اقتدار کا نشہ
نشہ فرد کی عقل کو ماند ہی نہیں کرتا بلکہ اکثر اس کی سمجھ بوجھ کو بھی مکمل طور پر "متاثر" کرتا ہے۔ مدہوشی میں کیئے گئے فیصلے کبھی بھی ہوش مندی میں کئے گئے فیصلوں جیسے بہتر نہیں ہوتے۔ اقتدار کی غلام گردشوں کا حصہ ہنا بھی ایک قسم کا نشہ ہے جوالگ ہی مدہوشی کا سبب بنتا ہے۔ تخت سے جڑے رہنے کی خواہش اور اپنی طاقت کو بڑھانے کا شوق! فرد کو قانون کی لاقانونیت کے لئے پر اکساتا ہے۔ تاریخ ایسے افراد کو ولن بتاتی ہے جبکہ وہ جو بنتی تاریخ میں جی رہے ہوتے ہیں اس وقٹ خود کو مسیحا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
متواسط طبقہ اور مہنگا ازاربند
ہم میں سے ہر ایک ہر معاملے کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے کا عادی ہے اس کی وجہ اس کا اپنا خاص ماحول جس میں اس نے نشوونما پائی یا وہ طبقہ جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔ فرد کی معاشی حیثیت بھی اس کے ماحول و تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ کسی کے لئے پچاس ہزار ایک ماہ کے لئے کافی ہیں اور کوئی اس میں بمشکل ایک ہفتہ "گزارا" کر پاتا ہے۔
جب ہم نے اپنی وکالت شروع کی یعنی اپنے سینئر سے الگ ہوئے تو ایک پہلا مسئلہ جس سے ہمارا واسطہ پڑا وہ سائل سے معاوضے کا تعین تھا۔ جس لاء فرم سے ہم نے وکالت سیکھنے کی ابتداء کی تھی وہ ایک اونچے طبقے سے تعلق رکھتی تھی لہذا میرے ریفرنس کے افراد کے لئے اس حیثیت کی فیس ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ وکالت کے آغاز میں اس بات کی تو سمجھ آ گئی کہ معاوضہ طلب کرتے وقت صرف مسئلہ کی پچیدگی ہی نہیں بلکہ سائل کی قوت خرید کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔
متواسط طبقے کے سائل سے جس ضمانت کے ہم چالیس ہزار طلب کرتے تھے چند ہمارے دوست وہ کام بیس ہزار میں اور کچھ سینئر وکلاء اسے طرز کی ضمانت کے ڈیڑھ سے تین لاکھ روپے فیس کی مد میں لیتے تھے۔ فرق ٹریٹمنٹ کا ہوتا تھا بس۔ قانون و دلائل میں کیا فرق ہونا ہے بشرطیکہ وکیل محنتی ہو۔ وہ کہتے ہے ناں ایک امیرزادے کے ہاتھوں قتل ہو گیا تو اس کا باپ ایک وکیل کے پاس اپنا کیس لے کر گیا معاملات طے ہو رہے تھے تو امیرزادے کا باپ وکیل کی "کم" فیس کی بناء پر بددل ہو گیا کہ جو اس قدر کم معاوضہ مانگ رہا ہے اس نے کیا مقدمہ لڑنا ہے لہذا وہ ایک دوسرے وکیل کے پاس کیس لے گیا بھاری معاوضہ دینے کے بعد بھی اس کے بیٹے کو سزا ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد باپ کی ملاقات پہلے والے وکیل سے ہوئی تو اس نے بچے کے مقدمے بارے پوچھا تو باپ نے آگاہ کیا کہ اسےسزا ہو گئی ہے جس پر وکیل صاحب بولے " دیکھ لیں جو کام آپ نے پندرہ لاکھ میں کروایا وہ میں تین میں کردیتا"۔
یہ قیمت یا معاوضہ کا فرق وکالت ہی نہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی میں نام (جسے آپ برانڈ کہہ لیں) اور ٹریٹمنٹ (اسے آپ پریزنٹیشن یا سہولت کہہ لیں) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میرے والد جب اپنی نوکری سے ریٹائر ہوئے تو باقی پاکستانیوں کی طرح انہوں نے بھی ریٹائزمنٹ کے بعد حج کا رادہ کر رکھا تھا۔ حج ایک مشقت والی عبادت ہے لہذا اس مشقت کو کم کرنے کے لئے انہوں نے سرکاری کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر سے حج پر جانے کا پروگرام بنایا 2016 میں جب سرکار پونے چار لاکھ کا حج کروا رہی ی میرے والدین نے جو پیکج لیا وہ ساڑھے سات لاکھ فی کس والا تھا حرم و مدینہ میں قریب رہائش و دیگر سہولیات کی بنا پر ان کا حج با آسانی ہوا۔ تب ہمیں معلوم ہوا کہ مولانا طارق جمیل صاحب پندرہ لاکھ فی کس کے حساب سے حج کا پیکج دے رہے ہیں۔
