پاک بیتی

 شیری مزاری پارٹی چھوڑ گئی وجہ بیٹی، شاہ محمود قریشی اور پرویز الٰہی اب تک پارٹی کا حصہ ہیں وجہ ان کے بیٹے۔ جو پارٹی میں ہیں وہ محدود ہیں، یا تو جیل تک  یا پھر گھر تک۔

کسی نے کہاں جنہوں نے electable پارٹی کو دیئے تھے اب وہ ہی انہیں نکال رہے ہیں۔ پانچ چھ سال پہلے پی ٹی آئی کے لئے جو ن۔لیگ کے ساتھ کیا گیا تھا وہ اب پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ فرق یہ ہے پہلے نیازی صاحب لاڈلے تھے تو گود لیئے گئے تھے جنہوں نے گود لیا یہ جب ان کے ہی سر چڑھے تو پہلے انہوں نے عاق کیا اب در بدر کرنے کا ارادہ ہے۔ اول اول دربدر کرنے کا ارادہ نہ تھا مگر اس گھمنڈ نے ہی مروایا جس کی بنا پر یہ بد تمیزی کا شکار تھے۔

اچھے بچے بنو تو تحت عطا کرنے والے بد تمیزی کرنے پر تختہ دار پر بھی چڑھا دیتے ہیں۔ پہلے بھی ایک کو وزیراعظم بنانے کو ملک دولخت کیا تھا مگر پھر بگڑنے پر سزا موت سنا دی۔ پہلے بھی ایک کو شہر کا بھائی بنایا تھا پھر آوارہ ہونے پر اسے اپنی ہی بنائی پارٹی سے بے دخل کر کے عبرت کا نشان بنا دیا۔ پہلے بھی ایک کو اہل بتاتے تھا مگر ڈسنے کی تیاری دیکھ کر نااہل قرار دیا۔ اب والا کیسے بچے گا؟

طاقتور اس وقت تک طاقتور ہیں جب تک اقتدار میں رہنے والا اس کا احسان مند رہے۔ صاحب اقتدار ہونے کا احساس اصل اقتدار ملنے سے ذیادہ پرفریب ہوتا ہے۔ احساس میں مبتلا احسان کی گرفت میں رہتا ہے۔ بادشاہ گر ہونا بادشاہ ہونے سے ذیادہ بہتر ہیں۔ وہ بادشاہ گر ہیں اب تک۔ آپ مانے یا نہ مانے وہ ثابت کر رہے ہیں۔

کوفے والے ہر جگہ آباد ہیں۔ مشکل وقت  آئے تو پہچانے جاتے ہیں۔ اقتدار میں شریک ہی بعد میں ملزم ٹھہرنے پر سلطانی گواہ بنتے ہیں۔  ان کا سلطانی گواہ بنانا تو ان کی فطرت ہے جیسے اقتدار ملتے ہی  اپنا اصل چہرہ آشکار کرنا جناب کا ایک فطری عمل تھا۔ اگر جناب اقتدار کو پانے و اقتدار میں  رہنے کو سب کچھ کر سکتے ہیں تو مخالف کو ایسا کرنے پر  اب طعنہ دینا بھی منافقت ہے۔


