیکن کافی عرصے تک "خرچے" سے بھی تنگ تھے کافی عرصہ تنگ دستی کی زندگی گزارنے کے بعد نہ صرف ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی سے نااہل وکیل قرار پائے بلکہ روایتی خوشامدی اور چاپلوس نہ ہونے کی وجہ سے ان کی وکالت کامیاب نہ ہوسکی کمال کے مقرر ہیں اور ایک اچھے قصہ گو ہیں اتنے اچھے کہ وہ پورا دن بولتے رہتے تھے اور ان کی پیاری باتیں ہم سنتے رہیں وکالت میں شدید ناکامی کے بعد خاموشی سے یورپ میں جابسے بعد ازاں کافی عرصے تک اس کے خوابوں کو ڈسکس کرتے رہے اس دنیا کے ناکام ترین انسان کی باتیں شیئر کرتے رہے پانچ سال کے طویل وقفے اور روپوشی کے بعد دودن قبل اس کی کال وصول ہوئی پہلے تو مجھے یقین ہی نہیں آیا کہ وہ دنیا کا ناکام ترین انسان واپس آچکا ہے بہرحال اس کے ساتھ پورا دن رہا مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ ایک یورپی ملک کا ایک اہم وکیل بن چکا ہے اور اس کی لاء فرم یورپ کی مشہور لاء فرم بن چکی ہے اور اس کے پاس کامیابیوں کے بے شمار ریکارڈ تھے میں نے پوچھا کہ کیا کوئی شارٹ کٹ تو کامیاب نہیں ہوگیا اس نے کہا ایسا کچھ نہیں وہاں پر وکالت کا ایک نظام ہے ایک ماحول ہے ایک احساس زمہ داری ہے وکالت کتنا زمہ داری کا شعبہ ہے وہاں جا کر احساس ہوا اور ایک وکیل کی کتنی عزت ہوتی ہے وہاں احساس ہوا میں نے پوچھا کہ وہاں کے جج تو کافی ایماندار ہونگے میرے دوست نے کہا نہیں وہاں ایسا کوئی تصور نہیں ایماندار جج اور بے ایمان جج کیا ہوتا ہے؟ جج تو جج ہی ہوتا ہے کھلاؤ سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی آنکھ سے یہ ان کا اصول ہے اگر کوئی بے ایمان ہے تو اپنے خرچے پر وہاں کا سسٹم اتنا مضبوط ہے کہ کوئی کرپشن کا سوچ بھی نہیں سکتا اچھا کیا وہاں ججز کی کرپشن کو سپورٹ کرنے کیلئے "ایم آئی ٹی" نہیں ہے بھائی یہ ایم آئی ٹی کیا بلا ہے وہاں ایک ہی "ٹی" ہے وہاں کا سسٹم خود ایماندار ہے اس لیئے یورپی ممالک میں عدلیہ کو "ایم آئی ٹی" جیسے ڈھول بجانے کی فرصت ہی نہیں نہ ان کو ایسے ڈھکوسلے ایجاد کرنے کی کوئی ضرورت ہے لیکن اتنا چیلنج ہے کوئی کرپشن کرکے تو دیکھے اچھا اگر کسی بااثر جسٹس کا جونئیر کرپشن کرے تو اس کے لیئے وہ سفارش تو کرتا ہوگا میرے دوست نے کہا ایسا کچھ نہیں وہاں ڈھکوسلوں کا کوئی سلسلہ ہے ہی نہیں وکیل اپنے کلائنٹ کے قانونی حقوق کی حفاظت کا زمہ دار ہے ہر صورت ہر قیمت پر اور اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ وکیل نے غفلت کا مظاہرہ کیا تو اس کو اپنے ہی منتخب نمائیندوں کی حمایت حاصل نہیں ہوتی لائسنس منسوخ کوئی رعایت ہی نہیں میرے منہ سے نکل گیا کیا وہاں بارکونسل نہیں میرے دوست نے کہا ادارے ہیں لیکن وہ زمہ دار ہیں
