امدادی تو بہرحال آپ کو اور مجھے بننا ہے

امدادی تو بہرحال آپ کو اور مجھے بننا ہے

میں سمجھ رہا تھا یہ احساس ہم میں نہیں رہا کہ اپنوں کی مدد کرنی ہے مگر جب اردگرد نظر ڈالی، یاروں دوستوں سے بات کی تو دل میں ایک نامعلوم سا احساس جاگا کہ جو سمجھ رہا ہوں ویسا نہیں ہے بس دیکھایا جا رہا ہے کہ ہم میں احساس نہیں ہے! بتایا جا رہا ہے کہ ہم سنگ دل ہو چکے ہیں!
معذرت کے ساتھ اس میں جہاں خود ہماری غلطی ہے وہاں میڈیا نے بھی کچھ ایسا رول ادا کیا کہ دلوں میں سختی پیدا ہو گئی جو اب سیلاب کی تباہ کاریوں کی آگاہی سے کم ہوتی جا رہے ہے دوسرا عنصر بے اعتباری کا ہے! امداد کرنے کو دل کرے بھی تو یہ بے اعتباری کہ کس کے ذریعے امداد حقدار تک پہنچےگکی؟ سیاسی پارٹیاں تو ویسے بھی بے اعتبار ہو چکی ہیں! ہم لوگوں کا اعتبار اب تو امدادی اداروں پر نہیں رہا!خواہ وہ حکومتی ہوں یا غیرسیاسی! ایسی کہانیاں میڈیا میں 2005 کے زلزلہ کے امدادی سامان کی آئی تھیں اس بات سے ہٹ کر کہ آیا و سچی تھیں یا جھوٹی آج ہم منتظر اپنوں کی مدد میں سستی کے مرتکب ہوئے ہیں!
اگر آج ہم نے سستی کی تو کل ہمیں اس کا اور بڑا نقصان دیکھنا پڑے گا! کوئی تاویل کوئی بہانہ نہیں بات سیدھی سی ہے ہم میں سے ہر کسی کو اس مشکل گھڑی میں امدادی تو بننا پڑے گا!! کہ منتظر ہیں جو وہ میرے اپنے ہیں!

امداد سے متعلق چند تحریریں بلاگستان سے!!
سیلاب زدگان کی مدد کیجیے
آپ کی مدد کے منتظر
آؤمتاثرین کی امدادکریں


یہ صحفہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←
ان کو پانی بادشاہ لگتا ہے!!

ان کو پانی بادشاہ لگتا ہے!!

“بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ خط اللہ کے بندے عمر بن خطاب کی طرف سے نیل مصر کے نام ہے۔ اگر تو اپنے اختیار سے جاری ہے تو ہمیں تجھ سے کوئی کام نہیں اور اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو اب اللہ کے نام پر جاری رہنا"

کیا آپ کو یاد ہے یہ کس خط کا مضمون ہیں! تاریخ دانوں کے بتائے ہوئے قصہ کے مطابق خلیفہ حضرت عمر نے دریائے نیل کے نام اُس میں آنے والی ممکنہ خُشک سالی کا معلوم ہونے پر ایک نوجوان حسینہ کو اُس کی بھیٹ چڑنے سے بچانے کے لئے لکھا تھا اور تب ہی سے دریا نیل میں خُشکی نہیں آئی! اللہ اور اُس کے رسول پر کامل یقین تھا تو حکم چلانے کا حوصلہ بھی اور جانتے تھے یہ اختیار حاصل ہے۔
مگر اپنے سندھ کے وزیراعلی صاحب فرماتے ہیں "پانی تو بادشاہ ہے مقابلہ تو نہیں کرسکتے حدود میں رکھنے کی کو شش کریں" اندازہ لگائے! آج کے اس دور میں بھی جو پانی کو بادشاہ کہئے وہ اُس سے کیا بچاؤ کروائے گے!!
اگر حکمرانوں کی یہ سوچ ہو تو عوام کی حفاظت ممکن ہو گی؟ جبکہ اُن کی اپنی تاریخ اُنہیں ایک الگ سبق سکھا رہی ہو۔


