مدد درکار ہے۔۔۔۔۔بلاگ کے سلسلے میں کوئی کر سکے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آپیرا میں اودوویب پیڈ کام نہیں کر رہا، اگر بلاگ پر موجود کی بورڈ سے کلک کرو تو لکھا جاتا ہے مگر دوسری طرح نہیں۔۔۔۔ دوسرا یہ کی اشتہاری تبصروں سے بچنے کے لئے میں تبصرہ سسٹم میں کیسے تبدیلی کرو(ویسے تو ابھی تک کوئی اشتہاری تبصرہ بلاگ پر نہیں ہوا) وہ آن کرنا تو آتا ہے مگر تبصرہ فارم میں (بلاگ میں ہی) شامل کرنے سے قاصر رہا ہو۔۔۔حارث اور انکل اجمل کے تبصرہ سسٹم سے (سورس دیکھ کر) کوڈ کاپی کیا(صرف الفاظ دوبارہ لکھے والا) مگر وہ ٹھیک طرح کام نہیں کررہا کیا کسی کے پاس حل ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟ انکل اجمل کا کیا گیا تبصرہ ہر مرتبہ ایک آدھ دن گزر جانے کے بعد خود باخود نامعلوم کیوں! (میں نہیں کرتا)غائب ہوجاتا ہے۔۔۔اس کی اجہ اور حل کسے کو معلوم ہے۔۔۔یا انکل آپ خود مٹا دیتے ہیں؟؟؟؟؟ ایک بات اور یہ کہ کیا اب بھی تبصرہ فارم میں ریاضی کے عجیب و غریب فارمولے آتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟ بتا دے شکر گزار ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ××××××× کیا آپ کے لئے یہ ممکن ہے کہ آپ اپنی سالگرہ کے دن سے مجھے آگا ہ کر دے؟؟؟اگر ہاں تو یہاں پر بتا دے۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

انگوٹھا

یوں تو انسانی جسم کے تمام اعضاء بہت اہم ہیں کئی ایسے جو خود انسانی زندگی کی بقاء کے لئے ضروری نھی۔۔۔۔۔۔ان میں انگوٹھے کی ایک اپنی الگ سیاسی، معاشی(؟)،معاشرتی، اخلاقی اور ذاتی حیثیت ہے۔اختلاف؟؟ کرلو۔۔مگر ہمارے پاس بھی اپنے دلائل ہیں۔

ہر بندے کےپاس کل چار انگوٹھے ہوتے ہیں(دو پاؤں کے اور دو ہاتھوں کے) ،ان کے بڑے فائدے ہیں۔۔۔پاؤں کا انگوٹھا اگر نہ ہو تو ہوائی چپل(اس کا تعلق جزیرہ ہوائی سے نہیں) نہیں پہنی جا سکتی۔۔۔علم نجوم نے بھی پاؤں کے انگوٹھے کو اہم گردانا ہے، بتاتے ہیں کہ اس کے پڑوس کی انگلی اگر بڑی ہوتو آپ کا اپنی(یا اپنے) شریک حیات پر رعب ہوتا ہے؛ اسی وجہ سے ہمارے ایک دوست نے گھر والوں کے سامنے شرط رکھی کہ“میری کسی پر نہیں(حکمرانی) چلتی سب مجھ پر (حکم) چلاتے ہیں لہذا بہتر ہے میری بیوی وہ بنائی جائے جس کے پاؤں کے انگوٹھے کے برابر والی انگلی چھوٹی ہو کہ کہیں تو میری بھی(حکمرانی) چلے“ ، تب اُن کی امی نے بیٹے کی خواہش پر ایک رشتہ دیکھتے وقت پاؤں دیکھنے کے لئے لڑکی سے جوتا اتارنے کے لئے کہا تو بولی“آنٹی آپ امی(چبا کر) تو بنے پھر موقع بے موقع جوتی اتارا کرو گی“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس طرح ہاتھی کے دانت دیکھانے کے اور اور کھانے کے اور ہوتے ہیں اسی طرح انسانی انگوٹھا دیکھانے میں اور ہوتا ہے اور لگانے میں اور۔۔۔اگر یہ مٹھی کے اوپر چست حالت میں ہوتا “زبردست“،“شاباش“ کے معنی میں آتا ہے مگر اگر یہ جھول رہا ہوتو چڑانے کے معنی میں اس صورت میں اسے ٹھینگا کہتے ہیں لیکن اگر اس کا رخ زمین کی طرف ہو تو اس کا مقصد نیچا دیکھانا ہوتا ہے۔۔۔(یہ اشارے اگر کوئی دوسرا آپ کے لئے بھی کر سکتا ہے اور بوقت ضرورت آپ بھی دوسروں کے خلاف)۔

نا خواندہ یا ان پڑھ افراد کا انگوٹھا پڑھا لکھا ہوتا ہے تب ہی تو مختلف قانونی دستاویزات پر دستخط کی جگہ جا بجا استعمال ہوتا ہے ان کی جانب سے۔۔۔۔۔یار لوگ ان کو انگوٹھا چھاپ کہتے ہیں ویسے اکثر موقعہ پر خواندہ خضرات بھی انگوٹھا چھاپ بن جاتے ہیں!!کبھی ووٹ ڈالنے جائے یا شناختی کارڈ بنوانے!!

