یہاں ہر چیز بکتی ہے

جوانی، حسن، غمزے، عہد، پیماں، قہقہے، نغمے
رسیلے ہونٹ، شرمیلی نگائیں، مرمریں باہیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
بھرے بازو، گٹھیلے جسم، چوڑے آہنی سینے
بلکتے پیٹ، روتی غیرتیں، سہمی ہوئی آہیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے

خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
زبانیں، دل، ارادے، فیصلے، جانبازیاں، نعرے
یہ آئے دن کے ہنگامے، یہ نگا رنگ تقریریں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
صحافت، شاعری، تنقید، علم و فن، کتب خانے
قلم کے معجزے، فکر و نظر کی شوخ تصویریں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
اذانیں، سنکھ، حجرے، پاٹھ شالے، داڑھیاں، قسقے
یہ لمبی لمبی تسبیحیں، یہ موٹی موٹی مالائیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے
علی الاعلان ہوتے ہیں یہاں سودے ضمیروں کے
یہ وہ بازار ہے جس میں فرشتے آ کے بک جائیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے

قتیل شفائی
مکمل تحریر پڑھیں ←

رپورٹیں

ہم پاکستانیوں کا جن چند نئے الفاظ سے واسطہ پڑا ہے ان میں ایک لفظ ہے تھینک ٹینک!!!! یہ بھی وہاں ہی پائے جاتے ہیں!!!! جہاں کی فوج نہ صرف اپنے ٹینک بلکہ دیگر جنگی ساز و سامان لے کر مسلم دنیا پر چڑھ دو ڑے ہیں!!!!! ان تھینک ٹینکوں کے مالی معاونت خود امریکہ کرتا ہے اس میں کوئی شک شبہ نہیں!!! کہ ہے؟؟؟ یہ مالی مدد ذیادہ تر تعاون کی شکل میں کسی تیسرے کے ذریعے یا راستے سے کی جاتی ہے!!! کبھی براہ راست نہیں ہوتی!!!! رینڈ کارپوریشن بھی ایک ایسا ہی تھیک ٹینک ہے!! پچھلے دونوں اس کی دو ریسرچ رپورٹیں پڑھی!!! ایک “عوامی جمہوری اسلام - شراکت دار، ذرایعے اور تدابیر“ اور دوسری “نظریات کی جنگ“!!!!!

پہلی رپورٹ جسے شیرل بینرڈ نے نے مرتب کیا، اسے مرتب کرنے میں نیشنل سیکورٹی ریسرچ ڈویژن نے تعاون کیا!!! “دی سمتھ رچرڈ فانڈیشن“ نے اسے اسپانسر کیا!!! اور اس کی تیاری کے سلسلے میں مرتب کنندہ نے دیگر آٹھ افراد کا شکریہ ادا کیا ہے!!! تین ابواب میں مشتمل ہے یہ!!!! ریسرچ رپورٹ ابتدائیہ ، رپورٹ کا ایک مختصر خلاصہ، استعمال ہونے والے ایسے الفاظ جو ان کے مطابق نئے ہیں کے معنٰی!!! اور پھر رپورٹ ہے!!!!

رپورٹ کے پہلے باب میں ان معاملات کو دیکھا گیا یا اکٹھا کیا گیا ہے جن کے متعلق ان کا خیال ہے کہ ان معاملات میں ہمارا ان سے اختلاف ہے!!! یہاں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ ساتھ ہی ساتھ مسلم دنیا کو نظریات کی بنیاد پر چار گروہوں میں تقسیم کر کے ان کا مطالعہ کیا گیا ہے!! ایک بنیاد پرست (جس سے وہ خوف کھاتے ہیں!!! پیٹ بھر کر)، دوسرے “روایت پرست“، تیسرے “جدت پسند“ اور چوتھے “سیکولرز“!!! پھر ان گروہوں کو مزید دو دو حصوں میں رکھا ہے!!! اختلافی معاملات کی فہرست میں “جمہوریت اور انسانی حقوق“، “کثرت ازواج“، “جرائم کی سزا اور اسلامی نظام انصاف“، “اقلیتی آبادی“، “جہاد““۔ “خواتین سے متعلق عمومی قوانین( جیسے لباس، شوہر کا ان پر ہاتھ اٹھانا اور ان کی آزادی“ جیسے معاملات سے متعلق ان مسلمان گروہوں (ان کی تقسیم کے مطابق) کے خیالات ان خاص وجوہات یا دلائل (اسلامی نقطہ نظر سے) کی روشنی میں جو یہ گروہوں رکھتے ہیں درج کئے ہیں۔

