طریقہ احتجاج پر احتجاج

طریقہ احتجاج پر احتجاج

ناجائز و غلط کام کرنے کا کوئی طریقہ جائز نہیں ہو سکتا، مگر اگر جائز و درست کام کے پیچھے بھی صرف!!غلط نیت کار فرماں ہو تو منزل بھی جائز نہیں رہتی نہیں ہوتا۔ لہذا منزل کے لئے غلط راہ کا انتخاب کسی طرح درست نہیں، اس سے منزل ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جاتی ہے۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے مگر اسے یاد نہیں رکھتا!! آج شام کو آفس میں جب ٹی وی آن کیا تو اس پر جس طرح کی خبریں سنائی جا رہی تھی انھیں سن کر نہ صرف افسوس ہوا بلکہ شرمندگی بھی محسوس ہوئی!!! توہین رسالت کے سلسلے میں ہونے والا مظاہرہ ہنگامے کی شکل اختیار کر گیا!!! مارچ میں شریک افراد نے لاہور میں توڑ پھوڑ کی!!! عمارتوں ، گاڑیوں، دفاتر، دوکانوں اور یہاں تک کہ پنجاب اسمبلی کو بھی آگ لگا دی!!!! یہ کس چیز کا پیغام ڈینا چاہتے تھے؟؟؟؟ کہ ہم ناموس رسالت کے لئے جمع ہوئے ہیں؟؟؟؟؟ نا سمجھ !!!! مقصد کیا تھا؟ اگر یہ کہ توہین رسالت پر احتجاج کرنا تو جو حرکتیں ہوئیں ہیں ان سے تو خود اس اللہ کے رسول کی حرمت پر داغ آتا ہے!!! جس کی ناموس کے لئے وہ جمع ہوئے تھے!!!! خود وہ کیا سوچ رہے ہوں گے !!! کیسی امت ہے!!! جن باتوں کی ہدایت ان کو بھولے ہوئے ہیں!!! کیا تاثر دینا چاہ رہے ہیں یہ لوگ؟؟؟؟ میں ایسے طریقہ احتجاج پر احتجاج کرتا ہو!!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←

