حق حلال!

حق حلال!

تھانے میں گاڑی چھڑانے پہنچے تو آگے سے ملنے والے بندے نے منہ بنا کر کہا "آپ کو آنے کی یا ضرورت تھی؟"
وکیل صاحب نے کہا "یار! وہ بندہ اکیلے آنے سے ڈرتا تھا اس لئے میں ساتھ میں آ گیا"
"آپ کو نہیں معلوم یہ ایک نمبر کا فراڈیہ بندہ ہے یہ اس گاڑی کو سمگلنگ کے لئے استعمال کرتا ہے ، اب دیکھیں ناں تین ماہ سے ٹرک تھانے میں بند ہے یہ نہیں آیا اور آج آپ کے ساتھ آ گیا۔"
وکیل "اچھا اب آپ کیا چاہتے ہیں ؟"
"کچھ نہیں اب آپ آ گئے ہیں تو لے کر ہی جائیں گے گاڑی، ہم آپ کا خیال کرتے ہیں آپ ہمارا خیال کر لیں"
وکیل "بہتر"
کچھ دیر بعد وکیل صاحب نے بندے کے ہاتھ میں آٹھ ہزار روپے رکھے اور پوچھا "اب ٹھیک ہے؟"
"جناب اب آپ سے کیا کہو ٹھیک ہے چلیں اُس کو بلائیں کچھ کاغذی کاروائی کرنی ہے! میں اُسے کہوں گا آُ نے مجھے بارہ ہزار دیئے ہیں ! ہمیں آپ کا بھی خیال ہے ناں!"
بندہ مالک ٹرک سے "دیکھیں میں نے وکیل صاحب کی وجہ سے آپ کا خیال کیا ہے شکر ادا کرو ان کا۔وکیل صاحب نے مجھے بارہ ہزار کی مٹھائی دی ہے ۔ مجھے معلوم ہے جو تم کرتے ہوں یہ پیسہ یہاں ہی رہ جائے گا دنیا کا مال یہاں ہی رہ جائے گا۔حرام کی کمائی سے اولاد بھی بگڑ جاتی ہے عزت نہیں کرتی اور آخرت الگ خراب ہوتی ہے۔ حق حلال کی روزی کماؤ اچھا! یہ بُرے دھندے چھوڑ دو"
بندہ گاڑی کی چابی لے کر ہاتھ ملاتے ہوئے "جی انسپکٹر صاحب! میں کوشش کرو تو بھی آپ کی طرح کی حق حلال کی کمائی اپنی اولاد کو نہیں کھلا سکتا"
بس اس لمحے انسپکٹر کا چہرہ دیکھنے والا تھا!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

مجبوری اور قیمت

بھوک کردار کو کھا جاتی ہے. بندہ اپنے نظریات کے متضاد عمل ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے دلیل کے نام پر جواز بھی بنا لیتا ہے. قیمت ضرورت کی نہیں مجبوری کی لگتی ہے. کتنی بڑی مجبوری ہوتی ہے اُتنا سستا ہی کردار بکتا ہے.
صاحب کردار وہ لوگ ٹھہرتے ہیں جن کی مجبوریاں چھوٹی ہوتی ہیں یا یوں کہہ لیں جو اپنی ضرورتوں کو مجبوری بننے نہیں دیتے.
عقل اور عقیدہ دونوں بھوک کے پہلے شکار ہوتے ہیں. غربت کا حملہ ہی نہیں اس کے حملہ آور ہونے کا اندیشہ بھی بندے کو گمراہی کے راستے سے بہتر زندگی کی راہ نکالنے کا درس دیتا ہے.
بہکنے والے اکثر لمبی مدت کے بعد صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کو گمراہ سمجھتے ہیں.

مکمل تحریر پڑھیں ←

تھر کا قحط

یار کیا پروگرام ہے چلے گا
"کہاں؟"
تھرپارکر
"کون کون جا رہا ہے؟"
سارے یار چلے رہے ہیں یہ سمجھ پورا قافلہ ہے
"امداد لے کر جا رہے ہو؟"
ہاں لازمی ہے امداد بھی لے کر جائیں گے وہاں کے لوگوں کے لئے.
"کیا کچھ اور بھی لے کر جا رہے ہو؟"
نہیں میں نے تو یوں کہا چلیں گے تھر بھی دیکھ لیں گے سیر ہو جائے ہے اور تفریح بھی.
"شرم کر یار وہاں لوگ مر رہے ہیں اور تو تفریح کی نیت رکھے ہوئے ہیں "
غلطی ہو گئی میرے باپ جو تجھ سے پوچھ لیا معاف کر دے
" تم بھی اس سے کم تو نہیں جو وہاں مچھلی کی ضیافت کر کے آیا تھا "
چلنا ہے تو چل یہ جیو اور اے آر وائے والی رپورٹنگ نہ کر. شام کو تو بھی اونچی آواز میں جسٹ ان بے بی سن رہا ہو گا. تیری جیسے مجھے خبر نہیں ناں.

