بھوک ہرتال

“اوئے کچھ سنا اُس سی آئی اے کے ایجنٹ نے بھوک ہرتال کر دی ہے کہ جب تک مطالبہ پورے نہیں ہوں گے اُس وقت تک کچھ نہیں کھاؤں گا"
اوئے فکر نہ کر ڈرامہ ہو گا امریکہ ہو یا اُس کا ایجنٹ دونوں بھوکے نہیں رہتے البتہ بھوک کے لئے بندے مار دیتے ہیں خواہ بھوک تیل کی ہو یا اقتدار کی!۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

سوچنے کی بات

“اور میاں کیسے ہو؟"
کرم ہے رب کا آپ سناؤ
“میں تو ٹھیک ہو مگر یہ بتاؤ وڈے سرکار کا ولیمہ کب ہے؟"
کیا مطلب کس کا ولیمہ؟
“یار وہ ہی جو پاکستان کو کھپانے کی آرزو لیئے بیٹھے ہیں آپ کا! سنا ہے محترم نے شادی کھپا دی ہے!”
ارے بھائی وہ خبر تو جھوٹی تھی ! اس لئے تو صدر صاحب نے اس لئے متعلقہ اخبار کو جس نے یہ خبر نیٹ سے لے کر شائع کی تو
محترم نے لیگل نوٹس دے دیا ہے سنا ہےکہ کافی بڑی رقم مانگ لی ہے۔
“کر لو گل تو کیا اس کا مطلب ہے کہ جن معاملات میں جو لیگل نوٹس نہیں دیا تو وہ الزامات سچ ہے
“چپ اوئے"
مکمل تحریر پڑھیں ←
انقلاب ابھی دور ہے

انقلاب ابھی دور ہے

تیونس و مصر کے عوامی احتجاج کو دیکھ کر یار لوگ یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ ممکن ہے انہیں دیکھ کر پاکستانی قوم/عوام بھی سڑکوں پر آ جائے! حق مانگے یا حق چھین لے! کیوں کہ میں بھی اس عوام کا حصہ ہوں اس لئے اپنی موجودہ اندرونی حالت کو دیکھ کر یہ جان چکا ہوں کہ ابھی عوام حقوق کی جدوجہد کو زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں لے کر جائے گی۔
ابھی بیداری اُس نہج پر نہیں پہنچی کہ عوام گھر سے باہر نکلے!اُن ملکوں کے حاکم ڈکٹیٹر تھے، اور اپنے جمہوری ڈکٹیٹر!! یعنی بظاہر جمہوری مگر درحقیقت ڈکٹیٹر!! کوئی عوام کے دکھ میں اپنا دکھی ہے کہ ملک سے باہر رہ کر 'چندہ' کی رقم پر گزارہ کر کے، عوامی بلکہ قومی مسائل کا حل تلاش کر رہا ہے، کوئی اپنی باری کے انتظار میں ابھی اپنے نئے لگے بال سنوار رہا ہے اور کوئی 'زر' جمع کرنے کو اقتدار میں ہے۔

کل پھر وہاں جانے کا اتفاق ہوا جہاں حاکم جماعت کے 'co-chairman' صاحب کا(جی آب اُن کا ہی گھر ہے کیا ہوا جوبیٹے کے نام پر ہے) گھر ہے! یہ تو علم تھا کہ ایک مخصوص آرڈیننس کے ذریعہ انہوں نے اپنے تمام مکانات کو 'صدارتی رہائش' قرار دے دیا ہے مگر ہم نا واقف ہیں کہ یہ 'بلاول ہاؤس' کا احاطہ ہے کتنا۔ صدارتی رہائش قرار دینے کے بعد اول اول تو بلاول ہاؤس کے سامنے موجود سروس روڈ کو بند کر دیا گیا سیکورٹی کے نام پر یا کے لئے پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احاطہ اس قدر بڑھتا گیا کہ قریب ہی موجود کلفٹن گرل ہوٹل بند ہوا اوراب یہ ہوا کہ نا صرف سروس روڈ بند ہے بلکہ Express Road کی بھی ساتھ میں 'قبضہ' میں لے لی گئی ہے۔ اور وہاں کنکریٹ کی دیوار بنائی جا رہی ہے جس کی ابتدائی اونچائی قریب 6/7 فٹ ہو گی! سوال یہ ہے کہ اگر صدر پاکستان عوامی سڑک پر اپنی سیکیورٹی کے نام پر قبضہ کر لیں! ایسا ہی کراچی Avari Hotal کے قریب واقعی زرداری ہاؤس والی سڑک پر کیا گیا ہے۔ اور کوئی سؤال کرنے کی ہمت نہ رکھتا ہو یا انگلی نہ اُٹھاتا ہو تو میرا نہیں خیال کہ انقلاب کا سفر ابھی اس قوم نے شروع کرنے کا سوچا بھی ہو!! ابھی یہ قوم حق کے لئے سڑک پر نہیں آئے گی!! البتہ خوش فہمی پال لو تو الگ بات ہے۔
اور جب صدر ایسا کریں تو باقی کسی اور سے کیا توقع ہو سکتی ہے؟
ہنوز انقلاب دور است!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
دو قصے