مکمل تحریر پڑھیں ←
کیا جشن آز|دی و رمضان کی مبارک باد دی جائے؟

کیا جشن آز|دی و رمضان کی مبارک باد دی جائے؟

اپنے علاقے پر نظر ڈالی تو یوں لگا کہ جیسے کوئی کمی ہو!! کچھ ایسا جو ہونا چاہئے مگر نہیں ہے! وہ کیا ہے؟ یوں معلوم ہوتا ہے ہم وہ نہیں رہے جو تھے! اور جو ہونے چاہئے!!
ہم میں احساس و جذبہ دونوں ختم ہو گئے ہیں! یا کم ہو گئے ہیں ہم ہم نہیں رہے بلکہ میں ہو گئے ہیں یا ہوتے جا رہے ہیں۔دیکھا جائے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ جشن آزادی کا جوش و رمضان کا مہینہ دونوں مل کر ہم میں ایک نئی رو پھونک دیتے مگر ہم تو کسی خاص بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں، ملک کی دو کروڑ کی آبادی جو قریب کل آبادی کا گیارہ فیصد بنتا ہے بے حال و بے گھر ہو چکا، مگر وہ جو خود کو اس بپھرے پانی سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اپنے حال میں مست ہیں!
یہ بات ہر صاحب دل نے محسوس کی کہ اس بار سیلاب زدگان کی مدد کا جذبہ اہل وطن میں کافی کم دیکھائی دیا ہے۔ اور ایسا تب دیکھنے میں آیا جب ہم اپنی تاریخ کے سب سے بڑی تباہی کا سامنا کرر ہے ہیں یہ اس دہائی کا سب سے بڑا المیہ یا حادثہ ہے جس سے قوم گزر رہی ہے بلکہ معذرت ہم نے تو یہ جانا کہ اب یہاں بھی قومیں آباد ہے ایک قوم ہوتی تو مدد کرتی جب تقسیم دلوں کی یوں ہو کہ ہر ہر گروہوں خود کو قوم کہے تو امدادی غیر قومیں ہی ٹہرتی ہیں! تب اپنے خیر ٹھرتے ہیں جن کی مدد نہ تو فرض ہوتی ہے نہ حق مانی جاتی ہے خاص کر تب جب "فکر" میں متبلا یہ وضاحت کر چکے ہوں کہ یہ تو جانور ہیں، جاہل ہے، بد تہذیب بھی! (یہاں یہ وضاحت کر دوں مجھے خاور کی دونوں پوسٹوں کا انداز و لہجہ اچھا نہیں لگا! اُس میں موجود گروہی مواد سے بھی اختلاف ہے)
قوموں کی تاریخ میں دو موقع ہی تو اہم ہوتے ہیں ایک اُن کے قومی دن دوسرے اُس کے مذہبی تہوار!! ہم تاریخ کے اُس دوراہے پر ہیں جب ہم پر اپنی قومی زندگی کی ایک بڑی مصیبت نازل ہو چکی ہے، اور ہمارے قومی دن و مذہبی تہوار دونوں ہم میں ایک قوم کا جذبہ پیدا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
تو کیا ایسے میں جشن آزادی اور آمد رمضان کی مبارک باد دی جائے اگر ہاں تو کس کو؟ وہ جو خود پنجابی تو ہے، خود سندھی تو ہے،خود بلوچی تو ہے، پٹھان تو ہے، مہاجر تو ہے، ہزاراوال تو ہے مگر پاکستانی نہیں! یا دوسرے کو پاکستانی ماننے کو تیار نہیںاور جو سنی تو ہے، اہلحدیث تو ہے، شیعہ تو ہے، مگر دوسرے کومسلمان ماننے کو تیار نہیں!!!
بلکہ سچی بات کہو تووہ دوسرے کو انسان ماننے کو تیار نہیں! دل نہیں مانتا کہ انہیں جشن آزادی کی مبارک باد دوں، انہیں آمد رمضان پر نیک تمناؤں سے نوازوں!
بہت مایوس ہوا ہوں میں خاص کر اُس سے جنہیں صاحب علم و شعور سمجھ رہا تھا۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے










سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے

تو وہ حملہ نہیں کرتا

سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں

بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے

تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو

پڑوسی مان لیتی ہیں

ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں

تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سارا جنگل جاگ جاتا ہے

ندی میں باڑ آجائے

کوئی پل ٹوٹ جائے

تو کسی لکڑی کے تختے پر

گلہری سانپ چیتا اور بکری

ساتھ ہوتے ہیں

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہے

خداوندا جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف اکبر

ہمارے شہر میں اب

جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر



شاعرہ: ذہرہ نگار

مکمل تحریر پڑھیں ←
بلاگر پارٹی

بلاگر پارٹی

اگر آپ بلاگرز ڈاٹ کام پر بلاگنگ کرتے ہیں اور مستقبل مین بھی میری طرح اس ہی پلیٹ فارم سے منسلک رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ آپ کا یہ بلاگ ہوسٹ گیارہ سال کا ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں بلاگر نے پوری دنیا میں 31 اگست 2010 کو ایک ملاقات کا اہتمام کیا ہے۔
اگر آپ کا ارادہ ہو تو اُس میں شرکت کرنے کے لئے یہاں خود کو رجسٹر کروا لیں! یہ دیکھ کر کہ آپ کے شہر میں آیا یہ پارٹی منعقد ہو رہی ہے یا نہیں! شرکت کی شرط صرف اتنی کہ آپ کا بلاگ بلاگر ڈاٹ کام پر ہو!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
یہ کیا ہوا؟ بلکہ کیوں ہوا؟

یہ کیا ہوا؟ بلکہ کیوں ہوا؟

ابتدا ہی اس دورے پر تنقید تھی! اول اول تو برطانوی وزیراعظم کے بھارت میں دیئے جانے والے بیان کو لے کر دوئم یہ کہ ملک میں سیلاب کی بناء پر اکثر کی رائے یہ تھی انہیں ملک میں رہ کر سیلابی امداد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے!
اور اختتام بھی اچھا نہیں ہوا کہ ایک بزرگ نے اُن کی طرف دو جوتے اُچھال دیئے جسے برطانوی پولیس نے ڈانٹ ڈپٹ کر کے چھوڑ دیا! بزرگ نے سندھ کا رواتی لباس پہن رکھا تھا!! بعد میں جب حاضرین جو دراصل پارٹی کارکنان تھےنے "گو زرداری گو" کے نعرہ لگائے تو محترم ادھوری تقریر چھوڑ کر چلے گئے۔
بحیثیت پاکستانی مجھے پاکستان کے صدر کو یوں بین الاقومی وزٹ پر اپنی پارٹی کارکنان ست خطاب پر جوتا پڑنا اچھا نہیں لگا! دوئم اپنے میڈیا کو اس بات کو بریکنگ نیوز کے طور پر جاری رکھنا!!۔
یہ کوئی ہنسی مزاق کی بات نہیں عالمی سطح پر نہایت بدنامی کی بات ہے۔
ایک اعتراض جو اول دن سے مجھے ہے وہ یہ کہ زرداری صاحب کو ملک کا صدر بنے کے بعد پیپلزپارٹی کی چیئرمین شب سے مستعفی ہو جانا چاہئے تھا صدر کا عہدہ وفاق کی علامت اورمملکت کے سربراہ کی حیثیت کا حامل ہے اس بناء پر کسی سیاسی پارٹی سے صدر کا تعلق نہیں ہونا چاہئے، اگر وہ اول دن ہی یہ بات سمجھ جاتے تو اچھا ہوتا وجہ یہ کہ یہ جوتا دراصل صدر پاکستان کو نہیں مارا گیا تھا بلکہ مارا تو پیپلزپارٹی کے چیئرمین کو پارٹی کارکنان سے خطاب کے دوران ایک رُکن نے مارا! مگر بدنامی پاکستان کے صدر کے حصے میں آئی!!
یوں تو سرکاری ٹی وی نےجوتا پڑنے والی بات گول کر کےاس خطاب کو برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی سے قرار دیا ہے مگر یہ بات نہایت صاف تھی کہ یہ دراصل پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب تھا۔
مگر ان اقتدار کی ہوس اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے (کسی ممکنہ خوف کے پیش نظر) کے شوق میں مبتلا حاکموں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
اتنا ضرور ہے کہ جوتا مارنے کی روایت جوتا بننے کے بعد ہی ایجاد ہوئی ہے۔ اور شاید خواتین سر مردوں کی طرف آیا ہے، دوسرا رزداری صاحب کو ذیادہ غصہ نہیں کھانا چاہئے بُرے کام کرنے پر کاندان کے بزرگ ایک دو جوتا لگا دیتے ہے! آگے حرکتیں اچھی رکھے تو شاباشی بھی مل سکتی ہے ویسے بھی دُر فٹہ منہ کی جگہ دُر شاباش نے لے ہی لی ہے!

