خواب بھی اک مسافر کی طرح ہوتے ہیں
رنگ کی موج میں خوشبو کے اثر میں رہنا
ان کی عادت ہی نہیں
ایک جگہ پر رکنا
ان کی قسمت ہی نہیں
ایک نگر میں رہنا
ہم بھی ایک خواب ہیں اے جان! تیری آنکھوں میں
سایہ ابر نوحہ کے گمان میں میں رہنا
ان کے طاق سے ہم کو نہ ہٹانا جب تک
رات کے بام پر تاروں کے دیئے جلتے رہیں
دیکھنا ہم کو ہمیں دیکھتے جانا جب تک
ہم تیری آنکھ کی وادی میں سفر کرتے رہیں
خواب کا شوق یہ ہی خواب کی قسمت بھی یہ ہی
حلقہ رنگ رواں گرد سفر میں رہنا
رنگ کی موج میں خوشبو کے اثر میں رہنا
ہم مگر خواب ہیں کچھ اور طرح کے ہم کو
نہ کوئی شوق سفر ہے نہ تلاش خوشبو
تیری آنکھ میں جلیں اور اور ان ہی میں بجھ جائیں
چشم در چشم نہیں ہم کو سفر میں رہنا ہم کو ہے تیری نظر میں رہنا
بھرم رہ گیا
Shoiab Safdar Ghumman
یہ تصویر بار میں رکنیت حاصل کرنے کے لئے بنوائی ہے!!!! رکنیت کارڈ پر آئے گی!!!! سب کہہ رہے ہیں اچھی آئی ہے!!!! شکر ہے اندر کی اصلیت تصویر میں نہیں اُبھری!!!! اور یوں بھرم رہ گیا!!!!
کیسا عہد کیسی تجدید
Shoiab Safdar Ghumman
آج ٢٣ مارچ ہے!!! آج چھٹی ہے!!! سب گھر میں بیٹھے ہیں!! چند ایک نے اس مناسبت سے کوئی نا کوئی پروگرام بنا رکھا ہے کہ چھٹی ہے!! احباب کو یہ دن اس لئے اہم نظر اتا ہے کہ اس دن چھٹی ہو گی اس بناء پر نہیں کہ اس کا پس منظر کیا ہے!!!
ابھی ایف ایم سن رہا تھا اس میں ڈی (ڈی سے ڈنگر مراد نہیں) جے صاحب فرما رہے تھے کہ کیسا لگتا ہے آپ کو holiday سے پہلے holiday کا آنا کیسا لگتا ہے؟؟؟ اگر یہ holiday کے بجائے holyday ہوتا تو شائد مجھے اعتراض نہ ہوتا!!!! مذہبی اعتبار سے تو نہیں مگر قومی اعتبار سے ہمارے لئے تو یہ دن مقدس ہے کہ !!!!نہیں؟؟؟؟؟
آج مسلم لیگ (ق) والے مسلم لیگ کی صد سالہ تقریب منا رہے ہیں!!! سو سالہ مکمل ہوئے ہیں تو مسلم لیگ کا یہ حال ہے کہ وہ ایک فوجی کی دُم چھلا بنی ہوئی ہے!!! آج کی مسلم لیگ میں اور اس دور کی مسلم لیگ میں کیا فرق ہے اس سے ہی معلوم ہو جاتا ہے!!! پہلے مسلم کا مفاد عزیز تھا!! اب لیگ (جسے اکثر کالم نگار اصحاب “ق“ کہتے ہیں) کا!!!!!
ان حالات کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ اب ایسے دن ہمارے لئے تجدید عہد کے ہو!!!! عہد یاد ہی نہیں تو تجدید کیسی!!!!!
قاضي کا حال!!!