توہین کا عالمی بحران

ہمارے چند دوستوں کی رائے ہے کہ کچھ بھی ہو جائے ایک بات تو ہے کہ اگر پاکستانی قوم کو دیکھو تو ان میں لاکھ اختلاف ہو بعض معاملات میں یہ ایک ہیں!! دوسرا یہ کہ مسلمان لاکھ گمراہ ہوں ! دین سے دور ہو مگر اپنے دین کے خلاف بات سن کر ایک ہو جاتے ہیں!!!! اب مجھے معلوم ہے کہ آپ میں سے اکثریت کی رائے اس سلسلے میں ان سے ملتی ہے!!!! مگر کیا کرے مجھے اختلاف ہے اس پر بھی!!!!! یہ مکمل سچ نہیں کہ ہم کسی ایک معاملہ میں بھی مکمل اتفاق کرتے ہوں، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اکثریت ایک جانب ہوتی ہے!!! میری یہ سوچ اب مزید پختہ ہو گئی ہے! توہین رسالت کے واقعہ کے بعد خاص کر!!! انٹرنیٹ پر مختلف انگریزی بلاگ پڑھے!!! خاکوں کے شائع کئے جانیں والی بات پر اگر طرف چند غیر مسلم بلاگر اس عمل کو غلط اور غیر اخلاقی کہا ہے (جب کہ اسے آزادی رائے قرار دینے والے غیر مسلم کی تعداد بہت بڑی ہے ) تو دوسری طرف مسلم بلاگر کی ایک محضوص تعداد اسے توہین رسالت نہیں سمجھتی!!! اور چند بلاگر اگر اسے توہین رسالت مانتے بھی ہیں تو اس پر رد عمل ظاہر کرنے کو درست عمل قرار نہیں دیتے!!! جو ردعمل ظاہر کرنے کا مشورہ دینے ہیں وہ یورپی یا ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کو بیوقوفی قرار دینے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک اخبار کی سزا پوری قوم کو کیوں؟ (جبکہ اکثر تبصرے وہاں یہ ہیں کہ اس بائیکاٹ کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آئیندہ ایسا نہ ہو!!! ایک معاشی دباؤ انہیں ایسا کرنے سے روک سکتا ہے)، اور کچھ پر امن احتجاج (بلکہ مارچ کا لفظ استعمال کیا جائے تو بہتر ہے) کو کافی قرار دینے ہیں۔ یورپی اخبارات کی آزادی رائے اور ان کے رد عمل پر بس یہ حیا ان کو نہیں آتی انہیں غصہ نہیں آتا دوسری جانب ایسے ممسلم بلاگر کی بھی بڑی تعداد ہے جو شدید احتجاج (بلکہ شدید تر) کے حامی ہیں!!!!! (دونوں طرح کے بلاگر آپ خود یہاں اور یہاں تلاش کر لیں مل جائیں گے) ہاں!!! دونوں طرف کے پاس اپنے دلائل ہیں!!! البتہ ذاتی طور پر میں ایسے پر امن احتجاج کا قائل نہیں جو صرف مارچ تک محدود ہو! یہ احتجاج نہیں رونا ہے خود کو کمزوز (ماڑا) ظاہر کرنا!! اور بقول حضرت باہو! ماڑا یا تو رو سکتا ہے یا بھاگ!! کہیں ہم راہ فرار کی تلاش میں تو نہیں؟؟؟؟ پر تشدد احتجاج کو بھی میں جائز قرار نہیں دیتا!!! بلکہ اس پر امن مارچ سے آگے کے اقدامات ہونے بھی لازم ہیں! ایسا کہ جس سے وہ آئیندہ ایسا کرنے سے باز آجائیں!!!! اب اگر وہ پشیمانی کا اظہار کرتے بھی ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ دل سے اس پر پشیمان ہوں!!! اور اسے آزادی رائے سمجھنا بھی غلط ہے!!! اگر ایسا ہوتا تو “جیلینڈ پوسٹن“ اس سے قبل حضرت عیسٰی کا کارٹون چھاپنے سے انکار نہیں کرتا، میں یہ نہیں کہہ رہا (نعوذبااللہ)انہیں ایسا کرنا چاہئے تھا! ہم باحیثیت مسلمان ان پر ایمان رکھتے ہیں اور جس قدر وہ حضرت عیسٰی سے عقیدت رکھتے ہیں ہم بھی اتنی ہی بلکہ شائد ان سے بھی ذیادہ!!! معاشی و سفارتی بائیکاٹ ہی اس وقت درست راستہ ہے!!!! اور یہ پر تشدد بھی نہیں!!! اس کے علاوہ جس سطح پر آپ اپنا احتجاج رکارڈ کروا سکے کروائیں!!!
پچھلي پوسٹ
مکمل تحریر پڑھیں ←
میٹھا بحران