مکمل تحریر پڑھیں ←

اصل کی طرف سفر

گاؤں کی طرف سفر کا آغاز کیا تو اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کی طرف جانے کی خوشی تھی. اپنے اصل کی طرف روانگی کیا لذت عطا کرتی ہے یہ بیان سے باہر ہے. سفر سارا اسی سرشاری میں ہوا.
میں اپنے خاندان کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جن کی پیدائش و پرورش شہر میں ہوئی. گاؤں سے ہمارا تعلق بڑوں کی زبانی سنے ہوئے قصوں سے شروع ہو کر ان قصوں پر ہی ختم ہوتا ہے.
غیر محسوس انداز میں ایک ایسی نسل جو اپنے اصل سے واقف ہو کر اس سے دور اور اس سے جڑے ہونے کے باوجود اس سے بے خبر ہوتے ہیں.
دیہاتی زندگی کے حق میں ہماری وکالت زبانی جہاد سے آگے نہیں ہوتی. جب کبھی اپنے ہم عمر کزنوں سے  دیہی زندگی کے کسی گوشے سے متعلق سوال کرتا ہوں کہ یہ کیا ہے یہ کیسے ہے تو اندر کہیں سے یہ آواز آتی ہے جہالت یہ بھی ہے کہ بندہ ان باتوں اور حقیقتوں سے ناواقف ہو جس پر آباؤ اجداد کو ماہرانہ دسترس ہو، ایسا علم کیا کرنا جو اصل سے دور کرے.
یہاں گاؤں میں کھلے گھر کو حویلی کہتے ہیں! یہ بادشاہوں کی حویلیوں جیسی نہیں ہوتی مگر رہائشیوں کے لئے یہ اپنی سلطنت کے دربار سے کم نہیں. میرے گاؤں میں لوگوں نے اپنی ان حویلیوں کو واقعی سلطنت کے دربار سا بنا رکھا ہے بیرون ملک کی کمائی سے بننے والے یہ مکان شہر کے بنگلوں سے ذیادہ بہتر اور جدید ہیں. ان میں اپنا آبائی مکان جو اب بھی پرانے طرز کا ہی ہے ایک احساس جرم میں مبتلا کرتا ہے کہ دیکھو مکان کے مکین اس سے دور ہو تو گھر ویران ہوتے ہیں. ایسے گھر ان ریسٹ ہاؤس کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو سال دو سال میں ایک آدھ بار آباد ہوں.

سمجھنے والی بات یہ ہے کہ میرا جیسا خود فریبی میں مبتلا ہو کر بے شک یہ فخر کرتا ہے کہ وہ ایسی زندگی گزار رہا ہے جو شہری و دیہاتی زندگی کا بھرپور امتزاج ہے مگر درحقیقت ایک رخ یہ بھی ہے کہ میرے جیسا بندہ نئی تشکیل شدہ پہچان اور اصل پہچان کی درمیانی کشمکش کا شکار بھی رہتا ہے .

مکمل تحریر پڑھیں ←

ڈربہ اور کھلا آسمان

کراچی میں ایک بستی ہے اعظم بستی، ہمارے تایا ابو پہلے وہاں آباد تھے ۔ ہم بچپن میں جب بھی وہاں جاتےتو عموما دو چار دن اُن کے گھر پر رہتے تھے۔ اُن کے پڑوس میں میں ایک گھر تھا جس میں ایک بابا رہتا تھا جس نے بے تحاشا کبوتر رکھے تھے اور کبوتروں کے لئے ایک پنجرہ بنا رکھا تھا اور اُس پنجرے کو اُس نے مزید کئی پنجروں میں یوں تقسیم کیا ہوا تھا کہ ہر حصہ ایک الگ پنجرہ ہی معلوم ہوتا اُس بابے کا نام تو ہم نہیں جانتے مگر اُس سے ہماری دوستی ہو گئی تھی۔ بابے نے ممکن ہے کبوتر شوق سے رکھیں ہوں مگر وہ کبوتروں کی خرید و فروخت کا بھی کام کرتا تھا۔ایک دن دوران گفتگو ہم نے بابے سے کہا کہ آپ ان کبوتروں کوان چھوٹے پنجروں میں کیوں رکھا ہوا ہے یہ پرندہ کھلے آسمان میں اچھا لگتا ہے یہ ڈربے ہیں بھی گندے ، بابے نے جواب دیا میں نے انہیں یہاں ان کبوتروں کو ان کی اپنی بھلائی کو نہیں رکھابلکہ یہ قید ی ہیں میرے ،مجھے ان سے نہیں ان کی افزائش نسل میں دلچسپی ہے، یہ جتنی تعداد میں ہوں گے اتنی ہی میری روزی روٹی بڑھے گی، یہ ڈربے میں ہی اچھے ہیں کھلا آسمان ممکن ہے ان کے لئے اچھا ہو مگر ان کا یہ اچھا میرے لئے برا ہو گا۔
آج شام گلستان جوہر میں ایک چائے کے ہوٹل پر دوستوں کے ساتھ بیٹھے فلیٹ کی زندگی پر بات کرتے فلیٹ کو ڈربہ سے تشبی دینے پر مجھے یہ بات یاد آ گئی۔
نہ اپنی زمین نہ اپنا آسمان چلتی سانس کو زندگی سمجھنے والے ہم لوگ، خواہشوں کی دوڑ میں اپنے لئے کیا اچھا ہے اُسے بھول کر ہم کسی اور کے فائدے کے کام تو نہیں آ رہے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

