زخمی کراچی

زخمی کراچی

آج  کراچی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا او معافی چاہتا ہوں آج یوم سوگ تھا کراچی میں۔ طاقت کی لڑائی ہے، کراچی ایک بڑا شہر ہے بڑے شہر کو ہاتھ میں رکھنا ضروری ہے، خواہ "اُن" کو اس کے لئے "کچھ" بھی کرنا پڑے۔
افواہوں کا بازار گرم ہے، اور خوف سے شہریوں کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے، شہر میں خبروں کے مطابق کوئی پاکستانی نہیں مر رہا بلکہ مرنے والوں کی گنتی اُن کرتے وقت اُن کا پنجابی، پٹھان، مہاجر، سندھی اور بلوچی ہونا دیکھا جاتا ہے مارنے والوں کی پہچان بھی اس ہی فارمولے سے کی جا رہی ہے، اور تہذیبی انداز الزام لگانے کا یہ اپنایا گیا ہے کہ آپ لسانیت کے اس جھگڑے کو سیاسی گروہوں کی بنیاد پر یوں بتائے کہ کون ANP کا ہے، کتنے MQM کے اور کو پیپلز امن کمیٹی کا!
یہ لسانیت کی سیاست شہر سے انسانیت کو کھا رہی ہے، لسانیت و تشدد کے ملاپ سے پروان چھڑنے والی یہ سیاسی نفرت نے شہر میں بسنے والوں کو آپس کے خوف میں مبتلا کرنا شروع کردیا ہے، جیسے ہی میڈیا نے خوف کی اس فضاء میں کرفیو کی کی غیر مستند خبر نشر کی اہل فساد نے ساتھ ہی آپریشن کا شوشا بھی چھوڑ دیا۔اختلاف کو نفرت کے روپ میں سینوں میں پالنے والوں نے اپنی نفرت کے زیر اثر اُس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا!
خدا خیر کرے لندن سے اسلام آباد تک سب مفاد کی جنگ میں طاقت کے حصول کے لئے لسانیت کی سیاست میں مبتلا ہیں۔ اور اُن کے اندھے پیروکار اس لڑائی میں "قوم" و "قومیت" کا تصور سمیٹ کر "بولی" تک کی طرف سفر میں گامزن ہے۔

لہو کے رنگ سے رنگین ہیں دیوارو در میرے
شہر سے ناگہانی موت کا سایہ نہیں جاتا
جواں لاشے ،تھکے کاندھے،لزرتے قدم ہیں میرے
الہٰی، کرم فرما،بوجھ اب یہ اٹھایا نہیں جاتا


مکمل تحریر پڑھیں ←

میرے وطن کے اُداس لوگو!


میرے وطن کے اُداس لوگو، نہ خود کو اتنا حقیر سمجھو
کہ کوئی تم سے حساب مانگے، خواہشوں کی کتاب مانگے

نہ خود کو اتنا قلیل سمجھو، کہ کوئی اُٹھ کے کہے یہ تم سے
وفائیں اپنی ہمیں لوٹا دو، وطن کو اپنے ہمیں تھما دو

اُٹھو اور اُٹھ کر بتا دو اُن کو، کہ ہم ہیں اہل ایماں سے
نہ ہم میں کوئی صنم کدہ ہے، ہمارے دل میں تو اک ِخدا ہے

جھکے سروں کو اُٹھا کے دیکھو، قدم تو آگےبڑھا کے دیکھو
ہے ایک طاقت تمہارے سر پر، کرے گی سایہ جو اُن سروں پر

قدم قدم پر جو ساتھ دے گی، اگر گرو تو سنبھال  دے گی
میرے وطن کے اُداس لوگو، اُٹھوں چلو اور وطن سنبھالو

مکمل تحریر پڑھیں ←
زمانے کے انداز بدلے گئے!

زمانے کے انداز بدلے گئے!


