دو باتیں

میں نے کمرے میں پڑی چیزوں کو ایک نظر دیکھا اور اندازہ لگانے لگا کہ جب میں سیٹھ کو سچ بتاؤں گا تو وہ میرے سر پر گلدان مارے گا یا گلاس۔۔۔۔!!! اگر گلدان مارا پھر تو ٹھیک ہے ، لیکن اگر گلاس مارہ تو دو باتیں ہوں گی، یا تو میرا سر پھٹ جائے گا ،یا گلاس ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔ اگر گلاس ٹوٹ گیا ، پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر میرا سر پھٹ گیا تو دو باتیں ہوگی۔۔۔۔ یا تو میں مر جاؤں گا ،یا مزید زخمی ہو جاؤں گا اور بے ہوش ہو جاؤں گا- اگر بے ہوش ہو گیا پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر مر گیا تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔۔ یا تو سیٹھ میری لاش گھر والوں کے حوالے کر دے گا، یا جنگل میں پھینکوا دے گا۔۔۔۔۔۔۔اگر گھر والوں کے حوالے کردی تو ٹھیک ہے لیکن اگر جنگل میں پھننکوا دی تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔ یا تو مجھے گدھ چاٹ جائیں گے یا کمیٹی والے اٹھا کر لے جائیں گے۔۔۔۔۔۔ گدھ چاٹ گئے ، پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر کمیٹی والے لے گئے تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔۔۔ یا وہ مجھے دفنا دیں گے، یا میرا کیمیکل بنا دیں گے۔۔۔ دفنا دیا تو ٹھیک ہے لیکن اگر کیمیکل بنا دیا تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔ یا تو مجھے کسی تیزاب میں استعمال کیا جائے گا۔۔۔۔یا صابن میں۔۔۔ تیزاب میں استعمال کیا پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اگر صابن میں استعمال کیا تو دو باتیں ہوں گی یا یہ صابن مرد استعمال کریں گے ۔۔۔۔۔ یا عورتیں۔۔۔۔ اگر مردوں نے استعمال کیا پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ لیکن اگر۔۔۔۔۔۔ اوئی اللہ ۔۔۔۔ میں شرم سے سرخ ہو گیا۔۔۔۔۔ “ہرگز نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔“ میں نے جلدی سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
اقتباس؛ “ٹائیں ٹائیں فش“_______________تحریر؛“گل نو خیز اختر
مکمل تحریر پڑھیں ←

جھولی بھر کے ذلت

پچھلے کچھ دنوں سے اخبار کا مطالعہ والے احباب کو علم ہو گا کہ کراچی بار میں الیکشن تھے۔۔۔ جن میں کچھ حد تک وہ ہی سیاسی رنگ نظر آیا جو ہماری سیاست کا روپ ہے ، لڑائی ۔۔جھگڑا۔۔۔ الزام۔۔۔ اور اور۔۔۔ قانونی بندے غیر قانونی حرکتیں۔۔۔ الیکشن والے دن جھگڑا بلکہ جھگڑے ٹھیک ٹھاک ہوئے۔۔۔ کئی بار (چار سے چھ بار) الیکشن روکنا پڑا۔۔۔۔ الیکشن میں ایک امیدوار کے ساتھ ہم بھی تھے (مگر مجال ہے جو کوئی غلط کام کیا ہو)۔۔۔ وہ تھے میرے سینئر(جنرل سیکریٹری کے لئے)۔۔۔ مگر جو آج ہوا وہ تو آخیر تھا۔۔۔۔ کراچی میں وکلاء کی تعداد ہے تیرہ ہزار۔۔۔ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں چھ ہزار۔۔۔۔ الیکشن میں ووٹ ڈالے گئے اٹھائیس سو۔۔۔۔ ان میں میرا ووٹ نہیں تھا کیوں؟؟؟؟؟۔۔۔ جناب ابھی انرولمنٹ نہیں ہوئی نا!!!!! ۔۔۔۔۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی آج کیا ہوا۔۔۔ آج یہ ہوا کہ کل دس یا بارہ وہ امیدوار جنہیں اپنے ہارے جانے کی پوری امید تھی وار (جھگڑے) پر اتر آئے۔۔۔۔ اور انہوں نے تمام بیلٹ پیپر کو پھاڑ دیا جس کمرے میں پیپر تھا اسے توڑ دیا۔۔۔ دس افراد نے کیا کیا۔۔۔ اٹھائس سو ووٹ کو ۔۔ افراد کی رائے کو۔۔۔ کچھ نہ جانا۔۔۔۔ مگر بدنامی ہوئی تمام وکلاء کی۔۔۔۔۔۔ اخباری رپوٹرز آئے۔۔۔ تصاویر لیں ۔۔۔ خبر حاصل کی اور چلے گئے۔۔۔ جنگ اخبار کے رپوٹر ( وہ میرے ہم نام ہی تھے) نے خبر حاصل کی ۔۔ جانے جانے کہنے لگا “ ایک بات کہتا ہو بری تو لگے گی، آپ لوگ کریم آف دی سوسائٹی ہیں مگر ساتھ آپ سے اچھے الیکشن تو مراثیوں کے ہوئے ہیں“ (آرٹ کونسل کے الیکشن کی طرف اشارہ)۔۔۔۔ اپنا حصہ جھولی بھر کے ذلت۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

