گوگل میسنجر

لو جی گوگل والوں کا میسنجر آ گیا ہے۔ میں نے تو ڈاؤن لوڈ کرلیا آپ بھی کر لو اگر چاہو تو۔۔۔ ویسے میرے پاس کوئی بندہ جی میل والا نہ تھا اس لئے محفل سے رابطہ کیا اورجو افراد ملے انہیں فہرست میں شامل کر لیا لہذا آپ سے التماس ہے کہ یار اب مجھے نظر انداز نہ کر دینا بھائی۔ویسے جب تک آپ بات شروع نہ کرے گے میں آپ کو تنگ نہ کرو گا پکا وعدہ۔۔۔ اسے استعمال کرنے کے لئے آپ کو جی میل کی آئی ڈی چاہئے۔ بس اور بڑی فائل نہیں ہے نو سو کے بی کی ہے کر لے ڈاؤن لوڈ
مکمل تحریر پڑھیں ←

mis/miss

مس کہیں بھی ہو اس سے کچھ اچھے کی امید یہ رکھی جائے۔یہ ہر شے کو الٹا کر رکھ دیتی ہے یعنی یہ جس سے نتھی ہو جائے اس کا بیڑا غرق سمجھو۔ انگریزی زبان میں تو اس نے اپنی تباہ کاریاں مچائی ہی ہیں ساتھ ہی مرد کی زندگی کا سکون بھی غارت کیا ہے۔انگریزی ربان میں اس کے کرتوت یہ ہیں۔ Conduct = Misconduct ,Guide = Misguide, Fit = Misfit , Match = Mismatch , Advise = Misadvise اور ایسے ہی چند دیگر ۔۔۔۔۔۔۔ کیا سمجھے! اگر آپ مرد ہیں تو اس کے نقصانات کو بیان کرنے کی مزید ضرورت نہیں مگر اگر آپ خاتون ہیں تو فائدہ نہیں کیوں کہ آپ کسی دلیل کو نہیں مانے گی۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

دینی مدارس

دینی مدارس پر آج ایک بڑا الزام مغربی میڈیا یہ لگاتا ہے کہ ان میں جہادی پیدا کیے جاتے ہیں ، کم عمر بچوں کی برین واشنگ کر کے انہیں بندوق تھما کے دوسرے مذہب کے پیروکاروں کو مارنے کا حکم دے کر اس کے بدلے جنت کی بشارت دی جاتی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ کشمیر کی تحریک میں شہید ہونے والے اکثر نام مثلاّ غلام عباس، عارف حسین ، عثمان عتیق، محمد صابر، ابو عاصم، فیصل محمود، صداقت، نذیر نیاز، مدثر، راشد یا تو یہ سب نوجوان کرسچن مشینری اسکولوں مثلاّ ایچی سن لاہور، سینٹ پٹیرک کراچی سے فارغ التحصیل تھے یا دیگر سرکاری اسکولوں اور کالجوں سے پڑھ کر نکلے تھے۔
۔( ویوز اینڈ نیوز سےاقتباس ، تحریر ہے ڈاکٹر شاہد مسعود)۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