آپ کے انگوٹھے کی پوزیشن میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔چلے تبصرہ میں بتا دے!!!!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

I'm.....

I'm an ordinary man Who desires nothing more Than just an ordinary chance To live exactly as he likes And do precisely what he wants. An average man am I, Of no eccentric whim, Who likes to live his life, free of strife, Doing whatever he thinks is best for him. Oh, Just an ordinary man. I'm a quiet living man, Who prefers to spend the evenings In the silence of his room; Who likes an atmosphere as restful As an undiscovered tomb. A pensive man am I, Of philosophic joys; Who likes to meditate, contemplate, Free from humanity's mad inhuman noise. A quiet living man. Professor Higgins
مکمل تحریر پڑھیں ←

مکالمے

تم “جیو“ ٹی وی دیکھتے ہو؟ ہاں! کیوں؟ دیکھو! وہ اپنی ہر نیوز سیگمنٹ کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ان کے نام یوں رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ “جیو نیوز“، “جیو دنیا“، “جیو ٹریول“، “جیو انٹرٹینمنٹ“، “جیو کھیل“، “جیو کرکٹ“، “جیو ہاکی“ وغیرہ تو! ذرا سوچو! اگر وہ جرائم سے متعلق خبروں کے لئے ایک سیگمنٹ بنائے تو اس کا کیا نام رکھے گے؟ بھلا !کیا؟ “جیو جرائم“
××××××××××××
تم نے وہ اپنے صدر کا بیان سنا! ارے کس بیان کی بات کر رہے ہو! وہ تو ہر وقت ہی بیان دیتے رہتے ہیں؟ یار! وہ ویزہ اور دولت سے متعلق مظلوم خواتین پر جوالزام دھرا ہے ہاں یار نہایت بچگانہ بیان ہے شرم نہ آئی اسے۔۔۔۔۔ ہاں!ہاں!مگر کچھ معلوم ہے کیوں دیا ہے؟ کیوں دیا ہے؟ بھائی “پروفیشنل جیلسی“ہے کیا بکواس ہے یہ بیان اور پروفیشنل جیلسی؟ دماغ تو ٹھیک ہے تمھارا! بھائی! یہ ان جی اوز اور صدر دونوں مغرب کے کہنے پر ملک میں “روشن خیالی“ عام کر رہے ہیں نا! ہاں تو پھر! اب! سمجھ جاؤ ایک فریق دوسرے کی کامیابی پر جیلس نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا!
مکمل تحریر پڑھیں ←

