اللہ کے نیک لوگ!!!

کہتے ہیں اللہ والوں کا دل بہت نرم ہوتا ہے۔ جب کبھی اللہ کے رحم و پیار کا ذکر محفل میں ہوتا ہے تو اللہ والے اپنی رب کی محبت میں اشک بارہو جاتے ہیں۔ یہ ہی معاملہ اِن کا اللہ کے محبوب نبی اور اُن کے نیک بندوں کے ذکرکے وقت ہوتا ہے۔
مجھے ہمیشہ اپنی اِس حالت پر خود پرغصہ آیا کہ مجھ پر یہ کیفیت کیوں طاری نہیں ہوتی، مجھے اللہ والوں جیسا کردار و دل کیوں نہیں حاصل۔ اس کا سب سے پہلے احساس مجھے تب ہوا جب میں مکہ میں کعبہ کے دروازہ کے قریب کھڑا دعا مانگ رہا تھا اور میرے آس پاس کھڑے تمام افراد ہی کعبہ سے لپٹ کر رورو کر دعا مانگ رہے تھے اور میں جہاں اُن پر رشک کر رہا تھا وہاں ہی خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیسا سخت دل ہے، کیسے مردہ احساسات کہ یہ لذت، یہ محبت، یہ ندامت، یہ کیفیت ، ایسی دعا مانگنے کا ہنر، اُس رب کو اپنی طرف کرنے کا یہ نسخہ ، اُن کی رحمت کو طلب کر کا یہ انداز مجھے کیوں نہیں آتا۔ کیسا کیا ہے جو میں اس نعمت سے محروم ہوں؟
ہر ہر بار جب میں ایسے کسی منظر، ایسی کسی شخصیت، ایسی کسی محفل کا حصہ ہوتا ہوں تو مجھے یہ احساس تنگ کرتا ہے کہ میں کیوں اس کردار ہے مالک نہیں ہوں؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

زندگی مفلوج ہو تو زندگی محفوظ ہے!!!

دہشت گردی کا خطرہ  ہے! دہشت زدہ کون ہے؟ حکومت  چلانے والوں کو حکمرانی تب ہی زیب دیتی ہے جب وہ بے خوف ہو۔ اگر صاحب اقتدار ہی  خوف میں مبتلا ہوں تو عوام کا بے خوف رہنا کم ہی ممکن ہوتا ہے۔ بڑے بتاتے ہیں کہ جب 1965 میں پڑوسیوں سے  لڑائی ہوئی تو اُس وقت کے گورنر نے تاجروں کو  کہا کہ بازار بند نہ ہوں، اشیاء عوام کی پہنچ سے دور نہ ہوں تو عوام سرحد پر ہونے والی جنگ کے خوف سے بے نیاز لاہور شہر کی گلیوں میں موجود تھی اور فضاء میں جنگی جہازوں کے آپسی مقابلوں کو یوں دیکھتی تھی  جیسے بسنت سے لطف اندوز ہو رہی ہو۔
زمانہ بدلہ حاکم بدلے! بدلا اصول حکمرانی! پہلے شکایت تھی حکمران حکومت کے لالچی ہیں! کم ہی نے اُنہیں نااہل کہا اور اُن سے بھی کم نے انہیں کرپٹ!! اب کون ہے جو اہل ہو، چلو نااہل ہی سہی مگر کرپٹ نہ ہو؟
آپ نا اہلیت کی انتہا دیکھیں! کہ حل یہ نکالا گیا ہے کہ سب کچھ ٹھپ کر کے رکھ دیا جائے نہ کچھ ہو گا نہ کچھ خراب ہو گا!! شاباش ہے ایسے حکمرانوں کے! موبائل بند، موٹر سائیکل بند، بازار بند،  ماشاءاللہ۔
اب یہ حال ہے کہ دہشت گردی کے مجرم اگر پکڑے گئے تو اِن کی حکمت عملی سے نہیں  بلکہ اپنی ناکس حکمت عملی کے باعث پکڑ میں آئیں گے۔ اب ان کا ایک ہی کمال باقی رہ گیا ہے وہ ہے بے شرمی۔ جن کی مدد سے یہ جمہوری  حکومت    کے پانچ سوال  پورے کریں گے! یہ کارنامہ ہے کافی ہے اب ان پانچ سالوں عوام کا کیا ہو گا، ملک کا کیا ہو گا یہ ان کا درد سر نہیں!! بس ان دوہرے چہرے والے دوہرے کردار والوں کو بس دوہری شہریت کی منظوری چاہئے!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