اب فائدے سن لو وہاں ایک عام وکیل کی بھی اتنی انکم ہے کہ وہ ایک پورے خاندان کو پال سکتا ہے ادارے مضبوط ہونے سے ادارے کا وقار بحال ہے کرپشن کے خاتمے سے ایک میرے جیسا نااہل وکیل جو پاکساتنی عدلیہ میں مس فٹ تھا آج کامیاب زندگی گزار رہا ہے بعد ازاں جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ صرف پانچ سال کے قلیل عرصے مٰیں اس نے پاکستان جو اثاثے بنائے ان اثاثوں کا سوچنا بھی مشکل ہے مجھے اس کی ایک بات ہمیشہ یاد رہی یار خواب بڑے دیکھو ایک دن آتا ہے وہ بڑے خواب تعبیر بن جاتے ہیں مٰیں نے کہا چلو آج ڈسٹرکٹ کورٹ چلتے ہیں کہا نہیں کبھی نہیں کیونکہ وہاں میرے خواب دفن ہیں وہ خوابوں کا قبرستان ہے وہاں میں نہیں جاسکتا میں نے کہا پتہ چلا کہ "مشیر"صاحب بھی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بن گئے ہیں وہ بھی تو ہم سے اپنے خواب شیئر کیا کرتے تھے ان کے خواب شرمندہ تعبیر کیوں نہ ہوئے میرے دوست نے کہا اپنے اپنے جنون کی بات ہواکرتی ہے میرے خوابوں کے پیچھے میرا جنون تھا اور ان کے خواب کیوں شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے ہوں وہ خود جانے ہوسکتا ہے کہ ان کا خواب صرف چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ بننے کا ہو تو ان کاخواب بھی شرمندہ تعبیر ہوچکا آج وہ بھی تو چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ہیں کے سی ڈی آر میں بیٹھ کر جو خواب دیکھتے اور دکھاتے تھے جب وہ خود بھول گئے ہیں تو ہمیں بھی بھول جانے میں کیا حرج ہے
یہ کہہ کر میرا دوست واپس چلا گیا
آخر میں کچھ عرصہ قبل لکھی گئی ایک تحریر کا دوبارہ حوالہ خوش قسمتی سے سپریم کورٹ میں کام کرنے ایک اچھا ماحول موجود ہے کمرہ عدالت کا ایک بہترین ماحول ہے تمام کاروائی ریکارڈ ہوتی ہے اور اہم اداروں کے سربراہان کی کوششوں کے باوجود کیسز چیمبر میں نہیں سنے جاتے بلکہ مقدمات کی کھلی سماعت کی جاتی ہے اس حوالے سے چیف صاحب پر کوئی کبھی بھی تنقید نہیں کرے گا کہ سپریم کورٹ میں گورننس کے ایشوز ہیں یہی حال ملک بھر کی ہائکورٹس کا ہے وہاں نظام کو بہتر بنانے میں کافی کامیابیاں ہوئی ہیں ججز کی کمی ایک مسئلہ تھی وہ بھی کسی حد تک حل ہوچکا ہے
ماتحت عدلیہ جہاں ہرروزلاکھوں کی تعداد میں پیش ہوتے ہیں جہاں لوگوں کے معمولی نوعیت کے معاملات سے لیکر قتل تک کے مقدمات پیش ہورہے ہوتے ہیں وہاں پاکستان کی عدالتوں میں ہمیشہ سے مسائل اور پریشانیاں عوام کا مقدر رہی ہیں ان عدالتوں سے نہ صرف عوام بلکہ وکلاء کو بھی شکوے اور شکایات رہے ہیں اس حوالے سے متعدد بار سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی توجہ دلائی گئی لیکن کسی کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی حالیہ دنوں میں 2013 کی کراچی بارکی منتخب کابینہ نے شاید تنگ آمد بجنگ آمد کے تحت کاروائی کی جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے سخت نوٹس بھی لیا جوابی طورپر وکلاء نے بھی ہڑتال کی اور کافی کامیاب ہڑتال کی لیکن بالآخر یہ معاملہ بھی اسی طرح ہی شاید حل ہونے جارہا ہے کہ" تھپڑ" مار کر معافی مانگ لی جائے اور یہ گھسا پٹا نعرہ بلند کردیاجائے کہ بار اور بنچ ایک ہی گاڑی کے دوپہیئے ہیں جو ایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے پھر یہی کہا جائے گا کہ" سب کچھ بھول جا" لیکن چیف صاحب کو اس بار اس کا سخت نوٹس لینا چایئے اس سارے معاملے کو ایک جسٹس کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے
