ننگرپارکر سے پانچ کلو میٹرشمال مغر ب میں بوڈیسر نامی گاؤں کے پاس کارونجھر پہاڑ کے قدموں میں واقع تالاب و مسجد کو بھی شاید گاؤں کی مناسبت سے ہی بوڈیسر مسجد و بوڈیسر ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔ یہ معلوم نہیں گاؤں یا مسجد سے کس کا نام پہلے بوڈیسر رکھا گیا ؟ اگرچہ تالاب ذیادہ قدیم ہے مگر قیاس غالب ہے کہ اس تالاب یا ڈیم کو بوڈیسر کا نام بعد میں دیا گیا ہو گا۔
کارونجھر پہاڑ ی سلسلہ دراصل گرینائٹ کے ذخائر ہیں، یہ رن آف کچھ کے شمال میں واقع ہے۔رن آف کچھ کے پرانے باسیوں کو ہی کچھی کہا جاتا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد کارونجھر پہاڑ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے مگر ہم نے اسے خشک حالت میں دیکھا اور پتھروں کےبڑے سائزوہیت سے حیران ہوئے۔ پہاڑ اور قریبی زمین کی ساخت اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ کبھی ہزاروں سال پہلے یہاں دریا بہتہ ہو گا۔
بوڈیسر مسجد کے قریب لگے بورڈ کے مطابق یہ مسجد سن ۱۵۰۵ عیسوی (۸۰۸ ھجری)میں گجرات کے حاکم محمود شاہ بن مظفر بن غیاث الدین نے تعمیر کی۔ اس وقت کےا گجرات(احمد آبااد) کے حاکم ناصرالدین محمود شاہ اول مساجد کی تعمیر کا شوق رکھتے تھے اور محمود بگڑا کے نام سے مشہور تھے۔ وہ سن ۱۵۰۵ میں یہاں محمود بگڑا اور راجپوت سوڈا کے درمیان جنگ ہوئی تھی تب ہی یہ مسجد تعمیر ہوئی۔ جنگ میں کام آنے والے چندمسلم سپاہیوں کی قبریں بھی اس ہی مسجد کے قریب بنائی گئی تھی۔ بوڈیسر نام کا ایک علاقہ آج بھی بھارت کے صوبے گجرات کے ضلع کچھ کی تحصیل عبداصہ میں ہے ممکن ہے ہندوستانی مزاج کے مطابق اس مسجد کو اُس ہی علاقے کے نام پر بوڈیسر قرار دیا ہو۔ جیسا کہ ایک ہی نام کے کئی قصبے و گاوّں آباد کرنے کا رواج ہے یہاں۔پہلی مرتبہ جب ہم نے بوڈیسر کا نام سنا تو لگا جیسے بدھا سر کہا گیا ہے اور ہم جین مذہب کے خیالات میں ہونے کی وجہ سے اسے بدھ مذہب سے ملانے لگے مگر مقامی لوگوں سے تصدیق نہ ہو سکی۔
اپ ڈیٹ :پروفیسر نور احمد کاکہنا ہے کہ بوڈیسر دراصل دو الفاظ کا مرکب ہے، بودے اور سر،بوڈے ایک سابقہ حاکم بوڈے پرامر کے نام سے لیا گیا ہے کہ یہ گاوں اُس نے بنایا جبکہ سر سے مراد وہ قدرتی تالاب ہے جو بارش کے پانی سے دجود میں آتا ہے۔ یعنی قصبوں کے نام حاکم کے نام پر ہوتے ہیں اور بستے اُس میں عوام ہیں یہ کافی پرانا سلسلسہ ہے۔
ایک کہانی یہ بھی ہے کہ روجپوتوں نے اس علاقے کے بیل حاکم کو شکست دے کر اُس کا سر اس تالاب یا جھیل میں پھینکا تھا اس لئے بھی اسے بوڈیسر کہا جاتا ہے