اوطاق جو قانون

کیا کسی کو سندھی آتی ہے اگر ہاں تو اس کا ترجمہ کر دے جو یہ خاتون کہہ رہی ہے گالیوں کے علاوہ یعنی اس مرد کا منہ کیونکہ کالا کیا جا رہا ہے؟ اور کیوں سزا دی جا رہی ہے وجہ عنایت کریں!! اور آپ کی کیا رائے ہے کیا اِس کا یہ عمل درست ہے؟ بتانے والے کہتے ہیں کہ یہ میر نادر مگسی (صوبائی ۔اسمبلی کے ممبر) کی بیوی ہے اور اس کا نام راحیلہ ہے مگر ابھی یہ کنفرم نہیں

مکمل تحریر پڑھیں ←

مگر ہمارا احتجاج تو ایسا تھا!!!

آج صبح جب ہم گھر سے باہر نکلے تو ہماری اُمید سے ذیادہ ویرانی سڑکوں پر راج کر رہی تھا، لہذا صبح ہی اندازہ ہو گیا کہ عوام کا کیا موڈ ہے!
دوپہر کو جمعہ کی نماز پر جاتے ہوئے ہم گھر سے یہ نیت کر کے گیا تھا کہ اگر مسجد سے کوئی جلوس ناموس رسالت کے سلسلے میں نکلا تو اُس میں ضرور شرکت کی جائے گی! خطبہ میں مولانا صاحب عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیان کے ساتھ ساتھ یہود و انصار کو کوس رہے تھے!!
فرض نماز کے بعد ایک قرارداد پیش ہوئی جس میں گستاخانہ فلم کی مذمت کی گئی! اور بین الاقوامی دنیا سے توہین رسالت سے متعلق قانون سازی کا مطالبہ کیا گی (جیسے باہر کی دنیا ان کی سن لے گی)۔ اس کے بعد معلوم ہوا اہلیان ماڈل کالونی کی تمام (مسالک کی) مساجد نے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا ہے جس کے تحت مسلکی اختلافات ، سیاسی نظریات، لسانی جھگڑوں اور ذاتی دشمنیوں سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ ریلی ناموس رسالت کے سلسلے میں نکالی جائے گی!لہذا ہماری محلے کی مسجد “باغ حبیب” سے ایک جلوس 9C اسٹاپ پر جائے گا وہاں سے دیگرمساجد سے آنے والی ریلیوں کو لیتا ہوا آگے بڑھے گا! ہم بھی ساتھ ہو لیئے! دوران خطبہ بھی مولانا نے کئی بار پُر امن رہنے کی تلقین کی تھی جلوس کے آغاز سے قبل پھر پُر امن رہنے پر زور دیا گیا!
نعرے مارتے لوگ پہلی منزل کی طرف روانہ ہوئے، 9C اسٹاپ پر پہنچ کر دیگر ریلیوں کا انتظار کیا جانے لگا جبکہ ایک ریلی ہم سے پہلے ہی وہاں پہنچ گئی تھی انتظار کے دران مقرر لوگوں کو جہاں جوشیلا کرنے والی تقاریر کر رہے تھے وہاں ہی پُرامن رہنے کی تلقین جاری تھی۔ قریب چار مزید مساجد کی ریلیاں وقفے وقفے سے وہاں پہنچ گئی! جن میں چند کالعدم تنظیموں کے افراد اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے ساتھ شریک تھے سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنی جماعتوں کے جھنڈوں کے بغیر تھے!!
وہاں سے تمام ممکنہ مساجد کی ریلیاں جنہوں نے یہاں تک آ کر ایک بڑے جلوس کی شکل میں آگے بڑھنا پہنچ گئیں تو جلوس آگے روانہ ہوا! یہ جلوس اعوان ہوٹل، لی بروسٹ، ماڈل موڑ سے ہوتا ہوا اپنی فائنل منزل ماڈل کالونی قبروستان تک جانے لگا راستے میں دیگر ریلیاں بھی اس میں شامل ہو گئی جلوس مکمل طور پر پُرامن رہا لوگ نعرہ تکبیر، نعرہ رسالت، نعرہ حیدری، اور دیگر نعرے لگاتے آگے بڑھتے رہے! ماڈل کالونی کی تاریخ میں اتنا بڑا جلوس جو میرے اندازے کے مطابق آٹھ سے دس ہزار سے ذیادہ تھا میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا! جس میں ہر عمر کے افراد شامل تھے!!! اور ایسے افراد بھی جو اپنے بچوں کو ہجوم یا کسی بھی دیگر قسم کے جلسے جلوس میں شرکت کرنے سے باقاعدہ منع کرتے ہیں۔
پورے جلوس میں کی جانے والی سب سے شر انگیز حرکت پتلوں کو جلانے کی تھی!! شر انگیز نعرہ امریکہ مردہ باد اور گستاخ رسول کی سزا ، سر تن سے جدا تھا۔
یہ نہیں معلوم کہ ایسی سچی ریلیوں کی بھی میڈیا کوریج جو کہ ملک میں بڑی تعداد میں نکالی گئیں میڈیا میں کیوں جگہ نہیں بنا پائی شاید اس لئے کہ یہ اُن کے “مفاد” میں نہیں!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