دوسرے باب میں انہوں نے مسلمانوں کے ان گروہوں (اپنے طور پر جنہیں انہوں نے نظریاتی اور فکری طور پرتقسیم کیا ہے) کا مطالعہ کیا!!! اس میں “سیکولرز“ کو انہوں نے اپنا فطری ساتھی قرار دیا ہے، ان کی رائے ہے کہ ان کی ایک ہی کمزوری ہے کہ یہ لوگ مالی طور پر کمزور ہیں لہذا ان کی مدد کی جائے!!! اس کے علاوہ یہ ہی لوگ بنیاد پرستی (شائد اس سے مراد راسخ العقیدہ لوگ ہے) کے خاتمہ میں مدد ملے گی لہذا ان کے افکار کو فروغ کرنے میں ان کی مدد و تعاون کی جائے ہر سطح پر!!! جہاں تک بنیاد پرستوں کا تعلق ہے تو وہ ان کے نزدیک جدید جمہوریت کے دشمن ہیں!!! یہ لوگ مغربی اقدار اور مقاصد اور خاص کر امریکہ کے لئے خطرناک ہیں (یقین جانیں یہ ہی لکھا ہے)، لہذا یہ ہمارے اور ہم ان کے دشمن ( یہ بھی کہا ہے)!!! ساتھ ہی انہیں افسوس ہے کہ یہ لوگ تمام تر (جدید) وسائل کو استعمال کرتے ہیں!!! جیسے ٹی وی، انٹرنیٹ ، کتب ، بلکہ ان کے اپنے اشاعتی ادارے ہیں!!! (جدید ذرائعہ کا استعمال اور پھر بھی بنیاد پرست؟؟) اپنے پیغام کو آسانی سے پھیلالیتے ہیں!!!! روایت پسندوں کو وہ بنیاد پرستوں کے قریبی سمجھتے ہیں اور جدت پسندوں کو ان کے جنہیں وہ اپنا فطری ساتھی سمجھتے ہیں اس رپورٹ یا ریسرچ کے مطابق!!!! لیکن پھر بھی ان کو الگ الگ ہی سمجھتے ہیں!!! بہرحال ان کی خوبیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا ہے!!! کہ کون کس طرح ان کے قریب اور کتنا؟؟ اور کون دور!!!

تیسرے باب میں وہ حکمت عملی واضح کی جس کی مدد سے وہ اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں!!! کہ ان گروہوں میں کس کی مدد کرنی ہے کب اور کس طرح!!! اور کتنی!!! احادیث کی جنگ، حجاب پر نقطہ نظر!!! دیگر اگر قوت ہو تو یہ رپورٹ پڑھے کچھ سمجھ ناں تو سمجھ آتی ہے کیا یہ بھی بتانا!!! “نظریات کی جنگ“ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے !!! اس میں ان باتوں پر غور کیا گیا ہے کہ القاعدہ سے نظریات کی جنگ کیسے جیتی جائے!!! نوجوان کو اس سے کیسے متنفر کیا جائے!! وہ کیا باتیں ہے جن کی وجہ سے ایک کم عمر ان سے دور ہوسکتا ہے!!! مجھے کچھ یوں لگا اسے پڑھ کر کہ مسلم نوجوان میں سے جہاد (کچھ لوگ اسے دہشت گردی کہہ لیں) کا جذبہ ختم کرنے کے لئے ان کے خیال میں صوفی ازم، جنسی بھوک، بےراروی اور زندگی سے محبت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں!!!