جہالت کی آگاہی

ہم نے سنا ہے علم و آگاہی جہالت سے نکالتی ہے. دانشوری دراصل سمجھ بوجھ و عقل کا نام ہے. بے خبری کیا ہے یہ بندہ خبر ہونے سے قبل نہیں جان سکتا. کامیابی صرف اور صرف محنت کا ثمر ہے یہ وہ ہی کہتے جو اپنی جہالت سے ناواقف ہوں. جس قدر ہم معلومات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں ہمارے علم میں اضافہ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے.
کامیابی دراصل آگاہی کی طرف سفر ہے. اس سفر میں گمراہی کی ابتداء اپنے علم کو کامل و مکمل جاننے سے شروع ہوتی ہے اور بندہ اپنی جہالت کے باوصف باقیوں کو کمتر جانتا ہے.
معلومات میں سے علم تک اور علم سے عمل تک کا سفر بندے کے دانشور یا جاہل ہونے کا اعلان کر دیتا ہے.
ہم معلومات تک محدود رہ کر خود کو دانشور کہہ کر اپنی جہالت کا اعلان کرتے ہیں.

مکمل تحریر پڑھیں ←

محبت ، عقیدت، خوشی و جشن

جو لوگ محبوب رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں محبوب ہی نہیں اُس سے جڑی ہر شے اچھی لگتی ہے۔ معیار محبوب ہوتا ہے ! جو اسے پسند وہی پسند کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کا کوئی محبوب نہیں ہوتا اُن کی منطق یہ سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے کہ عشق کی یہ کیا کیفیت ! محبوب معیار کیسے ہوا، عاشق کو محبوب کی پسند ہی پسند کیونکر ہوتی ہے؟ اُس سے جڑی بات، لمحہ، چیز یا کچھ بھی کیوں عزیز ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے ماں باپ سے ذیادہ عزیز ہمارا نبی ہے، ہمیں اُس سے عقیدت ہے۔ آپ کی ولادت ، ہمارے لئے وہ سبب جس سے ہم نے اللہ کو جانا و پہچانا، لہذا آپ کی آمد کی ہم کیوں خوشی نہ منائے۔ ہمیں اپنے محبوب کی آمد کی اتنی خوشی ہے کہ ہم اسے جشن منانے کی اہم وجہ جانتے ہیں۔ اس کیفیت کو جانو تو جانو گے کہ یہ عید (خوشی) ہے کہ نہیں!!
جشن عید میلادالبنی مبارک ہو!
مکمل تحریر پڑھیں ←

گناہ کی حسرت و پچھتاوا

سُنا ہے بُرائی میں کشش ہوتی ہے مگر کیا کیا جائے زندگی میں ہم ایک دو معاملات میں "حسرت گناہ" کا شکار رہے. گناہ یا بُرائی سے بچنے کو کوشش نہیں کی مگر اس کی طرف قدم بڑھا نہیں پایا اگر کبھی اس جانب گیا تو ناکامی کا سامنا ہوا.
یوں لگا جیسے کوئی طاقت اس طرف جانے سے روکنے پر مامور ہو ہم پر. اس وقت احساس ہوا کہ ناکامی کا غم ایک سا ہوتا ہے خواہ اچھائی پر ہو یا گناہ پر.