Shoiab Safdar Ghumman
نا سمجھ؟ یا نہایت ذہین؟؟؟؟؟ کیا کہوں؟ ایک جماعت کے سربراہ ہیں۔۔۔۔۔ کیمرے کے سامنے! میڈیا کے روبرو! کب کس وقت کیا کہنا ہے؟ کیا اس سے نا واقف ہیں؟یہ واقعی سیاہ ست (جیسے ڈاکٹر افتخار صاحب سیاست کو کہتے ہیں) ہے! کہتے ہیں میں اسامہ سے مل چکا ہوں! وہ میری جماعت سے تعاون کرنا چاہتے تھے! میں نے نہ کر دی! نواز شریف کے حامی تھے اور بے نظیر کے مخالف؟ وہ پاکستانی سیاست میں کردار ادا کرنا چاہتے تھے؟ حد ہو گئی!!!!!!
یہ بیان کیا اثر لائے گا؟؟؟؟ مجھے یاد ہے توہین رسالت کے سلسے میں جس دن لاہور میں ہونے والا احتجاج ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر گیا تھا اس سے اگلے دن پشاور میں بھی توڑ پھوڑ ہوئی تھی! تو سی این این میں ایشیا نیوز میں ایک تبصرہ نگار/تجزیہ نگار نے کہا تھا کہ یہ جو ہنگامہ کر رہے ہیں ناں یہ اپنے رسول (صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم) کی توہین کا غصہ نہیں اتار رہے بلکہ یہ تو وہ لوگ ہیں جو طالبان اور القاعدہ کے حامی اور ایجنٹ ہیں!!! اس بہانے سے اپنا رد عمل ظاہر کر رہے ہیں!!! کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود اپنی کمزوریاں دوسروں کو کیوں بتاتے ہیں!! مغرب کو کیوں بہانہ دیتے! اب یہ بیان “کوڈ“ کیا جائے گا کہ دیکھیں یہ جو بات کہی گئی تو اس کے علاوہ بھی نہ معلوم کیا کیا باتیں ہیں جو اب تک سامنے نہیں آئیں!
اہل مغرب ہر بات کو اس وقت افشاں کرتے ہیں جب اس سے انہیں کسی نقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا اور ہم ہر کام ایسا کرتے ہیں کہ آ بیل مجھے مار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاضی صاحب آپ کے ماضی کا تو مجھے نہیں معلوم مگر حال میں آپ کا یہ حال کچھ اچھا نہیں ہے!!
Shoiab Safdar Ghumman
آپ قانون شکن ہیں تو آپ کو قانون شکنی کی سزا ملنی چاہئے، ایسے میں ماتھے پر شکن لانا درست نہیں ،اس میں کوئی شک شبہ نہیں!۔ قانون شکنی کا کوئی جواز نہیں ہوتا! سچ ہے۔ مگر!!! قانون بنانے اور اس کے نفاذ کے چند طریقے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ کہ نہیں؟؟؟
بہار آئی! لاہوری بسنت منانا چاہتے تھے! حکومت (پنجاب) مان گئی! سپریم کورٹ کو منانے جاپہنچی! جو رام ہو گئی لہذا جس پتنگ باری کو حرام قرار دے چکی تھی کہ اس کی وجہ (وہ کوئی بھی ہو) سے کئی لوگ جان کی بازی ہار گئے، اسے چند دن کے لئے حلال قرار دیا، لو اتنا آسان ہے حلال کرنا حرام کو؟؟؟۔ چند شرائط کا پابند بھی کیا۔
یار لوگوں نے پابندی اٹھنے کا کیا خیر مقدم! حکومت مخالف اسلامی جماعتوں نے کہاغلط قدم!
قدم غلط تھا کہ نہیں مگر یار لوگوں نے اسے ڈگمگا دیا! ڈگمگاتا قدم کب تک ٹھیک جگہ پر پڑ
سکتا ہے۔۔۔ پڑ گیا غلط جگہ پر! پندرہ دنوں کے لئے ملنے والی پتنگ بازی کی شہ پر بارہ افراد کی شہ رگ کٹی اور وہ جان ہار گئے! ان میں ایک چار سالہ بچہ اور تین سال کی بچی
بھی شامل ہے، زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے!!! غلطی کس کی؟
وزیر اعلیٰ پنجاب نے پابندی واپس لگا دی! دو دن باقی تھے بسنت (بس انت بھی کہہ لیں) میں! اس سے پہلے ہی اتنی انت مچ چکی تھی کہ بس میں نہیں رہی تھی! اب دیکھے کون اس کا پابند ہوتا ہے؟ اور آیا پابند نہ ہونے والا بند ہوتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
یہ تو اب کوئی لاہوری ہی بتا سکتا ہے کہ پابندی کی کس قدر پابندی کی گئی؟؟؟؟ لاہور والے زندہ دل کہتے ہیں خود کو۔۔۔۔ زندہ دلی کا تعلق قانون سے کتنا ہے یہ تو مجھے معلوم نہیں! نہ یہ کہ دلی یا دل سے کتنا! مگر زندہ سے بہت ہے!