مکمل تحریر پڑھیں ←

انصاف یا رعایت

اپنے کام کی وجہ سے عدا لت کے فیصلے ا ور جج کا رویہ دونو ں مدنظر رہتے ہیں۔ میرا یہ خیال پختہ ہو چکا ہے کہ ججز کی اکثریت میں گناہ گار کو سزا سنائے جانے کے لئے جو قوت و حوصلہ درکار ہے وہ ناپید ہے۔ جورسپروڈنس (علم قانون )کی روح سے عدالتیں فوجداری مقدمات میں انصاف کرنے کی پابند ہیں، مگر ملکی عدالتوں میں بیٹھے ججز اور ان کے سامنے پیش ہونے والوں وکلاء انصاف نہیں relief (رعایت) کے شوقین ہیں۔ ایک لمحے کو سوچیں! ملزم جو شواہد سے مجرم ثابت ہوتا ہو کو اگر مقدمہ کے آخر میں رعایت کے تحت بریت ملے تو ملنے والی رعایت کیا معاشر ے و عام آدمی سے دشمنی نہیں؟ سزا کی ججمنٹ لکھنا صرف جج کے حوصلہ و قو ت کی ہی نہیں قابلیت کی بھی محتاج ہے۔ 
 سندھ ہائی کو رٹ نے مقدمات کے جلد ٹرائل کو یقینی بنانے کو ایک point system بنایا ہے جس کا دباو ججز پر ہوتا ہے۔ ممکن ہے میری رائے غلط ہو مگر محسوس ہوتا ہے مہینے کے اختتام پر آنے والے فیّصلے انصاف کم اور “رعایت “ کا سبب ذیادہ بنتے ہیں۔ ججز کی خود کو بھی رعا یت دیتے ہیں اور “مجرم” کو بھی۔ مگرکیا یہ رعایت معاشرے کے لئے سود مند ہے؟ منصف دنیا کے کسی کونے کا ہو وہ ملزم کو حاصل قانونی حقوق اور عام آدمی کی حفاظت کی ذمہ داری کے درمیان توازن رکھنے کے د رمیان دباو کا شکار رہتا ہے اور اس ہی دباو کی وجہ سے ججز کی اکثریت فیصلے سنانے کے بعد افسوس کا شکار ضرور ہوتے ہے۔بے انصافی کا بوجھ بڑا بھاری بوجھ ہے۔ ناانصافی صرف یہ نہیں کہ ملزم کو “ رعایت” کے تحت بری کر دیا جائے بلکہ اس کی بنتی ممکنہ سزا سے ذیادہ سزا دینا بھی ناانصافی ہے جو یقینا ذیادہ سنگین ہے۔
منصف کا توازن قائم رکھنا ہی اصل عدل ہے۔ میزان عدل کے دونوں پلڑے برابر ہو تو ہی نتیجہ انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

وقت


"ایک دور تھا سر پر اتنے بال تھے کہ بالوں میں کنگھی ٹوٹتی تھی اب یہ حال ہے کہ کنگھی میں بال ٹوٹتے ہیں۔ ایک یہ دور ہے کہ کوئی واجبی صورت دوشیزہ بھی متوجہ نہیں ہوتی ایک دور تھا مرد و زن دونوں سے بڑی محنت خود کو بچانا پڑتا تھا"