انتخابات غیر جماعتی؟؟؟

آوےگابھائی آوے گا کوئی نا کوئی تو آوے گا۔کا دور شروع،اب ملک میں جگہ جگہ نعرہ لگ رہے چاکنگ ہو رہی ہے،پوسٹر لگ رہے ہیں۔ سب سے ذیادہ حمایتی جے جے او این کے ہیں یعنی جیڑا جتے اودے نال(جو جیتے گا ہم اس کے ساتھ ہیں)۔ بتایا گیا تھا اب کے بلدیاتی الیکشن غیر جماعتی ہو گے اور ایسا ہی ہو تا نظر آرہا ہے۔کیا آپ کو اختلاف ہے؟؟ اچھا پچھلے چند دنوں کے اخبارات دیکھ لیں،کیسے بیانات ہیں۔یہ ہی نا کہ مولوی کو ووٹ نہ ڈالو! حکمرانوں کی طرف سے۔۔۔۔ الطاف بھائی نے تو صاف الفاظ میں مشورہ دیا کہ سرکار! یہ جماعت اسلامی پر پابندی تو لگاؤ یہ لوگ بہت تنگ کررہے ہیں۔۔۔ جب جماعت باہر ہوگئی تو الیکشن غیر جماعتی ہو گئے ناں۔ غیر سیاسی تو نہیں ہیں۔۔۔ بڑی سیاست ہو رہی ہے،ہر صوبے کا وزیراعلی وگورنر اور وفاقی وزیر اپنے اپنے علاقے میں اپنے اپنے پینل کی تشہیر کر رہا ہے،فلاں پینل کو ووٹ ڈالو میرا حمایت یافتہ ہے باقی سب حماقت یافتہ،میری بات پر آنکھ بندکر کے یقین کرو ورنہ۔۔۔آنکھ میں دھول جھونک سکتے ہیں کہ جیتے گے تو ہمارےہی بندے ایسے نہیں تو ویسے ہی کیا سمجھے؟؟؟ مخالفین انتخاب کے بعد آوٹ ہو جائے گےاگر ایسا نہیں ہوا تو پولینگ اسٹیشن کا عملہ اپنی سرکاری نوکریوں سے۔۔ اپوزیشن ؟ ان کی بھی کہانی خوب ہے۔سمجھ نہیں آتی مخالفین ہیں یا حمایتین۔میاں ، بی بی ملک سے باہر ہیں جب دولہا ہی نہیں تو بارات کیسی؟؟ باقی بچے مجلس والے تو جو باجماعت اکھٹی نماز نہیں پڑھ سکتے اُن کی جماعت کیسی؟ لہذا بلدیاتی انتخابات میں بھی ان کی آپس میں لڑائی چل رہی ہے مشترکہ امیدوار کھڑے نہیں کر سکے اور اب کھڑے ہوئے امیدواروں کو مشترک کرنے پر لڑ رہے ہیں کراچی! بڑا شہر بڑی باتیں سلیکشن متحدہ اور مجلس میں سے کسی کی ہونا ہے۔ ذیادہ امکان متحدہ کے ہیں گورنر بھی تو اپنا ہے ان کا۔۔ اصل صورت حال الیکشن کے بعد معلوم ہو گی تب پتہ چلے گا جیت الیکشن کی بناء پر ہوئی یا سلیکشن کی بناء پر۔۔بہر حال جو ہو اچھا ہو۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
ٓآزادی مبارک

ٓآزادی مبارک

جشن آزادی مبارک ! آج صرف قائداعظم کے دو فرمان۔۔۔ اگر ہم خود کو بنگالی ،پنجابی، بلوچی اور سندھی وغیرہ پہلے اور مسلمان اور پاکستانی بعد میں سمجھنے لگیں گے تو پھر پاکستان لازمّا پارہ پارہ ہو کر رہ جائے گا
ڈھاکہ٣١ مارچ ١٩٤٨
اگر ہم اس مملکت پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اور بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی پڑے گی
خظبہ صدارت دستور ساز اسمبلی ۱۹۴۷
مکمل تحریر پڑھیں ←
جشن آزادی

جشن آزادی

جشن آزادی! بچپن میں مجھے اس کا کوئی شعوری احساس سوائے اس کے کہ گھر میں جھنڈیاں لگانی ہے اور چھت پر جھنڈا لگانا ہے نہ تھا۔
اسکول میں جب ١٤اگست کی تقریب کے حوالے سے سرگرمیاں شروع ہوتی تو مجھے معلوم ہوتا کہ یہ دن قریب ہے ( جو بات درست ہو اس کا اعتراف کر لینا چاہئے) اسکول کی ان تقریبات میں میں نے کبھی شرکت نہ کی سوائے آخری دن کے جب میں باقی بچوں کے ہمراہ اسے دیکھنے کے لئے پہنچ جاتا۔۔۔یا پھر کلاس روم کو مختلف جھنڈیوں سےسجانے اور تحریک پاکستان کے رہنماؤں کی تصاویر آویزہ کرنے کی حد تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ محلے میں اس کی تیاری میں پیش پیش ہوتا۔چندہ جمع کرنے سے لے کر جھنڈیاں خریدنے اور ان کو گلی میں باندھنے تک۔۔علاقے میں ہماری گلی اُن چند گلیوں میں شمار ہوتی جہاں جھنڈیوں کے لہرانےکی آواز ہر آنے جانے والے کو اپنی جانب متوجہ کرتی اور سورج کی روشنی کے راستے میں کسی حد تک رکاوٹ کرتی ۔۔۔ اب ایسا نہیںہے۔