اب دیکھو! بسنت بناء پتنگ ہوتی ہے یا بس انت ہو جاتی ہے ، میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اول پابندی ہٹنی نہیں چاہئے تھی اگر ہٹ ہی گئی تھی تو لوگوں کو کیمیکل ڈور کا استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا! یہ کہ اب کئی لاہوریوں نے پتنگ بازی کا سامان خرید و تیار کیا ہے اور اس پر یہ پابندی! وہ کہاں جائیں!!! دوسری طرف جان لیوا حادثات کے بعد پنجاب حکومت کے فیصلے کو غلط کہنا بھی مشکل ہے!!!
سکتا ہے۔۔۔ پڑ گیا غلط جگہ پر! پندرہ دنوں کے لئے ملنے والی پتنگ بازی کی شہ پر بارہ افراد کی شہ رگ کٹی اور وہ جان ہار گئے! ان میں ایک چار سالہ بچہ اور تین سال کی بچی
بھی شامل ہے، زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے!!! غلطی کس کی؟
وزیر اعلیٰ پنجاب نے پابندی واپس لگا دی! دو دن باقی تھے بسنت (بس انت بھی کہہ لیں) میں! اس سے پہلے ہی اتنی انت مچ چکی تھی کہ بس میں نہیں رہی تھی! اب دیکھے کون اس کا پابند ہوتا ہے؟ اور آیا پابند نہ ہونے والا بند ہوتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
یہ تو اب کوئی لاہوری ہی بتا سکتا ہے کہ پابندی کی کس قدر پابندی کی گئی؟؟؟؟ لاہور والے زندہ دل کہتے ہیں خود کو۔۔۔۔ زندہ دلی کا تعلق قانون سے کتنا ہے یہ تو مجھے معلوم نہیں! نہ یہ کہ دلی یا دل سے کتنا! مگر زندہ سے بہت ہے!
اب دیکھو! بسنت بناء پتنگ ہوتی ہے یا بس انت ہو جاتی ہے ، میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اول پابندی ہٹنی نہیں چاہئے تھی اگر ہٹ ہی گئی تھی تو لوگوں کو کیمیکل ڈور کا استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا! یہ کہ اب کئی لاہوریوں نے پتنگ بازی کا سامان خرید و تیار کیا ہے اور اس پر یہ پابندی! وہ کہاں جائیں!!! دوسری طرف جان لیوا حادثات کے بعد پنجاب حکومت کے فیصلے کو غلط کہنا بھی مشکل ہے!!!بش دي آنياں تے جانياں
Shoiab Safdar Ghumman
چاچا جی دے لارے تے رنڈے رین کنوارے، مگر اپنے چچا جی (انکل سام) نے تو لارا بھی نہیں لگایا، ہم تو سمجھ رہے تھے شائد لارا ہی لگا دیں، وہ آئے اور چلے گئے، بش اور مش آپس میں ملے، کہتے ہیں دونوں کے درمیان کئی اہم امور پر بات چیت ہوئی۔۔۔۔ اہم امور وہ جو بش کے نزدیک اہم تھے۔۔۔۔ اور جو مش کے تھے؟؟ وہ امور ہی کہاں تھے، لہذا ان پر کوئی خاص بات ہی نہیں ہوئی۔۔۔ کئی اہم امور میں “کئی“ سے مراد وہ معاملہ جو بش کے لئے کئی کے برابر ہے۔۔۔۔ وہ ہی جن کی “گرد“ سے بھی جناب کو “دہشت“ محسوس ہوتی ہے لہذا اس “دہشت“ بھری“گرد“ کو بٹھانے سے متعلق گفتگو کی گئی۔
ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی، بغیر وردی والا صدر تو آگے پیچھے سے شکایات سن کر آیا تھا، کوئی لسٹ کی بات کر رہا تھا اور کسی نے “اتنک وادی“ کا ذکر کیا !!!! ، کان بھرے گئے تھے، غصہ سے بھرے ہوئے آئے، ون ٹو ون ملاقات میں پریس کیا اور باہر آ کر پریس کانفرنس، ہائے رے یہ صحافی!!! مش کے امور کے متعلق سوال کر بیٹھے! پھر جواب ایسے آئے کہ ان کی طرف سے جواب ہی سمجھے، مسئلہ کشمیر !!! ارے خود حل کرو !! اپنی مصیبت ہمارے گلے میں مت ڈالو!!! کرو مذاکرات !!! ہون آرام اے، ہم تو مذاکرات مرنے جاتے ہیں اور دوسرے مذاق کرتے ہیں اب اس کا کیا کریں؟ دفاعی تعاون کا ذکر کیا تو آگاہ کیا گیا کہ دفع ہی تعاون کر رہے ہیں آپ کو دفع کر رکھا اور دوسروں کو گلے لگا رکھا!!! ہو گیا ناں دفع ہی تعاون! اور تجارتی تعلقات!!! ان پر تو تالا ہی سمجھے!!!!
البتہ حکم صادر ہو گیا کہ جمہوریت بحال کی جائے!!! وردی والا صدر اپنا منہ لے کر رہ گیا! لو میرا یہ بھرم بھی نہیں رہنے دیا!! جمی ہوئی ریت بھی ہٹ گئی !!! بش کے آنے جانے پر تو بلے بلے نہ ہوئی البتہ انضمام صاحب گیند بلا سیکھانے جا پہنچے۔ ہم تو سنتے آئے تھے کہ بیس بال کرکٹ کا بگڑا ہو ا کھیل ہے۔۔۔۔۔ اب معلوم ہوا کرکٹ بیس بال سے ملتا جلتا کھیل ہے، بھائی یہ ہی تو اپنے کرکٹ کے کپتان نے بش کو بتایا ہے اب یہ الگ بحث کہ کیسے بتایا ہو گا؟۔اب خود سمجھ لیں ہم کیسے کوئی بات انہیں سمجھاتے ہیں!!!
بش کے دورے
Shoiab Safdar Ghumman
مکمل تحریر پڑھیں ←
جھاڑي ميں الجھا دامن
Shoiab Safdar Ghumman
وہ آئے جنہوں نے ساری دنیا میں بم چلائے۔ بش (اردو میں جھاڑی) پاکستان آ گئے۔ سنا ہے کتے بھی لائے ہیں۔ شائد اس لئے کہ دیکھ لو یہ ہوتے ہیں کتے تم لوگوں کو کچھ پتہ ہے !!! نہ معلوم کس کس کو کہتے رہتے ہو! جیسے ؟؟؟
اسلام آباد (نام پر غور کرے) میں دہشت گردوں کے خلاف نئے منصوبوں پر غور ہوگا، دہشت گرد کون اس پر نہیں!!
دیکھے کیا ہوتا ہے! کیا ہوا ہے!!!بھارت سے ایٹمی ٹیکنالوجی پر معاہدہ ہوا انہیں ایف سولہ اور ایف ١ٹھارا کی آفر!! ہمیں تسلی وافر!!
کہتے ہیں کہ بھارت سے یہ معاہدہ اس لئے کیا کہ چین کا چین(سکون) اڑایا جا سکے! اور شائد ہماری نیند!!!
معاہدہ کا ایک مقصد ایران گیس پائیپ لائین منصوبہ بھی روکنا بھی ہے!!! اب ہمارا فائدہ جہاں بھی ہوتا ہے ڈنڈی مار لی جاتی ہے !! ہے کوئی بات!!!