الفاظ

جی چند الفاظ ہمارے اخبارات والے استعمال کرتے ہیں ان سے مجھے اختلاف ہے۔۔۔۔ جیسے “قوم پرست“ جماعت۔۔۔۔۔ اب یہ لفظ ان سیاسی جماعتوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو ملک میں عصبیت کو فروغ دیتی ہیں۔۔۔۔ جو ایک قوم کو تقسیم کر کے کئی قوموں میں منقسم کرنے کی کاوش میں لگی ہوئی ہیں۔۔۔ “کلعدم جہادی تنظیم“۔۔۔۔ کیا وہ جہادی تنظیم ہے ؟؟؟ اگر ہاں تو اسے کلعدم نہ کہا جائے اگر وہ جہادی نہیں تو اسے کلعدم تنظیم کہا جائے یا یہ بھی نہیں تو کم از کم اسے نام نہاد جہادی تنظیم لکھا جائے یعنی صرف نام کی جہادی ورنہ دہشت گرد۔۔۔ آپ کی نظر میں کوئی لفظ؟؟؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

خواب

میرا خواب ہے کہ میرا ملک دنیا کا سب سے اچھا ملک بن جائے۔۔۔۔ اس کی سب برائیاں ختم ہو جائے۔۔۔۔۔۔ اس میں انصاف کا بول بالا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اور۔۔۔۔۔ آواز“روکو تم سوئی ہوئی قوم کے فرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب سوئے ہوئے لوگ دیکھتے ہیں۔۔۔۔ پچاس سال سے خواب پر ہی گزارا کر رہے ہو۔۔۔۔عملا بھی کچھ کرو“
مکمل تحریر پڑھیں ←

مت تھوکیں

ہائی کورٹ میں ایک جگہ یہ جملہ لکھا ہے "برائے مہربانی یہاں پر مت تھوکیں" دوست کہنے (مذاق) لگا جس کے پاس مت(عقل) نہ ہو وہ کیا تھوکے۔۔۔۔ ویسے کیا ہم میں اتنی بھی سمجھ بوجھ نہیں کہ ہم خود سے جانیں کہ کیا غلط ہے کیا درست۔۔۔ جو ایسی سادہ باتیں بھی اب لکھ کر حکم کی شکل میں لگائی جائیں۔۔۔۔۔ مزید افسوس یہ کہ اس پر بھی عمل نہیں ہوتا۔۔۔کیوں؟؟؟ کوئی جواب ہے آپ کے پاس
مکمل تحریر پڑھیں ←