کیا واقعی رشوت کا لین دین ہوتاہے؟
اس کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟
ماتحت عدلیہ کے اکثر ججز مقدمات کی کھلی عدالت میں سماعت کیوں نہیں کرتے؟
کیا عدالتی اوقات کار کے دوران یا بعد ججز کا اپنے دوست وکلاء یا ملزمان کے ساتھ بیٹھ کر میٹنگ کرنا درست ہے یا غلط؟
جو نظام جو ڈسپلن سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی سطح پر سختی سے لاگو ہوچکا ہے وہ ماتحت عدلیہ میں کیوں نہیں ہوسکتا؟
اگرسپریم کورٹ اورہائی کورٹ کی ساری کاروائی شفاف بنانے کیلئے ریکارڈ کی جاسکتی ہے تو ماتحت عدلیہ میں کیا رکاوٹ ہیش آرہی ہے ؟
کراچی میں پاکستان کی ٪10 آبادی رہتی تو اس حوالے سے کیا خصوصی اقدامات کیئے گئے ہیں؟
کراچی کے جوڈیشل کمپلیکس کے حوالے سے اہم فیصلوں میں کیا رکاوٹیں ہیں؟
ریکارڈکیپنگ کے لیئے جو پیمانہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپنایا گیا ہے وہی ماتحت عدلیہ
میں کیوں نہیں؟ کراچی کی عدالتوں سے ہزاروں سنگین جرائم میں ملوث افراد کس طرح ضمانت پر رہا ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئے ہیں؟ کون زمے دار ہے؟ اور کیا ان کی ضمانت کے طور پر جمع کروائی گئیں دستاویزات پر جرمانہ عائد کیا گیا اور کیا وہ دستاویزات اصلی تھیں؟ اور اگر جعلی دستاویزات تھیں تو پریذایڈنگ آفیسر کس حد تک ذمے دار تھے؟ اسی طرح بہت سے افراد کو زاتی ضمانت پر چھوڑا گیا کیوں؟ کیا سنگین جرائم میں ملوث افراد کو صرف زاتی ضمانت پر چھوڑا جاسکتا ہے؟ وکلاء تںظیمیں صرف ایک ہی مطالبہ کررہی ہیں کہ ان کو کام کرنے وہی ماحول میسر ہونا چاہیئے جو سپریم کورٹ ہائی کورٹ میں وکلاء کو حاصل ہے جس طرح عوام کو چیٖف صاحب سے بے شمار توقعات وابستہ ہیں اسی طرح وکلاء بھی وہی توقعات وابستہ کیئے بیٹھے ہیں
اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ایسا عدالتی نظام جس کے زریعے شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے ہم ایسی عدالتی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہیں جن کے زریعے ایک عام شہری بھی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیئے عدالت میں بلاجھجک آسکے جب عام شہری کو باآسانی انصاف ملے گا تو نہ صرف شہریوں کی بے چینی کا خاتمہ ہوگا بلکہ پاکستانی معاشرے میں ایسا امن قائم ہوگا جس کی تمنا ہر پاکستانی شہری کررہاہے
تحریر : صفی الدین اعوان
مکمل تحریر پڑھیں ←

دھاندلی کی کارکردگی!

ہیلو یار کہاں تک کام پہنچا!
“سر کام جاری ہے”
جلدی کرو آگے نتیجہ بھی دینا ہے بھائی بے چین ہے!
“سر ساتھی لگے ہوئے ہے”
اچھا ٹھیک ہے چلو یہ بتاؤ کتنے کا عدد آگے دو! کچھ تو کارکردگی دیکھاؤ آگے
“سر میرے پاس سوا لاکھ پرچی ہے! بارہ بجے تک ہم سب ساتھ ضرور کام مکمل کر لیں گے!”