اس معاہدہ سے ایران اور کوریا بھی ناراض ہیں کہ یہ تو دوہری پالیسی ہے!!!! لو انہیں اب سمجھ آئی!!! ہمارا تو ہنس ہنس کے پیٹ دوہرا ہو رہا ہے!!! دیر سے سمجھے ہیں!!! اور خود ہم اب بھی نہیں سمجھے!! یا سمجھنا نہیں چاہ رہے۔۔۔
این پی ٹی کا ذکر کر ڈالا چین نے!! اس کے تحت معاہدہ کرنا چاہیے تھا معاہدہ!!! لو معاہدہ کرنا تھا اس سے انکار نہیں!!! کیسے لوگ ہیں یہ سمجھتے ہی نہیں!!!
اب دیکھے بش کچھ کرتے یا بس لارا ہی دیتے ہیں!! ارے ارے نہیں نہیں میں ان کی بیگم کی بات نہیں کر رہا وہ تو ساتھ ہی جائیں گی!!!! میں لارے کی یعنی بس امید دلانے کی بات کر رہا ہوں !!! ویسے کچھ اچھی کی امید رکھنا مشکل ہی ہے۔۔۔۔۔
سزا، مانگ اور توقع عبث
اندھیرے میں کچھ دیر کھڑے رہے توآنکھ دیکھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے، مگر آگر روشنی میں ہو کر بھی آنکھ بند کر لی جائے تو کچھ بھی نظر آنا نا ممکن ہے۔
دل کی تسلی کے لئے تراشے گئے بہانے و دلائل دراصل آنکھ بند کرنے کے ہی مترادف ہے، آنکھ بند کرنے کا عمل!!! جس میں ہم سب مبتلا ہیں!!!!! موجودہ حالات کا تجزیہ کر کے دیکھ لیں!!! یقین آ جائے گا!!!
خاکہ نویسی !!!! وہ بھی رسول اللہ کی!!! اسلام میں ویسے بھی تصویر کشی کی اجازت نہیں ہے!!!! اوپر سے رسول اللہ کی؟؟؟ اگر اس کی اجازت ہوتی تو شائد اہل مسلم رسول کی اس تصویر کے پجاری ہوتے۔۔۔ جو ان کے تصور سے ہی اس قدر عقیدت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اوپر سے ایسے خاکہ جن کا مقصد (نعوذ بااللہ) مزاح کا عنصر پیدا کرنا ہے!!! تمسخر اڑانا!!!! “اے ایمان والو! جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور کافر اِن میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو“ (سورہ المائدہ آیت ٥٦)
توہین رسالت ہوئی! سب کو علم ہے، ردعمل کیا ہے!!! احتجاج۔۔۔۔ کیوں کیا بس احتجاج ہی ہو
سکتا ہے؟؟ اب احتجاج بھی ایسا جو اسلام کی روح کے خلاف، جلوس میں پتلے جلائے جاتے ہیں!! اسلام میں پتلا بننے کی اجازت ہے؟؟؟ توڑ پھوڑ کی جاتی ہے!!!! پوچھا کیوں ؟؟؟ کہنے لگے کہ غم جب غصہ میں بدل جائے تو انسان مشتعل ہو جاتا ہے!! اور ایسے میں اہل مسلم کا غم غصہ کی شکل اختیار کر گیا ہے!! کہ اس کے ایمان پر حملہ ہوا ہے!!! اللہ سے محبت اور اس کے رسول سے محبت ایمان کا حصہ ہے!!! اچھا!!! توڑ پھوڑ کرنے والے مسلمان ہے تو جن کا نقصان ہو وہ کون؟؟؟ وہ بھی مسلمان!!! روکئے اگر وہ بھی مسلمان تو “مسلمان وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے“ اب بتاؤ ایسے احتجاج کا فائدہ !!! کہ پھر ایمان خطرے میں!!!
