نم آنکھ

نم آنکھ سے ہر چیز دھندلی دیکھائی دیتی ہےخواہ یہ نمی کسی دکھ ،تکلیف، مایوسی ،درد،خوف یا خوشی کی بناء پرآئے جب سب دھندلا دیکھائی دے تو حقیقت کا ادراک ناممکن نہ بھی ہو دشوار ضرور ہوتا ہے جب تک یہ نمی آنسو کا روپ دھار کر بہہ نہ جائے اس وقت تک منظر صاف نہیں ہوتا ،بات سمجھ نہیں آتی،آنکھ چاہے بیرونی ہو یا اندرونی(دل کی)۔
*******
ایک خبر کے مطابق برطانوی وزیراعظم اپنے میک اپ پر کافی رقم خرچ کرچکے ہیں، وہ میک اپ کا استعمال میڈیا کے سامنے آنے سے قبل کرتے ہیں،کبھی اسے خواتین کے لئے مخصوص سمجھا جاتا تھا مگر اب سربراہان بھی میک اپ کرتے ہیں،واہ بھائی! بڑی بات ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

لطیفہ

ممکن ہے یہ لطیفہ آپ کو پسند نہ آئے لہذا پیشگی معافی! ایک امریکی بچے نے راستے میں ایک پادری کو دیکھ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا“ہیلو مسٹر“۔ پادری نے شفقت آمیز لہجہ میں کہا“بیٹا تم مجھے مسٹر کے بجائے فادرکہو تو ذیادہ مناسب ہے“۔ بچے نے حیرت سے اسے دیکھا اور بولا“اچھا!توآپ یہاں گھومتے پھر رہے ہیں اور ممی اتنے برسوں سے مجھے یہ کہ رہی ہیں کہ انہیں معلوم نہیں میرا باپ کہاں ہے“۔ ××××× ذاتی تک بندی تذکرہ جب اُس نے اپنی وفاؤں کا کیا ہر قصہ نے گواہی دی اُس کی بے وفائی کی
مکمل تحریر پڑھیں ←

سانحه گھوٹگی

غفلت ہمیشہ نہ سہی مگر اکثر و بیشتر بڑے حادثات کو جنم دیتی ہے۔گھوٹگی کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ ٹرینوں کا تصادم! جو بڑی ہلاکتوں کا سبب بنتا ہے یہاں بھی دو سو سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔امدادی کاروائیاں جاری ہے۔خدا رحم کرے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