پہلی رپورٹ قرین 90 صحفات اور دوسری بیس صحفات پر مشتعمل ہے!!! اگر وقت و قوت ہو تو ضرور پڑھے!!! اور رائے بھی دیں کہ آپ کیا کہتے ہیں

مکمل تحریر پڑھیں ←

غزل

قدم انسان کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے

چکے کتنا ہی کوئی بچ کے ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے

نظر ہو خواہ کتنی ہی حقائق آشنا پھر بھی

ہجوم کش مکش میں آدمی گھبرا ہی جاتا ہے

خلاف مصلحت میں بھی سمجھتا ہوں مگر ناصح

وہ آتے ہیں تو چہرے پر تغیر آ ہی جاتا ہے

ہوائیں زور کتنا ہی لگا یا آندھیاں بن کر

مگر جو گِھر کے آتا ہے وہ بادل چھا ہی جاتا ہے

شکاہت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انسان کی

مصیبت میں خیال عہدِ رفتہ آ ہی جاتا ہے

شگوفوں پر بھی آتی ہیں بلائیں یوں تو کہنے کو

مگر جو پھول بن جاتا ہے وہ کمھلا ہی جاتا ہے

سمجھتی ہیں مآلِ گل مگر کیا زور فطرت ہے

سحر ہوتے ہی کلیوں پر تبسم آ ہی جاتا ہے

جوش ,,,,,,,,,

مکمل تحریر پڑھیں ←

اچانک موت!!!!

میرے ایک کلاس فیلو(میٹرک کے) یا دوست جو کینڈا میں شفٹ ہو گئے ہیں!!! انہوں نے ایک لنک بھیجا!!! اس میں موجود ویڈیو یہاں پوسٹ کر رہا ہو!!! اگر ویڈیو نہ چلے تو لنک پر جا کر دیکھ لیں!!! کیا رائے ہے؟؟؟ ویسے دیکھ کر پہلے لمحے تو جسم ایک لمحے کے لئے سن ہو گیا!!! باقی اللہ بہتر جانتا ہے!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

کیا ایسا ہے؟؟؟؟

آج جاوید چوہدری کا کالم پڑھا یہ کل کے ایکسپرس میں میں آیا تھا مگر مجھے آج پڑھنے کا وقت ملا (نیٹ سے) دو باتیں بہت عجیب معلوم ہوئیں !!! جاننا یہ ہے کہ کیا یہ درست ہیں؟؟؟؟ ایک یہ کہ پیجابی میں شکریہ اور معافی کے لئے یا ہم معنی الفاظ نہیں ہیں!!! دوسرا انگریزی میں بھی غیرت کے لئے کوئی لفظ نہیں کیا یہ درست ہے؟؟؟؟ ویسے انگریزی میں میرے علم کے مطابق غیرت کے لئے “honour“ ہے باقی آپ کا کیا کہنا ہے؟؟؟
,,,,,,,,,
مکمل تحریر پڑھیں ←

یہ کیا!!!!!