ویسے بوڈیسر سنسکرت زبان کا لفظ بھی ہے جس سے مراد ایک مکمل طریق حیات ہے، بوڈیسر مرد و عورت کے درمیان روحانی تعلق سے لے کر، مذہبی عبادت ، مذہبی رہنما کی اطاعت، مخصوص جسمانی کسرت (غالب امکان یوگا ہے کیوں کہ اوم یوگا کا مخصوص کلمہ ہے)،جنسی تعلقات، شاعری، رقص اور فنون لطیفہ کی تمام ہی اشکال وغیرہ یعنی یوں سمجھ لیں بوڈیسر سے مراد زندگی کے اور اُس سے جھڑے تمام معاملات لیئے جاتے ہیں۔ اس لئے اگرچہ تصدیق تو نہیں ہوئی اب تک مگر یہ ہی خیال کیئے لیتے ہیں بوڈیسر دراصل یہ ہی سنسکرتی لفظ बोधसार ہے
سنگ مرمر سے بنی یہ بوڈیسر مسجد ہندو و جین مذہب کی عمارتوں کی بناوٹ سے متاثر نظر آتی ہے خاص کر کے اس کا گنبد اندرونی جانب سے جین مذہب کے مندروں سے ملتا جلتا ہے۔ قریب پانچ سو سال قبل تعمیر کی گئی یہ مسجد آج بھی بہت دلکش ہے۔
مسجد کے ساتھ ہی ایک چھوٹا تالاب یا ڈیم ہے یہ تالاب بارش کی موجودگی میں چشمے کی سی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ کارونجھر پر برسنے والا بارش کا پانی مختلف چھوٹے بڑے چشموں سے ہوتا ہوا اس تالاب کے شکم کو بھرتا ہے۔ محمود غزنوی سومناتھ کو فتح کرنے کے بعدواپسی میں اس تالاب کا مہمان ہوا تھا۔
تالاب سے کچھ فاصلہ پر جین مذہب کا ایک مندر ہے اسے آپ بوڈیسر مندر کہہ لیں گزشتہ پوسٹ میں میں نے گوری مندر بارے بتایا تھا۔ اس خطے میں ان مندروں کو دیکھ ہم یہاں کے پرانے دور کے کاریگروں کے فن تعمیر کی صلاحیت سے متاثر ہوئے ہیں۔
گوری مندر
سندھی میں اسے گوری جو مندر بتایا گیا ہے یعنی گوری کا مندر پہلے پہل سن کر خیال آیا شاید کسی رنگت کی سفید خاتون کی مناسبت سے یہ نام رکھا گیا ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ نام اس شاید گوری چی نامی جین مذہب کے پیروکار کی وجہ سے ہے جس نے اسے سن سولہویں صدی عیسوی کے شروع میں تعمیر کیا کیا تھا اگرچہ یہاں جین مذہب کے مندروں کی تعمیر 1376 ء سے ہو رہی تھی ایک روایت کے تحت یہ بھی ممکن ہے یہ تب ہی تعمیر ہوا ہو ۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ اسےایک جین مذہب کے پیروکار مینگھو نے تعمیر کیا تھا جوپاری ننگر کا رہائشی تھا،جو کہ پیرس ناتھ پرسوپو کا ماننے والا تھا، یہ پیرس ناتھ پرسوپو وہیجوصاحب خود گورو گورتھ ناتھ کا مرید تھا۔جو پیرس ناتھ پرسوپو وہیجوصاحب گوری چی خاندان سے تھے اس بناء پر اس مندر گوری مندر کے نام سے جانا جارا ہے۔یہ مندر جین مذہب کے فرقے شویت امبر کے پیروکاروں کا مانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بطورمذہبی مدرسہ کے جین مذہب کے پیروکار استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایک روایت یوں بھی ہے کہ یہ گوری نہیں گودی ہے گودی جی پرشاناتھ کی مناسبت سے، گودی جی پرشادناتھ دراصل جین مذہب کے تیسویں گرو یا پیغمبر تھےجین مذہب کے کُل چوبیس گرو یا پیغمبر ہیں۔مگر مقامی آبادی چونکہ اسے گوری مندر کہتے ہیں لہذا ہم بھی گوری مندر ہی لکھ رہے ہیں۔