باندھنے میں سہل، کھولنے میں رواں۔۔۔۔ ٹی جے ناڑے
— حُسین (@Jafar_Hussein) April 29, 2021
انتقال و شخصیت
گورک ہل کا سفر
بڑا وکیل
جب ہم نئے نئے وکیل بنے تھے تو کراچی کے ان وکلاء کو کیس چلاتے سننے جایا کرتے جس کے دلائل کی دوسرے وکیل تعریف کرتے تھے ان میں ایک فروغ نسیم بھی تھے ان کے دلائل سننے کی وجہ ایک سینئر کا یہ تبصرہ تھا کہ "جج کو قائل نہ کر سکو تو اسے کنفیوز کیسے کرنا ہے یہ فروغ سے بہتر کوئی نہیں جانتا". انکے دلائل سنتے ہوئے ایک بات تو جان گیا کہ یہ ان چند وکیلوں میں سے ہیں جنہیں نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پڑھنے اور نوٹ کرنے کی بہت عادت ہے جو ایک قابل وکیل ہونے کا بنیادی جز مانا جاتا ہے۔
یوں ہی کچھ ایسے معاملات سے متعلق بھی وکلاء کے رویے نوٹ کرتا جن میں میں بنیادی طور پر نااہل و کمزور رہا ہوں اور اب تک ہوں۔ دو بنیادی نااہلیاں جو مجھ میں تھیں ایک سائل سے فیس کا تعین کرنا (ہمیشہ کم معاوضہ پر راضی ہونا اور یہ ہی بنیادی وجہ بنی نوکری کی) اور دوسرا بُری خبر کیسے سنائی جائے (اگرچہ اپنی وکالت کے دوران بری خبر اپنے کلائنٹ کو سنانے کے مواقع صرف تین آئے 2008 سے 2014 تک کی پریکٹس میں)۔
ایسے میں ایک قصہ نہ تو میں بھولتا ہوں نہ بھول سکتا ہوں بلکہ اکثر جگہ کوٹ بھی کرتا ہوں مگر ان کے کرداروں کے نام لیئے بغیر۔
قصہ یوں کہ ہم ایک کیس کے سلسلے میں ملیر کورٹ کی ایک ایڈیشنل ججز صاحبہ کی عدالت میں اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ ایک ہمارے سٹی کورٹ کے وکیل بھی وہاں گزشتہ روز اپنی ضمانت کی درخواست کے محفوظ شدہ فیصلے کے بارے میں جاننے کو اپنی جونیئر کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ عدالت نے انہیں آگاہ کیا کہ آپ کی درخواست رد کر دی گئی ہے جو ایک بری خبر تھی۔ وہ وکیل چند لمحے رکے اور عدالت کو سلام کر کے باہر کو روانہ ہوئے۔ اس سے قبل ملیرکورٹ کے احاطے میں ہم انہیں ملزم کے رشتہ داروں (اور اپنے کلائنٹس) کے ہمراہ دیکھ چکے تھے لہذا ہم جانتے تھے کہ وہ اپنے کلائنٹس کو کمرہ عدالت سے نکل کر اس خبر سے آگاہ کریں گے اور ہم ایسے مشکل لمحوں پر کیسے react کرنا ہوتا ہے سیکھنے کے خواہش مند تھے (جو اب بھی ہیں) لہذا ان وکیل کے ہمراہ/پیچھے پیچھے کمرہ عدالت سے باہر آئے۔ ان صاحب کمال نے کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سر سے بلند کر کے سلام کیا (جیسا کہ رواج ہے سندھ میں دور سے سلام کرنے کا) کلائنٹس کی طرف قدم بڑھائے اور زبان سے یوں گویا ہوئے "مبارک مبارک!! جج صاحبہ نے ہمیں ضمانت کی درخواست بڑی عدالت یعنی ہائی کورٹ لے جانے کی اجازت دے دی ہے اب سب ٹھیک ہو جائے گا"۔
یقین جانے ان کے کلائنٹس ان کی اس بات سے یوں مطمئن ہوئے جیسے کوئی بہت بڑا ریلیف ملا ہو اور ہم ششدر رہ گئے کہ کیسے کر لیتے ہیں یہ سینیئر ان لوگوں کو مطمئن ایسی شعبدہ بازی سے۔
بہرحال ابھی ایک دوست کا اسٹیٹس پڑھا کہ فروغ نسیم نے کامران خان کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے موقف کی جیت یے۔
بلاشبہ فروغ نسیم ایک بڑا "وکیل" ہے اس لئے انہیں قاضی فائز عیسیٰ والا کیس اگلے فورم پر کے جانے کی اجازت ملی ہے۔
میری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کا بیان!!