آج خاور کے بلاگ پر “شیخ لوگ“ کے عنوان سے پوسٹ لکھی تھی!!! جس میں اُس نے اردو کے وکی پیڈیا کا لنک دیا !!! شیخوں پر کوئی مضمون نہ ملا!!! یہ معاملہ میں نے اُس کے سامنے رکھا تو بھائی نے وہ لنک دے دیا!!! مگر اس دوران( یعنی مضمون کی تلاش اور لنک کی فراہمی ) میں خیال آیا کہ کیوں ناں جاٹ کے متعلق دیکھا جائے!!! تو بجلی کا ایک جٹکا لگا!!! تعارف کچھ یوں تھا!!! ۔
جاٹ کے لغوى معنى ہیں گنوار یا غیر تہذیب یافتہ !جاٹوں کی کئی گوتیں اور قبیلے ہیں وارث شاہ صاحب نے ہیر میں جاٹوں کی تقریبا 50 گوتوں کا ذکر کیا ہے!! گجر اور آرایں لوگوں کو جاٹ خود میں شامل نہیں کرتے! یہ لوگ انتھائی تعصب کرنے والے مغرور ہوتے ہیں!! تعلیم ان کا کچھ بھى نہیں بگاڑ سکتى! ہنر مند لوگوں سے حقارت کا سلوک کرتے ہیں اور ان کو کمى اور کمینہ کہہ کر پکارتے ہیں خود سے طاقتور کے سامنے انتہائی فرمانبردار اور کمزور پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں زمانہ جاہلیت کے عربوں کى طرح سالہا سال دشمنیاں پالتے رہتے ہیں! قاتل اور اشتہ دارى رشتہ دار باعث فخر ہوتا ہے پاکستان میں ان کى اکثریت ہونے کى وجہ سےبہت سے ہنر مند لوگ دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گیے ہیں بے ہنر جاٹوں کے زیر انتظام ملک پاکستان کے کاروبارى حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ اب جاٹوں کے لڑکے یورپ میں موچى نائی اور راج مزدور لوگوں کى کام کے لیے منتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔“۔
کافی تعصب سے بھرپور تحریر ہے!!! کمال ہے بھائی!!! لازمً کسی ایسے اللہ کے بندے نے لکھی جو جاٹوں کو اچھا نہیں سمجھتا!!! بلکہ شائد نفرت کرتا ہے!!! چلو ٹھیک ہے کرتا رہے !!! جاٹ یا جٹ (چونکہ میری گوت گھمن ہے) ہونے اور کراچی میں “انجمن بہبود جٹاں“ کا ایک ایکٹو ممبر کی وجہ سے یہ تحریر اور بھی بُری لگی!!! باقی ذاتوں کے بارے میں ان ہی اصولوں کی روشنی میں لکھا گیا تو خوب کام ہوا!!!! تیار ہو گیا انسائکلوپیڈیا!!! غیر جانبداری ضروری ہے!!! ذاتی آراء کو الگ رکھنا مشکل ہے مگر بڑے کام کے لئے یہ کرنا پڑتا ہے!!!
یوں تو جاٹ قوم کے متعلق کتابوں کی صورت میں اور خود نیٹ پر( سرچ انجن یا کسی بھی انسائکلوپیڈیا میں jatt یا jat لکھ کر تلاش کر نے پر ) کافی سارا مواد موجود ہے!!! مگر یہاں میرا مقصد یہ نہیں کہ میں وضاحتیں پیش کرو!!! بس اتنا کہ مطالعہ بھی تعصب سے پاک ہی ہو تو اچھا ہے!!!! ۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