میٹھا بحران

آج کل ملک میں مٹھاس کا بحران چل رہا ہے، ہر کوئی تلخ ہو رہا ہے، لہجہ تلخ ہو تو بات خود ہی تلخ معلوم ہوتی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بات و حالات تلخ ہوں تو لہجہ کا میٹھا رہنا بھی ممکن نہیں۔
ایک پاکستانی اوسط سالانہ بائیس کلو کے قریب چینی کھا جاتا ہے، جو اس خطہ میں سب سے ذیادہ ہے، باقی خطے کے ممالک میں اوسط سات سے بارہ کلو سالانہ ہے، شائد پاک چین دوستی کی وجہ سے اہل وطن کو “چینی“ بھاتا ہے اور اس ہی بناء پر وہ “چینی“ کھاتا ہے!!!!!! کیونکہ “پاک چین دوستی کان کوئے“۔۔۔۔۔۔ ویسے اگر کھائی جانے والی “چینی“ کا نام بدل کر امریکی رکھ دیا جائے تو ممکن ہے کہ “چینی“ کے استعمال میں کمی ہو!!!! لیکن ہمارے دوست کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ ہر پاکستانی یہ کہہ کر “چینی“ کا استعمال مزید بڑھا دے گا کہ “میں اس امریکی کو نہیں چھوڑو گا“!!!!!!! اصل بات یہ ہے کہ اس وقت ملک میں ایک کلو چینی کی قیمت قریب ٤٢ سے ٤٣ روپے تک جا پہنچی ہے۔ جو سرکاری قیمت سے ١٢ سے ١٣ روپے ذیادہ ہے، اس مالیاتی سال کے شروع میں ایک کلو چینی ٢٢ روپے کی تھی یوں اب تک ایک سال میں کلو پیچھے ٩٥ سے ٩٩ فیصد قیمت میں اضافہ ہوا ہے جو اب تک ایک مالیاتی سال میں سب سے ذیادہ ہے۔ ہول سیل کی مارکیٹ میں سوداگروں کا کہنا ہے کہ شوگر ملز والے انہیں ١٠٠ کلو چینی ٣٧٥٠ سے ٣٨٥٠ کے درمیان کی قیمت میں مہیا کرتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم سرکاری قیمت پر چینی مہیا کرے؟؟؟ لہذا ہول سیل والے ٣٨٥٠ سے ٣٩٥٠ سے میں ١٠٠ کلو چینی فروخت کررہے ہیں۔اس بناء پر ریٹیل پرائز ٤١ سے ذیادہ ہے۔ شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال ہم نے ٤٠ روپے فی ٤٠ کلو کے حساب سے مارکیٹ سے گنا لیا اس کے بر عکس اس سال ٧٠ سے ٧٥ روپے فی ٤٠ کلو میں گنا پڑا، دوسرا گنے کی فصل بھی اس سال ٹھیک نہ تھی اس وجہ سے چینی کی قیمت میں اضافی ہوا ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے اپنے دعویٰ اور تحفظات ہیں۔ وہ الگ کہانی سناتے ہیں۔ ایک تاثر یہ ہے کہ چینی کی ایک بڑی مقدار افغانستان اسمگل ہوئی ہے جو اس بحران کا سبب بنی ہے یہ مقدار تقریبا١٥٠٠٠٠ سے ١٧٠٠٠٠ ٹن تک بتائی جاتی ہے حکومت اس بحران کا ذمہ دار شوگر ملز مالکان کو قرار دیتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ ملز مالکان نے قریب٢٥٠٠٠٠ سے ٣٥٠٠٠٠ ٹن تک چینی اپنے گوداموں میں چھپا رکھی ہے، اس ہی بناء پر یہ میٹھا بحران (اب کون اسے میٹھا کہے؟؟) آیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے پرائیویٹ سیکٹر کو مکمل ٹیکس اور دوسرے واجبات کی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ چینی باہر سے درآمد کر لیں خواہ وائٹ یا خام۔۔۔۔ ٥٠٠٠٠ ٹن چینی تو بھارت سے خریدی جارہی ہے، لو!!!! جن سے تعلقات میٹھے نہیں ہو سکے ان سے کوئی چینی میٹھی کیسے ملے گی؟؟؟؟ کڑوی چینی !!!! ایک طرف یہ تمام جھگڑے!!! دوسری طرف عوام جو چینی کی خرید کے لئے یوٹیلیٹی اسٹور کے باہر لمبی قطار میں لگے نظر آتے ہیں تا کہ سستی چینی خرید سکیں۔۔۔ لمبی قطار لمبا انتظار!!!! جب تک باری آتی ہے تو چینی ختم ہو جاتی ہے!!!! تلخ انتظار کے بعد تلخ جواب!!! کل آنا مال ختم!!! جن کو یہ تبرک مل جاتا ہے وہ خوشی مناتے ہیں!!! جی! تبرک ہی کہے نا!!! ایک گھنٹے کے انتظار کے صلے میں ٥٥ روپے میں ٢ کلو!!! ایک شخص کو اس سے ذیادہ نہیں ملے گی!! ہاں یوٹیلیٹی اسٹور والے سے دعا سلام ہے تو پھر پچھلے دروازے سے جتنی مانگی اتنی ملے گی!!! مگر اس کے حصہ کا بھی خیال رکھنا ہو گا! اس کے حصہ کا خیال صرف محلے کا دوکاندار رکھتا ہے اس لئے وہ اس کا!!!! حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹور کا کوٹہ دگنا کر دیا ہے پہلے ١١٠٠٠ ٹن تھا اب ٢٢٠٠٠ ٹن ہے۔۔۔ کوٹے کے ساتھ قیمت کا ذیادہ ہونا بھی ضروری تھا! اس لئے پہلے یوٹیلیٹی اسٹور میں چینی ٢٣ روپے کلو تھی اب ساڑھے ستائیس روپے ہے!!! جی کل وزیر اعظم صاحب نے اصل قیمت میں ٢٠ فیصد کا اضافہ کیا ہے یوں فی کلو ساڑھے چار روپے کا اضافہ ہو گیا ہے، اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اب چینی جتنی بھی سستی ہو عام مارکیٹ میں مگر ٢٨ روپے فی کلو سے ذیادہ ہی ہو گی۔۔۔ اب دیکھے یہ میٹھا بحران کب تک تلخیاں بکھیرتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
کھلی چھٹی