اسراءیل منظور یا نا منظور؟؟؟؟

پاکستان اور اسرائیل کے مابین تعلقات پر “پی آر کمار“ کی کتاب“پردہ کے دوسری طرف“ پڑھی۔۔۔ پڑھ کر احساس ہوا پاک اسرائیل تعلقات کے ہامی شائد یہ ہی کتاب پڑھ کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرتے ہیں۔۔۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس کتاب کے کئی واقعات حرف بہ حرف درست ہیں۔۔۔ مگر کمار نے اسے اپنے انداز میں دیکھا ہے۔۔۔ اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے تسلیم کرنے سے متعلق تمام دلائل کو اس کتاب میں یکجا کردیا گیا ہے۔۔۔میں چاہو گا کہ آپ (اگر وقت ہو تو) اسے ضرور پڑھے۔۔۔۔ مگر ساتھ ہی میں یہاں ان دلائل اور تاریخی واقعات کو بیان کر دو جو اسرائیل مخالف پیش کرتے ہیں (غلط وہ بھی نہیں) عالمی صیہونی کانگریس کے صدر وائزمین نے ١٩١٤ء میں فلسطین کے بارے میں کہا؛“ایک ملک جس کی کوئی قوم نہیں،ایسی قوم جس کا کوئی ملک نہیں“ ١٩١٧ میں برطانیہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ الفور نے جب فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا (یہ اعلان الفور کے نام سے منسوب ہے) تو قائد اعظم نے اس کی مخالفت سخت الفاظ میں کی تھی ، ان کی رائے میں اسرائیل کا قیام عالمی سازش ہے،یہ ریاست دراصل عربوں کے سینے میں ایک خنجر ہے جس سے ہمیشہ عربوں کا سینہ زخمی رہےگا۔۔۔ کہتے ہیں عالمی صیہونی تحریک نے ١٩١٩ میں ورسائی امن کانفرنس مے موقع پر اپنی مجوزہ یہودی ریاست کا جو نقشہ پیش کیا تھا اس کی رو سےاسرائیم مشتمل ہو گا مصر دریائے نیل تک، پورا شام، پورا لبنان، عراق کا بڑا حصہ، ترکی کا ضنوی حصہ اور مدینہ منورہ تک حجاز کا پورا علاقہ۔ ١٩٢٢ سے ١٩١٤٧ تک یہودی پوری دنیا سے آ کر فلسطین میں اس ریاست کے قیام کی غرض سے جمع ہوتے رہے،وہ مکانات کرائے پر لیتے اور اگر کوئی کرائے پر نہ دیتا تو منہ مانگی قیمت یا اصل سے کئی ذیادہ کئی ذیادہ قیمت لگا کر مکان خرید لیتے۔۔۔ ١٩٣٨ میں ڈیوڈ بن گوریاں نے یہودی لیڈروں کے سامنے کہا؛“ ہم باہر کی دنیا میں الفاظ کی جنگ کے ذریعے عربوں کی مخالفت کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمیں اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم ظالم اور جارح ہیں عرب صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں“۔ جرمنی کا مشہور رہنما ہٹلر کی ان کے بارے میں رائے تھی کہ دنیا میں ہر بیماری کے جراثیم ہونے ہیں اور برائی دنیا کی سب سے بڑی بیماری ہے۔اس بیماری کے جراثیم یہودی ہیں وہ سمجتا تھا کہ دینا کی لسی برائی کی جڑ تک پہنچا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا آغاز کسی یہودی دماغ سے ہوا ہے(اختلاف آپ کا اور میرا حق ہے) ہٹلر کے ہولوکاسٹ کے بعد جولائی ١٩٣٩ میں فرانس میں ٣٢ ممالک کے نمائیدے اس بات پر غور کرنے جمع ہوئے کہ کون کتنے یہودیوں کو پناہ دے گا یا دے سکتا ہے تب فرانس، ہالینڈ، ڈنمارک، امریکہ، یوروگوئے اور ونیزویلا نے کسی بھی یہودی کو پناہ دینے سے انکار کردیا۔۔۔یہ بیس ہراز یہودی فلسطین میں لا کر بسائے گئے۔۔۔ہٹلر سے ان بیس ہزار یہودیوں کو نجات دلانے والے سویڈش صلیب احمر کے سربراہ کاونٹ فوک برناڈاٹ کو انتہا پسند صیہونی تنظیم “سٹرن کینگ“ کے سربراہ اساق شیمر کے حکم پر اہل فلسطین کے حق میں اہم بیان دینے کے جرم میں قتل کردیا جس میں اس نے فلسطینوں کے حقوق اور ملکیت جائیداد کے متعلق کہا تھا۔۔۔ نومبر ١٩٤٧ میں امریکی دباؤ کے تحت اقوام متحدہ نے فلسطین کو “عارضی“ طور پر دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی تو پاکستان سمیت تمام عرب ممالک نے اس کی مخالفت کی۔۔۔۔