اس مندر کی تاریخ کی کئی روایات ہے بہرحال یہ مندر اسلام کوٹ اور ننگرپارکر کے درمیان واقع یہ جین مذہب کا مندر ماروی کے گاوں سے قریب چار میل کے فاصلے پر ہے۔ تھرپارکر میں ننگرپارکر کا علاقہ میں کبھی جین مذہب کے کافی پیروکار آباد تھے سنا ہے قریب پچاس کے لگ بھگ یہاں جین مذہب کے چھوٹے بڑے مندر ہیں، ہم نے دو ہی کامشاہدہ کیا ہے۔
اس مندر کی تعمیر میں ماربل کا پتھر استعمال کیا گیا ہے خیال کیا جاتا ہے یہ پتھر گجرات سے لایا گیا تھا۔مندر کی تعمیرقدیم قرون وسطی طرز کی ہے۔تقریبا پچاس کے لگ بھگ چھوٹے بڑے گنبد اس مندر کی چھت پر موجودہیں۔مندر کی بیرونی بارہ دری والے گنبدکی اندرونی جانب نقش نگاری کی گئی ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ نقش و نگار دراصل جین مذہب کے چوبیس گروز کی تشبیہ ہیں اور اس کے علاوہ عبادات کے مناظر و جانوروں (گھوڑا،ہاتھی وغیرہ) کی تشبیہات ہیں۔
اس وقت یہ مندر تباہی کا شکار ہے تیس فیصد مندر ٹوٹ چکا ہے مندر کے اندر چمگاڈروں کا بسیرا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے لوگوں کو متنبہ کرنے کو جو بورڈ لگا رکھا ہے وہ خود زمین بوس ہو رہا ہے اور اُس پر سے تنبیہ تحریر مٹ چکی ہے تو مندر کی حفاظت کا امکان ہی نظر نہیں آتا۔ زیر میں مندر کی چند تصاویر آپ کے دیکھنے کو دی جا رہی ہیں اندازہ لگائے کیسا اثاثہ تباہ ہو رہاہے کیسی تاریخی عمارت تاریک ہو رہے ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
اس مندر کی تاریخ کی کئی روایات ہے بہرحال یہ مندر اسلام کوٹ اور ننگرپارکر کے درمیان واقع یہ جین مذہب کا مندر ماروی کے گاوں سے قریب چار میل کے فاصلے پر ہے۔ تھرپارکر میں ننگرپارکر کا علاقہ میں کبھی جین مذہب کے کافی پیروکار آباد تھے سنا ہے قریب پچاس کے لگ بھگ یہاں جین مذہب کے چھوٹے بڑے مندر ہیں، ہم نے دو ہی کامشاہدہ کیا ہے۔
اس مندر کی تعمیر میں ماربل کا پتھر استعمال کیا گیا ہے خیال کیا جاتا ہے یہ پتھر گجرات سے لایا گیا تھا۔مندر کی تعمیرقدیم قرون وسطی طرز کی ہے۔تقریبا پچاس کے لگ بھگ چھوٹے بڑے گنبد اس مندر کی چھت پر موجودہیں۔مندر کی بیرونی بارہ دری والے گنبدکی اندرونی جانب نقش نگاری کی گئی ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ نقش و نگار دراصل جین مذہب کے چوبیس گروز کی تشبیہ ہیں اور اس کے علاوہ عبادات کے مناظر و جانوروں (گھوڑا،ہاتھی وغیرہ) کی تشبیہات ہیں۔