ہائے نی اڑیوں

گانا بدھا سہرا بدھا لھدا اینج وچھیرابدھا لڑیاں چُک چُک ویکھن کڑیاں ہائے نی اڑیوں کہڑا بدھا سارے گھر وچ مرچاں لائیاں گلیاں باروں تک سجائیاں چار چوفیرے چانن کرکے میرے آگے نیرا بدھا شادی پھار دا دوجا نانواں دیندا ہر کوئی اے سرناواں جنہوں پچھاں اوہو آکھے کھوتے پیچھے ریڑا بدھا کرماں والا جوڑا ویکھو ماواں دا اج ٹورا ویکھو لکھ سلاماں نائیاں تینوں جھنے سارا ویڑا بدھا خلقت ساری لنگ گئی آگے ہون تے سانوں مہندی لگے کدی نہ کھلیا ساتھو اوہ کر تاگا اساں جیڑا بدھا لکھا جوڑ میں جوڑے آپی ،تیلی نال میں دنیا ناپی آخر اوتھے ہوندا اکبر جتھے لیکھ لکھیڑا بدھا بڑی آزادی بڑیاں لہراں کیتیاں تو رج رج سیراں پنجرہ ویکھ دوالے اپنے آخر توں وی شیرا بدھا نیھری جھکڑ تیز ہواواں تلکن ہو گیاں ساری راواں دھکا مار ڈگانہ مینوں ڈاھڈا پیر وے پیرا بدھا کچا کلا مٹی لاواں تھک گئیاں نے دوویں بانواں بارش مٹی دھو جاندی اے کنی وار بنیرا بدھا ککڑ سارے بانگاں دیندے بانگاں کئیاں رنگاں دیندے اکو گل ای کیندے جاندے ہائے جوائیاں پھیرا بدھا شادی دے دن چھاپہ وجیا ہر کوئی جتیاں چھد کے پجیا کنداں اوہلے لُک لُک چھپن ویکھو کہڑا کہڑا بدھا کنداں نال نے کنداں جڑیاں فیر وی رہندیاں ہر ٹائم لڑیاں بھل گئے سارے اپنی اڑیاں ویکھو رب نے بیڑا بدھا خوشیاں دے دیہاڑے ئے نوے پرانت لاڑے آئے کئی تے سک کے ٹینگر ہو گئے کئیاں نے ماس ودھیڑا بدھا ربا سب وڈھیائیاں تینوں صفتاں نال بَڑائیاں تینوں کدے نہ ٹٹے بندھن اوہ کر رحمت تیری جھیڑا بدھا اکو گل نے گل مکائیے سہرا بہتا نی لٹکائے رانجھےتخت ہزارہ چھڈیا پچھوں لوکاں کہڑا بدھا
یہ مزاحیہ پنجابی کی نظم میرے ماموں نے اپنے بھتیجے اور بھانجی (میری بہن) کی شادی پر لکھی۔۔۔ میری مصروفیت کی وجہ بھی یہ شادی تھی ۔۔۔۔ لاہور سے بارات کراچی آئی تھی۔۔۔ پھر ہم لاہور گئے۔۔۔اللہ اسے اپنے گھر میں خوش رکھے۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

راستوں کی مرضی ہے

بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے بے نشان جزیروں پر بدگمان شہروں میں بے زباں مسافر کو جس طرف بھٹکادیں راستوں کی مرضی ہے روک لیں یا بڑھنے دیں تھام لیں یاگرنے دیں وصل کی لکیروں کو توڑ دیں یا ملنے دیں راستوں کی مرضی ہے اجنبی کوئی لا کر ہمسفر بنا ڈالیں ساتھ چلنے والوں کی راکھ بھی اُڑا ڈالیں یا مسافتیں ساری خاک میں ملا ڈالیں راستوں کی مرضی ہے بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے (مصروفیت تا حال جاری ہے)۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
کرتا تے ڈیڈھ