منقسم قوم اور الیکشن

وہ سندھی،وہ بلوچی،وہ پٹھان،وہ پنجابی،وہ مہاجر،وہ کشمیری،وہ سرائیکی،وہ سنی ،وہ شعیہ،وہ دیوبند،وہ وہابی،وہ الحدیث،وہ غیر الحدیث،تقسیم در تقسیم،گروہ درگروہ،لسانی و مذہبی بنیادوں پر بٹی ہوئی یہ قوم،جوہم ایک ہیں کے بجائے ہم ایک ایک ہیں کا نعرہ لگا رہی ہے۔یہ ایک اور ایک کا سفر نہیں بلکہ ایک اور الگ یعنی تنہائی کاسفر ہے،تفریق کا پہاڑہ ہے۔ہم کے بجائے" میں" کی بات ہے اور اوپر سے یہ الیکشن جو ہر بار اُس زلزلے کا کام کرتے ہیں جو کسی عمارت کی دیوار میں چند نئی دڑاریں پیدا کر دیتا ہے اور پہلے کی دڑاروں کو مزید واضح کر دیتا ہے،فاصلوں کو بڑھا دیتا ہے۔ایسے الیکشن میں کن کی سلیکشن ہو گی اس کا حساب لگانا دشوار ہے کیا؟ انتخاب میں لوگ اپنی اپنی پسند کے امیدوار کی حمایت کرتے ہیں نیز اسے ووٹ دینے پولیگ اسٹیشن جاتے ہیں۔۔۔۔یہاں تک معاملہ ٹھیک ہیں مگر۔۔۔۔اس سیاسی اختلاف،پسند نہ پسند،حمایت کو ذاتی اختلاف بنا لیتے ہیں یہ درست نہیں،کسان کے بیٹے تو سمجھ گئے تھے کہ گٹھری سے جدا ہونے والی لکڑی کو توڑنا آسان ہے نہ معلوم قائد کی قوم کب جانے؟ ملک میں بلدیاتی انتخابات کی آمدآمدہے،کراچی میں دو پارٹیاں انتخاب کی تیاریاں بڑی زوروشور سے کر رہی ہیں ساتھ ہی شور بھی۔ایک کی رائے میں اس نےبڑے کام کئے ہیں اور دوسری کادعویٰ ہے کہ وہ اب میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ایک کا زور سٹی گورنمنٹ میں تھا اور دوسری کی طاقت صوبائی حکومت میں ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شہر میں کافی ترقیاتی کام ہوئےمگرساتھ ہی اِن کے تصادم سےشہر میں کافی بدامنی رہی۔ہر منصوبہ کا آغاز دودومرتبہ ہواایک مرتبہ سٹی گورنمنٹ والے ابتداء کرتےاوردوسری مرتبہ صوبائی گورنمنٹ والے سنگ بنیاد رکھتے ۔ تصادم کا آغاز اس ہی وقت شروع ہو گیا تھا جب شہری حکومت کی سربراہی نعمت اللہ کو ملی اورگورنری عشرت العباد کے ہاتھ لگی،ایک رات ایک پارٹی دوسری کے خلاف چاکنگ کرتی تو اگلی رات دوسری پارٹی پہلی کی مخالفت میں بینر آویزا کردیتی جن کے آخر میں تحریر ہوتا منجانب "اہل کراچی" جبکہ اہل کراچی کو تو اس معاملہ سے بے خبر ہوتے اس تصادم نے تعلیمی اداروں کو بھی کافی متاثر کیا،موقع بےموقع یہ ادارے ان پارٹیوں کی ذیلی طلبہ تنظیموں کے جھگڑوں کی وجہ سےکالج ہفتہ دس دن کے لئے بندہوئے۔ خیر اب دیکھے کیا ہوتا ہے؟ کون آتا ہے؟ جو ہو اچھا ہو ۔کوئی ایسا نہ آئے جو داغ کے متعلق ایسی رائے رکھے کہ "داغ نہیں تو سیکھنا نہیں" یا "داغ تو اچھے ہوتے ہیں" ،یہ کردار پر لگے داغ ہیں سرف ایکسل نہیں جاتے۔کیا سمجھے؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

امتحان

امتحان آ کر چلے گئے اور اس دوران ہم چَلّے(نیم پاگل) ہو گئے۔ چلو! شکر خدا کا اچھے ہو گئےدونوں امتحان بھی اور ہم بھی۔جو انہوں نے پوچھا وہ ہمیں آتاتھابلکہ یوں کہئے کہ انہوں نے وہ ہی پوچھا جو ہمیں آتا تھا،ہم نے بھی ہر سوال کا نصابی و کتابی جواب دیا اپنے پاس سے کیا لکھتے؟کچھ آتا تو لکھتے نا! اب دعا یہ ہی ہے کہ کامیابی ہمارے قدم چومے بعد میں بے شک کلی کر لے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

ذاتی تک بندی

مسکرا کے ملنے سے شکوے دور نہیں ہوتے
شکوؤں کی دوری کیلئے لڑنا بھی ضروری ہے
ہاتھ کے ملانے سے دل ملا نہیں کرتے
دلوں کے ملاپ کیلئے خیال ملنا ضروری ہے

سینے سے لگانے سے دوست بنا نہیں کرتے
کوئی دوست بنانے کیلئے اعتماد بھی ضروری ہے

مذاکرات کی میز پر جگڑے حل نہیں ہوتے
جھگڑے نمٹانے کیلئے نیت ہونا ضروری ہے

حقیقت کے بتلانے سے ساتھی سمجھا نہیں کرتے
بات سمجھ آنے کیلئے ٹھوکر کھانا ضروری ہے
مکمل تحریر پڑھیں ←