اس وقت یہ مندر تباہی کا شکار ہے تیس فیصد مندر ٹوٹ چکا ہے مندر کے اندر چمگاڈروں کا بسیرا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے لوگوں کو متنبہ کرنے کو جو بورڈ لگا رکھا ہے وہ خود زمین بوس ہو رہا ہے اور اُس پر سے تنبیہ تحریر مٹ چکی ہے تو مندر کی حفاظت کا امکان ہی نظر نہیں آتا۔ زیر میں مندر کی چند تصاویر آپ کے دیکھنے کو دی جا رہی ہیں اندازہ لگائے کیسا اثاثہ تباہ ہو رہاہے کیسی تاریخی عمارت تاریک ہو رہے ہے۔
تھر کا قحط، گداگری اور ہم
آپ روزانہ میڈیا میں تھر میں مٹھی کے سول ہسپتال میں نومود بچے کی ہلاکت کی خبر سنتے ہیں اور خبر کی جزیات سے یہ تاثر لیا جاتا ہے کہ یہ اموات ضلع میں قحط کی وجہ سے ہیں۔ قحط سے مراد کم یابی یا نایابی یا کال ہے تو معذرت تھر میں قحط نہیں مگر قحط سے مراد ہم یہ لیں کہ بازار میں کھانے کو ہے مگر جیب میں خریدنے کو کچھ نہیں تو یقین جاتے یہ قحط ملک کے کئی گھروں میں ہیں ۔ ایسے گھروں کے مکینوں کو ہم غریب کہتے ہیں اور یہ غربت واقعی تھر میں ذیادہ ہے۔
اس سال تھر میں کم بارشیں ہوئی ہیں، کسی حد تک فصل نہیں ہوئی پائی یہاں کاشت کاری بارش پر منصر ہے مگر معمول سے کم بارش ہونے سے نہ تو اچھی فصل ہو پائے گی اور نہ جانوروں کے لئے چارہ۔ مگر عمومی حالت قحط کی سی نہیں ہاں اگلے سال بارش نہ ہو تو خوراک کی نایابی کے امکان کو رد کرنا مشکل ہو گا۔
نومولود بچوں کی ہلاکت کی اصل وجہ زچہ کو دوران حمل اچھی خوراک کا نہ ملنا ہیں ۔ دوسرا طبعی سہولیات کا فقدان ہے۔ مٹھی شہر کے ہسپتال میں بچوں کے لئے سہولیات ضلع کے باقی ہسپتالوں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ اس لئے آخری کوشش کے طور پر نومود بچوں کوعموما تب اس ہسپتال میں پہنچتے ہیں جب وہ ڈاکٹر کے علاج سے بھی زندگی کی جدوجہد جیتنے کے قابل نہیں رہتے
۔ قحط سے مراد کمی یا نایابی ہے ، مگر یہاں تھر میں خوراک کی کمی یا نایابی نہیں ہے البتہ تعلیم، طبعی سہولیات ، مواصلات کی کمی یا نایابی ضرور ہے۔ ملک کے باقی حصوں کی طرح یہاں بھی کرپشن و انتظامی بد عنوانی پائی جاتی ہے۔ حکومت نے پانی کی فراہمی کے لئے مختلف جگہوں پر water plant لگائے ہیں مگر کرپشن و انتظامی بد عنوانی کی بناء پر ان پلانٹس کو چلانے کی رقم خردبرد ہو جاتی ہے یوں یہ پانی کی فراہمی کے پلانٹس یا تو بند ہے یا بہت کم کام کرتے ہیں۔