جج کا ملاقی فرد
قریب آٹھ دس سال قبل ایک ایسے ہی معاملے پر دوران گفتگو بیرسٹر شاہدہ جمیل نے ہمیں اس سلسلے میں بطور مثال اپنے دادا سر شاہ محمد سلیمان (یہ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے ہیں 1932 سے 1937 تک) کا ایک قصہ سنایا تھا کہ او ل تو وہ عوامی تقریبات میں جاتے نہ تھے تاہم انہیں ایک بار اس علاقے کے ایک ایسے کاروباری فرد کی جانب سے شادی کی تقریب کی دعوت موصول ہوئی جسے نظرانداز کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہو پا رہا تھا۔ ایسے میں انہوں نے اپنی ہائی کورٹ کی رجسٹرار کی ذمہ داری لگائی کہ وہ معلوم کر کے آگاہ کرے آیا اس دعوت دینے والے محترم یا ان کے خاندان کے کسی فرد کا کو ئی مقدمہ ان کی عدالت میں تو نہیں ، طے یہ پایا کہ اگر مقدمہ ہوا تو وہ اس تقریب میں شرکت سے معذرت کر لیں گے۔ رجسٹرار نے رپورٹ کی کہ اس کا کوئی مقدمہ یا تنازعہ اس عدالت کے روبرو نہیں ہے لہذا دعوت قبول کی گئی۔ پروگرام کے مطابق جب دعوت میں شرکت کے لئے پہنچے تو عدالت کا رجسٹرار بھی ہمراہ تھا تقریب میں شریک افراد کو دروازے پر ریسیو کرنے والوں میں ایک فرد ایسا تھا جو اگرچہ مدعو کرنے والے کا رشتہ دار نہ تھا مگر اس کا ایک مقدمہ عدالت میں زیرالتواء تھا چیف جسٹس صاحب تقریب کے دروازے سے واپس ہو لئے۔ یہ کردار اب میسر نہیں ہیں۔
منصف کے لئے انصاف کی پہلی سیڑھی یہ کہ وہ ہر اس تعلق سے کنارا (نظر انداز) کرے جو کسی بھی طرح اس کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتا ہو۔ ہمارے ایک دوست ایڈیشنل سیشن جج نے تو نوکری جوائن کرنے سے ایک دن قبل اپنی فیملی کے افراد کو جمع کر کے کہا وکالت کے دور میں اور اب میں فرق ہے یاد رکھنا کل سے میں ایک بہت بڑی ذمہ داری پر ہو گا لہذا کبھی یہ مت سمجھنا کہ تم لوگوں کی وجہ (سفارش) سے میں انصاف میں کسی قسم کی کوتاہی کا مرتکب ہو کر اپنی آخرت کا سودا کروں۔ یہ بات انہوں نے شاید ہمیں بھی (دوستوں کی ایک محفل میں) اس نیت سے سنائی کہ مستقبل میں انہیں دوستوں سے اور دوستوں کو ان سے کوئی غلط امید یا شکایت نہ ہو۔
کچھ فرائض سخت احتیاط اور احساس ذمہ داری سے منسلک ہوتے ہیں۔
1965 کے صدرارتی انتخابات
اپنی ایک لا علمی کا اعتراف!!
ایک بار ایک ریٹائر جسٹس جو بعد میں قانون کی تدریس سے جڑ گئی تھے سے ایک محفل میں سنا تھا "قوانین کی اس دفعات کا اطلاق میں عمر کے بڑے حصے عدالت میں کرتا رہا ہو مگر اب جب پڑھانے کی نیت سے پڑھتا ہوں تو ان کے نئے معنی مجھ پر آشکار ہوتے ہیں" آج کچھ ایسا ہی میرے ساتھ ہوا ہے۔