اس سے پہلے ٢٥ اکتوبر کو رائٹر کو انٹرویوں دیتے ہوئے قائداعظم نے کہا تھا؛“ فلسطین کے بارے میں ہمارے موقف کی وضاحت ہمارے نمائندے نے اقوام متحدہ میں کردی ہے۔مجھے اب بھی امید ہے کہ تقسیم فلسطین کا منصوبہ مسترد کردیا جائے گاورنہ ایک خوفناک کشمکش محض عربوں اور تقسیم کا منصوبہ نافذ کرنے والوں کے درمیان نہ ہو گا بلکہ پوری اسلامی دنیا کے خلاف بغاوت کرے گی کیوں کہ ایسے فیصلے(اسرائیل کے قیام) کی حمایت نہ تو تاریخی اعتبار سے کی جا سکتی اور نہ سیاسی اور اخلاقی طور پر۔ایسے حالات میں پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا کہ عربوں کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرے“۔ اسرائیل کے قیام کے بعد یہود نے اس علاقے پر اپنا تسلط مضبوط کرنے کے لئے ہر غیر اخلاقی اقدام روا رکھا، زور،زبردستی۔۔۔حد دیکھے کہ اپنی عدالتیں قائم کی جن میں جائداد سے متعلق دعوہ کیا جاتا کہ یہ جائیداد آج سے قریب بارہ سو سال پہلے میرے اس جدامجد کے پاس تھی اس بنیاد پر مقدمہ جیت کر مکان اپنا اور مسلمان باہر۔۔۔۔ ١٩٦٧ء میں عربوں کئ ٤٥٠ مربع کلومیٹر کےعلاقے پرقابص ہو گئے۔۔۔۔اقوام متحدہ کو جنگ بندی کی قرارداد منظور کرنے میں دو دن کی تاخیر اس بناء پر ہوئی کہ امریکی سفیر آرتھر گولڈ برگ نے مخالفت کی تھی بلا کس بات کی؟۔۔۔بھائی سادہ کہ اسرائیل کو جارح نہ قرار دو دوسرا یہ کہ اسرائیل کی فوجیں ٤ جون ١٩٦٧ کی سرحد پر واپس جانا پسند نہیں کرتی لہذا انہیں ایسا کرنے کا نہ کہا جائے۔۔۔ میری رائے؛ قیام پاکستان سے پہلے مسلم لیگ کے رہنماؤں نے اور پاکستان بننے کے بعد حکمرانوں نے اوپن فورم میں ہمیشہ عربوں کا ساتھ دیا ہے اس معاملہ میں۔۔۔۔اندرون خانہ اور چند ایک مواقع پر غیر سرکاری سطح پر دونوں ممالک کے نمائیدگان اور سفیروں کے مابین ملاقات ہوئی جن میں کئی معاملات نمٹائے گئے مگر اس کے باوجود پاکستان نے کبھی اسرائیل کی حمایت نہ کی۔۔۔۔۔۔نہ ان کے کسی اقدام کو درست کہا۔۔سرکاری سطح پر اسرائیل سے تعلقات سے اجتناب کی وجہ؟ اس سے کسی ملک کو تسلیم کرنا مراد لیا جاتا ہے،آپ مانتے ہیں کہ وہ ایک ریاست ہے۔۔۔ابھی اگر قومی اسمبلی میں وزیراعظم صاحب یہ نہ کہتے کہ اس ملاقات سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے تو بین الاقوامی قانون کے مطابق یہ اخذ کر لا جاتا کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے۔۔۔تشکیلی نظریہ۔۔۔۔اسرائیل پاکستان سے تعلقات کا اس لئے خواہش مند ہے کہ وہ پاکستان کے ہاتھ سے عرب کارڈ لینا چاہتا ہے جسے پاکستان ترپ کے پتے کے طور پر استعمال کرتا آ رہا ہے۔۔۔پاکستان نے اگر اسے مان لیا تو اسلامی ممالک کی طرف سے اسے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ او آئی سی کے قیام میں پاکستان کے ہاتھ اور اب ایٹمی طاقت ہونے کی بناء پر سعودی عرب کے بعد پاکستان کو اسلامی دنیا میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔۔۔جبکہ پاکستان کے لئے اس کی طرف سے دو لالچ دیئے جا رہے ہیں (جس کا اسرائیلی میڈیا اس وقت ذکر کر رہا ہے) ایک ایٹمی معاملے میں مدد دوسرا معاشی معاملے میں سپورٹ۔۔۔۔۔کیا ایسا ممکن ہے؟ اسرائیلی میڈیا نے ہی پاکستان کے ایٹم بم کو سب سے پہلے “اسلامی بم“ قرار دیا اور وہاں سے مغرب نے یہ اصلاح اٹھا لی! چند ایک بار وہ کہوٹہ لیب پر حملے کا پروگرام بنا چکے ہیں اب اس پر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی رہنمائی کرے؟؟؟؟؟؟معاشی معاملے میں مدد کرے گے لیکن اپنی ! یہ منڈی تو اب بھی اُن کے پاس ہے۔۔۔۔ جو دعوی ان کا فلسطین پر ہے(یہ ہمارے آباؤ اجداد کی زمین ہے ) اس پر اقبال کا ایک شعر ہے خاک فلسطین پر یہودی کا اگر حق ہپسانیہ پہ حق نہیں کیوں اہل عرب کا
مکمل تحریر پڑھیں ←