میڈیا تصویر کا اصل رُخ دیکھانے کے بجائے وہ رُخ دیکھا رہا ہے جو اصل حقیقت نہیں۔ الیکٹرونک میڈیا کی نمائندے مٹھی شہر آتے ہیں رات ریسٹ ہاوس میں گزارتے ہیں صبح ماروی کا گاوں گھومنے جاتے ہیں، ننگر کی جھیل ، مسجد و مندر کی سیر کرتے ہیں اور شام میں ایک پروگرام ریکاڑد کر کے قحط قحط کا شور مچاتے ہیں۔ کیا اچھا ہو کہ وہ بتائیں کہ تھرپارکر کے ضلعی ہیڈکواٹر کے علاوہ مقامی تحصیلوں کے دور دراز علاقوں میں طبعی سہولیات کی فراہمی نومود بچوں کو موت سے بچا سکتی ہے۔ وہ بتائیں کہ مقامی لوگوں کو آگاہ کیا جائے کہ زچہ کو دوران حمل عمدہ خوارک صحت مند بچے کی پیدائش کا سبب بنی گی ۔
مگر یوں لگتا ہے کہ ہم گداگر بنتے جا رہے ہیں ہماری مثال باحیثیت قوم اُس بندے کی سی ہوتی جا رہے ہے جو سڑک کنارے سگنل بند ہونے پر کھڑی گاڑیوں کے مسافروں کواپنا زخم دیکھا کر کہتا ہے "اللہ کے نام پر دیتا جا رے، جو دے اُس کا بھی بھلا جو نہ دے اُس کا بھی بھلا" ۔۔۔۔۔۔ قحط کا شور ہمارا ایسا ہی زخم ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
اس سال تھر میں کم بارشیں ہوئی ہیں، کسی حد تک فصل نہیں ہوئی پائی یہاں کاشت کاری بارش پر منصر ہے مگر معمول سے کم بارش ہونے سے نہ تو اچھی فصل ہو پائے گی اور نہ جانوروں کے لئے چارہ۔ مگر عمومی حالت قحط کی سی نہیں ہاں اگلے سال بارش نہ ہو تو خوراک کی نایابی کے امکان کو رد کرنا مشکل ہو گا۔
نومولود بچوں کی ہلاکت کی اصل وجہ زچہ کو دوران حمل اچھی خوراک کا نہ ملنا ہیں ۔ دوسرا طبعی سہولیات کا فقدان ہے۔ مٹھی شہر کے ہسپتال میں بچوں کے لئے سہولیات ضلع کے باقی ہسپتالوں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ اس لئے آخری کوشش کے طور پر نومود بچوں کوعموما تب اس ہسپتال میں پہنچتے ہیں جب وہ ڈاکٹر کے علاج سے بھی زندگی کی جدوجہد جیتنے کے قابل نہیں رہتے
۔ قحط سے مراد کمی یا نایابی ہے ، مگر یہاں تھر میں خوراک کی کمی یا نایابی نہیں ہے البتہ تعلیم، طبعی سہولیات ، مواصلات کی کمی یا نایابی ضرور ہے۔ ملک کے باقی حصوں کی طرح یہاں بھی کرپشن و انتظامی بد عنوانی پائی جاتی ہے۔ حکومت نے پانی کی فراہمی کے لئے مختلف جگہوں پر water plant لگائے ہیں مگر کرپشن و انتظامی بد عنوانی کی بناء پر ان پلانٹس کو چلانے کی رقم خردبرد ہو جاتی ہے یوں یہ پانی کی فراہمی کے پلانٹس یا تو بند ہے یا بہت کم کام کرتے ہیں۔
میڈیا تصویر کا اصل رُخ دیکھانے کے بجائے وہ رُخ دیکھا رہا ہے جو اصل حقیقت نہیں۔ الیکٹرونک میڈیا کی نمائندے مٹھی شہر آتے ہیں رات ریسٹ ہاوس میں گزارتے ہیں صبح ماروی کا گاوں گھومنے جاتے ہیں، ننگر کی جھیل ، مسجد و مندر کی سیر کرتے ہیں اور شام میں ایک پروگرام ریکاڑد کر کے قحط قحط کا شور مچاتے ہیں۔ کیا اچھا ہو کہ وہ بتائیں کہ تھرپارکر کے ضلعی ہیڈکواٹر کے علاوہ مقامی تحصیلوں کے دور دراز علاقوں میں طبعی سہولیات کی فراہمی نومود بچوں کو موت سے بچا سکتی ہے۔ وہ بتائیں کہ مقامی لوگوں کو آگاہ کیا جائے کہ زچہ کو دوران حمل عمدہ خوارک صحت مند بچے کی پیدائش کا سبب بنی گی ۔