مکمل تحریر پڑھیں ←

ملزم ظہیر، یوتھیاپا اور لبرلز

ہمیں اپنے زمانہ طالب علمی اور پھر دور وکالت میں کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا کہ نوکری کی جائے شادی کے بعد ہم میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ جج بنا جائے مگر وہ نہ بنے سکے البتہ سرکاری وکیل بن گئے۔ نوکری لگنے کے بعد معلوم ہوا وکالت میں آزادی و انکم نوکری سے ذیادہ ہے کہ مئی 2014 میں جتنی ہماری اوسط انکم تھی اگست 2020 کو ہماری تنخواہ اتنی ہوئی، کل ملا کرچھ سال بعد!!
جج کے امتحانات کی تیاری ہم ملیر کورٹ (کراچی) کی لائبریری میں یا پھر اپنے آفس میں کرتے تھے۔ لائبریری میں آٹھ سے بارہ افراد کا گروپ تھا جن میں ایک فرد ابھی وکالت کر رہا ہے ، ایک سرکاری وکیل یعنی کہ میں و باقی سب ججز ہیں۔ ہمیں سب سے خوش قسمت وہ وکلالت والا لگتا ہے ۔
دوران اسٹیڈی مختلف نوعیت کے قانونی معاملات کو بشکل کہانی ان پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ تبہی ایک بار نیا نیا سندھ میں پاس ہونے والا کم عمری کی شادی والا قانون بھی زیر بحث آیا دوران بحث یہ دلچسپ نقطہ سامنے رکھا گیا کہ کیا ہو اگر ایک سولہ اور آٹھارہ سال کے درمیانی عمر کی لڑکی سندھ سے نکل کے پنجاب میں جا کے کورٹ میرج کر لے، کیونکہ یہ عمل یہاں سندھ میں نکاح خواہ اور دولہے کے لئے تو قابل گرفت ہے مگر پنجاب میں یہ جرم ہی نہیں ہے کہ وہاں سولہ سال سے اوپر کی لڑکی کی شادی قانونًا درست ہے۔ اس وقت اندازہ نہیں تھا نو سال بعد اس طرح کا ایک اصل مقدمہ ملک میں اس قدر مشہور ہو گا کہ ہر فرد اس کیس کے تمام کرداروں کے نام تک واقف ہو گا۔ یہ کیس اس کی کم عمر مبینہ مغویہ کے نام سے ہی مشہور ہے ہر یو ٹیوبر، شوشل میڈیا صارف اور روایتی میڈیا اس کیس کا ذکر کرتے ہوئے اس کم عمر مغویہ کا نام لیتے ہیں جبکہ قانون ایسے کیسوں میں “مظلومہ" یعنی victim کا نام پریس میں لینے سے منع کرتا ہے اور اسے قابل سزا عمل بتاتا ہے مطلب کہ جرم۔ اس بات پر بحث ممکن ہے کہ آیا واقعی کم عمر مبینہ مغویہ "مظلومہ" ہے یا نہیں اور اول اول اس نے خود جب میڈیا پر انٹرویو دیئے اب اس کے بعد بھی یہ قانون لاگو ہو گا یا نہیں۔ میری ذاتی رائے ہے قانون تو لاگو ہوتا ہے کیونکہ اس سلسلے میں کسی قسم کی چونکہ چونانچے والی کوئی شرط نہیں ہے قانون میں۔
جب کم عمری کی شادی کے اس قانون کے سلسلے میں مشاورت اور ورکشاپ ہو رہی تھیں تو ایک ایسی ہی ورکشاپ میں ہم نے سوال کیا آج آپ قانون تو پاس کروا رہے ہیں کہ کم عمر دلہن کے والدین، دولہے اور نکاح خواح کو سزا دی جائے گی مگر وہ جو نکاح ہوا ہے اسے تو آئینی و قانونی تحفظ حاصل ہے اس کا کیا کریں گے دولہا سزا کاٹ کر واپس آتا ہے تو وہ خاندان کی مرضی یا عدالت میں حق زناشوئی کا کیس کرے گا تب متعلقہ عدالت کیا کرے گی اس پر بھی اسی قانون سازی میں حل نکالیں نیز یہ بھی کہا تھا کہ چلیں والدین کم عمر لڑکی کی شادی کرتے ہیں تو سزاوار ہوئے مگر ایک کم عمر لڑکی اپنی مرضی سے کورٹ میرج کرتی ہے تو کیا ہو گا اس کا بھی قانونی حل نکالیں۔ مگر کسی نے اس طرف توجہ نہ دی۔ دوسری تجویز تو چند منتظمین کوبری لگی خاص ایک ظاہری لبرل کو ان سے ورکشاپ کے بعد کی ہائی ٹی پر خوشگوار انداز میں تلخ باتیں بھی ہوئیں تھیں اس تجویز کی بناء پر کیونکہ وہ اسی ہفتے ایک کورٹ میرج کی پٹیشن میں سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں تھیں کم عمر جوڑے کی حمایت میں۔