ایڈوکیٹ راجہ ریاض

10 ستمبر 2007 بروز پیر صبح ساڑھے نو بجے کا وقت ایک پر درد لمحہ تھا جب ٹی وی چینلز پر یہ پٹی چلی کہ راجہ ریاض ایڈووکیٹ کو وائی ایم سی اے گرائونڈ کے سامنے سامراجی آلۂ کار اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے نامعلوم دہشت گردوں نے بندوق کی گولیوں سے چھلنی کرکے شہید کردیا جب کہ متعلقہ سڑک کے دونوں اطراف پر پولیس بھی تعینات تھی۔ راجہ ریاض سے میری ملاقات 1974 سے تھی۔ اس وقت وہ طالب علم رہنما تھے اور ملیر کے ستار ایدھی کہلاتے تھے۔ سیاسی جماعت کے رہنما یا کارکن نے ملیر کے عوام کی اتنی خدمت نہیں کی جتنی راجہ ریاض نے کی۔
ان سے ملاقات کرنے جائو تو پتہ چلا کہ پچھلی گلی کی فلاں بیوہ کے گھر نلکے سے پانی بھر کے دے رہے ہیں، کبھی ملنے جائو تو پتہ چلا کہ کسی ضعیف کے لیے راشن لینے گئے ہیں، کبھی گھر والے بتاتے کہ کچھ طلبا صبح کو آئے تھے اور انھیں لے کر کالج میں داخلہ دلوانے گئے ہیں۔ ان کی اس ٹیم میں شہنشاہ حسین ایڈووکیٹ، گل فراز احمد، احمد علی، ریاض بنگش، اعجاز بنگش، جعفر الحق، صابر اور سہیل وغیرہ جیسے نہ جانے کتنے پر جوش طلبا اور نوجوان ہوتے تھے۔ یہ پہلے ایم ایس ایف (MSF) مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن جو کہ ایک دائیں بازو کی رجعتی طلبا تنظیم تھی، اس میں کام کرتے تھے۔ اس وقت ملیر کے انقلابی رہنما وحید مصیح والد مصیح الرحمن، شعیب جوادی، محمد یامین، خرم مرزا، شمس الحق (شمبو بھائی) اور اعجاز حسین خان وغیرہ ملیر کے بائیں بازو کے حوالے سے مزدوروں، طلبا، نوجوانوں اور عوام میں بڑی مقبولیت رکھتے تھے۔ کامریڈ محمد یامین تو صوبائی اسمبلی کے نمایندے کے لیے انتخاب بھی لڑ چکے ہیں۔ انھی کی صحبت اور رہنمائی میں خاص کر وحید مصیح کا خلوص، قربت اور رہنمائی نے راجہ ریاض کو انقلابی سوشلزم کا حامی بنا دیا اور وہ بلاناغہ انقلابی رسالے ’’سرخ پرچم‘‘ اور ’’صنوبر‘‘ پڑھا کرتے تھے۔ پھر ایم ایس ایف میں اس قدر عملی اور نظریاتی کام کیا جس کے نتیجے میں ایم ایس ایف ایک ترقی پسند اور انقلابی طلبا تنظیم بن گئی۔