اور ہیرو کیسا رہا آپ کا دورہ؟
“ارے مت پوچھو دورہ تو اچھا رہا مگر واپسی پر بہت تلخ تجربہ ہوا یار"
ارے ایسا کیا ہو گیا تمہارے ساتھ جو ایسے برتاؤ کر رہے ہو!
“یار واپسی میں ڈاکوؤں کے ہاتھ چڑھ گئے تھے"
ارے نہیں یار! کیسے؟ اور کیا ہوا!
“کیسے کیا بس ہو گیا ناں! اب کیا تفصیل بتاؤ!”
ہمم چلو کیا نقصان ہوا؟
“کچھ ذیادہ نہیں بس بیس پچیس ہزار ہی گیا ہے مگر کئی لوگوں کا ذیادہ بھی ہوا ہے نقصان"
چلو جان ہے تو جہان ہے زندہ بچ گئے یہ ہی کافی ہے! نقصان کو پورا ہو ہی جاتا ہے۔
“ہاں یہ تو ہے، مگر اس لوٹ مار میں ایک عجیب معاملہ دیکھنے کو ملا"
وہ کیا؟
“یار ڈاکو مسافر سے اُس کا نام و قبیلہ پوچھتے تھے! پھر اُس کے مطابق اُس سے سلوک کرتے! پہلے پہل سید مسافروں کو ایک طرف کر دیا! میں نے دیکھا کہ سیدوں کے ساتھ کچھ نرم سلوک ہے تو میں بھی سید بن گیا"
شاباش! بڑی ذہانت دیکھائی، ویسے یہ تو ہے ہمارے یہاں سیدوں کا لوگ کافی احترام کرتے ہیں۔
“ارے کہاں بھائی! جب ڈاکوؤں نے سیدوں کو چھوڑ کر سب کو لوٹ لیا تو ایک ڈاکو کو مخاطب کر کے اُن کے لیڈر نے کہا '۽ اسان پنهنجو ڪم ڪري ڇڏيو، هاڻي اوهان پنهجي رشتیدارن سان نڀايو' (ترجمہ: ہم نے اپنا کام کر لیا ہے اب تم اپنے رشیداروں سے نمٹو)"
او نہیں یار!! مطلب سید ڈاکو؟
“ہاں بھائی"
مگر یہ آئیڈیا اُن کے دماغ میں کہاں سے آیا؟
“ممکن ہے موجودہ حکومت سے! بڑا وزیر بھی تو ۔۔۔۔۔۔۔"

نوٹ: اگر کسی کو یہ تحریر پسند نہ آئے تو اس تحریر نوٹ کو معذرت کے طور پر قبول کرے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
برکت

برکت

"جی سنتری صاحب کیسے ہیں"
ارے نہ پوچھو! وکیل صاحب کیا حال ہے
“کیوں بادشاہوں کیا ہوا؟"
یار لگتا ہے کمائی سے برکت ہی ختم ہوتی جا رہی ہے، پیسہ کہاں جاتا ہے سمجھ ہی نہیں آتی!
“جی جناب یہ تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں! سمجھ ہی نہیں آتی جو کماؤں خرچ ہو جاتا ہے بچت ہو ہو ہی نہیں پا رہی"
یار کس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے! شاید مہنگائی یا کچھ اور؟
“بہت سی وجوہات ہیں جن میں ایک مہنگائی بھی ہے! اس کے علاوہ سنا ہے حاکم وقت کا بھی اثر ہوتا ہے"
یہ بات ٹھیک کی تو نے! اب ہمارے تھانے کا ایس ایچ او تو تو علاقے کا حاکم ہی ہوتا ہے ناں!
“اچھا"
ہاں ناں اور جب سے یہ نیا ایس ایچ او آیا ہے تب سے تو واقعی لگتا ہے کمائی سے برکت کہیں غائب ہو گئی ہے!
“کیوں سنتری صاحب کیا ہو ہے تب سے"
یار دیکھو ناں جب پہلے والا ایس ایچ او تھا ناں تو میں نے کبھی تنخواہ کو ہاتھ ہی نہیں لگایا تھا بس روزانہ پانچ سات سو دیہاڑی لگ جاتی تھی اُس سے ہی گھر کا خرچ چل جاتا تھا!مگر جب سے نیا ایس ایچ او آیا ہے تنخواہ بھی خرچ ہو جاتی ہے!
“سنتری بادشاہ کیا کہنے"