اِدھر اُدھر کی

پچھلے دنوں جب حجاب سے متعلق جیک اسڑا( جن کے حلقے کی قریب تیس فیصد آبادی مسلم ووٹر پر مبنی ہے) کے ٹیلیگراف والے مضامین (ایک 5 اکتوبر اور دوسرا 12 اکتوبر) کی وجہ سے مغرب میں ایک بحث کا آغاز ہوا کسی نے اس سے اپنی محبت کی وجہ بتائی اور کسی نے جیک اسڑاس کو ایسا لکھنے سی منع کیا تو میرا بھی ارادہ بنا اس موضوع پر لکھنے کا!!!! یوں تو روتھ کِیلے کا بیان اس سے پہلے آیا جسے میڈیا میں وہ جگہ نہیں ملی شائد اس وجہ سے کہ اس سے اہل مسلم کے دل آذاری کے بجائے مثبت پہلو تھا!!! سنا ہے اس وجہ سے مغرب میں مسلم خواتین کی زندگی کسی حد تک مشکل کا شکار ہوئی!!! بعد میں معلوم ہوا کہ عالیہ انصاری بھی حجاب کی وجہ سے ماری گئی اور پھر آسٹریلیا کے مفتی کی شامت آگئی!!! جناب نے بے حجاب عورت کو کھلے گوشت سے تشبہ دی تھی!!! یارو نے اسے ایک مسلم زانی کے حق میں بیان قرار دیا!!!!
بات اپنے مضمون کی کر رہا تھا تو اس مضمون کے لئے دو لطیفے سوچ رکھے تھے (جو کہیں سنے تھے) اب نہیں لکھ رہا اس پر!!!! جو کچھ یوں تھے!!!!
ایک خاتون ایک سو منزلہ عمارت سے گر جاتی ہے جب وہ 80 ویں منزل پر پہنچی تو ایک امریکن مرد نے اسے گرتے میں تھام لیا۔۔۔۔ ابھی وہ لٹکی ہوئی ہی تھی کہ وہ شکر گزار ہوئی کہ آپ نے میری جان بچائی!!! ا،ریکن نے کہا وہ تو ٹھیک ہے کہ مگر آج رات کہاں گزانے کا ارادہ ہے؟؟؟؟ عورت فورًا بھڑک اٹھی امریکن نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا وہ گرتی ہوئی جب 60ویں منزل پر پہنچی تو ایک اور سیکولر مرد نے اسے ہاتھ دے کر پکڑ لیا !!!!۔۔۔ وہ شکر گزار ہوئی تو اِس مرد نے بھی وہ ہی آفر کر دی!!! اس نے انکار کیا تو اس نے بھی اس کا ہاتھ چھوڑ دیا !!! نیچے گرتے ہوئے اس عورت کو خیال آیا کہ اگر میں ان مردوں میں سی کسی ایک کی بھی بات مان لیتی تو میری جان بچ جاتی اور ایک رات ہی کی تو بات تھی!!! کیا فرق پڑتا!!!۔۔۔ اس ہی دوران 30 ویں منزل پر ایک مرد نے اس کا ہاتھ تھام لیا!!! اور اسے اوپر کھینچ لیا اس عورت نے فورًا اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کیا ارادہ ہے؟؟؟ آج رات کیا ہو رہا ہے!!! اس مرد نے فورًا اسے دوبارہ نیچےدھکا دے دیا اور کہنے لگا “لاحول ولاقوۃ“۔
دوسرا لطیفہ کچھ یوں تھا!!!
ایک ہوٹل میں تین عورتیں بیٹھی باتیں کر رہی ہوتی ہیں، ایک جاپانی، دوسری مغربی، تیسری مشرقی۔ اتنے میں خبر ہوتی ہے کہ ہوٹل میں چند بدمعاش گھس آئے ہیں اور وہ خوبصورت عورتوں کو بری نیت سے اٹھا کر لے جارہے ہیں!!!
جاپانی عورت کہتی ہے “اگر مجھے ان میں سے کسی مرد نے پکڑنے کی کوشش کی تو میں لڑوں گی یا وہ زندہ نہیں رہے گا یا میں“
مشرقی عورت یوں گویا ہوئی “اگر مجھے کسی مرد نے ہاتھ بھی لگایا تو میں اپنی جان لے لو گی“
مغربی عورت کا جواب تھا “مجھے سمجھ نہیں آتی اس میں حرج ہی کیا ہے ذرا تفریح ہی رہے گی“