مگر یوں لگتا ہے کہ ہم گداگر بنتے جا رہے ہیں ہماری مثال باحیثیت قوم اُس بندے کی سی ہوتی جا رہے ہے جو سڑک کنارے سگنل بند ہونے پر کھڑی گاڑیوں کے مسافروں کواپنا زخم دیکھا کر کہتا ہے "اللہ کے نام پر دیتا جا رے، جو دے اُس کا بھی بھلا جو نہ دے اُس کا بھی بھلا" ۔۔۔۔۔۔ قحط کا شور ہمارا ایسا ہی زخم ہے۔
شوشل میڈیائی اسٹیٹس
گزشتہ دنوں ہمارے چند فیس بک و ٹویٹری اسٹیٹس جو ہم نے لگائے ذیل میں ہیں خالض ہمارے اپنے ۔
اور آخر میں گزشتہ دنوںہونے والا ایک ٹیلیفونک مکالمہ .
ہیلو جی آپ میری آئی ڈی کو جعلی کیو سمجھتے ہیں؟
"کون بول رہا ہے"
وہ جسے آپ نے میسج میں کہا کہ میں لڑکا ہوں
"اچھا تو پھر"
دیکھیں اب تو آپ کو یقین آ گیا ناں میں لڑکی ہوں اب ریکویسٹ منظور کر لیں۔ ایس ایم بھی کیا مگر آپ مانے نہیں
"نمبر کہاں سے لیا میرا"
پروفائل سے
"اچھا"
تو اب آپ ایڈ رہے ہیں ناں
"نہیں"
کیوں؟ اب کیوں نہیں
"بی بی اتنی بے باک و بے خوف لڑکیوں سے دوستی سے میں اجتناب کرتا ہوں"
مٹھی جانے کا یہ مطلب تو نہیں کہ بندہ واقعی دیہاتیوں والی سوچ پال لے۔ چلیں پھر بات کرو گی۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
وہ کہتے ہیں "محبت فاتح عالم"، اب انہیں کیا کہیں جو محبت محبوب نہ جیت سکے اُس سے عالم فتح کر کے عاشق نے کیا لینا ہے۔ #خیال
مجرا مجرا ہوتا ہے چاہے کنجری کرے یا شریف زادی۔ اعضاء کی شاعری کہنے سے اُس کی خرابی کم نہیں ہوتی۔ #خیال
محبت مانگنے والے زندگی برباد نہ کر #خیال
لوگ محبت کی دلیل دینے کو دل ہار جانے کی بات کرتے ہیں مگر اُس کا کیا کیا جائے جو روح میں اُتر گیا ہو؟ #خیال
اے میرے رب مجھے ہمیشہ حلال طریقے اور ذریعے سے پیٹ و نفس کی بھوک مٹانے کی توفیق عطا کر۔ #دعا
یااللہ اس فانی زندگی کی اُن کامیابیوں سے بچانا جو میری ابدی زندگی کی بربادی وجہ بنے۔ #دعا
دعائیں سننے والے دیر نہ کیا کر #خواہش
کچھ آنکھوں کے کرب چہرے کی مسکراہت سے بھی کم نہیں ہوتے۔ #تجربہ
جہالت سے بہتر موت ہے۔
وطن میں غیر ہوئے پھرتے ہیں
لوگوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا چاہے جلسہ ہو یا جمہوریت۔
اپنی قابلیت سے ذیادہ معاوضہ بھی دراصل کرپشن و رشوت کی ایک شکل ہے ۔ (ماخوذ)
ویسے ناکامی پر ہنسنے کا مزا کامیابی پر خوشی کے آنسو بہانے سے ذیادہ آتا ہے۔
اخلاق انسان کی پہچان کروا دیتا ہے.