گمراہی یا بہکنے سے بچنے کو فقط یہ لازم نہیں کہ بندہ نہ صرف خود نیکی کرے یا نیکی کی تلقین کرے بلکہ گمراہ لوگوں کی صحبت سے دور رہنا بھی اہم ہے. دعا صرف گناہ سے بچنے تک محدود نہ ہو بلکہ شیطان صفت لوگوں سے پناہ بھی دعا کا حصہ ہو.
اب زندگی کے اس موڑ پر احساس ہوتا ہے خوش قسمت وہ بھی ہوں گے جو نیک اعمال کو زندگی کا حصہ بنائے رکھے اور تمام عمر گناہ سے باز رہیں. مگر وہ لوگ جو بُرائی کی دنیا سے نکل کر نیکی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں وہ اصل میں نہایت ہی قسمت والے ہوتے ہیں. وہ نہ صرف روحانی منازل تیزی سے طے کرتے ہیں بلکہ مالک کی پسندیدگی کی لسٹ میں ٹاپ پوزیشن پر ہوتے ہیں. جیسے پیچھے رہ جانے کا احساس جدوجہد کو تیز کر دیتا ہے اور مقابلہ کرنے کی خواہش کے زیر اثر امیدوار سب سے آگے نکل جاتا ہے.
میرے جیسے "حسرت گناہ"  رکھنے والے نیکی میں سب سے پیچھے رہتے ہیں مگر گناہ سے توبہ کرنے والے نیکوں کی لسٹ میں خود سے آگے نظر آتے ہیں.
پچھتاوا گناہ ایک بڑا عمل ہے.
.

مکمل تحریر پڑھیں ←
گوگل  ڈرائیو  اور میرا منٹ

گوگل ڈرائیو اور میرا منٹ

اس سے بہتر اس موضوع پر آپ کو تحریر یقین آئی ٹی نامہ یا کمپیوٹنگ پر مل سکتی ہے مگر ہم پر چونکہ کوئی پابندی نہیں لہذا ہم اس پر اپنی رائے دینے جا رہے ہیں!
2008 سے ہم ونڈو سے لینکس کے صارف ہو چکے ہیں اوبنٹو میں جب Unityکی آمد ہوئی تو ہمارے پرسنل کمپیوٹر پر اوبنٹو نے چلنے سے انکار کر دیا لہذا ہم لینکس منٹ پر منتقل ہو گئے! اپنی پیشہ وارانہ ضرورت کے لئے اپنا ڈیٹا ایک جگہ کے بجائے کئی جگہ درکار ہوتا ہے لہذا اپنے تمام سسٹم پر ڈراپ باکس کا استعمال کرتا ہوں کوئی شک نہیں یہ ایک بہتر ٹول ہے مگر گوگل ایک بڑا نام ہے اور ان کی طرف سے گوگل ڈرائیو کی آمد کے بعد سے اس کی طرف مائل رہا مگر نہ تو گوگل خود کسی ایسے ٹول کو میدان میں لایا جو لینکس پر چل سکے نہ ہی ابتدا میں ہمیں تلاش پر نصیب ہوا!!
مگر چند دن پہلے ہمیں Insync نامی ٹول کے بارے میں علم ہوا یہ گوگل ڈرائیو کا Third Party ٹول ہے۔ یہ ایک کمرشل ٹول ہے جو دس ڈالر یعنی قریب ہزار روپے میں پڑتا ہے مگر میرے لئے ایک اچھا ڈراپ باکس کا متبادل ہے، 15 دن کے ٹرائل پریڈ میں اس نے میرے 25 ہزار ڈرافٹ گوگل پر منتقل کر دیئے دوسرا ایک عمدہ کام یہ کہ اب میں آن لائن کہیں بھی بیٹھ کر اپنا دیٹا اپ ڈیٹ کر سکتا ہوں جو کہ میرے سسٹم پر بھی اپڈیٹ ہو جائے گا!! کہ گوگل ڈرائیو میں گوگل آفس کی سہولت بھی یہ جو کہ ڈراپ باکس میں نہیں!
اگر آپ لینکس کے صارف ہیں تو آزما کر دیکھے! ونڈو پر ہم نے اسے نہیں آزمایا!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