کھلی چھٹی

عالم اسلام آج کل ایک عجیب مقام پر آ کھڑا ہوا ہے۔۔۔۔۔ اس کے پاس کوئی بھی مخلص لیڈر نہیں۔۔۔۔۔ اس مذہب کے پیروکار ایک عجیب الجھن کا شکار ہیں۔۔۔۔
اسے عجیب طرح کی صورت حال کا سامنا ۔۔۔۔ ہر نیا دن ایک نئے تنازعہ کے ساتھ آتا ہے، ایک نیا محاذ!!!! ایک نیا امتحان۔۔۔۔ دہشت گردی کا الزام!!! امن کے دشمن!!! جیسے الزام، انتہاپسندی!!!!! بنیاد پرست!!! جیسے خطاب۔۔۔۔ جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔۔۔ دراصل چور خود چور چور کا شور مچا کر دوسرے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔ اس کی تازہ ترین مثال ڈنمارک کے اخبار “جیلینڈ پوسٹن“ کی ہے جس نے رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی ہے، اس اخبار نے ٣٠ ستمبر ٢٠٠٥ کو چند تصویری خاکے شائع کیئے، کیا محمد ایسے ہوتے (نعوذبااللہ) کے عنوان کے تحت، جس پر قریب دو ہفتے بعد ٣٥،٠٠٠ افراد نے احتجاج کیا۔۔۔۔ بات وہاں ہی نہیںختم ہوئی، ١٠ جنوری ٢٠٠٦ کو ناروے کے اخبار “میگازِنٹ“ نے اس تصویری خاکوں کو دبارہ شائع کیا، جرمن اخبار “ڈائی ویلٹ“ ،فرانسیسی رونامہ “فرانس سوئر“ اور چند دوسرے اخبارات بشمول نیوزی لینڈ اور ہالینڈ کے اخبارات نے ان توہین امیز اور طنزیہ خاکوں کو “آزادی رائے“ کے بہانے سے اسلام دشمنی(اس کے علاوہ کیا کہا جائے؟) شائع کیا۔۔۔۔ ڈنمارک کی پولیس کو کئی مسلم تنظیموں نے شکایت کی ہے کہ اخبار “جیلینڈ پوسٹن“ کی یہ حرکت “ضابطہ فوجداری ڈنمارک“ کی دفعات ١٤٠ اور ٢٦٦(ب) کے تحت جرم ہے، دفعہ ١٤٠ کے تحت کسی بھی شخص کو ڈنمارک میں موجود کسی بھی مذہبی گروہ کی تمسخر اڑانے کی ممانعت ہے، جبکہ دفعہ ٢٦٦(ب) کسی ایسے بیان یا معلومات کو جرم گردانتا ہے جس سے کوئی گروہ مذہبی اعتبار سے خوفزدہ ہو،اسے اپنی ہتک محسوس ہو، یا خود کو کمتر محسوس کریں، اب دیکھیں کہ کیا رد عمل آتا ہے، کسی نئے بہانے کے لئے تیار رہے۔۔۔ یہ بھی خوب ہے،ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری، اہل مغرب جب بھی کوئی غلط کام یا اہل اسلام کے خلاف سازش یا شرارت کرتے ہیں تو اس پر پشیمان ہونے یا معافی مانگنے کے بجائے کوئی نا کوئی بہانہ تراش لیتے ہیں۔ کوئی پوچھے دل آزاری کی آزادی تو “آزادی رائے“ نہ ہے، آزادی کا مطلب کھلی چھٹی نہیں ہے، اگر ہے تو بھاڑ میں جائے ایسی آزادی ،ہر بات کی چند حدود ہوتی ہیں ان کو کراس نہیں کرنا چاہئے۔ اس حرکت سے بلا کسی شک شبہ کے اہل مسلم کے دل کو ٹھیس پہنچی ہے، ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں، جو امت ایک اللہ ،ایک رسول اور ایک قرآن کی بنیاد پر ایک ہے، جن کے قریب ان کا نبی رول ماڈل ہے، جن کی محبت کا مرکز اللہ اور اس کا رسول ہے، جو نعت کی محفل سجاتے ہوں، ان کے رول ماڈل کو مذاق کا نشانہ بنانہ کہاں تک درست ہے؟؟؟ شائد چند لوگ اسے غلط کہے مگر میری رائے بھی وہ ہی ہے جو اکثریت کی ہے کہ ان کا معاشی و معاشرتی بائیکاٹ جب تک وہ آئیندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ نہ کر لیں۔ جب وہ ایک ہو سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