قصوری کی نیند

یہ خبر اتور انتیس مئی کی "نوائے وقت" کے صحفہ بارہ (جو آخری ہوتا ہے) میں پڑھی ذرا ملاحظہ ہو "اسلام آباد (آئن لائن) وزیز خارجہ خورشید محمود قصوری ہفتہ کو او آئ سی کی نامور شغصیات کے کمیشن کے دو روزہ اجلاس کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم شوکت عزیز کی تقریر کے دوران سٹیج پر بیٹھے سوگئے جس پر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے او آئی سی کے سیکٹرری جنرل اور ملائشیا کے وزیر خارجہ مسکراتے رہے جبکہ شرکاء بھی یہ منظر دیکھ کر محظوظ ہوتے رہے خورشید قصوری وزیر اعظم کی تقریر سے بے نیاز نیند کے مزے لیتے رہے اور گہری نیند میں جانے کے بعد انہوں نے نہ صرف خراٹے مارنے شروع کر دیئے بلکہ خود کلامی بھی شروع کر دی اس پر ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے او آئی سی کے سیکٹرری جنرل اور ملا ئشیا کے وزیر خارجہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے رہے جب کہ وزیر اعظم کی تقریر ختم ہونے کے قریب آئی تو سیکورؕؕٹی والوں نے قصوری کو اٹھا نت کے لئے ایک اہلکار کو بھیجا جس نے جا کر وزہر خارجہ کی کرسی کو ہلایا تو یکدم قصوری نیند سے بیدار ہوکر بیٹھ گئے جیسے ہی وزیر اعظم کی تقریر ختم ہوئی تو سب سے ذیادہ تالیاں بھی قصوری نے ہی بجائیں"۔ اب آپ کیا تبصرہ کریں گے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