ڈوریTag

مجھے جہانزيب اور قدیر رانا نے ٹیگ کیا۔۔۔۔یوں میں اس ڈوری سے بند گیا ہو۔۔۔ پانچ سال پہلے پانچ سال پہلے میں اپنے گھر میں تھا۔۔۔۔۔؟ ۔۔۔۔مذاق!۔۔۔انٹر کے امتحان دے کر فارغ تھا۔۔۔نتیجہ کا انتظار تھا، یعنی انٹر(انٹرمیڈیٹ نہ کہ گھسنا) سے ایگزیسٹ (برخاستگی) ہی سمجھے۔ساتھ ہی یہ سوچ رہا تھا کہ آگے سائنس ہی کو ذریعہ تعلیم بناؤ یا آرٹس کی طرف کود جاؤں، دراصل میڑک کے ابتدائی دور ہی میں نے وکالت کی فیلڈ میں کودنے کا آرادہ کر لیا تھا والد صاحب کی خواہش پر، انٹر تک سائنس پڑھنے کی دو وجہ تھی ایک فوج میں جانے کا شوق دوسرا کسی نے کہا تھا آرٹس تو نالائق تو پڑھتے ہیں کم ازکم انٹر تو سائنس میں کرو۔۔۔سو کرلیا۔۔۔رزلٹ کے بعد آرٹس کی طرف رجوع کیا۔۔۔اور سچی بات ہے کہ اس وقت ہی مطالعہ کی عادت پڑی خاص طور پر سیاسیات اور تاریخ اسلام نے سوچ کو الگ ہی رخ کی طرف موڑ دیا یوں رٹے کے طریقہ کار کو چھوڑ کر سمجھ بوجھ اور پرکھنے کی عادت پڑی ساتھ ہی باتوں اور واقعات کو پھیلا کر دیکھنے کی عادت پڑی۔۔۔۔۔۔۔شائد اس کی ایک وجہ میرے استاد تھے ؟ہاں! وہ ہی تھے ایک سال پہلے ایک سال پہلے میں قانونی کنوارہ پن (ارے بھائی وکالت ،ایل ایل بی) کے دوسرے سال کے امتحان کے رزلٹ کا انتظار تھا اور ساتھ ہی پنجاب کے ٹور پر تھا۔۔۔چھ سال بعد گیا تھا۔۔۔بہت مزا آیا۔۔تمام کزن اور رشتے داروں سے مل کر۔۔۔ واپس آ دوبارہ پڑھائی شروع ہو گئی۔۔۔ہاں! ایک دلچسپ واقع! سال پہلے کا۔ہوا یہ کہ کالج(ایس ایم لاء) میں میرے دوست کا ایک کزن “جیو“ میں کام کرتا ہے اس کو کہہ کر ہم نے جیو کے پروگرام میں شرکت کی کوئی سبیل کرنے کو کہا۔۔اور اسے“اُلجھن سلُجھن“ کے پاس مل گئے ہم گئے پروگرام کی شوٹنگ میں حصہ لیا (ایک دن میں دو پروگرام ریکارڈ ہوئے) اور واپس آگئے۔۔۔الگلی مرتبہ پھر پاس کا بندوبست ہو گیا۔۔دوست نے کہا بھائی ساتھ جا رہے ہو تو وہاں کچھ نا کچھ لوگوں کے مسائل کے متعلق رائے دینا ہم نے کہا ٹھیک ہے یہ کیا مسئلہ ہے۔۔۔ابتدائی گفتگو کے بعد(کیمرہ آف کر کے) جب حاضرین سے پوچھا گیا کہ کون کون مشورہ دے گا تو ہم نے بھی ہاتھ کھڑا کر دیا اب جو ہم نے(سوچ رکھا تھا) بولنا تھا وہ ایک دوسرے صاحب نے کہہ دیا اب ان کے بعد ہماری باری آئی تو ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔۔۔فورا کچھ نہ آیا تو اس بات کو ہی بدل کر کہنے کا ارادہ کیا رائے دینے کا آغار کیا تو روک دیا گیا کہ کیمرہ فوکس کرنے دیں،میں نے دوبارہ گفتگو شروع کی تو میزبان ٹھیک ہماری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی (کہا گیا تھا کیمرہ کے بجائے ان کی طرف دیکھا جائے) ۔۔میں کچھ سٹپٹا گیا نظر ہٹا کر دوسری طرف کر لی جہاں کی اس طرف ان کا شائد ایڈیٹیگ روم تھا بہر حال جو بھی تھا بھائی میری تصویر آرہی تھی۔۔رنگ کالا تھا کافی۔۔اب ادھر میں یہ بول رہا تھا ادھر میں اپنے رنگ کالا آنے کے بارے میں سوچ رہا تھا ساتھ ہی مجھے محسوس ہوا کہ میری آواز کچھ کانپ رہی ہے شائد گبھراہٹ سے(کیمرے کا خوف) اب جو کچھ میں نے بولنا تھا میں بھول گیا۔۔۔۔اول فول بکواس کی اور مائک سے جان چھرائی یہ سب کام کل دو منٹ سے کم وقت میں ہوا مگر مجھے دو گھنٹوں پر محیط محسوس ہوا۔۔۔۔میری اس اول فول کو سراہا گیا (تعجب ہے)۔۔سنا دیکھایا بھی گیا تھا(میرے گھر کیبل نہیں ہے)۔۔۔اس کے بعد اگلی مرتبہ جب پروگرام میں شرکت کرنے گیا تو اس کا ٹاپک کافی ذیادہ بولڈ تھا لہذا اس کے بعد کبھی اس پروگرام کی ریکاڈنگ پر نہیں گیا۔۔۔۔۔ موسیقی! گانوں کے بول مجھے پورے یاد نہیں رہتے۔۔۔بس پنچ لائین یاد رہتی ہے یا وہ لائین جو پنچ کرے۔۔۔نئے پرانے سب اچھے گانے سنتا ہوں خاص طور پر عارفانہ کلام ،عارفانہ کلام سننے کی عادت ابو کی وجہ سے پڑی۔۔۔ اسنیکس! اسنیکس میں سب ہی اچھا لگتا ہے۔۔۔پکوڑے سر فہرست ہیں۔۔۔ سو ملین ڈالر! ارے !یہ سو ملین ڈالر مجھے دے گا کون؟۔۔۔۔اگر ملے تو سب سے پہلے تھپڑ مارو گا جو بھی سامنے ہوا اسے،تاکہ مجھے یقین ہو جائے کہ حقیقت ہے کہی خواب تو نہیں۔۔۔پھر آگے کا سوچوں گا۔۔۔ جہگیں جہاں میں جانے کو تیار رہتا ہوں! کمپیوٹر کے سامنے۔۔۔۔۔دوستوں کی محفل میں۔۔۔کسی مباحثے میں۔۔۔۔۔۔کسی تقریب میں بڑی خوشیاں! عمرہ کی سعادت۔۔۔۔۔اچھی کتاب کا تحفہ۔۔۔۔امتحان میں کامیابی(کسی بھی) یعنی کسی کی امید پر پورا اترنے پر ٹی وی! اس کا شوق نہیں پالا۔۔۔۔ویسے اگر کہیں کوئی سیاسی یا معاشرتی موضوع پو پروگروم لگا ہو تو پورا دیکھتاہو۔۔۔ کھلونے! ارے! میرے یہ کون سی عمر ہے ان سے کھلنے کی۔۔۔۔ کپڑے نہیں پہنوں گا! جو مجھے اچھے نہ لگے!۔۔۔اور لڑکیوں کے کپڑے۔۔۔ ٹیگ! جناب آپ اور آپ جی کہا آپ بھی۔۔۔ اس کے علاوہ زکریا انکل اجمل دانیال خاور شعیب شیپر نبیل میرا پاکستان(پاکستان کے سیاسی حلات کے بارے میں لکھا جائے تو مزا آئے) عادل منیر احمد طاہر ہی محبت کی ڈوری ہے۔۔۔۔اس لئے آپ لوگوں کو اس میں باندھا ہے۔۔۔۔جو پہلے ہی اس ڈوری کے تحت بندھ کے لکھ چکے ہیں۔۔۔انہیں خود سے آگے پا کر لائین میں پیچھے لگ گئے ہیں
مکمل تحریر پڑھیں ←