کسی نے کہا مکالمہ کرنا چاہئے اہل مغرب سے۔۔۔ کس بات پر؟؟؟ کوئی علمی بحث شروع کی ہے انہوں نے؟؟؟ کوئی تحقیقی کتاب لکھئ ہوتی جس میں کوئی اعتراز ہوتا تو کرتے مکالمہ۔۔۔ دیتے جواب!!! پہلے بھی تو اعترازات کا جواب دیا ہے !!
کسی کی رائے ہے رسول کی شخصیت کے بارے میں اہل مغرب کو آگاہ کیا جائے۔۔۔۔ وہ اچھی طرح آگاہی رکھتے ہیں۔۔۔ ہر زبان میں رسول کی شخصیت کے بارے میں کتب موجود ہیں۔۔۔ پھر یہ اعتراز یا شرارت ان لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہے جن کا مقصد ہی تنگ کرنا ہوتا ہے۔ توہین رسالت کے سلسلے میں معافی کا مطالبہ ہو رہا ہے!!! جس نے توہین کی وہ معافی مانگ لے! کہا جا رہا ہے رسول نے بھی اپنی توہین کرنے والوں کو معاف کردیا تھا!!! بڑھیا کا راستے میں کچرا ڈالنے، اہل طائف کی سنگ باری کرنے اور اہل مکہ کی دی جانے والی اذیتوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔۔ یہ اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات ہیں !!!! بعد کے ادوار میں کیا ہوا!!! بخاری شریف جلد دوئم میں کعب ابن اشرف کا واقعہ!!! یہودی سردار رسول اللہ کو (نعوذ باللہ) برا بھلا کہتا رہتا تھا، ایک صحابی نے اجازت طلب کی کہ اسے قتل کرنے کی، نہ صرف اجازت بلکہ دعا بھی دی، وہ صحابی تلاش کرنے نکلے، کعب ابن اشرف سردار تھا، جس قلعہ میں مقیم تھا صحابی اس قلعہ کے پاس چھپ گئے اور شام ڈھلتے ہی ڑیور کے ساتھ چھپ کر قلعہ میں ڈاخل ہو گئے، رات یہودی سردار کعب کی خوب گاہ میں داخل ہو کے اس جہنمی کو قتل کیا، اور باہر بھاگے سیڑھیاں اترتے ہوئے پاؤں پھسلا اور ٹانگ ٹوٹ گئی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے بنی رحمت نے ٹانگ پر دست مبارک رکھا،نہ صرف درد ختم ہوا بلکہ
ٹانگ پھر جڑ گئی۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ ایک شاعر حطب توہین رسالت کا مرتکب تھا، فتح مکہ کے موقع پر جب جب آپ نے سب کو معاف کردیا تو صحابہ نے حطب کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا وہ لعین واجب قتل ہے، بتایا گیا کہ وہ تو غلاف کعبہ سے لپٹ کر رو رہا ہے۔۔۔ آپ کا ارشاد تھا کہ حرم کی حدود اسے پناہ نہیں دے سکتی، چنانچہ قتل ہوا۔۔۔۔۔ ہم ہیں کہ معافی کی بات کر رہے ہیں ان کے لئے۔۔۔۔
“ازادی صحافت“ کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم تو اپنے پیغمبر کے بارے میں بھی یہ حرکت (توہین) کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ اب کوئی آپ سے کئے کہ “میں تو اپنے باپ کی بھی توہین کرتا ہو تو تیری کیسے مننہ کرو؟“ تو کیا اس پر آپ اسے کیا کہے گے کہ بھائی ٹھیک ہے آپ میری بھی اور میرے باپ کی کی بھی توہین کر لو؟؟؟؟؟
اب دیکھے “او ائی سی“ کیا کرتی ہے ؟؟ Oh I See کے علاوہ بھی کچھ کرے گی کہ نہیں۔۔۔۔۔ یا بس “ او آئی سی تے فیر ٹور گئی سی“ والا معاملہ ہو گا؟؟؟؟ عجیب بات ہے!!! سزا کچھ ہے اور ہماری مانگ کچھ ؟؟؟ توہین رسالت کی!!!! ان سے اور کیا توقع رکھی جائے؟؟؟