یہ قوم یا ہجوم کسی سیاسی ، لسانی، مذہبی، مسلکی اور سوشل ایشو پر جذباتی بھی بہت ہے اور سخت بھی۔ کسی بھی موقف پر جذباتی انداز میں ڈٹ جانے کا نتیجہ عدم برداشت اور بدتمیزی ہی نکلتا ہے۔ جو رویوں میں پختہ ہوتا جا رہا ہے خاص کر جب یہ خیال ہو کہ پکڑ نہیں ہو گی۔ ایسا ہی اس کیس میں بھی ہے اس کیس کو رپورٹ کرنے والے اور اس رپورٹ کو فالو کرنے والے دونوں اخلاقیات سے عاری رپورٹنگ کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی دونوں طرف کے احباب جھوٹ کی آمیزش بھی کرتے ہیں جانے انجانے میں۔ فرد کو اپنے موقف پر ڈٹ جانا چاہئے اول جب وہ درست ہو دوئم جب اس سے کسی فرد کو اور خاص کر پورے معاشرے کو نقصان نہ پہنچتا ہو مگر ہم اپنی انا کی تسکین کے لئے یہ سب کرتے ہیں تو یہ تباہی ہے۔
لڑکی کے باپ یا فیملی کی سختی کی تو سمجھ آتی ہے اپنے مسلکی و سوشل بیک گراونڈ کی وجہ سے۔ وکالت کے دوران ہر پانچ میں سے ایک کورٹ میرج میں ہمیں لڑکی کی ایسی ہی فیملی سے واسطہ پڑتا تھا اور نتیجہ لڑکی اپنے خاندان سے مزید دور ہو جاتی تھی یوں راوبط دوبارہ بننے کے امکانات خاتم ہو جاتے ہیں۔ سو فیصد کیسوں میں جو لڑکی کورٹ میرج کے لئے گھر چھوڑتی ہے اس کی فیملی کی کسی ناں کسی خاتون (فیمیل ممبر) کو معاملات کا پہلے سے علم ہوتا ہے وہ کوئی بھی رشتہ ہو سکتا ہے۔ ہم نے ایک کورٹ میرج کروائی جس میں لڑکی کی فیملی لڑکے کی فیملی سے کئی گناہ طاقتور تھی اور معاشی طور پر مضبوط بھی۔ ابتداء میں باپ اور دیگر فیملی ممبر نے مخالفت کی مگر ملک سے باہر رہنے والے لڑکی کے بھائی نے ہم سے رابطہ کیا ملاقات ہوئی ، جوڑے کی ملاقات اپنے دفتر میں کروائی طے پایا لڑکی واپس آئے چونکہ خاندان کے باہر کے لوگوں کو علم نہیں لہذا ہم اس سلسلے میں ابتداء سے رخصتی تک کے تمام لوازمات کرتے ہیں کہ معاشرے میں عزت قائم رہے لڑکی لڑکا خوفزدہ تھے۔ ان کی ویڈیو بیانات و دیگر کاروائی کر کے واپس اپنے خاندانوں میں بھیجا گیا۔ پھر رشتہ مانگنے سے لے کر نکاح و رخصتی تک کے تمام ضروریات انہوں نے مکمل کی یہ دونوں خاندانوں و جوڑے کے لئے اچھا ہوا۔ شادی کے لئے یقینًا ہمارے معاشرے میں خاندانوں کا رضامند ہونا لازم ہے مگر وہ جو الگ خاندان بنانے کی بنیاد بنے گے انہیں بھی اہمیت دی جائے تو بہتر نتائج آئیں گے۔
عدالتی و قانونی نقطہ نظر سے دیکھیں تو بات سیدھی سی ہے میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ یہاں قاضی نکاح والا سمجھ لیں یا انصاف کرنے والا دونوں ٹھیک ہیں۔ لڑکی جس کے حق میں بیان دے گی وہ ہی کامیاب ہو گا۔ لڑکی کو کراچی لانے کا مقصد اسے ظہیر سے دور کرنا ہے مگر کیا ایسے میں وہ اپنے باپ کاظمی صاحب کے قریب ہو جائے گی؟
ہم اپنی خواہش و مرضی کو درست و ٹھیک بات پر فوقیت دیتے ہیں ۔ خواہش، مرضی و مفاد تو بدلتا رہتا ہے مگر حق و سچ دائمی ہے۔ انا کی جیت میں رشتے کچلے جاتے ہیں کچلے جا رہے ہیں اور ایسے معاملات میں ہم پارٹی بن کر کسی ایک کا ساتھ نہیں دے رہے بلکہ ان کے درمیان جو خونی رشتہ رکھتے ہیں میں مزید دوریاں پیدا کر رہے ہیں۔ قانون میں ایسے کیسوں کی "مظلومہ" کے نام کی پریس میں ممانعت کافی نہیں بلکہ خاندانوں کے نام اور مقدمات کی کوریج پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔ تب ہی انصاف ہو پائے گا ورنہ سیاسی کیسوں کی طرح ایسے معاملات میں بھی پہلا قتل سچ و انصاف کا ہو گا۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