کورٹ محرر کا ایک غیر سنجیدہ انٹرویو

آج ہم نے جس شخصیت کو انٹرویو کیلئے منتخب کیا ہے اگرچہ بظاہر وہ ایک چھوٹی شخصیت ہے لیکن درحقیقت وہ عدلیہ کی سب سے اہم ترین شخصیت ہے وہ ایک اہم ترین شخصیت اس وقت ہمارے ساتھ موجود ہیں اگرچہ وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن انٹرویو شروع کرنے سے پہلے ہم چاہیں گے کہ وہ اپنا تعارف خود کروائیں
جناب زرہ نوازی ہے آپ کی اس خاکسار کو بہت سے لوگ " کورٹ کی دائی" کے نام سے پکارتے ہیں کچھ لوگ مجھے کورٹ کا پٹواری کہتے ہیں جب کے سرکاری طورپر مجھے "کورٹ محرر" کہا جاتا ہے میں کورٹ کی دائی بھی ہوں پٹواری بھی ہوں اور کورٹ محرر بھی میرا سرکاری کام تھانے کی ڈاک کورٹ سے لیکر تھانے تک پہنچانا ہے اور تھانے سے ڈاک لیکر کورٹ تک پہنچانا ہے تھانے کے کیسز کی نگرانی کرنا ہے افسران تک عدالتی احکام پہنچانا ہے کورٹ کی جانب سے گواہ کو جب گواہی کیلئے طلب کیا جاتا ہے تو ہم ہی گواہ کے پاس کورٹ کے اور احکامات لیکر جاتے ہیں کورٹ میں چلنے والے تھانے کے کیسز میری جایئداد بھی ہیں اور اثاثہ بھی اور میرا کاروبار بھی میں کورٹ میں جو بھی رپورٹ جمع کروادوں وہ حتمی تصور ہوتی ہے اور اسی رپورٹ ہی کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ ہوتا ہے
سوال: کورٹ محرر صاحب آپ اپنے کاروبار اور اپنی شخصیت پر مزید کچھ روشنی ڈالیں؟
کورٹ محرر: جناب کیا روشنی ڈالوں میرے بغیر عدالتی کاروائی چل نہیں سکتی اگرچہ میں ایک چھوٹا موٹا پرزہ نظر آتا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں پاکستانی عدلیہ کا سب سے اہم ترین مہرہ ہوں مجسٹریٹوں کو نفع بخش تھانے میری مرضی سے ملتے ہیں سیشن جج میرے مریدوں میں شامل ہوتا ہے عدالت میں میری مرضی کے بغیر کوئی کاروائی نہیں ہوسکتی اور بعض معاملات میں میری طاقت آئی جی سندھ سے بھی زیادہ ہے اگر ہم نہ ہوں تو کیس ڈسپوزل مشینیں خود ڈسپوزل ہوجائیں
سوال: حد ادب گستاخ کس قسم کی باتیں کررہے ہیں آپ کا علاقہ مجسٹریٹ آپ کے پینل پر کس طرح کام کرسکتا ہے اور آپ کی مرضی سے تھانے کس طرح تقسیم ہوسکتے ہیں اور کیس ڈسپوزل مشین سے کیا مراد ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ آپ کیا غلط قسم کی باتیں کررہے ہیں ڈھنگ کے کپڑے آپ پہن نہیں سکتے اور باتیں کررہے ہو بڑی بڑی کہاں آئی جی سندھ اور کہاں تم جیسے تیس مارخان
کورٹ محرر: اصل بات یہ ہے کہ لوگوں سے سچ برداشت نہیں ہوتا میں آپ کو اپنی طاقت بتاتا ہوں میں ایک پولیس کا سپاہی بھی ہوں اور میرے لیئے لازم قرار دیا گیا ہے کہ میں ہمیشہ عدالت میں یونیفارم میں پیش ہوا کروں گا- عدالت کے سامنے آئی جی سندھ سے لیکر ڈی جی رینجرز تک یونیفارم میں پیش ہوتے ہیں بڑے سے بڑا فوجی افسر خفیہ ایجنسیوں کے افسران تک عدالت میں یونیفارم کی پابندی کرتے ہیں جبکہ میں ایک عام سپاہی جس کو کورٹ محرر کا عہدہ دیا گیا ہے کس طریقے سے سیشن جج کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہوں وہ بھی بغیر یونیفارم کے کبھی آپ نے مجھے یونیفارم میں دیکھا ہے میں نے تو یونیفارم تک نہیں سلوایا اور کس علاقہ مجسٹریٹ کی بات کررہے ہیں میں جب سیشن جج کو خاطر میں نہیں لاتا تو یہ مجسٹریٹ میرے سامنے کیا بیچتے ہیں