خاکہ نویسی !!!! وہ بھی رسول اللہ کی!!! اسلام میں ویسے بھی تصویر کشی کی اجازت نہیں ہے!!!! اوپر سے رسول اللہ کی؟؟؟ اگر اس کی اجازت ہوتی تو شائد اہل مسلم رسول کی اس تصویر کے پجاری ہوتے۔۔۔ جو ان کے تصور سے ہی اس قدر عقیدت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اوپر سے ایسے خاکہ جن کا مقصد (نعوذ بااللہ) مزاح کا عنصر پیدا کرنا ہے!!! تمسخر اڑانا!!!! “اے ایمان والو! جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور کافر اِن میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو“ (سورہ المائدہ آیت ٥٦)
توہین رسالت ہوئی! سب کو علم ہے، ردعمل کیا ہے!!! احتجاج۔۔۔۔ کیوں کیا بس احتجاج ہی ہو
کسی نے کہا مکالمہ کرنا چاہئے اہل مغرب سے۔۔۔ کس بات پر؟؟؟ کوئی علمی بحث شروع کی ہے انہوں نے؟؟؟ کوئی تحقیقی کتاب لکھئ ہوتی جس میں کوئی اعتراز ہوتا تو کرتے مکالمہ۔۔۔ دیتے جواب!!! پہلے بھی تو اعترازات کا جواب دیا ہے !!
کسی کی رائے ہے رسول کی شخصیت کے بارے میں اہل مغرب کو آگاہ کیا جائے۔۔۔۔ وہ اچھی طرح آگاہی رکھتے ہیں۔۔۔ ہر زبان میں رسول کی شخصیت کے بارے میں کتب موجود ہیں۔۔۔ پھر یہ اعتراز یا شرارت ان لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہے جن کا مقصد ہی تنگ کرنا ہوتا ہے۔ توہین رسالت کے سلسلے میں معافی کا مطالبہ ہو رہا ہے!!! جس نے توہین کی وہ معافی مانگ لے! کہا جا رہا ہے رسول نے بھی اپنی توہین کرنے والوں کو معاف کردیا تھا!!! بڑھیا کا راستے میں کچرا ڈالنے، اہل طائف کی سنگ باری کرنے اور اہل مکہ کی دی جانے والی اذیتوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔۔ یہ اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات ہیں !!!! بعد کے ادوار میں کیا ہوا!!! بخاری شریف جلد دوئم میں کعب ابن اشرف کا واقعہ!!! یہودی سردار رسول اللہ کو (نعوذ باللہ) برا بھلا کہتا رہتا تھا، ایک صحابی نے اجازت طلب کی کہ اسے قتل کرنے کی، نہ صرف اجازت بلکہ دعا بھی دی، وہ صحابی تلاش کرنے نکلے، کعب ابن اشرف سردار تھا، جس قلعہ میں مقیم تھا صحابی اس قلعہ کے پاس چھپ گئے اور شام ڈھلتے ہی ڑیور کے ساتھ چھپ کر قلعہ میں ڈاخل ہو گئے، رات یہودی سردار کعب کی خوب گاہ میں داخل ہو کے اس جہنمی کو قتل کیا، اور باہر بھاگے سیڑھیاں اترتے ہوئے پاؤں پھسلا اور ٹانگ ٹوٹ گئی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے بنی رحمت نے ٹانگ پر دست مبارک رکھا،نہ صرف درد ختم ہوا بلکہ
“ازادی صحافت“ کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم تو اپنے پیغمبر کے بارے میں بھی یہ حرکت (توہین) کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ اب کوئی آپ سے کئے کہ “میں تو اپنے باپ کی بھی توہین کرتا ہو تو تیری کیسے مننہ کرو؟“ تو کیا اس پر آپ اسے کیا کہے گے کہ بھائی ٹھیک ہے آپ میری بھی اور میرے باپ کی کی بھی توہین کر لو؟؟؟؟؟