فیصلہ

عدالتیں سائلین کی مرضی کے فیصلے کرنے کو نہیں بلکہ جو انہیں عین انصاف لگے اپنی قانونی سمجھ بوجھ کے تحت آزادانہ فیصلے دینے کو ہیں۔ 
 جج کی مرضی و خواہش ممکن ہے کبھی انصاف کے متضاد ہو مگر وہ پابند ہے کہ قانون و حقائق (جو عدالت کے سامنے ہوں) کے مطابق فیصلہ دے۔ تاریخ بہت ظالم ہے یہ آگاہ کر دیتی ہے کون سا فیصلہ انصاف کے مطابق تھا اور کون سا خواہش کے زیر اثر۔ یوں پردہ فاش ہوتا ہے کون سا منصف ایماندار تھا اور کون سا قاضی بے ایمان۔ 
کسی سائل کا فیصلے کو ناانصافی کہنا اسے غلط فیصلہ نہیں بناتا۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

اقتدار کا نشہ

نشہ فرد کی عقل کو ماند ہی نہیں کرتا بلکہ اکثر اس کی سمجھ بوجھ کو بھی مکمل طور پر "متاثر" کرتا ہے۔ مدہوشی میں کیئے گئے فیصلے کبھی بھی ہوش مندی میں کئے گئے فیصلوں جیسے بہتر نہیں ہوتے۔ اقتدار کی غلام گردشوں کا حصہ ہنا بھی ایک قسم کا نشہ ہے جوالگ ہی مدہوشی کا سبب بنتا ہے۔ تخت سے جڑے رہنے کی خواہش اور اپنی طاقت کو بڑھانے کا شوق! فرد کو قانون کی لاقانونیت کے لئے پر اکساتا ہے۔ تاریخ ایسے افراد کو ولن بتاتی ہے جبکہ وہ جو بنتی تاریخ میں جی رہے ہوتے ہیں اس وقٹ خود کو مسیحا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

مکمل تحریر پڑھیں ←
متواسط طبقہ اور مہنگا ازاربند

متواسط طبقہ اور مہنگا ازاربند


ہم میں سے ہر ایک ہر معاملے کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے کا عادی ہے اس کی وجہ اس کا اپنا خاص ماحول جس میں اس نے نشوونما پائی یا وہ طبقہ جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔ فرد کی معاشی حیثیت بھی اس کے ماحول و تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ کسی کے لئے پچاس ہزار ایک ماہ کے لئے کافی ہیں اور کوئی اس میں بمشکل ایک ہفتہ "گزارا" کر پاتا ہے۔

جب ہم نے اپنی وکالت شروع کی یعنی اپنے سینئر سے الگ ہوئے تو ایک پہلا مسئلہ جس سے ہمارا واسطہ پڑا وہ سائل سے معاوضے کا تعین تھا۔ جس لاء فرم سے ہم نے وکالت سیکھنے کی ابتداء کی تھی وہ ایک اونچے طبقے سے تعلق رکھتی تھی لہذا میرے ریفرنس کے افراد کے لئے اس حیثیت کی فیس ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ وکالت کے آغاز میں اس بات کی تو سمجھ آ گئی کہ معاوضہ طلب کرتے وقت صرف مسئلہ کی پچیدگی ہی نہیں بلکہ سائل کی قوت خرید کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔

متواسط طبقے کے سائل سے جس ضمانت کے ہم چالیس ہزار طلب کرتے تھے چند ہمارے دوست وہ کام بیس ہزار میں اور کچھ سینئر وکلاء اسے طرز کی ضمانت کے ڈیڑھ سے تین لاکھ روپے فیس کی مد میں لیتے تھے۔ فرق ٹریٹمنٹ کا ہوتا تھا بس۔ قانون و دلائل میں کیا فرق ہونا ہے بشرطیکہ وکیل محنتی ہو۔ وہ کہتے ہے ناں ایک امیرزادے کے ہاتھوں قتل ہو گیا تو اس کا باپ ایک وکیل کے پاس اپنا کیس لے کر گیا معاملات طے ہو رہے تھے تو امیرزادے کا باپ وکیل کی "کم" فیس کی بناء پر بددل ہو گیا کہ جو اس قدر کم معاوضہ مانگ رہا ہے اس نے کیا مقدمہ لڑنا ہے لہذا وہ ایک دوسرے وکیل کے پاس کیس لے گیا بھاری معاوضہ دینے کے بعد بھی اس کے بیٹے کو سزا ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد باپ کی ملاقات پہلے والے وکیل سے ہوئی تو اس نے بچے کے مقدمے بارے پوچھا تو باپ نے آگاہ کیا کہ اسےسزا ہو گئی ہے جس پر وکیل صاحب بولے " دیکھ لیں جو کام آپ نے پندرہ لاکھ میں کروایا وہ میں تین میں کردیتا"۔