تو میں آگے یہ پھر سوا لاکھ کا نمبر دے دوں؟
“سر دوسروں کا خیال نہیں کرنا کیا، کہیں عجیب سا رزلٹ نہ لگے؟”
ت کیا چاہتا ہے! کیا منہ دیکھائے گا تو بھائی کو ! اچھا یار میں آگے یہ فیگر دے رہا ہوں! لوگوں نے گھر جانا بھی ہے! اور اتنی پرچیاں میں یہاں سے الگ کروا دیتا ہوں، اپنی پرچی جتنی جلدی ہو بھیجو”
“ٹھیک ہے!”

(یہ ایک خیالی تحریر ہے! اس سے کسی بھی قسم کی مماصلت دراصل الہام ہو گا)
مکمل تحریر پڑھیں ←

ہرتال سے سوگ تک؟

ایک دور تھا شہر میں زندگی مفلوج کرنے کو شام پانچ چھ بجے کے بعد ہر علاقے میں ایک دو دکانیں یا بس جلا دی جاتی! یوں یہ حکمت عملی اگلے دن زندگی مفلوج کر دیتی اور سیاسی جماعت اپنے “زور بازو” سے شہر کی نمائندہ جماعت بن کر اپنا سیاسی قد بھی اونچا کر لیتی اور عوام کے خوف کو وہ “عوامی حمایت” بتا شہر کی نمائندہ جماعت بتاتے ! فارمولا ا س قدر کامیاب ہوا کے بعد میں آنے والوں میں نہ صرف اس کو اپنایا بلکہ پرانے نمائندہ نے شہر میں اپنی کم ہوتی “مقبولیت” کو اس ہی فارمولے سے بچانے کی کوشش کی! یوں جمہوریت کا یہ حُسن بھی اہل شہر کے سامنے آیا کہ بدمعاشوں کا خوف ہی مینڈیٹ ٹھہرا!اور یوں کامیاب ہرتال کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت وقت سے منظور ہو جاتے تھے۔
اب خود حاکم ہو کر آئے ہیں! اب میڈیا کا دور ہے! میڈیا والوں سے یاری بھی پکی ہو گئی ہے! پہچان میں آ کر بھی نا معلوم ہوتے ہیں۔ حاکم ہرتال نہیں کرتے مگر کیا کرے مینڈیٹ تو زندگی مفلوج ہوتا ہے لہذا سوگ کا اعلان کر کے مینڈیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ خوف کی تشہیر کو میڈیا جو ہے ، جان کی امان کو سب گھروں میں مقید ہو جاتے ہیں۔
سوگ کا اعلان کرنے والے مانے یا نہ مانے یہ سوگ دراصل خود ان کی زبانی اپنی نا اہلیت کا ثبوت ہے۔ آپ پانچ سال حکومت میں رہے جب سندھ کی حکومت میں آپ کو حصہ نہیں مل رہا تھا تو آپ نے شہر کو آگ لگا کر بلیک میل کر کے حصہ لیا۔ ہمارا کراچی جیسا نعرہ لگایا! شہر آپ کی جاگیر رہا اب اگر جل رہا ہے تو آپ مانے کہ یہ آپکی نا اہلی ہے یا پھر یہ ہی آپ کی اہلیت ہے۔ بڑوں سے سنا ہے اپنی نالائقی پر افسوس کرنا واجب ہے مگر یہ افسوس خود تک محدود ہونا چاہئے نہ کہ سوگ کو پورے شہر پر مسلط کیا جائے۔
گیارہ مئی فیصلے کا دن ہے خدا کرے بارہ مئی کا سورج کراچی کے اعتبار سے کراچی کے دشمنوں کے لئے ایسا ہی ہو جیسا کبھی اُن کے ہاتھوں اہل شہر نے بھگتا تھا!
مکمل تحریر پڑھیں ←
درمیانہ اُمیدوار!

درمیانہ اُمیدوار!