ان کو اس وجہ سے کوڈ کرنا تھا کہ جب ایسی بحثوں کے نتیجے میں اوپر والے لطیفے لطیفے نہ رہے یعنی مسلم مرد اور عورت بھی مکمل طور پر مغربی سوچ اپنا لیں تو یہ افسوس اور دکھ کی بات ہو گی!!! مثبت باتوں کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں!!!
کل کورٹ میں ایک نہایت دلچسپ بات سنے کو ملی ہوا یوں کہ جج صاحب اپنے چیمبر میں گئے ہوئے تھے لہذا تمام وکیل بیٹھے گفتگو کرنے لگ پڑے ایک سینیر خواجہ نوید کو کہنے لگے یار تم نے ہم وکیلوں کی روزی خراب کرنی ہے کہ ایک عورت جس کا میں نے ایک فیملی کیس لڑا تھا اس سی دس ہزار فیس کی مد میں اور دس ہزار کورٹ فیس کی مد میں مانگے تھے!! یوں تو اب اس کا کیس ختم ہو چکا ہے اور میں اپنی فیس بھی لے چکا ہو!!! مگر اس کا فون آیا کہ جناب آپ نے مجھ سے کورٹ فیس کی مد میں دس ہزار لیئے تھے جبکہ کورٹ فیس تو پندرہ روپے ہے!!!!! میں نے پوچھا یہ تم سے کس نے کہا ہے ؟ بتانے لگی کہ ابھی ٹی وی میں “خواجہ کی عدالت“ میں بتایا ہے!!!خواجہ صاحب نے ہنستے ہوئے پوچھا تم نے کیا کہا؟پہلے وکیل کہنے لگے میں نے کہہ دیا “ بی بی کیا مشرف کو پتہ ہے کہ بازار میں آٹے دال کا کیا باؤ ہے؟ کہنے لگی نہیں!! تو میں نے کہہ دیا بی بی یہ بھی سپریم کورٹ کے وکیل ہیں ان کو کیا پتا کہ چھوٹی عدالتوں میں کیا فیس ہے!!!! خواجہ صاحب مسکراتے ہوئے بولے خوب! ٹھیک ہے اب اس عورت کا فون آئے تو مجھ سے بات کروا دینا میں کہہ دوں گا کہ “اگر فیس واپس لو گی تو طلاق بھی واپس ہو جائے گی!!! اور کورٹ میں اپنے خادند کو پیش کرنا پڑے کا اگر پہلا نہیں ملا تو کوئی اور تلاش کر کے لانا پڑے گا“مجھے ان کے اس جواب پر بہت ہنسی آئی قیب قریب قہقہ لگانے کے قریب!!!کہ دوسرا مرد شوہر کے طور پر تلاش کر کے لانا پڑے گا!!!
جاتے جاتے ایک لطیفہ اور سن لیں جو خواجہ نوید (یہ لطیفے بہت سناتے ہیں محفل میں) نے فارمیلٹی پوری کرنے کے حوالے سے سنایا!!!! اوپر کے دو لطیفوں کی طرح یہ بھی کچھ آزاد خیال ہے لہذااچھا نہ لگے تو معذرت!!!
ایک لڑکا ایک لڑکی دھوکے سے کو ایک ویرانے میں لے جاتا ہے!! لڑکی اسے کہتی ہے کہ اگر تم نے مجھے چھونے کی بھی کوشش کی تو میں شور مچا دوں گی!!! لڑکا کہتا ہے مگر یہاں تو دور دور تک کوئی بھی نہیں!! جواب میں وہ کہتی ہے “تو کیا ہوا فارمیلٹی تو پوری کرنی ہے
مکمل تحریر پڑھیں ←

نفسیات غلامی

شاعر بھی ہیں پیدا، علما بھی، حکما بھی

خالی نہیں قوموں کی غلامی کا زمانہ

مقصد ہے ان اللہ کے بندوں کا مگر ایک

ہر ایک ہے گو شرِح معافی میں یگانہ

بہتر ہے کہ شیروں کو سکھا دیں رم آہو

باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ ،

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضا مند

تاویل مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

علامہ اقبال

مکمل تحریر پڑھیں ←