یہ قیمت یا معاوضہ کا فرق وکالت ہی نہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی میں نام (جسے آپ برانڈ کہہ لیں) اور ٹریٹمنٹ (اسے آپ پریزنٹیشن یا سہولت کہہ لیں) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میرے والد جب اپنی نوکری سے ریٹائر ہوئے تو باقی پاکستانیوں کی طرح انہوں نے بھی ریٹائزمنٹ کے بعد حج کا رادہ کر رکھا تھا۔ حج ایک مشقت والی عبادت ہے لہذا اس مشقت کو کم کرنے کے لئے انہوں نے سرکاری کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر سے حج پر جانے کا پروگرام بنایا 2016 میں جب سرکار پونے چار لاکھ کا حج کروا رہی ی میرے والدین نے جو پیکج لیا وہ ساڑھے سات لاکھ فی کس والا تھا حرم و مدینہ میں قریب رہائش و دیگر سہولیات کی بنا پر ان کا حج با آسانی ہوا۔ تب ہمیں معلوم ہوا کہ مولانا طارق جمیل صاحب پندرہ لاکھ فی کس کے حساب سے حج کا پیکج دے رہے ہیں۔


ہر طبقے کے اپنے برانڈ ہوتے ہیں ہر شعبہ میں۔ ان کی اپنی شرائط ہوتی ہیں۔ میرے جیسے متواسط طبقے کے بندے کو کبھی بھی بڑے نام (برانڈ) کی خریداری بارے میں نہیں سوچنا چاہئے۔ ایم ٹی جے برانڈ ابھی کا نہیں ہے شروع سے ہی اوپری طبقے کا برانڈ ہے۔ ان کے پیروکار ابتداء سے ہی "بڑے نام" رہے ہیں۔ بڑے برانڈ آہستہ آہستہ ہر شعبہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں ان پر تنقید یا ان کی حمایت کرتے واقت احتیاط کریں کیونکہ کہیں آپ کے اپنے  نظریات اور کہیں آُپ کا اپنا طبقہ اس تنقید یا حمایت کا نشانہ بن سکتا ہے۔ چالیس والا آزار بند سو روپے میں یا چار سو والی ٹوپی پندرہ سو میں ہرگز مہنگی نہیں بس وہ آپ کے لئے نہیں ہے کیونکہ آپ کی کلاس دوسری ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
گورک ہل کا سفر

گورک ہل کا سفر

کورونا سیزن یا لاک ڈاؤن میں جہاں سارا پاکستان کرونا سے لڑنے کو گھر میں بیٹھ کر “کرونا خلاف” جنگ میں مصرو ف تھا وہاں دوسری طرف ہم روازنہ کی بنیاد پر نوکری پر موجود ہوتےتھے۔ ایسے میں دوستوں کا گورک ہل کا پروگرام تازہ ہوا کا جھونکا لگا۔
کراچی سے چار سو کلومیٹر دور یہ علاقہ سندھ کا “مری” و “ناردن ایریا” کہلاتا ہے۔ ہم نے اب تک اصل مری و ناردن ایریا نہیں دیکھا لہذا ہمارے جیسے کے لئے یہ “شارٹ کورس” تھا کہ تھوڑا تھوڑا جان لیں سب بارے اور پھر بھی معلوم کچھ بھی نہ ہو۔

کراچی سے دادو تین گھنٹے میں اور پھر دادو شہر سے واہی پاندی قریب چالیس منٹ کا سفر طے کرنے کے بعد معلوم ہوا گورک ہل (پہاڑی) تک مزید تین گھنٹے درکار ہونگے۔
واہی پاندی، ضلع دادو کے تعلقہ جوہی کا وہ مقام ہے جہاں سے آگے ہم اپنی گاڑی میں سفر نہیں کرسکتے تھے یہاں سے جیپ اوپر جانے و آنے کے لئے پانچ سے چھ ہزار میں ملتی ہے اور ڈرائیور رات اوپر رکنے کو راضی ہوتے ہیں۔
واہی پاندی کو واہی پاندی کہنے کی کیا وجہ ہے؟ ہم نے یہ جانا کہ کسی پاندی نام کے فرد نے کھیتی باڑی کے لئے ایک نہر بنائی اور کاشت کاری شروع کی ۔ واہی مطلب کھیتی کا کام بھی ہے۔ یوں پاندی صاحب کا نام تاریخ میں زندہ رہا اپنی کاشت کاری کے لئے کی گئی جدوجہد کی وجہ سے۔ ویسے کراچی میں ایک جگہ لالوکھیت ہے شہر کی ترقی نے کھیت ختم کر دیا اور لالو کا علم نہیں کہاں چلا گیا مگر لالو کے کھیتوں نے اسے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ 
جوہی تعلقہ کا نام یاد رکھنا ہمارے لئے یوں مشکل نہ تھا کہ جوہی چاولہ ہمارے کئی جاننے والوں کی پسندیدہ اداکارہ رہی ہے اگرچہ اس کا اس تعلقہ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ جوہی کسی دور میں (مطلب انگریزی دور حکومت میں) ضلع کراچی کا حصہ رہا ہے اور بدھ ازم کا اسٹوپا (عبادت گاہ) بھی یہاں ہے۔ تھر کے بعد شاید یہ ہی بدھ عقیدے