مکمل تحریر پڑھیں ←
ہم لوگ کو یہ سوچنا چاہئے

ہم لوگ کو یہ سوچنا چاہئے






ہم نہ مہاجر ہیں، نہ پٹھان ہیں، نہ میمن ہیں،یہ لوگوں نے ناں بہت فرق نکال لئے ہیں ہم لوگ کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہم سب مسلمان ہیں۔ فرقہ ایک ہی ہونا چاہیئے، لوگوں نے بول دیا تو ہم سے دور رہ تو پختون ہے تو مہاجر ہے، یہ سب غلط بات ہےہم سب مسلمان ہیں!

یہ بی بی سی کی رپورٹ (1:20 سے 1:45 منٹ تک) میں شامل اُس لڑکے کے تاثرات تھے جو کرکٹ کھیل رہے تھے اور ساتھی لڑکوں نے اس بات کی حمایت میں تالیاں بجائی نیر ویڈیو میں نظر آنے والے پشتون لڑکے نے اُس ساتھی لڑکے کو سینے سے لگا لیا!!! اگر کسی کو یہ شکایت ہے کہ یار دوست تحریر حذف کر کے شیئر کرتے ہیں تو مجھے بھی یہ افسوس ہے کہ کم عمر لڑکوں کی اس قدر لسانیت مخالف تاثرات کو بی بی سی نے بوقت تحریر قلم بند نہیں کیا!! مگر شکریہ کہ بعد میں ویڈیو لگا دی اور بات پہنچ گئی۔