اسلامی قانون،روشن خیالی اور ہم

کوئی قا نون کتنا ہی اچھا اور جامع کیوں نہ ہو اس نے کسی بھی معاملے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر چا ہے جتنا ہی بہتر حل واضع کیا ہو مگراگرقانون کے نفار میں بد نیتی کا مظاہرہ کیا جائے تو ساری کاوش و محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔بنایا گیا اصول بس ایک دکھاوے کی چیز بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسا ہی سلوک ہمارے ملک میں اسلامی قوانین کے ساتھ ہوتا ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل۲۰۳وفاقی شریعت کورٹ سے متعلق ہے اس کورٹ کا مقصدیہ ہے کہ یہ خود یا پاکستانی شہری کی تحریک پر یا وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت کی تحریک پر اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں کسی قانون کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ صادر کرے کہ آیا یہ قانون اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا متصارم نیز اسے کس طرح اسلامی خطوط کے مطابق بنایا جا سکتا ہے۔بعض احباب کی رائے میں دراصل اس کورٹ کا مقصدصرف دکھاوے کے طورپر نومولد قانون کے کان میں اذان دے کر اسے مسلمان بنانا ہے اس بات سے قطع نظر کہ وہ مسلمان ہوا یا نہیں۔ مگرمیرا خیال یہ ہے کہ ایسا نہیں دراصل ہم ہی عملا ٹھیک نہیں۔ذرا شریعت کورٹ کے ان فیصلوں پر نظر ڑالیں اول :شریعت کورٹ نے سود سے متعلق ۲۲قانونی دفعات کو قرآن وسنت کے خلاف اور کالعدم قرار دینے کا فیصلہ سنایا
( ۱۴نومبر ۱۹۹۱)
دوئم-تمام قسم کی لاٹریاں اسلامی احکام کے منافی ہیں (۹جنوری ۱۹۹۲) ۔ سوئم-ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم خلاف اسلام ہے (فیصلہ ۲۳ اپریل ۱۹۹۲) ۔ اس طرح کے دیگر کئ فیصلے ہیں۔ ہم نے کتنے مانے؟۔ سود والے معاملے پر اپیل کی آٹھ نو سال معاملہ لٹکا پھر بھی سپریم کورٹ نے شریعت کورٹ کے معاملے کو درست قرار دیا تو وفاق نے نظر ثانی کی اپیل کی اور فیصلہ اپنے حق میں لے لیا جی لےلیا ۔لاٹری !پنجاب حکومت کی جانب تازہ مثال ڈھائی کروڑ کا انعام والی معلوم ہے نا!۔۔۔۔ملازمت میں کوٹہ! سسٹم ختم ہوا کیا؟ اب ذرا حدودکی بات ہو جائے۔ عرض ہے کہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا اور زنا کی سزا کوڑے مارنا اور سنگسار کرنا دونوں سزائے پاکستان کے قانون کےمطابق ہیں ،حدود آرڈینس ۱۹۷۹ء،یہ قانون ضیاء الحق نے دینی جماعتوں کے کہنے پر بنوایا تھا،مگر تسلیم کرنے کی بات یہ ہے ۵ جولائی ۱۹۷۹ جب سے یہ قانون لاگو ہوا اس قانون کے تحت سزا تو دی گئی مگر اس پر عمل درآمد نہ کیا گیا،وجوہات بہت سی ہیں ،اول گواہان کے لئے رکھی گئی کڑی شرائط (ان کے لئے لازم ہے کہ انہوں نےگناہ کبیرہ نہ کیا ہو)کہ وہ تذکیہ الشعود پر پورا اترے،دوئم چوری کی صورت میں دو اور زنا کی صورت میں چار چشم دیدگواہ درکار ہیں،سوئم نام نہاد وہ این جی اوز جو مغربی فنڈ پر چلتی ہیں اور انسانی حقوق کا ڈھول بجاتی ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ زانی ہے!ہے تو انسان نا!۔۔۔۔۔ جہاں تک جدید سہولیات کے ذریعے زانی یا چور ثابت ہونے پر حدود لاء کے نفاذ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں علماء اکرام کا مشترک فتویٰ یا اجتہاد درکار ہے کہ آیا ڈی این اے ٹیسٹ ،یا کوئی آڈیو یا ویڈیو ٹیپ جو کسی جرم کو ثابت کرے اُسے کس حد تک شہادت کے طور پر قبول کیا جائےاور کس حد تک نہ کیا جائے،علماء اکرام و مفتی حضرات میں اس سلسلے دو مختلف اراء ہیں کچھ کی رائے میں حدود کا نفاذ ممکن ہے اور چند اس با ت سے انکاری ہیں،بحرحال کچھ بھی ہو لیکن امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں ایسی شہادت حدود کے نفاذ کا ذریعہ بن جائے گی،مگر اگر ابھی کسی فرد پر حدود کا نفاذ نہ ہو تو اس کا مطلب یہ نہ ہے کہ مجرم کو کچھ نہ کہا جائے گا بلکہ اس پر تعزیر کا نفاذ ہو گا یعنی مجرم کو کیا سزا دی جائے یہ قاضی پر ہے (معافی کی گنجائش نہیں) اور یہ عین اسلام ہے،پاکستان میں اس سلسلے میں مختلف قوانین موجود ہیں(تعزیرات پاکستان،ضابطہ فوجداری،ضابطہ دیوانی)۔ ان مشکلات کے علاوہ مجرم کو حدود کے مطابق سزایاب نہ کرنے کی ایک وجہ سیاسی ہے کہ اس سلسلے میں بین الاقوامی دباؤ کہ یہ سزائے انسانی حقوق کے خلاف ہیں اور ہم روشن خیالی کے بخار میں مبتلا ان کے دباؤ میں آ کر یہ سزا نہیں دیتے،اللہ ہمیں توفیق عطا کریں کہ ہم دوسروں پر یہ ظاہر کرنے کہ بجائے کہ ہم روشن خیال ہیں یہ بتا سکے کہ انہیں ہمارے مذہبی معاملات میں دخل نہیں دینا چاہئے۔ روشن خیالی کی بھی کیا بات ہے اس بیماری نے کیا کیا گل کھلائے ہیں ابھی لاہور میں اس مرض میں مبتلا افراد نے مخلوط میراتھن ریس کروائی آج خواتین سڑکوں پر مردوں کے ساتھ دوڑی ہیں کل گھروں سے دوڑی گی،بات یہ ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے لازم ہے عورت و مردشانے سے شانہ ملا کر چلے مگر شانے سے شانہ مارنہ ضروری نہیں ہے،عورت کو زندگی کے ہر شعبہ میں ہونا چاہئے مگر! مرد و عورت کو ہر لمحہ اپنی حدود سے تجاوز نہ کرنا چاہئے،ہم روشن خیالی کی وباء میں مبتلا ہو رہے ہیں اور دنیا انتہاپسندی کی طرف مائل ہے،گوانتےموبے میں قرآن پاک کی شہادت،بھارت میں بابری مسجد کہ بعد ایک مسجد اور شہید کی جارہی ہے اور فرانس نے اسکاف پر پابندی لگادی۔ قرآن میں ہے "اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ" مگر پڑھے کون؟پڑھے تو مانے کون! اہل نظرذوق نظر خوب ہے لیکن جو حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا
**********************
رات اسٹڈی کے دوران یہ جملے ذہن ہیں آئے ضبط تحریر میں لا رہا ہوں "محبوب بھی خدا کی طرح ہوتا ہے اس کی بھی پرستش کی جاتی ہے وہ اپنے عاشق کی ضروریات سے واقف بھی ہو تو چاہتا ہے کہ وہ اسے ہر ضرورت کے لئے پکارے اس سے ہاتھ اٹھا کر اپنی ضرورت کے لئے آگاہ کیا جاتا ہے اس سے بات کرنے کے لئے زبان سے گفتگو کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ دل کی زبان پر استعفادہ کرنا پڑتا ہے،اس کے قریب جانے کے لئے جسمانی قربت کی نہیں بلکہ دلی قربت چاہئے،اسے راضی کرنے کے لئے گڑگڑانا پڑتا ہے،اس کی خوشنودی کے حصول کے واسطے ہر اس کام سے اجتناب کرنا پڑتا ہے جو اسے برا لگے اور ہر وہ کام کرنا پڑتا ہے جو اسے پسند ہو،اس تعلق میں بھی بندے کو توحید کا دامن تھامنا پڑتا ہے شرک یہاں بھی جائز نہیں"۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