جنت

جنت!!!!! کی خواہش ہر کسی کو ہوتی ہے اس لئے ہمیں بھی ہے!!!! زندگی !!!! سب کو پیاری ہوتی ہے لہذا شہہ رگ کو کٹنے نہیں دینا!!!! آزادی!!!! ہر ایک کا حق ہے تبھی اسے پانے کی جدوجہد جاری رکھنی ہے!!!!! اپنے!!!! جو خود سے الگ نہ ہوں ان سے جڑ کر رہا جاتا ہے!!!!! لہذا اہم معاملات میں ان سے یکجہتی منائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کشمیر!! ہماری جنت!!! ہماری زندگی!!! کشمیری ہمارے اپنے!!! ان کی آزادی کی جدوجہد ہماری جدوجہد!!!! 5 فروری !!!! ہمارے اپنوں سے یکجیتی کا دن!!!!یوم یکجہتی کشمیر!!!!
×××××××××××
مسئلہ کشمیر کی تاریخ کا ایک طاہرانہ جائزہ
Technorati Tags: , , , ,
مکمل تحریر پڑھیں ←
ایک شرارت

ایک شرارت

ِیوں تو شرارت کرنا اچھی بات نہیں پھر ایسی جیسی میں نے کی۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ہر گر ااچھی نہیں ہے مگر مجھے یقین ہے کہ میرا دوست اس کا برا نہیں مانے گا۔۔۔۔۔ یہ تصویر تب کی ہے جب میں نے نیا نیا فوٹو شاپ پر گھر میں وقت گزاری کے لئے شغل کے غرض سے کام کرنا شروع کیا تھا۔۔۔۔

اس وقت کی ایک تصویر تو یہ تھی جو میری اپنی ہے۔۔۔۔۔ اور دوسری یہ ٓآمنہ حق کی تصویر پر دوست کا چہرہ
مکمل تحریر پڑھیں ←