مہنگائی کا ریلا اور اپوزیشن کا رولا

جمعہ کو ہڑتال تھی جزوی رہی۔۔ہڑتال بھی اور ہرتال کے متعلق بیان بھی۔۔۔۔صبح ساڑھے گیارہ بجے کے بعد جزوی ہوئی اور شام تک ختم ہو گئی۔یہ ہڑتال پوری اپوزیشن کی نہ تھی،اےآرڈی والے ڈرے ڈرے رہے۔۔۔خود مجلس میں مولانا صاحب کا رد عمل پرے پرے والا تھا۔۔۔۔آج کل وہ ویسے بھی قاضی صاحب سے چند قدم پیچھے ہوتے ہیں بھائی پیچھے سے“پباں پار کھلو کے“ حکومت کو ہاتھ ہلا کے بتانا آسان ہے کہ “کچھ نظر کرم ہو یہاں بھی عنایت“ ہم منتظر کھڑے ہیں،یوں یہ قاضی کا شو تھا۔۔شو ختم ہو گیا۔۔۔اپنوں نے کہا واہ واہ کیا کامیابی ہے۔۔غیروں نے سنائی خبر الگ۔۔۔آج تو ویسے بھی جمہ تھا آدھا کاروبار بند ہوتا ہے۔۔۔شیخ صاحب نے نوید سنائی اس سے ذیادہ ناکام ہڑتال میں نے آج تک نہیں دیکھی۔۔۔قاضی میاں اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔۔۔لیکن شو پھیکا بھی نہیں رہا ۔پورے ملک میں جو ہوا سو ہوا۔۔کراچی میں حالات ذرا مختلف تھے، رات کو ہونے والے دھماکے نے نازک بھی کردئیے۔۔۔۔یہاں ہڑتال کو ناکام کرنے کا ذمہ اُن کو تھا جنہوں نے اس عمل کو رواج کی حد تک فروغ دیا یعنی بلی کو دودھ کی حفاظت پر مامور کردیا گیا۔۔۔ صوبائی حکومت کی طرف سے متعلقہ ڈی ایس پی حضرات کو ان کی جانب سے متعلقہ ٹی پی او کو اس کی طرف سے ماتحت ایس ایچ او کو حکم ہوا ہڑتال ہوئی اگر کامیاب تو تمہاری خیر نہیں۔۔۔ انہوں نے اپنے علاقے کے دوکان داروں کو جا لیا کل دوکان بند نہ ہو۔۔سمجھے کہ سمجھاؤں! ، اب کون نہ سمجھے؟۔۔پھر بھی کئی ایسے نکلے جن کی سمجھ میں بات نہ آئی اور کئی ایسے جو جمعہ کو دوکان بند کرتے تھے مگر حکم کے بعد دوکان پر نظر آئے۔۔۔تنہا!۔ پہیہ جام کر کے گاڑی بھگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔لا لو حساب! کوئی بتائے کہ کیا ایسا ممکن ہے؟ہڑتال معاشی جمود کا سبب تو بن سکتی ہے مگر اسے بہتری کی راہ پر نہیں ڈال سکتی۔معیشت جمود کا شکار ہو تو مہنگائی کا ختم ہونا مشکل ہے۔ ہرتالوں کی سیاست ویسے ہی اچھی نہیں اور اگر یہ مہنگائی کے خلاف ہو تو اسے عقل مندی کا نام دینا محال ہے۔ ××××××× کراچی میں بارش ہو گئی کل جمعہ کی نماز شروع ہوئی تو کافی تیز ہوئی مگر نماز کے اختتام سے قبل چلی گئی۔۔مگر آج صبح تو کمال ہو گیا خوب بارش ہوئی۔۔اہل کراچی کو یہ نعمت ملی مگر کئی جگہوں پر ناقض انتظامات کی وجہ سے یہ نعمت باعث زحمت بن جائے گی۔۔۔۔ساون پورا اس کے انتظار میں گزرا اور یہ آئی تو بھادوں کی ٢٥ تاریخ کو کر لو حساب۔۔۔۔!؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