مکمل تحریر پڑھیں ←
اخبار میں بولتا اشتہار!۔

اخبار میں بولتا اشتہار!۔

یہ تصور بہت دلچسپ ہے! اخبار مین بولتا اشتہار۔ آن لائن اخبارات میں تو بولتے اشتہار تو ایک طرف ویڈیو اشتہار تک ہوتے ہین مگر پڑوسی ملک میں گاڑیاں بنانے والی بین الاقوامی کمپنی Volkswagen نے وہاں کے مشہور اخبار ٹائم آف انڈیا میں آوازی اشتہار کا ایک کامیاب تجربہ کیا ہے۔ جسے درج ذیل ویڈیوز میں دیکھ سکتے ہیں!۔


مکمل تحریر پڑھیں ←
وجہ گرفتاری؟ لطیفہ یا مذہب؟

وجہ گرفتاری؟ لطیفہ یا مذہب؟

آج کل کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی رہنما پوپ بینڈکٹ شازدہم برطانیہ کے سرکاری دورے پر ہیں! معلوم ہوا اُن کے قتل کے منصوبہ بنانے والے چھ مسلمان دہشت گرد آخری وقت میں پکڑے گئے! چلو جی پھر شروع قیاس آرائیاں کہ القاعدہ کے بندے ہوں گے! ڈیلی ایکسپریس نے تو یہ ہیڈلائن لگائی "مسلمانوں کا پوپ کو قتل کرنے کا منصوبہ" (یہ تو روشن خیالی ہو گی ناں؟؟ انتہا پسندی یا تعصب تو نہیں کہلائے گا!!)۔

اس ہی طرح سنا ہے دیگر برطانوی اخبارات میں بھی کسی نا کسی شکل میں اسلام و مسلمان کا عنصر ضرور پیش کیا خبر میں!!
اب اُنہیں برطانوی پولیس نے بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیا ہے، اور معلوم یہ ہوا کہ کسی لطیفہ کی بنیاد پر گرفتاریاں عمل میں آئی! ایک نے لطیفہ سنایا اور باقی سے سنا! جیسے آج کل پاکستانی آج کل ایس ایم ایس پر وہ z سے شروع ہونے والے نام سے متعلق لطیفہ بھیجتے ہیں!
تو ایسے میں اپ کیا خیال ہے؟ گرفتاری کی اصل وجہ کیا تھی؟ لطیفہ یا ۔۔۔۔۔۔ دہشت گردی کی عالمی جنگ جس میں ممکنہ دہشت گرد کون ہو گا؟
میڈیا ٹرائن ہونے کے بعد یہ میڈیا اُس کا ازالہ کیوں نہیں کرتا؟ یوں تو نہیں چلے گا!! اخبارات کو تو ایک طرف رکھے آپ اس قصہ پر لکھے جانے والے بالگ تو زرا تلاش کر کے پڑھے! اور دیکھے قیاس کے ان گھوڑوں نے کیا کیا گُل کھلائے ہیں!

مکمل تحریر پڑھیں ←
عید اور سیلاب زدگان

عید اور سیلاب زدگان

دُکھ کی برسات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
غم کی بہتات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
گھات ہی گھات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
دن نہیں، رات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
برملا حرکت مزموم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو



ایسا منظر نہ کبھی چرخ نے دیکھا توبہ
گھر کی چھت ہے، نہ میسر کوئی سایا، توبہ
بھوک اور پیاس نے ہر سمت سے گھیرا توبہ
لقمے لقمے کو ترستی ہے رعایا توبہ
آہ کو واہ کامقسوم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو



لے گیا پانی بہا کر سبھی تاثیریں ہیں
بے مزہ خواب ہوئے، لٹ گئی تعبیریں ہیں
ان میں رانجھے ہیں کئی اور کئی ہیریں ہیں
آج سب غربت و افلاس کی تصویریں ہیں
عدل کو عدل سے محروم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو



مانگ کر دل سے دعا کام بحالی کا کرو
ہو چکا رقصِ بلا کام بحالی کا کرو
توڑ کر کاسہ ذرا کام بحالی کا کرو
کچھ کرو خوف خدا کام بحالی کا کرو
فکرِ شفاف کو موہوم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو

شاعر: جان کاشمیری


مکمل تحریر پڑھیں ←