سر کجھانے کی فرصت

مصروفیت!! یہ بھی جب ہو تو اس کے نہ ہونے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ آج کل اللہ تعالی نے چھپڑ پھاڑ کر اسے ہمارے سر دے مارا ہے۔۔۔۔ چلو یہ تو ثابت ہوا کہ وہ جب بھی دیتا ہے جھولی بھر کے دیتا ہے چاہے مصروفیت ہی۔۔۔ کہتے ہیں ایسے میں سر کجھانے کی فرصت نہیں ہوتی۔۔۔ ویسے میری مصروفیت ایسی بھی نہ تھی کہ سر کجھانا ممکن نہ ہو۔۔۔۔مگر!۔۔۔۔۔ ہم سر کجھائیں گے نہیں ۔۔۔۔ کیونکہ یار لوگ کہیں یہ نہ سجمھ لیں کہ ہمارے سر میں جوئیں پڑ گئیں ہیں۔۔۔۔ ایسی بدنامی تو اچھی نہیں ہے نہ بھائی!۔۔۔۔ اگر یہ تہمت ہم پر لگ گئی تو بھلا کون ہم سے سر جوڑ کر باتیں کرے گا؟؟؟۔۔۔۔۔ دوسرا واراثتی طور پر بھی سر کے بال بھی بال بال بچتے ہیں ۔۔۔۔ یعنی ماتھا اصل سے بڑھ کر کچھ اور ہی اصل بن جاتا ہے۔۔۔ نہیں سمجھے کیا؟؟؟ ارے! جس سر پر کبھی بال ہی بال ہوتے ہیں وہ سر کئی بال کھو بیٹھتا ہے اور کچھ بال سر پر باقی بچ جاتے ہیں اور بندہ مکمل گنجا ہونے سے بال بال بچتا ہے۔۔۔۔۔ ابھی بال سے محروم ہونے کا سلسلہ شروع تو نہیں ہوا مگر ماضی (خاندان کے بزرگوں) کو دیکھ کر احتیاط لازم ہے۔۔۔۔لہذا فرصت میں بھی سر کجھانے سے اجتناب کرنا بہتر ہو۔۔۔ لہذا ہم ابن انشاء کی یہ بات فرصت کے وقت کہتے ہیں کہ اتنی فرصت ہے کہ سر کجھانے کی بھی فرصت نہیں۔۔۔
مصروفیت ایک کی وجہ وکلاء کے الیکشن تھے، سینئر ہمارے جنرل سیکر؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂ٹیری (یہ کوئی فوجی عہدہ نہیں) بن گئے ہیں، کراچی بار کے۔۔۔۔ دوسری وجہ دوست کی سلیکشن ہوئی تھی دولہے کی پوسٹ کے لئے اب اس نے چارج لیا ہے ۔۔۔ بھائی ان کی شادی تھی، بارات میرپور خاص(دوست کے لئے خاص وخاص) گئی، پورے تیرہ گھنٹے کی تقریب تھی دس گھنٹے کا سفر اور تین گھنٹے شادی حال میں۔۔۔۔
Technorati Tags: ,
مکمل تحریر پڑھیں ←

شائد یہ۔۔۔۔۔۔۔۔

بعض قتل ایسے ہوتے ہیں جو قتل خطا کےذمرے میں آتے ہیں۔۔۔۔۔ یعنی آپ کا ارادہ نہیں تھا غلطی سے سرزد ہو گیا ہو گئی۔۔ جب خطا ہو تو اسے محسوس کرنا بھی اکثر ممکن نہیں رہتا۔۔۔ غلطی انفرادی سطح پر ہی نہیں ہوتی اجتماعی سطح پر بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ نا معلوم،غیر محسوس،انجانے میں کوئی بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔ منٰی میں بھگڈر بھی ایک اجتماعی خطا ہے، ایک اجتماعی قتل خطا!!!!۔ برداشت ہو، انتظار کرنے کا حوصلہ ہو، دوسرے کے حق کو پہچاننے کی سمجھ ہو، تو افراتفری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس واقعے میں (اب تک کی خبر کے مطابق) ٣٤٥ کے قریب حجاج شہید ہو چکے ہیں۔۔۔ ٢٥ لاکھ کے قریب کا اجتماع لازمّا کافی بڑا ہوتا ہے، اسے قابو کرنا ممکن نہیں، اسے انتظامی غفلت کا نام دینا آسان ہے، مگر میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اسے کسی حد تک اخلاقی تربیت کی کمی کہوں گا۔۔۔ یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی عبادت ہے، اس کے ذریعہ ہم ایک خاص پیغام کہ ہم خواہ الگ ہوں ملکی لحاظ سے، ہم میں زبان کا فرق ہو، ہمارارنگ جدا ہو مگر اصل میں ایک ہیں، ایسے میں کوئی ایسا ایک حادثہ ہمارے اس پیغام کا تاثر تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، آج کے اس میڈیا کے دور میں، جب خبر منٹوں میں پھیل جاتی ہو۔ ایسے حادثات سے بچنے کے لئے اگر چند ضروری اقدامات کرنے میں کسی قسم کی مذہبی رکاوٹ کا سامنا ہو تو اس سلسلے میں اجتہاد کا راستہ موجود ہے، جیسے حجاج کی تعداد کے بڑھنے کی وجہ سے منٰی کے موقعہ پر شیطان کو ٣ دن میں کنکریاں مارنے میں دشواری کا سامنا ہے کیوں کہ اس سلسلے میں مغرب سے پہلے یہ عمل کرنا بعض علماء کے نزدیک لازمی ہے تو اگر ممکن ہو تو مغرب کے بعد یعنی رات میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔۔۔۔ اگر کوئی شرعی قید نہ ہوتو ۔۔۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے تاکہ حاجی کے ہاتھوں حاجی کا قتل خطا نہ ہو۔ خود اہل مسلم کا ایک غلط تاثر باقی دنیا کے سامنے نہ جائے۔
Technorati Tags: , , , , , ,
مکمل تحریر پڑھیں ←