آپ بات کررہے ہیں "کیس ڈسہوزل مشین" کی آپ کو نہیں پتا کہ کیس ڈسپوزل مشین کیا ہوتی ہے میں آپ کو بتاتا ہوں تفتیشی افسر جب تفتیش مکمل کرکے "ردی کاغذ" جو کوئی کباڑیا بھی خریدنے پر راضی نہ ہو عدالت میں چالان کی صورت میں جمع کروادیتا ہے تو عدالت ان ردی پیپرز پر بغیر دیکھے بغیر پڑھے بغیر سمجھے انتظامی حکم جاری کردیتی ہے تو اس کے بعد میرااور عدالت کام شروع ہوجاتا ہے عدالتی پیش کار ملزم میرے ساتھ مل کر جعلی رپورٹیں لگواتے ہیں کہ گواہان دستیاب نہیں میں اپنے کارندوں کے ساتھ مل کر گواہان کو ایسا ہراساں کرتا ہوں کہ وہ خواب میں بھی کورٹ کا رخ نہیں کرتا میری جعلی رپورٹوں پر ملزمان ایسے باعزت بری نہیں ہوتے جناب اس کے پیچھے پورا گیم ہوتا ہے اور اس گیم کا کپتان میں ہوں میرے تعاون کے بغیر کوئی بھی ملزم باعزت بری ہو نہیں سکتا جب میری جعلی فرضی رپورٹوں پر ملزم باعزت بری ہوتے ہیں تو نہ صرف وہ ملزمان سب کی مٹھی گرم کرکے جاتے ہیں بلکہ کیس زندہ دفن کرنے کی خوشی میں جج کو "پوایئنٹس " بھی ملتے ہیں جتنا زیادہ ڈسپوزل اتنے ہی زیادہ پوایئنٹس زیادہ سے زیادہ پوایئٹ حاصل کرنے والے کو ہماری زبان میں کیس ڈسپوزل مشین کہاجاتا ہے اسے کہتے ہیں ڈبل مزا آپ میری طاقت کو کبھی نہ آزمانا میری اجازت کے بغیر جج ضمانت منظور نہیں کرسکتا مجھے کورٹ کا پٹواری ایسے نہیں کہتے میں پورے کیس کی جزیات اور کلیات سے واقف ہوتا ہوں جو وکیل زیادہ قانون جھاڑے میرے ساتھ تعاون نہ کرے ان کے ملزمان کو جب تک میں پھانسی کے پھندے تک نہ لے جاؤں مجھے اور میری پوری ٹیم کو چین نہیں آتا
سوال: ایک تو آپ کو گھٹیا اور بے ہودہ قسم کے الزام لگانے کی بری عادت ہے کل آپ سیشن جج کے سامنے جائیں گے بغیر یونیفارم کے مت جانا وہ بڑے ایماندار لوگ ہیں اصول پسند لوگ ہیں دیکھتا ہوں آپ کو کیسے جیل نہیں بھیجتے
جب آئی جی سندھ یونیفارم کے بغیر عدالت میں پیش نہیں ہوتا تو تم اتنے طاقتور کب سے ہوگئے؟ اور آپ کی اجازت کے بغیر ضمانت کیسے نہیں ہوسکتی؟ اور آپ کی ٹیم سے کیا مراد ہے؟
جواب: میں ادنی سا کورٹ محرر اس چیلنج کو قبول کرتا ہوں جو عدلیہ گزشتہ 67 برسوں میں مجھ حقیر، فقیر بے توقیر کو یونیفارم نہیں پہنا سکی میں دیکھتا ہوں مجھے کیسے یونیفارم پہنائے گی اور جو جج وکیل کورٹ اسٹاف پورا دن مجھ سے دو نمبر کام کرواتے ہوں وہ کیسے میرے خلاف کاروائی کرسکتے ہیں لیکن میرا بھی ایک چیلنج ہے اگر کسی جج نے مجھے جیل بھیجا صرف اس وجہ سے کہ میں یونیفارم کے بغیر پیش ہوتا ہوں تو 7دن میں اس کا ٹرانسفر تھر کے علاقے مٹھی میں نہ کروایا تو میرا نام بدل دینا میں اکیلا نہیں ڈوبوں گا پورے سسٹم کو ساتھ لیکر ڈوبوں گا ہزاروں راز اس سینے میں دفن ہیں سب کے سب کھول دوں گا اگر کورٹ محرر کے ساتھ چھیڑا گیا تو پورا سسٹم بیٹھ جائے گا جہاں تک ضمانت کا تعلق ہے تو نہ ہی میں تھانے سے پولیس فائل لیکر آؤں گا نہ ہی جج ضمانت دے گا صرف اسی گراؤنڈ پر ہی کیس لٹکا رہے گا آپ نے پوچھا کہ میری ٹیم سے کیا مراد ہے یہ سوال رہنے دیں اب تو میری ٹیم پورا "گینگ بلکہ مافیا" بن چکی ہے