مکمل تحریر پڑھیں ←
منجانب اہلیان کراچی

منجانب اہلیان کراچی

لو جی ہمیں آج تک اہلیان کراچی و کراچی کے شہریوں کی سمجھ نہیں آئی! بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ دراصل اہلیان کراچی و کراچی کے شہری ہیں کون؟؟
کیا آپ کو سمجھ ہے؟ یا آپ بھی میری طرح ہی ہیں! نا سمجھ؟ اب دیکھے ناں ایک دن آپ صبح صبح دفتر کے لئے یا کام سے نکلتے ہیں تو شہر میں بینر لگے ہوتے ہیں،
شہر میں طالبانائزیشن نا منظور منجانب اہلیان کراچی!
کبھی
لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا نامنظور اہلیان کراچی!
کہیں!
کراچی کے شہری بھتہ مافیاں اور دہشت گردوں کی بدمعاشی برداشت نہیں کرے گے!
یہ بینر کالے یا سفید رنگ کے کپڑے پر ہوتے ہیں! حیران کن بات یہ کہ یہ "نامعلوم" اہلیان کراچی چار سے آٹھ گھنٹے میں تمام کراچی میں بینر نصب کر دیتے ہیں اور ان کا پتہ بھی نہیں چلتا! اور کہیں کراچی بچاؤ تحریک کے پوسٹر لگے ہوتے ہیں!! جس میں کراچی کے شہریوں کو مخاطب کیا ہوتا ہے۔
جیسے ہی کراچی کے حالات کسی بھی ABC وجہ سے خراب ہوں! نام نہاد لیڈر، رہنما، سیاستدان اور بھائی کراچی کے شہریوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں جبکہ کہ حقیقت میں کراچی کے شہری خود امن کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں! جان بچا کر بھاگ رہے ہوتے ہیں! اپنی گاڑیوں کو جلنے سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں!نہ کہ امن کو تباہ کرنے میں اپنی توانائیاں خرچ کر رہے ہوتے ہیں!
خدا کرے کل کو واقعی اصلی والے اہلیان کراچی پورے کراچی میں بینرز بنا کر لگا دیں! جس پر درج ہوں
تمام سیاسی ، مذہبی و لسانی جماعتوں و گروہوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اپنی ذاتی سوچ و خیال اور ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات براہ راست ایک دوسرے تک پہنچاؤ ہمارا نام استعمال نہ کیا جائے منجانب اہلیان کراچی!



مکمل تحریر پڑھیں ←
دوپٹہ

دوپٹہ

عالمی اخبار کے بلاگ پر اج "نادیہ بخاری" کا یہ بلاگ پڑھا اچھا لگا اس لئے یہاں شیئر کر رہا ہوں۔
اٹھارہ سالہ شکیلہ میرے ہاسٹل میں تقریبا دس سال سے ملازمہ ہے میرے ہا سٹل مالکان ابھی کچھ دن پہلے ہی امریکہ سے واپس ائے اور کافی سامان بھی ساتھ لائے کل میں کچن میں کھڑی تھی تو شکیلہ مجھے کہنے لگی باجی امریکی پاگل ہیں کیا ؟میں نے حیرت سے جواب دیا نہیں کیوں کیا ہوا؟ کہنے لگی دیکھیں نہ باجی اپ کے پیچھے جو چپل پڑی ہے وہ ہاسٹل والی باجی امریکہ سے لائی ہے اور اس پر امریکہ کا جھنڈا بنا ہوا ہے بھلا بتاو کوئی جھنڈا بھی اپنے پاوں میں پہنتا ہے مجھے شکیلہ کی پریشانی میں لطف انے لگا میں نے شکیلہ کو چھیڑنے کے لئے کہا کہ شکیلہ تیرا کیا بھروسہ ابھی ہوسٹل والی باجی نے کوئی پرانا سا پاکستانی جھنڈا نکالنا ہے اور تو نے اس سے جھاڑ پونچھ شروع کر دینی ہے تو فورا شکیلہ بولی ہاے بخاری باجی میں مر نہ جاوں جو میں اپنے ملک کے جھندے کو اس مقصد کے لئے استعمال کروں میرے ملک کا جھنڈا تو میرے سر کا دوپٹہ ہے بھلا کوئی دوپٹہ کی بھی بے قدری کرتا ہے شکیلہ نے اپنی زندگی میں ابھی تک سکول کا منہ نہیں دیکھا لیکن اس کی سوچ یقینا ان کئی نوجوانوں سے افضل ہے جو اپنی تعلیم سے تخریب کاری کا سامان تیار کر کے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں جہاں شکیلہ جیسے حب الوطن نوجوان ہوں بھلا بتائیں کہ کیا کبھی اس ارض پاک کی طرف کوئی دشنمن میلی انکھ سے دیکھ سکتا ہے؟


مکمل تحریر پڑھیں ←