کرتا تے ڈیڈھ

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں گریجوایشن میں تھا۔ہمارے ایک کلاس فیلو نے نیٹ کیفے کا آغاز کیا۔ہم اس کے کیفے گئے کہ دیکھے کہ کیسا ہے۔وہ دوست ہمارے نیٹ پر تحریری گفتگو کی لت میں مبتلا نظر آئے۔۔۔۔ ہم دوستوں سے بات کرنے کے علاوہ وہ ایک غیر ملکی خاتون کو بھی بہلا رہے تھے اس سلسلے میں وہ وہاں موجود دوست احباب سے بھی مشورہ کر لیتے کہ اس نے یہ لکھا ہے میں کیا کہوں؟؟؟ اس ہی دوران اس صاحبہ نے کچھ دیر کی مہلت طلب کی کہ ان کا بچہ اٹھ گیا ہے لہذا کچھ دیر کے لئے معذرت۔۔۔۔ پھر وہ کوئی 15سے 20 منٹ بعد دوبارہ نمودار ہوئی ۔۔۔۔ ہمارے دوست پھر ان سے تحریری گفتگو میں لگ گئے۔۔۔۔ اب جو انہوں نے ان کے خاوند کی خیریت معلوم کی تو موصوفہ نے انکشاف کیا کہ کیسا خاوند میں تو اپنے بوائے فرینڈ کے ہمراہ رہ رہی ہو۔۔۔ بچہ ہم دونوں کو تھا۔۔۔ اس راز سے پردہ اٹھنے پر ہمیں اتنی حیرت نہ ہوئی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یورپی ممالک میں ایسا ہوتا ہے۔۔۔ وہ ہماری نظر میں پہلے ہی ایسے معاملات میں بدنام تھے۔۔۔ “بد سے بدنام برا“ یہ تو لازمی طور پر وہ کیس ہو گا جس میں زنا دونوں ہی کی مرضی سے ہو ہو گا (ممکن ہے میرا قیاس غلط ہو)۔۔۔۔۔ اہل مغرب زناباالجبر کو ہی قابل سزا تصور کیا جاتا ہے۔۔۔ جو باہمی رضامندی سے ہوا وہ تو پیار ہے۔۔۔۔۔ اس وقت امریکہ میں ہر دو منٹ پر ایک عورت جنسی تشدد کا شکار ہو رہی ہے (امریکی محکمہ انصاف)۔یو ایک گھنٹہ میں 30،ایک دن میں(چوبیس گھنٹوں میں) 720 ،ایک ماہ میں21600، اور سال میں یہ تعداد259200 ہے(عام را$ے یہ ہے کہ اصل توداد جچھ ذیادہ ہی ہے کم نہیں)۔۔ دنیا میں سب سے ذیادہ جنسی تشدد اور ریپ سے متعلق جرم امریکہ میں ہوتے ہیں ۔ان میں سے صرف 16 فیصد اس ملک میں پولیس کے علم میں آتے ہیں۔ہر چار میں سے ایک ریپ پبلک پلیس یا پارک میں ہوتا ہے۔۔۔۔ اس میدان میں بھی بھی وہ سپر پاور ہے ۔۔۔ امریکہ میں ریپ کی شرح جرمنی سے چار گنا، انگلینڈ سے 13گنا، اور جاپان سے 20 گنا ذیادہ ہے۔۔۔برطانوی پولیس کے مطابق 1994ء میں جنسی جرائم کی تعداد 32000 تھی جو رپورٹ ہوئیں۔۔۔ پاکستان میں ہر سال 600ء زنا باالجبر کے واقعات پولیس اسٹیشن میں رپورٹ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ایک آزاد سروے کے مطابق قریب ہر گھنٹہ میں دو زنا باالجبر کے واقعات ہوتے ہیں (ممکن ہے یہ تعداد ٹھیک نہ ہو مگر یہ ایک اندازہ ضرور دیتی ہے کہ شرح کیا ہے) مگر اس کے باوجود آج بدنامی ہمارے سر ذیادہ ہے۔۔۔۔ ہم بد نہیں بدنام ضرور ہیں۔ اس وقت مختاراں مائی امریکہ کے دورے پر ہے۔۔۔۔ گلیمر ایواڈ وصول ہو چکا ہو گا۔یہ ایواڈ ایک ایسے رسالہ کی طرف سے دیا گیا جو فیشن سے متعلق خبریں دیتا ہے۔۔ میں یہ ہر گز نہیں کہتا نہ سمجھتا ہوں کہ مائی مختاراں غلط ہے۔۔۔ میں اس بات سے سو فیصد متفق ہو کہ اسے انصاف کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔۔۔ وہ جرگہ کے غلط فیصلہ کی نظر ہوئی۔۔۔ اس کے لئے پاکستانی قوم کو آواز بلند کرنی چاہئے۔۔۔ ہمیں اس کا ساتھ دینا چاہئے۔۔۔ مگر ۔۔۔ اسے ملک کی بدنامی کا سبب نہیں بنانا چاہئے۔۔۔ وہ باہر گئیں اس سے متعلق بیرونی میڈیا نے فیچر لکھے اس واقعہ پر فیچر مووی تیار کی گئیں لوگوں میں ملک کا روشن ہوا ہو گا؟؟؟؟؟ اچھا تاثر ابھرا ہو گا؟؟؟ کیا لوگ ہمیں جنگلی نہیں کہے گے؟؟؟ وہ جو خود ہم سے ذیادہ اس گناہ میں مبتلا ہیں وہ ہم پر آواز کسے۔۔۔ کیا یہ اچھا ہے؟؟؟ اب معلوم ہوا ہے کہ مختاراں مائی نے کرسٹینا روکا سے مل کر حدود آرڈینس ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جی مختارہ مائی خود مختار ہے۔۔۔۔جو چاہے کرے۔۔۔۔۔شائد کسی “مائی“ نے مختاراں مائی کو پنجابی کا کرتے اور ڈیڈھ (پیٹ) والا محاورہ نہیں بتایا نہ سمجھایا ہے۔۔۔۔ باقی آج کل وہ خود جن کے ساتھ ہوتی ہے ان کا تو کرتے(قمیض) میں دامن ہی نہیں ہوتا۔۔۔۔ خود کرتا(قمیض) اتنی انچی ہوتی ہے کہ اگر سر پر بھی کھجلی کرو تو پیٹ برہنہ ہو جاتا ہے لہذا ان کو اس کا مطلب سمجھانا فضول ہے۔۔۔۔ یہ لو ایک اور زہر افشانی۔۔۔

مکمل تحریر پڑھیں ←