یار الیکشن کی تیاری کیسی ہے؟
“ہم نے کیا تیاری کرنی ہے، ملک میں چھٹی ہو گی اور ہم جا کر ووٹ ڈال آئیں گے”
اچھا جی تو پھر انتخاب کر لیا اُمیدوار کا؟
“ہاں یار جب ووٹ ڈالنا ہے تو کسی نہ کسی کا انتخاب تو کرنا پڑے گا ناں”
تو کس پارٹی کو ووٹ ڈال رہے ہو؟
“یار آزاد امیدوار کو ڈالوں گا کسی سیاسی پارٹی کو ووٹ نہیں ڈال رہا”
اچھا! لگتا ہے کوئی جاننے والا تمھارا کھڑا ہے انتخاب میں؟
“نہیں نہیں!یار میں تو اُسے جانتا بھی نہیں! چھ مہینے پہلے ہمارے گھر آیا تھا جب امجد کے ہاں بچی ہوئی تھی بس اُس کے بعد اب ووٹ مانگنے آیا ہے”
اوہ خیر تیرے گھر آتا جاتا ہے اور تو کہہ رہا ہے تو جانتا بھی نہیں ہے اُسے ! بڑا ڈرامے باز ہے تو! کون ہے وہ؟
“ابے میرا کوئی رشتے داری نہیں ہے بندیا رانا سے”
اوئے تو کھسرے کو ووٹ دے گا؟
“ہاں! کیوں کیا مسئلہ ہے؟”
ابے کسی مرد کو نہ سہی کسی عورت کو ہی ڈال دے یہ کیا کہ تو ہجڑے کو ووٹ دینے لگا ہے! کیسا لگے گا ایک ہجڑا اسمبلی میں؟
“اور میاں تمہارا مطلب ہے پچھلی اسمبلی میں کوئی ہجڑا نہیں تھا؟”
ہاں نہیں تھا ناں!
“ اچھا جی! تمھارے ملک میں ڈرون حملے ہوئے، دوسرے ملک کی فوج اندر آ کر آپریشن کر کے چلی گئی، وہ اپنے بندے کو قاتل ہونے کے باوجود بچا کر لے گئے، تمہاری فوج سے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کروا رہے ہیں، اور کسی پارلیمنٹیرین کو اس پر منافقت سے پاک بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، تم کہتے ہو سابقین ہجڑے نہیں تھے.”
حد ہوتی ہے تم کسی اور کو موقع دو اور بھی کئی جماعتیں ہیں، ہجڑا منتخب کرنا کیا ضروری ہے؟
" اب رہنے دو! شیر بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے دھارتا ہے اور بلا جو ہے وہ بیبیوں سے میک اپ کر کے سونامی لانے کو نکلتا ہے باقی رہ گئے ترازوں والے تو اُن کی مردانگی یہاں سے نظر آتی ہے کہ جس قوم کی بیٹی کے نام پر کئی ماہ سے سیاست ہو رہی تھی اُس کی بہن کے مقابلے بندہ اُتارا ہوا ہے. اور باقی تو ہیں ہی سابقہ حکمران. اس لئے ایک خواجہ سرا ہی بہتر انتخاب کہ اُس میں کچھ نا کچھ مردانگی ہے اور مردانگی جن میں ہو مسئلہ وہ ہی نظر آتی ہے، ذہنی ہجڑوں سے بہتر ہے جسمانی ہجڑا منتخب کر لیا جائے!”
جا یار تو جس کو مرضی ووٹ ڈال! میرے سے غلطی ہوئی جو تجھ سے پوچھ لیا!