اور آخر میں گزشتہ دنوںہونے والا ایک ٹیلیفونک مکالمہ .
ہیلو جی آپ میری آئی ڈی کو جعلی کیو سمجھتے ہیں؟
"کون بول رہا ہے"
وہ جسے آپ نے میسج میں کہا کہ میں لڑکا ہوں
"اچھا تو پھر"
دیکھیں اب تو آپ کو یقین آ گیا ناں میں لڑکی ہوں اب ریکویسٹ منظور کر لیں۔ ایس ایم بھی کیا مگر آپ مانے نہیں
"نمبر کہاں سے لیا میرا"
پروفائل سے
"اچھا"
تو اب آپ ایڈ رہے ہیں ناں
"نہیں"
کیوں؟ اب کیوں نہیں
"بی بی اتنی بے باک و بے خوف لڑکیوں سے دوستی سے میں اجتناب کرتا ہوں"
مٹھی جانے کا یہ مطلب تو نہیں کہ بندہ واقعی دیہاتیوں والی سوچ پال لے۔ چلیں پھر بات کرو گی۔
بے ربط باتیں
ادب میں میں پائے جانے والے بے ادب مواد کی وجہ سے خاندان کے بزرگ کم عمر بچوں سے ادب کو چھپا کر رکھتے ہیں اور ادب کے خالق بے ادبی کی کاوش کو عشق مجازی باور کرواتے ہوئے عشق حقیقی کو منزل بتاتا ہے۔شاید اسی لئے بگاڑ ایسا آتا ہے کہ ایک نسل دنیا پتل دی پر سنی لیون کے ٹھمکو پر مدہوش ہونے لگتی ہے۔
اگر صوفیوں نے اللہ کی محبت کو بیان کرنے کے لئے دنیا کی محبت کے قصوں کو مثال بنا کر پیش کیا تو اسے بنیاد بنا کراہل دانش کو ہر اپنی نسل کو یہ باور کروانے کی سہی نہیں کرنی چاہئے کہ جنس مخالف کی کشش دراصل محبت کی ایک شکل ہے اور محبت کی شدت عشق کا وہ مقام ہے جس میں ملن نہ ہو تو بندہ ولی کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
عشق مجازی کو عشق حقیقی کا راستہ بتانے والے ایک ایسی کنفیوز جنریشن کی وجہ بن سکتے ہیں جو محبت، عشق اور ہوس میں فرق کرنے سے قاصر ہو۔
(کافی دنوں سے یہ نامکمل تحریر پڑی ہوئی ہے شاید نامکمل ہے رہے اس لئے ایسے ہی بلاگ پر ڈال دی)
مکمل تحریر پڑھیں ←
اگر صوفیوں نے اللہ کی محبت کو بیان کرنے کے لئے دنیا کی محبت کے قصوں کو مثال بنا کر پیش کیا تو اسے بنیاد بنا کراہل دانش کو ہر اپنی نسل کو یہ باور کروانے کی سہی نہیں کرنی چاہئے کہ جنس مخالف کی کشش دراصل محبت کی ایک شکل ہے اور محبت کی شدت عشق کا وہ مقام ہے جس میں ملن نہ ہو تو بندہ ولی کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
عشق مجازی کو عشق حقیقی کا راستہ بتانے والے ایک ایسی کنفیوز جنریشن کی وجہ بن سکتے ہیں جو محبت، عشق اور ہوس میں فرق کرنے سے قاصر ہو۔
(کافی دنوں سے یہ نامکمل تحریر پڑی ہوئی ہے شاید نامکمل ہے رہے اس لئے ایسے ہی بلاگ پر ڈال دی)
ناکامی کسی کا مقدر نہیں