یہودی لڑکی سے شادی اور پاک اسرائیل تعلقات

ترکی میں قصوری صاحب نے اپنےاسرائیلی ہم منصب سے ملاقات کی ۔یہ پاکستان و اسرائیل کے درمیان سرکاری سطح پر باضابطہ پہلا رابطہ ہے۔۔۔۔اس سے قبل مکا لات والا معاملہ تھا۔۔۔ملاقات کے بعد عرض کیا کہ ہم ان(اسرائیل) سے ملے ہیں مگر ان کو ایک ملک نہیں مانتے۔۔۔بات کچھ پلے نہیں پڑی۔۔۔کوئی پوچھے سرکار! بندہ اس سے ملتا ہے جس کے وجود کو مانے ہم نہیں کہتے “قانون بین الاقوام“ کہتا ہے۔۔۔۔آپ کیا کہتے ہیں؟ مزید کہا کہ ملاقات سے پہلے فلسطین کے صدر محمود عباس اور سعودی عرب سمیت آٹھ مسلم ممالک کو اعتماد میں لیا۔فلسطینی ذرائع نے تردید کر دی کیسا اعتماد؟مئی میں اسلام آباد میں ملاقات (دونوں ممالک کے صدر کے درمیان) کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہے۔۔۔۔اہل فلسطین نے غزہ میں پاکستان کے اس اقدام کے خلاف مظاہرہ کیا اور “دشمن سے ملاقات نامنظور“ کے نعرے لگائے۔۔۔اپنا جانا تو یہ نعرہ لگایا ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ “دشمن کا دوست دشمن “ والا نعرہ بھی لگ سکتا تھا۔۔۔ احتیاط لازم ہے ورنہ یہ تعرہ لگ سکتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو ملک تسلیم کرنا نہ کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔۔۔اچھا! اب یہ سوچا جا رہا ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے یا نہیں؟ (اب تک ستاون میں سے سات ممالک نے اسے تسلیم کیا ہے۔جویہ ہیں، مصر ، اردن ، ترکی ، موریطانیہ، قازقستان، ازبکستان ، اور کرغیزستان)۔۔۔۔اب صدر سے نہ پوچھے وہ تو تقریر کی تیاری کر رہے ہیں ارے وہ ہی جو انہوں نے یہودی لابی سے کرنی ہے۔۔۔باقی بچے اپنے شجاعت تو انہوں نے تو الٹا سوال کر ڈالا “بھائی ان مجلس والوں سے پوچھوں کہ اگر یہودی لڑکی سے شادی ہو سکتی ہے تو یہودیوں سے مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے“ ہون آرام ایں
مکمل تحریر پڑھیں ←