قربانی کی کھالیں

لیں! عید قربان آن پہنچی اور ساتھ ہی کھالوں کے امیدوار بھی۔ ورنہ۔۔۔آپ کی کھال تو ہے نا!
عید پر عیدی کیا؟؟؟ گوشت اور کھال!! ۔۔۔۔ اب آپ کس کے امیدوار ہیں؟؟ سارے فلاحی ادارے تو کھال مانگ رہے ہیں۔۔۔شکر ہے قربانی کے جانور کی کھال مانگی جاتی ہے ورنہ تو عوام کی کھال اتاری جاتی ہے ۔۔۔۔ عیدی و قرنانی دینے والے کا اپنا حصہ؟؟؟ ہڈیاں!!!۔۔۔۔۔ اور بس یہ لو کیا بھی بس ہے؟؟؟ ہمارے دوست ہیں کہتے ہیں کہ“ یار ٹھیک کہ اس عید کا اصل مقصد سُنت ابراہیمی کا پورا کرنا ہے اور دعا یہ کہ اللہ اس قربانی کو قبول کرے، مگر یہ کیا! خود قرنانی کرنے والے کا حصہ چھچھڑے یا پھر ہڈیوں کا سوپ اور گوشت اہل محلہ یا رشتہ دار لے جاتے ہیں باقی کچھ فقیر برادری!!!!! اور کھال یہ مدرسہ والے مانگ لیتے ہیں یہ دیر کردیں تو خدمت خلق یا الخدمت والے بتا دیتے ہیں کہ ہم لیں کر جائیں گے مانگتے بھی نہیں!!! “ ویسے مجھے ان سے اختلاف ہے کہ اہل محلہ اور رشتہ دار تو خود دینے بھی آتے ہیں اور غرین کو گوشت ملتا ہی اس عید پر ہے باقی معاملہ رہا کھال کا تو وہ تو ہوتی ہی اتارنے کے لئے ہے۔۔۔ اور جو چیز اتاری جائے اس کا نہیں بتاتے کیوں !!!۔۔۔ ویسے ہمارے یہ دوست ہیں کافی سمجھ دار ہیں وجہ!! بھائی ہڈیاں وہ دوسروں کو ڈالتے ہیں اور گوشت فریج میں۔۔۔۔ خیر جو ان کی مرضی ۔۔سانوں کی!
قربانی صرف جانور ہی کی نہیں ہوتی بلکہ اس کے مالک کی بھی ہوتی ہے پہلے جانور خریدنے کے لئے بجٹ بنانا پڑتا ہے پھر اس سے آگے کا سسلسہ ۔۔۔۔۔۔۔ خود قربانی کا جانور بڑا لاڈلا ہوتا ہے، جب تک ہوتا ہے، اُس کے ناز نکھرے اُٹھانے پڑتے ہیں،اُس کی صحت اور مزاج کا خیال رکھا جاتا ہے، پڑوس میں ایک مرتبہ بکرا اپنے لاڈ نہ آٹھائے جانے پر اس قدر برہم ہوا کہ عید سے ایک دن پہلے ہی قربان کرنا پڑا ۔۔۔۔ یوں اس نے عید تک بھی خیر نہ منائی اور چھری کے نیچے آگیا۔۔۔اب مجھے یہ نہیں معلوم اس نے یہ بتایا کہ نہیں کہ وہ بکرے کی ماں نہیں بلکہ بھائی ہے یا نہیں؟؟؟ مگر خیر ،خیر تو اس کے مالک کی بھی نہیں رہی اسے دوسرے بکرے کا انتظام کرنا پڑا عید والے دن!!! ان کا کہنا تھا اس بار تین قربانیاں ہوئیں ہیں ہمارے گھر دو بکروں کی اور ایک میری!!!!
عید تو اصل میں بچوں کی ہوتی ہے، کیونکہ وہ بچے رہتے ہیں پریشانی سے،ذمہ داری سے، کام سے اور اپنے سے بڑاں کی ڈانٹ سے کہ عید کا دن ہے اب کیا کہے ان کو۔۔۔ اور عیدی الگ!!! جب ہم چھوٹے تھے تو۔۔۔ جی جناب ہم بھی چھوٹے تھے قسم لے لیں!! ذیادہ پرانی بات نہیں ہے۔۔۔۔ تو عید ہوتی تھی اصل میں ہماری۔۔ عید قرناب پر سارا دن ایک جگہ سے دوسری جگہ جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھنے جانا۔۔۔ جہاں کوئی اچھا (صحت مند) جانور ہوتا اس کی قربانی کو دیکھنے کا شوق ہوتا تھا ہمیں ۔۔۔ اس مقصد کے لئے ایک دن قبل ہی ہم دوست علاقے کا جائزہ لے کر بڑے جانور نوٹ کر لیتے تھے اب یہ باتیں یاد آتی ہیں تو حیرت ہوتی ہے یہ حرکتیں تھی ہماری؟؟؟؟۔۔۔۔ کمال ہے!!!
کھال سے بات بچپن پر چلی گئی ۔۔۔۔ واپس کھال میں آتے ہیں آپے سے باہر ہونا اچھی عادت نہیں۔۔۔
“جان کسے دو گے“
“اللہ کو“
“اچھا! ٹھیک ہے تو کھال مجھے دینا“
کیوں ٹھیک ہے نا! جان تو نہیں مانگی اس نے۔۔۔ اچھا آپ کھال کسے دیں گے؟؟؟؟
کھال جسے مرضی دیں اور گوشت چاہے کھالیں آپ بس میری طرف سے ایک بات۔۔۔۔ وہ کیا؟؟؟۔۔۔ پریشان مت ہو جان نہیں مانگ رہا!!!!!۔۔۔۔ وہ بات یہ ہے کہ
عید مبارک ہو آپ کو“