کسی کو ناکام کرنے کو فقط اتنا کافی ہے کہ اُس سے جیت کی امید چھین لی جائے، جیت کی امید کے خاتمے کے ساتھ ہی کامیابی کی جدوجہد دم توڑ جاتی ہے۔ کامیابی کی امید باقی ہو تو ناکامی کا خوف جدوجہد کے لئے تیل کا کام کرتا ہے یعنی جستجو مزید تیز ہو جاتی ہے۔ ایسا فقط فرد کے لئے ہی نہیں بلکہ افراد کے ایک گرو یا قوم کے لئے بھی درست ہے۔ جیت کی امید کے خاتمے سے اگلا مقام یہ ہے کہ فرد ہار یا ناکامی کو ہی اپنا مقدر سمجھے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم وطنوں سے جیت کی امید ہی نہیں چھین لی گئی بلکہ یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ ہار یا ناکامی آپ کا مقدر ہے۔ ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں نااہل افراد اقرباپروری یا دولت کے زور پر قابض ہو گے یا ہیں اور اُن کا مقدر یہاں اس وطن میں نہیں۔ قابل آدمی ناکام ہو کر مایوسی پال لے تو اُس کی صحبت کئی دیگروں کو بھی اس بیماری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یوں اس بیماری کے مریض بڑھتے جاتے ہیں ۔
مگر حقیقت میں قابل آدمی ہمیشہ دوسروں کی ضرورت ہی نہیں مجبوری ہوتا ہے آپ اپنی قابلیت میں اضافہ کرے یقین کریں آپ بھی ضرورت نہیں سامنے والی کی مجبوری بن جائیں گے۔ تجربے نے یہ بات سکھائی ہے کہ ہر نااہل کو ایک اہل بندہ درکار ہوتا ہے اور اگر آگے جانے کی جستجو برقرار رہے تو راستے بھی ذہین لوگ بناتے ہیں۔ مایوس ہونے والے دراصل وہ ہوتے ہیں جو ہار و ناکامی کو مقدر مان لے۔
ہاں ایسی کامیابی کے لئے بس جدوجہد و انتظار ضروری ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم وطنوں سے جیت کی امید ہی نہیں چھین لی گئی بلکہ یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ ہار یا ناکامی آپ کا مقدر ہے۔ ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں نااہل افراد اقرباپروری یا دولت کے زور پر قابض ہو گے یا ہیں اور اُن کا مقدر یہاں اس وطن میں نہیں۔ قابل آدمی ناکام ہو کر مایوسی پال لے تو اُس کی صحبت کئی دیگروں کو بھی اس بیماری میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یوں اس بیماری کے مریض بڑھتے جاتے ہیں ۔
مگر حقیقت میں قابل آدمی ہمیشہ دوسروں کی ضرورت ہی نہیں مجبوری ہوتا ہے آپ اپنی قابلیت میں اضافہ کرے یقین کریں آپ بھی ضرورت نہیں سامنے والی کی مجبوری بن جائیں گے۔ تجربے نے یہ بات سکھائی ہے کہ ہر نااہل کو ایک اہل بندہ درکار ہوتا ہے اور اگر آگے جانے کی جستجو برقرار رہے تو راستے بھی ذہین لوگ بناتے ہیں۔ مایوس ہونے والے دراصل وہ ہوتے ہیں جو ہار و ناکامی کو مقدر مان لے۔
ہاں ایسی کامیابی کے لئے بس جدوجہد و انتظار ضروری ہے۔
خود غرضی!!
جب ہم کہتے ہیں کہ سب کی اپنی اپنی غرض ہے کسی کو میری پرواہ نہیں کو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم تسلیم ہیں کہ ہم بھی اپنی ذات میں خود غرض ہیں اور چاہتے ہیں کہ لو گ ہماری پرواہ کریں! لیکن اپنے رویے اور سوچ میں یہ خیال لئے ہوتے ہیں کہ ہم خود غرض نہیں۔
مکمل تحریر پڑھیں ←


















