گھر میں ذرا رواج مختلف ہے ۔ ١٢ تاریخ تک ہم بہن بھائی جتنی رقم جمع کرے گے اتنی ہی رقم والد صاحب اس میں ملائے گے یہ طے ہوا تھا ایک مرتبہ مگر ہوتا یوں ہے ہم سے جس قدر رقم جمع ہوتی وہ والد ہمیں ہی دے دیتے ہیں اور جتنی رقم ہمیں جھنڈیوں کے لئے درکار ہوتی وہ الگ سے پکڑا دیتے۔۔ مگر رقم جمع کرنے کی شرط نہ ختم کرتے۔۔۔۔۔ اب اس شرط کا اطلاق ہماری چھوٹی بہنوں پر ہوتا ہے۔۔۔۔دوسری پابندی یہ ہے کہ بازار سے بنی بنائی جھنڈیاں نہ لائی جائیں گی بلکہ جھنڈیاں گھر لا کر خود سے دھاگے پر لگا کر سجائی جائیں گی۔۔۔۔ اس پر اب بھی عمل ہوتا ہے۔ ان تیاروں کے سلسلے میں ایک مرتنہ جھنڈیاں لگانے کے بعد بارش سے سب خراب ہو گئیں تو میری چھوٹی بہن بہت روئی تھی ۔۔۔ اور وہ اپنی طرف سے اللہ سے لڑی تھی۔۔۔ہم جھنڈیوں کو دھاگے سے لگانے کے لئے آٹے کی لیوی بنا کر استعمال کرتےہیں۔ یہاں میں اپنے ابو کی ایک بات ضرور بتاؤں گا جو مجھے اچھی لگی ان کا کہنا ہے“مذہب،ملک اور برادری (خاندان) کے لئے اگر کچھ کرو تو اسے احسان سمجھ کر نہ کرو اور اس کے بدلے میں بھی کچھ طلب نہ کرو“۔ اب آخر میں میری انگریزی کی تک بندی جو میری اس زبان میں واحد تک بندی ہے یہ میں نے دسویں جماعت میں کی تھی پھر مجھے پتہ چل کیا کہ میں کتنے پانی میں ہو

MY HOME LAND

In the world ,the best Land That is my Home Land I like its all thing, present here Also its all Field & Sand I want to kill all enemy of my land And want to die for this Land We all , who live here All are Brother & Friend I Love my HOME LAND I Love My
مکمل تحریر پڑھیں ←

انگریزی اردو لغت

مجھے معلوم ہے کہ آپ کی انگریزی اچھی ہے مگر میرا تو حال ماندہ (برا) ہےنا۔اب اس بنا پر ہم انگریز یا اس کی انگریزی یا خود مجھ کو جتنا بھی کوس لے مگر تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج کے دور میں اس سے دوری ممکن نہیں اس کو ایک بین الاقوامی زبان کی حیثیت حاصل ہے۔اگر آپ بھی میری طرح (انگریزی سے کم واقف) تو عرض ہے کہ اس سلسلے میں انگریزی سے اردو اور اردو سے انگریزی لغت درکار ہوتی ہے۔اس سلسلے میں کلین ٹچ والوں کی ڈکشنری کافی سو دمند ثابت ہو سکتی ہے۔یہ ایک اچھی لغت ہے۔اس کا سائز قریب قریب چھ (۶)ایم بی ہے اور یہ ہے بھی مفت۔۔۔۔۔۔۔۔! امید کرتا ہو آپ کے کام آئے گی۔۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

نوجوان کے نام

ترے صوفے ہیں افرنگی ، تیرے قالین ہیں ایرانی لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی امارت کیا ،شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل نہ زورِ حیدری تجھ میں نہ استغناے سلمانی نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں نہ ہو نومید، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں (کیا مجھے شاعر کا نام لکھنے کی ضرورت ہے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