مکمل تحریر پڑھیں ←

رات کے گپ اندھیرے میں

میں نے رونا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
چاند کو تکنا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
وہ جو ایک عادت تھی میری
تارو سے باتیں کرنے کی
چپکے چپکے بھیگی بھیگی
پلکوں سے موتی چونے کی
گھنٹوں گھنٹوں لیٹے لیٹے
گھڑی کی ٹک ٹک سننے کی
یہ کرنے کی وہ کرنے کی
جانے کتنے سال پرانی
وہ جو ایک عادت تھی میری
خود سے لڑتے رہنے کی
اپنے لئے نظمیں کہہ کہہ کر
دیواروں پر لکھنے کی
یہ بھی کرنا چھوڑ دیا تھا
رات کے گپ اندھیرے میں
کچھ دن گزرے
وہ پرانی عادت مجھ میں
پھر سے لوٹ آئی ہے
میں پھر سے باتیں کرنے لگی ہو
بھیگے موتی چننے لگی ہو
پھر سے خود سے لڑنے لگی ہو
پھر سے نظمیں لکھنے لگی ہو
پھر اس بار ایک عجب سا سناٹا چھایا ہے
اب میں خود سے ڈرنے لگی ہو
رات کے گپ اندھیرے میں
مکمل تحریر پڑھیں ←