کے لوگوں کے اثر میں رہنے والا ایک اہم علاقہ رہا ہے سندھ میں۔
بہرحال واہی پاندی سے ستر کلومیٹر کا سفر ہے طے کر کے گورک کی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچنا ایک الگ ہی ایڈوانچر تھا۔یہ ایک دس سال سے زیرتعمیر روڈ ہے۔اس پرخطر راستے پر گاڑی چلانا ایک مہارت ہے جو ان جیپ ڈرائیوروں کا ہی خاصا ہے۔ ایک غلطی آُپ کو اوپر سے نیچے ہی نہیں لاتی بلکہ نیچے سے اوپر بھی پہنچا سکتی ہے۔راستہ پر خطر ہی نہیں تھا بلکہ سحرانگیز بھی ہے۔ “حسن سحرانگیز ہو تو پر خطر بن جاتا ہے” ممکن ہے یہ جملہ صرف کسی دوشیزہ کے حسن کی تعریف کے لئے استعمال کیا گیا ہو مگر ہمیں اس سفر میں نظر آنے والے فطری حسن پر بھی سچا معلوم ہوتا ہے۔

زمین (واہی پاندی) پر 44 دگڑی کے بعد اوپر (کورک ہل) پر بارہ سے پندرہ درجہ حرارت ایک حیران کر دینے والا مامعلہ ہے۔ سمندر سے قریب چھ ہزار فٹ پر واقعہ یہ مقام جولائی میں ہم کراچی والوں کو دسمبر کی سردی کا لطف دیتا محسوس ہوتا ہے۔ کوہ کیر تھر کے پہاڑی سلسلے پر یہ مقام ایک عمدہ تفریح مرکز بن سکتا ہے۔ سندھ سرکار نے اوپر اچھے انتظامات کر رکھے ہیں یہاں تمام سہولیات و انتظامات سرکار کے ہیں اگر کوئی پرائیویٹ پارٹی منتظم بھی ہے تو اس کے پاس ٹھیکہ ہے کیونکہ یہاں تمام املاک سرکاری ہیں۔اگرچہ راستہ زیرتعمیر ہے اور اوپر تک کا سفر دشوار ہے مگر چوٹی پر رہائش و کے اچھےانتظامات ہیں ، کیمپنگ بھی کی جا سکتی ہے۔ موٹرسائیکل پر دل والے اوپر پہنچے ہوئے تھے۔ کورونا سیزن کی وجہ سے لوگوں کی کم تعداد تھِی۔

کوہ کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ سندھ و بلوچستان کی سرحدی لکیر بھی ہے۔گورک ہل کو گورک ہل کہنے کی دو ممکنہ وجوہات بیان کی جاتی ہیں ، ایک یہ کہ کورک کے معنی چیتے و خطرناک جانور کے ہیں اور یہاں کسی دور میں کافی خطرناک جانور ہوتے تھے دوسری وجہ کورک ناتھ نامی بدھ مذہب کا پیروکار بتایا جاتا ہے جو یہاں اپنی عبادت کرتا تھا۔

سورج غروب ہونے سے پندرہ منٹ قبل ہم اوپر زیروپوائنٹ پر پہنچ ےاو ر ہم نے یوں سورج غروب ہوتا دیکھا کہ سورج کسی پہاڑی کے پیچھے نہیں چھپا بلکہ آسمان پر ایک لال داری سی سطح چھوڑتا ہوا مدہم ہوتا ہوا غائب ہو ا اور بعد میں وہ لالی بھی آہستہ آہستہ غائب ہو گئی۔ رات ہم نے استادامیرخان کی گائیکی کے سرور میں مدہوش ہوئے اور صبح کراچی واپس روانہ ہوئے۔ 
 ایک یادگار سفر تھا یہ!!! ہمارا شارٹ کورس فطرت کی حسن بارے آگاہی کا۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