راجہ ریاض اس تنظیم کے ملک کے مرکزی صدر منتخب ہوگئے۔ پھر یہ تنظیم پنجاب، کشمیر، پختون خوا اور کراچی میں پھلنے پھولنے لگی۔ اس میں راجہ ریاض کا کردار، نظریہ، سادگی اور اپنی ذات کی نفی نے بڑا اہم رول ادا کیا۔ کامریڈ راجہ ریاض کا ملیر میں جن لوگوں کے ساتھ ہمہ وقت اٹھنا بیٹھنا اور ایک خاندان جیسے تعلقات تھے تو وہ تھے ملیر ’’سی‘‘ ایریا کے اعجاز حسین خان اور ان کے رفقاء جو کہ رام پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اعجاز حسین خان، نیشنل عوامی پارٹی، ملیر کے صدر اور ایوبی آمریت میں عوامی لیگ کے ٹکٹ سے دو بار بی ڈی ممبر منتخب ہوئے۔
واضح رہے کہ کامریڈ اعجاز حسین خان واحد شخص تھے جو کہ عوامی لیگ کے ٹکٹ سے منتخب ہوئے۔ اعجاز حسین خان کے صاحب زادے مسعود حسین خان ایڈووکیٹ کی راجہ ریاض سے 34 سالہ قربت تھی اور وہ قربت، خلوص، نظریہ، جرأت اور سچّائی پر مبنی تھی۔ راجہ ریاض تھے پنجابی مگر ملیر میں جن 99.9 فیصد لوگوں کے لیے کام کیا وہ اردو بولنے والے محنت کش، طلبا اور نوجوان تھے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ رنگ و نسل، فرقہ، مذہب اور زبان سے بالاتر مزدور طبقے کی عالمی یکجہتی اور عالمی انقلاب کے حامی تھے۔
وہ اپنی روح کی گہرائیوں سے ایک سچّے سوشلسٹ تھے۔ کامریڈ راجہ ریاض کی پیدایش جہلم میں ہوئی تھی جہاں سے عظیم مزدور اور کمیونسٹ رہنما دادا میر داد کا تعلق تھا اور وہ ممبئی میں محنت کشوں کے ایک جلوس کی رہنمائی کرتے ہوئے گولیوں سے شہید ہوئے تھے۔ راجہ ریاض جہلم میں پیدا ہوئے اور کراچی میں محنت کشوں کے حقوق کے لیے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ وہ دادا میرداد کے وارث تھے۔ جہاں تک شہادت کی بات ہے تو چند روز قبل امان اﷲ خان جو کہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سابق رکن تھے،کراچی میں نامعلوم دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، ان کا آبائی تعلق بلوچستان سے تھا۔ ان کی شہادت پر بھی ہماری آنکھیں پرنم ہیں۔ راجہ ریاض جامعہ ملیہ ملیر کے طالب علم تھے۔
وہ انٹر کالیجیٹ باڈی کے بھی رہنما رہے۔ انھوں نے تعلیم حاصل کرنے کے بعد مشین ٹولز فیکٹری لانڈھی میں ملازمت اختیار کرلی۔ وہاں انھوں نے مزدوروں کو منظم کیا اور یونین کے رہنما بن گئے جب کہ اس وقت مشین ٹولز فیکٹری (یہ اسلحہ سازی کی فیکٹری ہے) میں سندھی، پنجابی، ہزارہ، پشتون، مہاجر اور بلوچ وغیرہ کے نسلی اور قومی ناموں سے مزدوروں نے اپنی الگ الگ انجمنیں بنا رکھی تھیں۔ راجہ ریاض نے ان کے خلاف ’’اعلان جنگ‘‘ کردیا۔