قائد کی منشاء سیکولر ریاست؟؟؟؟؟

آئین پاکستان کے بارے میں فروری ١٩٤٨ کو ایک امریکی اخبار نویس کو انٹرویو دیتے ہوئے آپ(قائداعظم) نے غیر مبہم الفاظ میں فرمایا“پاکستان کا آئین ابھی بنا نہیں ہے اور اور یہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی بنائے گی مجھے یقین ہے کہ یہ جمہوری انداز کا ہوگا جس میں اسلام کے اصول ہوں گے ان اصولوں کا آج بھی عملی زندگی میں وہ ہی اطلاق ہوتا ہے جیسے کہ تیرہ سو سال قبل اسلام اور اس کی مثالیت نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے۔اس ہمیں انسانوں کی برابری انصاف اور ہر شخص کے ساتھ حسن سلوک کا سبق سکھایا ہے۔ہم ان شاندار روایات کے وارث ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستور کے واضعین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے پوری طرح آگاہ ہیں۔(ملت کا پاسبان ٣٣٣ قائداعظم اکیڈمی کراچی)۔
١٩ فروری١٩٤٨ کو اسٹریلیاں کے عوام سے نشری خطاب میں لادینی اوردینی ریاست کی وضاحت کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے کہا“ ہماری عظیم اکثریت مسلمان ہے ، ہم رسول خدا کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں ہم اسلامی ملت برادری کے رکن ہیں جس میں حق ، وقار اور وفاداری کے تعلق سے سب برابر ہیں ،نتیجاَ ہم میں اتحاد کا ایک خصوصی اور گہرا شعور موجود ہے لیکن غلط نہ سمجھے پاکستان میں کوئی نظام پاپائیت رائج نہیں ، اس طرح کی کوئی چیز نہیں ہے، اسلام ہم سے دیگر عقائد کو گوارا کرنے کا تقاضہ کرتا ہے اور ہم اپنے ساتھ ان لوگوں کے گہرے اشتراک کا پر تپاک خیر مقدم کرتے ہیں خود پاکستان کے سچے اور وفادار شہریوں کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آمادہ اور رضامند ہوں۔(قائداعظم تقاریر و بیابات جلد چہارم صحفہ ٤١٥)۔
جہاں تک “مذہبی حکومت“ اور “سیکولر اسٹیٹ“ کا تعلق ہے اس سلسلے میں قائداعظم کے افکار اور نظریات کیا تھے ، وہ بالکل صاف وشفاف اور واضح ہیں، غیر مبہم ہیں اور ہر قسم کے شک وشبہ سے پاک ہیں۔٢٥ رجب ١٣٦٠ھ بمطابق ١٩ اگست ١٩٤٠ کو قائداعظم محمد علی جناح نے راک لینڈ کے سرکاری گیسٹ ہاوس (حیدرآباد دکن) میں طلباء اور نوجوانوں کو یہ موقع مرحمت فرمایا کہ وہ آپ سے بے تکلفانہ بات چیت کرسکیں۔اگر چہ آپ کی طبیعت ناساز تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے پنتالیس ٤٥ منٹ تک ان سے گفتگو فرمائی ۔ اس یاد گار اور تاریخی موقع پر نواب بہادر یار جنگ بھی موجود تھے ۔ جناب محمود علی بی اے (عثمانیہ یونیورسٹی) نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام گفتگو ریکارڈ کر کے اوریئنٹ پریس کو ارسال کردی۔
قائداعظم کا دوسرا خطاب دراصل وہ ہے جو انہوں نے ٢ نومبر ١٩٤١ کو مسلم یونیورسٹی یونین علی گڑھ سے فرمایا اور جس میں نہایت تفصیل کے ساتھ ہندو اخبارات کے بے بنیاد، شرارت آمیز اور مضحکہ خیز اداریوں کوکچا چٹھا بیان فرمایا جس میں انہوں نے غلط اور حقیقت سے دور پروپیگنڈہ کیا تھا کہ پاکستان ایک سیکولر اسٹیٹ ہو گی جس میں انہیں جملہ اختیارات سے محروم رکھا جائے گا۔قائداعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا؛“ آپ نے ہندو رہنماؤں کے بیانات اور ذمہ دار ہندواخبارات کے ادارئے پڑھے ہو گے ۔ وہ بہت شرارت آمیز اور خطرناک قسم کے دلائل دے رہے ہیں لیکن یقیناَ وہ الٹ کر انہی کے سر آن پڑیں گے ، میں صرف ایک ممتاز سابقہ کانگریسی اور ایک سابقہ وزیر داخلہ مسٹر منشی کی تقریر سے ایک اقتباس پیش کروں گا۔ اخبارات میں شائع شدہ تقریر کے مطابق انہوں نے کہاکہ تجویز پاکستان کے تحت جو حکومت قائم ہو گی وہ “سول حکومت“ نہیں ہوگی جو تمام فرقوں پر مشتمل ایک مخلوط مجلس قانون ساز کے سامنے جوابدہ ہو بلکہ وہ ایک “مذہبی ریاست“ ہو گی جس نے اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق کے مطابق حکمرانی کرنے کا عہد کر رکھا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ تمام جو اس مذہب کے پیروکار نہیں ہوں گے ان کا اس حکومت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ایک کروڑ تیرہ لاکھ سکھ اورہندو مسلمانوں کی مذہبی ریاست کے زیر سایہ اقلیت بن جائی گے۔ یہ ہندو اور سکھ پنجاب میں عاجز ہوں گے اور ہند کے لئے غیر ملکی! ۔۔۔۔کیا ہندوؤں اور سکھوں کو مشتعل نہیں کیا جا رہا ہے؟ان کو یہ بتانا کہ وہ ایک “مذہبی ریاست“ ہوگی جس میں انہیں جملہ اختیارات سے تہی دست رکھا جائے گا، یہ کلیتَا “غیر درست“ بات ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہےکہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ اچھوتوں کا سلوک کیا جائے گا۔ میں مسٹر منشی کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ صرف ان کے مذہب اور فلسفہ کی ہی اچھوتوں سے آشنائی ہے۔ اسلام ان غیر مسلموں کے ساتھ جو ہماری حفاظت میں ہوں عدل ، مساوات، انصاف، رواداری بلکہ فیاضانہ سلاک کا قائل ہے۔ وہ ہمارے لئے بھائیوں کی طرح ہوں گے اور ریاست کے شہری ہوں گے“۔(قائداعظم تقاریر و بیانات جلد دوم صفحات ٥١٨)۔
جہاں تک سوشلزم ، کمیونزم ، نیشنل سوشلزم وغیرہ کا تعلق ہے ایسے نظام ہائے حکومت کے دلدادگان اور پرستاروں کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ قائداعظم ان کے سخت خلاف تھے اور انہیں خارج از بحث کردانتے تھے۔٩ مارچ١٩٤٤ءکو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یونین سے خطاب کے دوران آپ نے واضح طور پر اعلان کرتے ہوئے فرمایا
۔“ایک اور پارٹی جو کچھ عرصے سے سرگرم ہو گئی ہی “کمیونسٹ پارٹی“ ہے ان کا پروپیگنڈہ مکارانہ ہے اور میں آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ ان کے چنگل میں نہ پھنسیں۔ان کا پروپیگنڈہ ایک سراب ہے اور ایل دام۔آپ کیا چاہتے ہیں؟یہ ساشلزم،کمیونزم،نیشنل سوشلزم اور ہر دیگر “ازم“ کی باتیں خارج از بحث ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ فی الفور کچھ کر سکتے ہیں؟ کب اور کس طرح؟ آپ اس امر کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آپ کو پاکستان میں کون سا نظام حکومت مطلوب ہوگا؟ کوئی نہ کئی پارٹی ہم سے کہتی ہے کہ ہمیں پاکستان میں جمہوری حکومت یا سوشلٹ یا نیشنلسٹ حکومت قائم کرنی چاہئے۔ یہ سوال آپ کو فریب دینے کےلئے اٹھائے جاتے ہیں۔اس وقت تو آپ صرف پاکستان کی حمایت کیجئے۔ اس کا مطلب ہے کہ سب اے پہلے آپ کو ایک علاقہ اپنے قبصے میں لینا ہے۔پاکستان ہوا میں قائم نہیں ہو سکتا۔ جب آپ اپنے “اوطان“ کا قبصہ لے لیں گے تب یہ سوال اٹھے گا کہ آپ کون سا نظام حکومت رائج کرنا چاہتے ہیں لہذا آپ اپنے ذہن کو ان فضول خیالات سے ادھر ادھر بھٹکنے نہ دیجئے۔(قائداعظم تقاریر و بیانات جلد سوم صفحہ ٢٦٦-٢٧٢)۔
قائداعظم کے مندرجہ بالا خیالات و نظریات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ قائداعظم پاکستان کو ایک دینی اسلامی ریاست بنانے کے حامی تھے لہذا بانی پاکستان کو سیکولرزم نظریات کا حامل قرار دینا انتہائی ظلم و زیادتی ہے۔
(تحریر= ایاز محمود رضوی بشکریہ نوائے وقت)
مکمل تحریر پڑھیں ←