سوال: دوروپے کے کورٹ محرر حد ادب گستاخ اب تم اپنے قد سے بہت اونچی اونچی باتیں کررہے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہاری بے لگام زبان اور بڑی بڑی باتیں چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ تک پہنچ جایئں اور تمہاری ساری اکڑخانیاں ایک منٹ میں نکل جائیں یاد رکھنا کہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے حقیقت تو یہ کہ تم ایک نمبر کے جھوٹے انسان ہو تمہاری سب باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں تم جیسا جھوٹا انسان کبھی زندگی میں نہیں دیکھا
کورٹ محرر: چیف جسٹس سندھ ہایئکورٹ کو میں اچھی طرح جانتا ہوں ان کا نام مشیر عالم ہے وہ پہلے کراچی کی ڈسٹرکٹ کورٹس میں پریکٹس کرتے تھے ان کو "سب" پتا ہے ان کو وہ سب باتیں پتہ ہیں جو ایک پریکٹسنگ ایڈووکیٹ کو پتا ہوتی ہیں جسٹس وہ بہت بعد میں بنے ہیں وہ آپ سے زیادہ علم رکھتے ہیں میں بڑی باتیں نہیں کرتا ہوں عاجز حقیر فقیر بے توقیر ہوں ایک حقیقت بات بتا رہا ہوں کہ جو عدلیہ اتنی بے بس ہو کہ گزشتہ 67 سالوں میں ایک میرے جیسے ایک دوروپے کے کورٹ محرر کو یونیفارم تک نہ پہنا سکے وہ اور کیا تیر مارے گی
سوال: آپ کو سب سے زیادہ خوشی کب ہوتی ہے؟
مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جس دن وکلاء عدالتوں کا بائیکاٹ کردیتے ہیں وہ دن ہمارے لیئے عید کا دن ہوتا اس دن میدان خالی ہوتا ہے ہم خوب مال بناتے ہیں
عدالتی بائیکاٹ کے دوران بھی کام ہوتا ہے؟ کورٹ محرر: چھوڑیں جی لگتا ہے آپ کو کچھ بھی نہیں پتا اصل کام تو ہوتا ہی عدالتی ہڑتال کے دن ہے ہڑتال کے دن تو ہم مال بنانے میں اتنا مصروف ہوتے ہیں کہ سرکھجانے کی فرصت نہیں ملتی اور بائیکاٹ کے دوران تو ایسا ایسا کام ہوتا ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا
سوال: آپ نے اپنے پورے کئرئیر میں اپنے آپ کو کب بے بس محسوس کیا؟
کورٹ محرر: کیا یاد کروادیا یہ کہہ کر کورٹ محرر نے سسکیاں لے لے کر رونا شروع کردیا جسٹس صبیح الدین احمد کا دور جب وہ سندھ ہایئکورٹ کے چیف جسٹس تھے میری زندگی کا بدترین دور تھا میں نے اپنی پوری زندگی میں اپنے آپ کو اسقدر بے بس محسوس نہیں کیا جتنا اس دور میں محسوس کیا ہم جعلی رپورٹیں لگا لگا کر تھک جاتے تھے کہ گواہ دستیاب نہیں مکان چھوڑ کر چلا گیا لیکن عدالتیں کسی بھی صورت میں میں کیس ختم ہی نہیں کرتی تھیں ایک کیس میں پورے تین سال تک رپورٹ دیتا رہا کہ گواہ علاقہ چھوڑ گیا دستیاب نہیں لیکن جج کہتا تھا میں مجبور ہوں 249 اے کے تحت ملزم کو باعزت بری نہیں کرسکتا بالآخر تین سال بعد مجبوری کے عالم میں میں نے گواہان پیش کرہی دیئے لیکن ظالم جج نے ملزم کو ان کی گواہی پر سزا بھی لگا دی اتنا ظلم تھا اس دور میں جو گواہ تفتیش میں پیش ہوگیا اس کو ہرصورت کورٹ لیکر آؤ عدالتیں گواہان کو ہر صورت میں لانے کا حکم دیتی تھیں اور ہمیں حکم ملتے تھے کہ گواہ کو ہرصورت لیکر آؤ چاہے ہتھکڑی لگا کر لانا پڑے ایسا ظلم میں نے پاکستان کی تاریخ میں نہیں دیکھا میری رپورٹ اٹھا کر پھینک دی جاتی تھی مجھے جج صاف صاف کہتے تھے کہ تم نے یہ رپورٹ گھر بیٹھ کر بنائی ہے اور ملزم سے پیسے لیکر بنائی ہے مجھے گالیاں دی جاتی تھیں مجھے جھوٹا کہاجاتا تھا