اب دیکھے “او ائی سی“ کیا کرتی ہے ؟؟ Oh I See کے علاوہ بھی کچھ کرے گی کہ نہیں۔۔۔۔۔ یا بس “ او آئی سی تے فیر ٹور گئی سی“ والا معاملہ ہو گا؟؟؟؟ عجیب بات ہے!!! سزا کچھ ہے اور ہماری مانگ کچھ ؟؟؟ توہین رسالت کی!!!! ان سے اور کیا توقع رکھی جائے؟؟؟
یہ بھی سائنس ہے
Shoiab Safdar Ghumman
ارے بھائی!!!! آپ جو بھی کرو! مان لو ! جان لو ! سمجھو لو! وہ سائنس ہے، کسی کا کیا سناؤ! خود میں نے جب انٹر (ایف ایس سی) کیا تو لپک کے بی اے میں جا ایڈمیشن لیا، جو پوچھے کیا کر رہے ہو ہمارا جواب ہوتا بی اے، دوسری جانب سے رد عمل ہوتا اچھا! بھائی آرٹس پڑھی جا رہی ہے! خوب۔۔۔۔ چند ایک نے اپنی ایک آنکھ بند کر کے یوں بھی کہا “اوہ! بی اے کے بعد بیاہ کا ارادہ تو نہیں ہے ناں“۔ ہم کہتے جی پہلے پڑھائی تو مکمل کر لے پھر ان چکروں میں پڑیں گے۔۔۔۔ چکر ہی ہیں ناں! ۔۔۔ جی بات ہو رہی تھی گریجوایشن کی تو جب داخلہ لیا تو ہم با ہوش و حواس میں آرٹس پڑھنے جا رہے تھے۔۔۔ مگر کورس کی کتابیں خریدی تو ہم پر افشاں ہوا کہ یہ بھی سائنس ہے۔۔۔۔ لو جی! ہر مضمون کا پہلا باب اس بات پر بحث کر رہا ہوتا تھا کہ یہ جو مضمون آپ پڑھ رہے ہیں سائنس ہے، سیاسیات سائنس ہے، معاشیات سائنس ہے، جغرافیہ سائنس ہے، معاشرے کا علم سائنس ہے، فلسفہ سائنس ہے، تاریخ سائنس ہے، یہ سائنس ہے وہ سائنس ہے، اس میں سائنس ہے، اُس میں سائنس ہے، فلاں سائنس ہے اور فلاں فلاں بھی سائنس ہے ۔۔۔۔ ہم ٹھہرے “شریف النفس“ بندے بحث میں کیا پڑنا لہذا بلا چوں چڑاں مان گئے کہ بھائی سائنس ہی ہو گی! اب اتنے سارے لوگ کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔۔ مزید اس پر امتحان میں تو (تمام مضامین کے پرچے میں) صاف کہا گیا کہ یہ سائنس ہے بیان کریں، ہم تو پہلے ہی سر تسلیِم خم کر چکے تھے لہذا جواب میں سنی سنائی بلکہ پڑھی پڑھائی ( پٹی درحقیقت رٹی رٹائی پٹی ) پرچے میں دے ماری!!! کہ یہ سائنس ہے اور کچھ نہیں!!! ، اہل یونیورسٹی نے خوش ہو کر ( کہ ایک اور الو بن گیا آرٹس کو سائنس مان گیا) ہمیں کامیاب قرار دے دیا۔۔۔۔۔ کہا تم پاس ہو خبر دار جو اب گیجوایشن کے پاس بھی بھٹکے، سند دی بی اے کی۔۔۔۔۔۔ ہم جا پہنچے اپنے استاد کے پاس کہ سر پرچے میں پوچھا اور ہر مضمون کہ پہلے باب میں بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کر نے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا ہے کہ یہ سائنس ہے تو ڈگری کیوں آرٹس کی ؟؟؟ بی اے کے بجائے بی ایس سی کی کیوں نہیں ؟ وہ بھی آخر ہمارے استاد تھے کہنے لگے “یہ بھی سائنس ہے“۔۔۔ کر لو گل!! ہون آرام اے۔۔۔۔ یہ پوسٹ پڑھی کچھ پلے پڑا؟؟؟ نہیں ناں!!! ارے یہ بھی سائنس ہے!!!!