دو قصے

پرسوں اپنے کامیاب گورنری کے لئے دیئے گئے انٹرویو کے بعد جب پیپلزلائر فورم کے چیرمین کراچی کے پیپلز پارٹی کے وکلاء کے ساتھ وقت گزار رہے تھے تو ایک شریک محفل کے اس جملے پر کہ "بھائی ان کے ساتھ ابھی جس نے کوئی تصویر بنانی ہو یا وعدہ لینا ہو لے لےورنہ بعد میں کیا معلوم ملاقات ہو بھی یا نہیں؟" تو جواب میں اُن حضرت نے یہ قصہ سنایا!
ایک سابقہ گورنر پنجاب گورنری ملنے سے قبل اپنے ایک دوست کے ہمراہ اکثر شکار کو جاتے تھے اپنے کا وہ دوست جانوروں کی اوازیں نکالنے کا ماہر تھا! جب وہ صاحب گورنر بنے تو جناب کے دوست اُن سے ملنے گورنر ہاؤس پہنچے تو سیکورٹی والوں نے انہیں اندر داخل نہ ہونے دیا جواب میں اُس دوست نے باہر ہی کھڑے ہو کر جانوروں کی آوازیں نکالنا شروع کر دی تو کھر صاحب نے کہا بھائی اس بندے کو اندر انے دوں!! لہذا آپ لوگ بھی وکیل ہو تحریک میں نعرے لگانے کی پریکٹس ہو گئی ہے شروع ہو جانا!! پھر کون روک سکے گا آپ کو داخلے سے؟
اس کے علاوہ ایک اور نہایت دلچسپ و (بتانے والے کے بقول) سچا قصہ یوں ہے!
ہمارے ملک کے ایک صوبے کے وزیراعلی جن کے متعلق اہل خبر جانتے ہیں کہ وہ مخصوص نشے کے شوقین ہیں، اُس ہی نشے میں مدہوش اپنے پہلے اسلام آباد کے دورے سے واپسی پر اپنے صوبے میں لوٹے تو سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر وزیراعلی ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے! ہوئے پروٹوکول کی گاڑیوں نے ہارن/سائرن بجایا، گھبرا کر اپنے ڈرائیور سے مخاطب ہوئے!
“ابے! گاڑی تیز چلا، لگتا ہے اپنے پیچھے پولیس لگ گئی ہے"
ڈرائیور نے عرض کیا جناب پولیس پیچھے نہیں لگی آپ اس صوبے کء وزیراعلی ہو یہ آپ کے پروٹوکول کی گاڑیاں ہیں! آپ کی حفاظت ہر مامور ہیں تو انہیں اطمینان ہو!!!
کمال ہے ناں!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←
ایک سوال!!

ایک سوال!!

بڑی لڑائی ہے آج کل عشق رسول و توہین رسول کی!
چلو اس بات کو ایک طرف رکھیں کہ جس کے باپ نے ایک ایسے قاتل کے جنازے کے لئے چارپائی مہیا کی جو اُس وقت کی ریاست کے قانون کے مطابق مجرم ہو کر بھی ایک خاص طبقے میں غازی و شہید کہلایا اور آج اُس کا قاتل بھی ایک خاص طبقے میں وہ ہی مقام رکھتا ہے جبکہ دونوں قاتلوں کا مقصد ایک ہی تھا۔بحث یہ نہیں کہ حق پر کون ہے بلکہ
سوال یہ ہے کہ کیا توہین رسالت کی سزا موت سے کم ہو سکتی ہے؟ اگر ہاں تو کتنی اور کیوں؟

مکمل تحریر پڑھیں ←
دلچسپ قصہ

دلچسپ قصہ

یہ 20 دسمبر کی بات ہےسندھ بلکہ ملک کی ایک بااثر شخصیت سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سندھ کی عدالت میں اپنے کیس کی باری کا انتظار کر رہے تھی بتا دوں یہ شخصیت سندھ کے چیف منسٹر رہ چکی ہے، اس کے علاوہ یہ چند ایک صوبائی وزارتوں کا مزا بھی چکھ چکے ہیں! بہرحال اتنے میں ایک شخص جو خود بھی اپنے کسی کیس کے سلسلے میں عدالت میں تھا اُس شخصیت کی طرف بڑی حیرانگی سے دیکھنے لگا،
پھر اُس سے مخاطب ہوا "سر میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے"
وہ شخصیت کچھ تذذب کا شکار ہوئے اتنے میں اُن کے برابر میں بیٹھے اُن کے اسسٹنٹ حرکت میں آئے اور اُن شخصیت کے بارے میں گویا ہوئے "یہ 'فلاں' شخص ہیں"
وہ بندہ بولا "نہیں میں نام سے نہیں شکل سے پہچان رہا ہوں"
(اُس وقت میری ہنسی چھوٹنے والی تھی مگر عدالت کے احترام میں خود پر قابو پانا پڑا)
وہ پی اے پھر گویا ہوا "یہ سابق چیف منسٹر سندھ رہ چکے ہیں! وہ فلاں فلاں وزارت بھی ان کے پاس رہی ہے"
وہ اُس بندے نے کہا "اچھا اچھا تب ہی ان کی شکل کچھ دیکھی دیکھی لگی، ٹی وی پر دیکھا ہو گا پھر، سمجھ گیا!! ابھی والے چوروں سے پہلے آپ کو بھی ایک موقعہ مل چکا ہے"
(یہ سننا تھا اور میں عدالت سے باہر آ گیا وجہ صاف تھی میرے لئے اب ہنسی کو قابو رکھنا ممکن نہیں ہو رہا تھا)