ایک جج نے میری رپورٹ پر 249 اے کے تحت ملزمان کو باعزت بری کیا تو مجسٹریٹ کی نوکری تیل ہوتے ہوتے رہ گئی صبیح صاحب نے مجسٹریٹ کو طلب کرکے کہا کہ 249 اے کے تحت رہا کرنے سے محسوس ہورہا ہے کہ آپ نے پولیس کی تفتیش کا مطالعہ کیئے بغیر ہی چالان پر انتظامی حکم کیا ہے اس کے بعد اس مجسٹریٹ نے قسم کھائی کہ وہ ہمیشہ "ججمنٹ" کرے گا باقی نوکری اس نے ججمنٹ پاس کرکے گزاری گواہان کو طلب کرتے میری رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے اور کہتے کہ ہر صورت میں گواہ پیدا کرکے لاؤ ان کے بیان قلمبند کرتے جس کے بعد گواہان کے بیانات کی روشنی میں مقدمے کا فیصلہ کرتے تھے اور کبھی بھی ہمارے تفتیشی افسران کی تفتیش کا مطالعہ کیئے بغیر انتظامی حکم جاری نہیں کیا اور تفتیش میں ایسے ایسے کیڑے نکالتے تھے کہ تفتیشی افسران نوکری سے تنگ ہوگئے تھے ہماری پوری تنخوا خرچ ہوجاتی تھی ایسا مشکل وقت ایسے مشکل حالات خدا کبھی دشمن کو نہ دکھائے
آپ نے اپنی زندگی میں سب سے اچھا دور کب دیکھا؟
کورٹ محرر:دوہزار سات میں جب وکلاء تحریک شروع ہوئی تھی اس دور میں ہڑتالوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا وہی میری زندگی کے عروج کا دور تھا اس کے بعد تو عروج ہی عروج ہے ایسی مارا ماری شروع ہوئی کہ "تو مار تے میں مار ، میں مار تے تو مار" روز، روز کی ہڑتالوں نے عدلیہ کی بنیادیں ہی ہلا کر رکھ دی ہیں پورا نظام ہی تباہ و برباد ہوچکا ڈسٹرکٹ کورٹس کے وکلاء گزشتہ چھ سال کے دوران ہڑتالیں کرکرکے معاشی طور پر اتنے تباہ و برباد ہوگئے کہ اب ان میں ہڑتال کی سکت ہی نہیں رہی اسی دوران عدلیہ بطور ادارہ تباہ ہوا اور ہماری سوئی ہوئی قسمت جاگ گئی وکلاء کو ہڑتالوں کا مشورہ دینے والے عظیم انسان کو ہمارے بیوی بچے جھولی پھیلا پھیلا کر دعا دیتے ہیں ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ پاکستان میں عدالتی بائیکاٹ کے خالق کو ہمارے محسن کو فوری طور پر تلاش کرنے کا حکم دے قومی تمغہ دے یعنی کوئی نشان امتیاز دے بدقسمتی سے ہم اپنے محسن کا نام تک نہیں جانتے جس نے ہمارے گھروں میں معاشی خوشحالی کی بنیاد رکھی ہم وکلاء کے اس بے مثال لیڈر کو اپنا قائد اپنا پیرومرشد تسلیم کرتے ہیں جس نے ہڑتالوں کے زریعے وکلاء کے معاشی قتل کی بنیاد رکھی
آج وکلاء میں بھی بلاوجہ کے ایسے لوگ پیدا ہورہے ہیں کہ جو وکلاء کو ورغلا رہے ہیں کہ وہ کسی بھی معاملے پر پرامن احتجاج کیلئے عدالتی بائیکاٹ کے علاوہ کوئی اور پرامن طریقہ تلاش کریں یاللہ ایسے لوگوں کی سازشوں سے ہمیں محفوظ فرما اور ان کو نیست ونابود فرما عدلیہ پر ہمارا احسان ہے
وکلاء تحریک کے دوران جب پورا نظام بند گلی میں کھڑا تھا اس دوران ہم کورٹ محرر ہی تھے جنہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں عدلیہ کو "بند گلیوں " سے نکلنے کے ایسے ایسے راستے دکھائے جس کے زریعے عدلیہ اس دور میں بند گلی سے ایسا نکلی کہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے اس کے بعد ہمارا تجربہ ہے اور عدلیہ کی طاقت ہے اور کورٹ اسٹاف کی پبلک ڈیلنگ ہے ہم نے مل جل کر ایک ایسی مضبوط بااعتماد پایئدار اور نفع بخش پارٹنرشپ کی بنیاد رکھ دی ہے جس کو توڑنا وکلاء کیلئے اب ناممکن ہی ہوگا
کورٹ محرر کی مسلسل بکواس سن کر ہماری قوت برداشت دے گئی اور غصے سے کہا کورٹ محرر بدمعاش تم عزت کے قابل ہی نہیں اپنی بکواس بند کرو اور دفع ہوجاؤ جھوٹے بدمعاش کہیں کے تم ایک نمبر کے جھوٹے انسان ہو تم نے اپنے قد سے بڑی جتنی بھی باتیں کی ہیں وہ سب جھوٹ ہیں
کورٹ محرر یہ سن کر برا مانے بغیر چلا گیا
تحریر : صفی الدہن ایڈوکیٹ
مکمل تحریر پڑھیں ←