اسے مت پڑھے

جب میں میٹرک میں تھا تو اس دور میں میں نے یہ تحریر پڑھی حرف بہ حرف تو یاد نہیں مگر کچھ یاد ہے ممکن ہے کہ آپ نے بھی پڑھی ہوں کچھ اس طرح تھی۔ "آپ نے اس تحریر کو پڑھنا شروع کردیا جبکہ عنوان میں اسے نہ پڑھنے کی تلقین کی گئی ہے،آپ سے ایک بار پھر التماس ہے مزید پڑھنے سے اجتناب کرے اس میں آپ کے پڑھنے کو کچھ نہیں لہذا باز آجائے رک جائے وقت کے ضیائع سے گریز کریں،آگے نہ بڑھےتو بہتر ہے۔کیا بات ہے؟آپ منع نہیں ہورہےخدارا یقین کرے اس میں آپ کا فائدہ ہے رک جائے،بہت ہو گیا!عجب ڈھیٹ مٹی کے ہو! باز ہی نہیں آرہے،پڑھتے جا رہے ہو۔چلو اتناتم نے پڑھا کچھ ملا تم کو؟ نہیں نا!کچھ حاصل ہوا؟ اب تمہارا جواب نفی میں ہے،اس واسطے پھر عرض کرتا ہوں کہ اب آگے نہ پڑھنا،یار تم باز آنے والے نہیں معلوم ہوتے،کیا کرو کہ تم باز آجاؤ ،اب دیکھو میں آپ سے تم پر آگیا ہو کہیں تم سے تو نہ ہو جائے لہذا کچھ کرتا ہو،تم تو پڑھنے سے باز نہ آؤ گے ٹھیک ہے میں ہی لکھنا بند کردیتا ہو،ہون آرام ای"۔ کیسی لگی تحریر ؟اب ذرا یہ خالی جگہ تو پر کریں سموسہ کھایا نہیں اور جوتا پہنا نہیں کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں تھا۔
مکمل تحریر پڑھیں ←