ان کے علاوہ مشین ٹولز فیکٹری میں دیگر انقلابی، سوشلسٹ اور کمیونسٹ کارکنان جن میں جعفر، علمدار حیدر، جاوید شکور اور رشید جیسے سرگرم کارکنان برسرپیکار تھے۔ انھوں نے ان سب کے ساتھ مل کر مزدور طبقے کی یکجہتی کے لیے اور قومیتی ونسلی تنگ نظری کے خلاف جدوجہد کی۔ کراچی میں اس وقت مزدوروں کی ہونے والے جدوجہد سب سے نمایاں مختلف فیکٹریوں میں تھی۔ جن میں مشین ٹولز فیکٹری کے مزدوروں کی جدوجہد زیادہ ریڈیکل تھی۔ جب کامریڈ راجہ ریاض نے لاء کرلیا تو انھوں نے وکالت کرنے کی ٹھانی۔
جب وکیل بنے تو وکیلوں کی جدوجہد میں اتنے نمایاں ہوئے کہ کراچی بار کے سالانہ انتخابات میں نائب صدر کا انتخاب لڑے اور سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ وہ عجیب سادے انسان تھے۔ ان کے پاس کبھی بھی منی بیگ اور بریف کیس نہیں ہوتا تھا۔ موکل (کلائنٹ) کی پہلے صلح کرانے کی کوشش کرتے تھے اور جب وہ نہ مانتے تھے تو مقدمہ لڑتے تھے ۔ وہ مزاجاً بہت سچّے اور بہادر انسان تھے۔ ایک بار کراچی سٹی کورٹ میں ایک وکیل نے ایک موچی بچّے کو ماں بہن کی گالی دے دی، جس میں کامریڈ راجہ ریاض نے اس وکیل سے کہا کہ آپ اس غریب بچّے کی ماں کو کیوں گالی دے رہے ہیں؟
جواب میں اس وکیل نے کہا کہ آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے؟ جیسے ہی یہ بات کہی تو کامریڈ ریاض نے اپنی فائل دور رکھی اور اس وکیل کو گھما کے ایک زوردار تھپڑ رسید کردیا۔ پھر راجہ ریاض کے سارے دوستوں نے اس مزدور دشمن وکیل کی خوب خبر لی۔ یہ تھے ان کے ذاتی کردار۔ راجہ ریاض یوم مئی کے جلسے، جلوس اور حسن ناصر اور نذیر عباسی کی برسی پر جلسوں میں شرکت کو اپنا اوّلین فریضہ سمجھتے تھے۔
کامریڈ راجہ ریاض کی شہادت کو 5 سال گزر گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بھی قائم ہوگئی ۔ راجہ ریاض کا خاندان راولپنڈی منتقل بھی ہوگیا، مگر اب بھی قاتلوں کا پتا چلا اور نہ ہی شہید کے مقدمے میں کوئی پیش رفت ہوئی۔ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ قتل نہیں چھپتا مگر کراچی میں تو چھپتا آرہا ہے۔
تحریر: زبیر رحمن ٭٭٭٭٭٭٭٭ بشکریہ : ایکسپریس
مکمل تحریر پڑھیں ←