بڑا ‏وکیل

جب ہم نئے نئے وکیل بنے تھے تو کراچی کے ان وکلاء کو کیس چلاتے سننے جایا کرتے جس کے دلائل کی دوسرے وکیل تعریف کرتے تھے ان میں ایک فروغ نسیم بھی تھے ان کے دلائل سننے کی وجہ ایک سینئر کا یہ تبصرہ تھا کہ "جج کو قائل نہ کر سکو تو اسے کنفیوز کیسے کرنا ہے یہ فروغ سے بہتر کوئی نہیں جانتا". انکے دلائل سنتے ہوئے ایک بات تو جان گیا کہ یہ ان چند وکیلوں میں سے ہیں جنہیں نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پڑھنے اور نوٹ کرنے کی بہت عادت ہے جو ایک قابل وکیل ہونے کا بنیادی جز مانا جاتا ہے۔
یوں ہی کچھ ایسے معاملات سے متعلق بھی وکلاء کے رویے نوٹ کرتا جن میں میں بنیادی طور پر نااہل و کمزور رہا ہوں اور اب تک ہوں۔ دو بنیادی نااہلیاں جو مجھ میں تھیں ایک سائل سے فیس کا تعین کرنا (ہمیشہ کم معاوضہ پر راضی ہونا اور یہ ہی بنیادی وجہ بنی نوکری کی) اور دوسرا بُری خبر کیسے سنائی جائے (اگرچہ اپنی وکالت کے دوران بری خبر اپنے کلائنٹ کو سنانے کے مواقع صرف تین آئے 2008 سے 2014 تک کی پریکٹس میں)۔
ایسے میں ایک قصہ نہ تو میں بھولتا ہوں نہ بھول سکتا ہوں بلکہ اکثر جگہ کوٹ بھی کرتا ہوں مگر ان کے کرداروں کے نام لیئے بغیر۔
قصہ یوں کہ ہم ایک کیس کے سلسلے میں ملیر کورٹ کی ایک ایڈیشنل ججز صاحبہ کی عدالت میں اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ ایک ہمارے سٹی کورٹ کے وکیل بھی وہاں گزشتہ روز اپنی ضمانت کی درخواست کے محفوظ شدہ فیصلے کے بارے میں جاننے کو اپنی جونیئر کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ عدالت نے انہیں آگاہ کیا کہ آپ کی درخواست رد کر دی گئی ہے جو ایک بری خبر تھی۔ وہ وکیل چند لمحے رکے اور عدالت کو سلام کر کے باہر کو روانہ ہوئے۔ اس سے قبل ملیرکورٹ کے احاطے میں ہم انہیں ملزم کے رشتہ داروں (اور اپنے کلائنٹس) کے ہمراہ دیکھ چکے تھے لہذا ہم جانتے تھے کہ وہ اپنے کلائنٹس کو کمرہ عدالت سے نکل کر اس خبر سے آگاہ کریں گے اور ہم ایسے مشکل لمحوں پر کیسے react کرنا ہوتا ہے سیکھنے کے خواہش مند تھے (جو اب بھی ہیں) لہذا ان وکیل کے ہمراہ/پیچھے پیچھے کمرہ عدالت سے باہر آئے۔ ان صاحب کمال نے کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سر سے بلند کر کے سلام کیا (جیسا کہ رواج ہے سندھ میں دور سے سلام کرنے کا) کلائنٹس کی طرف قدم بڑھائے اور زبان سے یوں گویا ہوئے "مبارک مبارک!! جج صاحبہ نے ہمیں ضمانت کی درخواست بڑی عدالت یعنی ہائی کورٹ لے جانے کی اجازت دے دی ہے اب سب ٹھیک ہو جائے گا"۔
یقین جانے ان کے کلائنٹس ان کی اس  بات سے یوں مطمئن ہوئے جیسے کوئی بہت بڑا ریلیف ملا ہو اور ہم ششدر رہ گئے کہ کیسے کر لیتے ہیں یہ سینیئر ان لوگوں کو مطمئن ایسی شعبدہ بازی سے۔
بہرحال ابھی ایک دوست کا اسٹیٹس پڑھا کہ فروغ نسیم نے کامران خان کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے موقف کی جیت یے۔
بلاشبہ فروغ نسیم ایک بڑا "وکیل" ہے اس لئے انہیں قاضی فائز عیسیٰ والا کیس اگلے فورم پر کے جانے کی اجازت ملی ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←