مکمل تحریر پڑھیں ←
تھانے میں گدھا!

تھانے میں گدھا!

آج ملیر کورٹ میں بہت دلچسپ مکالمہ سننے کو ملا! معاملہ یوں تھا کہ پولیس والون نے کسی کا گدھا چوری کے شبہ میں بند کر لیا تھا تو گدھے کے مالک نے اُس کی واگذاری کے لئے درخواست لگائی تھی! جس پر جج نے تھانے سے رپورٹ طلب کی جو ایک پولیس آفسر لے کر آیا!
جج: ہاں بھائی تھانے مین کتنے گدھے ہیں؟
پولیس: سر ایک ہی ہے۔
جج: تھانے میں ہی ہے یا یہاں آ گیا ہے؟
پولیس: سر وہ تھانے میں ہی ہے۔
جج: ہاں ٹھیک ہے گدھا تھانے میں ہی ہوتے ہیں! چلو ٹھیک ہے اس بندے کو لے جاؤ یہ تھانے والے گدھے کا مالک ہے اپنا والا پہچان کر لے جائے گا، (پھر دوسری طرف متوجہ ہو کر) اپنا گدھا پہچانتے ہو ناں!
مالک گدھا: جی سر پہچانتا ہوں!
جج: ٹھیک ہے اپنا والا ہی لے کر جانا! ورنہ تھانے کا نظام خراب ہو جائے گا!
مالک گدھا: جی بہتر سر! شکریہ!
جج: تم اسے ساتھ لے جاؤ اور اس کا والا گدھا اس کے حوالے کر دو۔
پولیس: ٹھیک ہے سر۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
زخمی کراچی

زخمی کراچی

آج  کراچی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا او معافی چاہتا ہوں آج یوم سوگ تھا کراچی میں۔ طاقت کی لڑائی ہے، کراچی ایک بڑا شہر ہے بڑے شہر کو ہاتھ میں رکھنا ضروری ہے، خواہ "اُن" کو اس کے لئے "کچھ" بھی کرنا پڑے۔
افواہوں کا بازار گرم ہے، اور خوف سے شہریوں کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے، شہر میں خبروں کے مطابق کوئی پاکستانی نہیں مر رہا بلکہ مرنے والوں کی گنتی اُن کرتے وقت اُن کا پنجابی، پٹھان، مہاجر، سندھی اور بلوچی ہونا دیکھا جاتا ہے مارنے والوں کی پہچان بھی اس ہی فارمولے سے کی جا رہی ہے، اور تہذیبی انداز الزام لگانے کا یہ اپنایا گیا ہے کہ آپ لسانیت کے اس جھگڑے کو سیاسی گروہوں کی بنیاد پر یوں بتائے کہ کون ANP کا ہے، کتنے MQM کے اور کو پیپلز امن کمیٹی کا!
یہ لسانیت کی سیاست شہر سے انسانیت کو کھا رہی ہے، لسانیت و تشدد کے ملاپ سے پروان چھڑنے والی یہ سیاسی نفرت نے شہر میں بسنے والوں کو آپس کے خوف میں مبتلا کرنا شروع کردیا ہے، جیسے ہی میڈیا نے خوف کی اس فضاء میں کرفیو کی کی غیر مستند خبر نشر کی اہل فساد نے ساتھ ہی آپریشن کا شوشا بھی چھوڑ دیا۔اختلاف کو نفرت کے روپ میں سینوں میں پالنے والوں نے اپنی نفرت کے زیر اثر اُس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا!
خدا خیر کرے لندن سے اسلام آباد تک سب مفاد کی جنگ میں طاقت کے حصول کے لئے لسانیت کی سیاست میں مبتلا ہیں۔ اور اُن کے اندھے پیروکار اس لڑائی میں "قوم" و "قومیت" کا تصور سمیٹ کر "بولی" تک کی طرف سفر میں گامزن ہے۔

لہو کے رنگ سے رنگین ہیں دیوارو در میرے
شہر سے ناگہانی موت کا سایہ نہیں جاتا
جواں لاشے ،تھکے کاندھے،لزرتے قدم ہیں میرے
الہٰی، کرم فرما،بوجھ اب یہ اٹھایا نہیں جاتا


مکمل تحریر پڑھیں ←