عید مبارک

آپ تمام احباب کو عید مبارک!!
ملک اور ملک سے باہر ہر جگہ عید و عیدی کے چرچے ہیں عید کی مناسبت سے چند شعر ذیل میں ہیں اور اگر آپ کو کوئی یاد ہو تو ہم سے شیئر ضرور کیجئے گا۔

غم کے بادل تھے فصاؤں میں کچھ ایسے چھائے
دل کی دنیا میں منور نہ ہوا عید کا چاند

ہیں میرے ساتھ ساتھ ازل سے اُداسیاں
تو کس لئے اُداس ہے آخر اے ہلال عید

غم آنکھوں میں اور تن پہ ناامیدی کا لباس
غریب شہر نے بھی عید کی تیاری کر لی

تیرے کہنے پہ لگائی ہے یہ مہندی میں نے
عید پر اب تو نہ آیا ، تو قیامت ہو گی

کتنی مشکلوں سے فلک پر نظر آتا ہے
عید کے چاند نے بھی انداز تمہارے سیکھے

اس سے پوچھو کہ میرے بچوں کے لئے کپڑے لائی؟
دیکھو پھر عید غریبوں کو ستانے آئی

غریب ماں اپنے بچوں کو بڑے پیار سے یوں مناتی ہے
پھر بنا لیں گے نئے کپڑے یہ عید تو ہر سال آتی ہے
مکمل تحریر پڑھیں ←

رمضان اسپیشل

“بیٹا اب کے اس رمضان میں تو میں کہتا ہو کہ تم نماز کی پابندی کو اپنی عادت بنا لو، یہ ایک نیک عادت ہے، زندگی کی کئی الجھنیں اس ایک عادت سے دور ہوجاتی ہیں، پھر یہ ہے بھی برکتوں والا مہینہ”
جی بہتر ابو جی! میں کوشش کرو گا کہ جس قدر ممکن ہو خود کو اس جانب راغب کرو
“اور ہاں بیٹا آج بینک سے خلیل صاحب کا دوبارہ فون آیا تھا کہہ رہے تھے اُس نے تمہیں بھی کال کی تھی دو چار دن پہلے مگر تم نے اُن کی بات کو شاید توجہ نہیں دی”
جی آیا تو تھا مگر مجھے اُن کی بات سمجھ نہیں آئی! کسی نئے اکاؤنٹ کی کوئی بات کر رہے تھے۔ “ہاں ایسا کرنا کل آفس کے بندے کو بھیج کر ایک حلفیہ بیان جمع کروا دینا کہ ہماری زکوۃ نہ کاٹی جائی وکیل صاحب کو میں نے کہہ دیا تھا کہ وہ ایسا ایک حلف نامہ بنا کر رکھ دیں صبح اُن کے منشی سے لے کر خلیل صاحب کو دے دینا”
مگر ابو کیا یہ ٹھیک ہو گا؟ رمضان میں تو زکوۃ دینے کا ثواب ذیادہ نہیں ہو گا!
“اب ذیادہ مولوی بنے کی ضرورت نہیں! مجھے معلوم ہے تم جتنے مسلمان ہو، جو کہا ہے وہ کرو”
مگر ابو یہ ٹھیک نہیں ہے
“اب تماری اس ضد کے پیچھے میں ساٹھ ستر ہزار کا نقصان نہیں برداشت کر سکتا”
یہ نیکیوں کا مہینہ ہے
“نیکیوں کا ماما! تو نے نہیں کرنا تو نہ کر میں کل خود کسی اور کے ذمہ یہ کام لگا دوں گا”
مکمل تحریر پڑھیں ←