مکمل تحریر پڑھیں ←
سالارجیل میں

سالارجیل میں

وقت وقت کی بات ہے۔ کبھی دل میں آتا تھا تو قلم کی جنبش سے ایک نوٹیفکیشن جاری ہوتا اور قانون وجود میں آ جاتا تھا مگر آج جناب خود قلم کی جنبش کی زد میں آ کر قانون کے شکنجے میں ہے۔ جو دہشت گردوں سے جنگ لڑنے کی بات کرتا تھا آج خود دہشت گردی کے الزام کا سامنا کررہا ہے۔جناب سپا سالار ہوتے تھے اب سپاہیوں کی قید میں ہوتے ہیں۔ غلط فیصلے غلط جگہ پر پہنچا دیتے ہیں اور ایسے فیصلے کبھی درست مشوروں سے حاصل نہیں ہوتے۔
مشیر کا انتخاب حکمران کے اقتدار کا دو رانیاں طے کرتا ہے۔اور وکیل کا انتخاب ملزم کے مجرم تک کے سفر بارے قیاس کرتا ہے۔ جس کیس میں جناب کی پکڑ ہوئی اس میں جناب کا گرفت میں اتنی آسانی سے آنا نہیں بنتا تھا۔ قابل ضمانت جرائم میں ملزم کو ضمانت درخواست کے بغیر ہی مل جاتی ہے مگر جناب کے ساتھ وہ معاملہ یوں ہوا کہ نمازیں بخشو انے گئے روزے گلے پڑھ گئے والا ہوا ضمانت تو کیا ملنی تھی ATC کی دفعہ سات بھی شامل کر دی گئی۔
خود کو بڑا منوانے والے لوگوں کو تھانے جانے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے، اس تکلیف میں وہ جیل میں چلیں جاتے ہیں۔ جناب بھی شاید اس ہی مسئلہ کا شکار ہوئے ورنہ متعلقہ تھانے جا کر اگر ایس ایچ او سے ملاقات کرتے وہاں بیٹھ کر کافی و سگار سے لطف اندوز ہو کر آتے تو اج اپنے ہی فارم ہاؤس میں قید نہ ہوتے۔ اس جرم میں جناب کی ضمانت تھانے دار یا تفتیشی آفیسر بھی لے سکتا تھا۔ اگر عدالت جانے کا اتنا ہی شوق تھا تو جناب جب کراچی میں سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تب transit بیل لی تھی تب اسلام آباد میں ضلعی جج کے سامنے پیش ہو کر ضمانت لے لیتے وہ اگر رد بھی کرتا تو دہشت گردی کی دفعات کو اضافہ تو نہ کرتا کہ یہ اُس کے پاس ایسا کوئی اختیار نہ تھا مگر بدقسمتی جس کو یہ اختیار تھا جناب اُس کے ہی سامنے پیش ہوئے اور در لئیے گئے۔ ہم نے یہاں دیکھا ہے کہ ہمارے سینئر وکیل اکثر کلائینٹ کا معاملہ نچلی عدالتوں کے بجائے اعلی عدالتوں میں براہ راست لے جاتے ہیں جس سے ایک تو ریلیف جلدی مل جاتا ہے دوسرا فیس اچھی مل جاتی ہے۔ یہاں یقین فیس کا معاملہ نہ ہو گا مگر اس توپ سے مکھی نہ مری اور نقصان الگ ہوا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ جناب کا اقتدار اور اس یوں ذلیل ہونا میری ذات کو بہت کچھ سکھا گیا اور سیکھا رہا ہے۔ دنیا داری کے اعتبار سے بھی اور پیشہ وارانہ زندگی کے لحاظ سے بھی۔
کہانیوں میں پڑھا تھا، تاریخ نے بتایا تھا کہ بادشاہ قید ہوتے ہیں، مارے جاتے ہیں، ذلیل ہوتے ہیں مگر یہ سب تب ہی ہوتا ہے جب اُن میں غرور ہو تکبر ہو، انسانیت نہ ہو! پھر وہ کتنے ہی عقل کُل کیوں نہ ہوں لوگوں کی بد دعائیں انہیں نالائق مشیروں اور ظالم دشمنوں سے لڑوا دیتی ہے۔ قانون قدرت سے زیادہ ظالم دشمن کون ہو گا؟ آج ایسی تاریخ کو خود بنتے دیکھ رہا ہوں!اگر ایسے کیس مین ایسی گرفت ہے تو باقی میں خدا خیر کرے۔ سالار جیل میں ہے اور یار لوگ کہہ رہے ہے سالا جیل میں ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←