مدارس آرڈ یننس

یہ لو ایک اور آرڈیننس (مدارس آرڈیننس) آرہا ہے آنے دو! دھشت گردی کے خلاف جنگ کے علاوہ کوئی دوسرا کام بڑی روانگی سے کر رہی ہےوہ نئے نئے آرڈیننس پاس کر ہی ہے اور پرانے قوانین کو ترمیم کے بعد نئے نام سے جاری۔نہیں نہیں جناب ہمیں کوئی اعتراز نہیں ہم نے نہ تو حسبہ بل پر اعتراز کیا نہ اس پر اعتراز کرنے پر اعتراز کیا بلا اب کیا کرے گے۔ بھائی ہمیں نہ تو قانون بنانے پر شکایت ہے نہ اس کے پاس ہونے پر نہ اس کے نفاذ پر، بات ساری ہی ہے کہ یہ تو ہو کہ یہ سارے کام ہم اپنی خواہش اور مرضی سے کر رہے ہیں اب اس آرڈیننس کو ہی لے لیں لگتا ہے کہ انکل سام اور اس کے چیلے کے حکم پر بنایا جا رہاہے۔ فارن میڈیا سے خطاب میں صدر صاحب نے ارشاد کیا “دسمبر تک مدارس کی رجسٹریشن مکمل ہونی چاہئے“ ٹھیک ہے جناب مگر! ساتھ ہی حکم جاری ہوا کہ “غیر ملکی طالب علموں دسمبر تک ملک چھوڑ جاؤ“۔ ہان اب وہ کہے گے کہ ہم نے یہ فیصلہ بھی خود کیا ہے،کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔ فلسفی اسپنزنے کہا تھاکہ اگر کسی اینٹ کو ہوا میں پھینک دیا جائے اور پوچھا جائے اے اینٹ کدھر چلی؟ وہ کہی گی میں اپنی مرضی سے جاہی ہو کسی کی کیا ہمت کہ مجھے اس راہ پر ڈالے۔ہماری مثال ابھی کچھ ایسی ہی ہے،جو حکم اس کعبہ (امریکہ) سے آتا ہے اس پر سر تسِلیم خم ہوتا ہے ساتھ کہتے ہیں یہ ہماری اپنی مرضی ہے،اور وہ! خانہ کعبہ پر حملے کی تجویز پیش کرتے ہیں ہے نا کمال! بعد میں بے شک معافی مانگ لو ایک بار دل کی بات تو زبان پر لے آؤ۔ آردیننس آئے اس پر عمل ہو ، مدارس کی رجسٹریشن ہونی چاہیئے۔یوں ان کو ایک مقام حاصل ہو گا۔مگر غیر ملکی طالب علموں کے انخلاء والا معاملہ کچھ ٹھیک نہیں اس سے ان ممالک میں پاکستان کا امیج مجروح ہونے کا اندیشہ ہے جن سے یہ طالب علم یہاں آئے ہاں اگر ان طلبہ کی رجسٹریشن کر لی جاتی تو بہتر تھااور صرف مدارس آرڈیننس کیوں؟ این جی اوز آڈیننس بھی کیوں نہیں؟ اپنی رائے یہاں بھی دیں
مکمل تحریر پڑھیں ←

نوبل انعام

"سنو اور غور سے سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ پرائز نوبل نہیں اگنوبل ہو گیا ہے۔ یہ اب صرف مغرب اور مغربی اقدار پر یقین رکھنے والوں کے لیے ہے۔ یہ آج تک کسی ایسے شخض کو نہیں ملا ،جس نے مغربی بالادستی قبول نہ کی ہو۔ اس میں سیاست اتنی ہوتی ہے کہ ایک زمانے میں جونہی کوئی روسی مصنف بھاگ کر یورپ آ جاتا جو اپنی تحریروں میں اپنے ملک کو گالیاںنکالتا تھا ۔ مثلا سونرے انشن تو فوری طور پر نوبل انعام۔۔۔۔۔ دہشت پسند بیگن کو نوبل امن انعام۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال کو نہیں البتہ ٹیگور کو ادب کا انعام۔۔۔دنیا کے ایک عظیم ناول نویس یاسر کمال کواس لیے انعام نہیں دیا جائے گا کہ وہ کرد ہے اور ترک ناپسند کریں گے۔ ایک ایسے یہودی ادیب کو انعام۔۔۔۔۔۔جو صرف پولینڈ کی پولش زبان میں لکھتا ہے اور انڈونیشیا سےالگ ہو جانے کے لیے جدوجہد کرنے والے مشرقی تیمور کے ایک پادری "بشپ بیلو" اور لیڈر "ہو سے ہوتا" کوامن انعام کہ شاباش بیٹا مسلمان ملک سے الگ ہونے کوشش میں ہم تمارے ساتھ ہیں۔ کیا یہ انعام کسی کشمیری لیڈر کو بھی مل سکتا ہے۔جو اپنی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔اور آخری بات مدر ٹریسا کوامن انعام اس لیے کہ وہ مغرب سے آئی ہے اور عبدالستار ایدھی جو دنیا کے ہر انعام بلند ہے ۔اسے اس لائق نہیں سمجھا گیا کیونکہ وہ مشرق سے آیا ہے،چنانچہ نوبل پرائز بھی اب گینڈا ایوارڈ بن گئے ہیں" (مستنصڑ حسین تارڑ کی کتاب 'ہزاروں ہیں شکوے' سے اقتباس)۔
مکمل تحریر پڑھیں ←