بلا عنوان

میں ملک کے لئے اپنی جان تک دے سکتا ہوں! یہ جھوٹ نہیں سچ ہے ایسے دعوی وہ کرتے رہے ہیں جو عمل سے ایسا نہیں کر سکتے۔ دوسرے کو یہ تاثر دینے کے لئے کہ میں سچا ہو بات کے آغاز میں کلمہ پڑھنے والے اکثر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ جو کہتے ہیں اخلاقیات بہت اہم ہیں وہ خود اس کی تردید اکثر اپنے عمل سے کرتے ہیں اور سوال کرنے پر اپنے اشارے، عمل اور کئی بار زبان سےہی کہہ دیتے ہے کتابی باتیں کتابوں میں اچھی لگتی ہے۔
اُوپر سے منظور شدہ “میرٹ” لیسٹ میں سے اب چناؤ اہلیت و قابلیت کا نہیں ہوتا جہالت کا ہوتا ہے جو کم جاہل ہو گا نوکر ہو جائے گا البتہ کم جہاہل کے چناؤ کے عمل میں کئی اہل و قابل افراد کو اس لئے مدعو کر لیا جاتا ہے کہ اُن میں مایوسی کے بیج کو بو کر اُن کو کسی قابل نہ رہنے دیا جائے۔
قانون معاشرتی اخلاقیات و رواجات سے جنم لیتے ہیں، جب اخلاقیات و رواجات بہتر تھے تو جو قانون بنے وہ اب اہل اقتدار کے راہ میں دشواریاں پیدا کرتے ہیں لہذا نئے “میعار” کی روشنی میں ترمیمات کی جائیں گی کہ کوئی “گرفت” میں نہ آئے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

انعامی لا قانونیت

یہ ایک عام تاثر ہے کہ انعامی اسکیم میں جن کی بڑی رقم نکلتی ہے اُن کا وجود نہیں ہوتا! اس سے ذیادہ اہم بات یہ کہ اپنے مال یا سروس کی تشہیر کے لئے انعام کا لالچ دینا کیا اخلاقی طور پر درست ہے؟
آپ کا خیال و جواب کچھ بھی ہو مگر یہ سلسلہ میرے ملک میں زور و شور سے جاری ہے، اور ادارے خواہ وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری خود ایسی اسکیموں کی تشہیر کے لئے زور بھی لگاتے ہیں اور شور بھی مچاتے ہیں۔
اس وقت میڈیا میں ٹیلی کام کمپنیاں سب سے ذیادہ انعامی لالچ کی ترغیب کے ذریعے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں! بغیر کسی شک شبہ کے ایسی کوئی بھی اسکیم شرعی نقطہ سے ناجائز ہے خواہ انعام پانے والے اپنی انٹرویو میں یہ ہی کہے میں نے انعام کا سن کر دو رکعات شکرانے کے ادا کئے :)
کیاملکی قانون کے تحت یہ جائز ہیں؟
یہ سوال عموما سامنے آتا ہے اور وہ بھی اس رائے کے ساتھ اگر اجازت نہ ہو تو کیوں ایسی اسکیمیں متعارف ہوں؟ جواب سادہ ہے تعزیرات پاکستان کی دفعہ294 بی کے تحت کاروباری معاملات کے سلسلے میں انعامات کا لالچ دینا قابل گرفت جرم ہے۔
اس دفعہ کے لفاظ یوں ہیں!
Whoever offers, or undertakes to offer, in connection with any trade or business or sale of any commodity, any prize, reward or other similar consideration, by whatever name called, whether in money or kind, against any coupon, ticket, number or figure, or by any other device, as an inducement or encouragement to trade or business or to the buying of any commodity, or for the purpose of advertisement or popularising any commodity, and whoever publishes any such offer, shall be punishable, with imprisonment of either description for a term which may extend to six months, or with fine, or with both.

ہاں کہنے کو سزا صرف چھ ماہ ہے مگر بات یہ ہے کہ ملکی قانون میں انعامی ترغیب کے ذریعے کاروبار کا فروغ ایک غیر قانونی عمل ہے اور یہ لاقانونیت باقاعدہ ہمارے ملک میں چل رہی ہے۔ 1965 میں یہ دفعہ تعزیرات پاکستان میں داخل کی گئی۔ دلچسپ یہ کہ نہ صرف عام کمپنیاں و ادارے اس قانون کی پابندی نہیں کر رہے بلکہ مختلف ادوار میں ریاستی مشینری و حکومتی سرپرستی میں اس قانون کے خلاف ورزی کی جاتی رہی ہے۔
معاشرے و ریاستوں کی تنزلی کا اندازہ قانون کی پاسداری سے لگایا جاتا ہے اور ہمارا معاشرہ قانون شکنی کو معیوب نہیں سمجھتا! کیوں؟
مکمل تحریر پڑھیں ←