جھولی بھر کے ذلت

پچھلے کچھ دنوں سے اخبار کا مطالعہ والے احباب کو علم ہو گا کہ کراچی بار میں الیکشن تھے۔۔۔ جن میں کچھ حد تک وہ ہی سیاسی رنگ نظر آیا جو ہماری سیاست کا روپ ہے ، لڑائی ۔۔جھگڑا۔۔۔ الزام۔۔۔ اور اور۔۔۔ قانونی بندے غیر قانونی حرکتیں۔۔۔ الیکشن والے دن جھگڑا بلکہ جھگڑے ٹھیک ٹھاک ہوئے۔۔۔ کئی بار (چار سے چھ بار) الیکشن روکنا پڑا۔۔۔۔ الیکشن میں ایک امیدوار کے ساتھ ہم بھی تھے (مگر مجال ہے جو کوئی غلط کام کیا ہو)۔۔۔ وہ تھے میرے سینئر(جنرل سیکریٹری کے لئے)۔۔۔ مگر جو آج ہوا وہ تو آخیر تھا۔۔۔۔ کراچی میں وکلاء کی تعداد ہے تیرہ ہزار۔۔۔ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں چھ ہزار۔۔۔۔ الیکشن میں ووٹ ڈالے گئے اٹھائیس سو۔۔۔۔ ان میں میرا ووٹ نہیں تھا کیوں؟؟؟؟؟۔۔۔ جناب ابھی انرولمنٹ نہیں ہوئی نا!!!!! ۔۔۔۔۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی آج کیا ہوا۔۔۔ آج یہ ہوا کہ کل دس یا بارہ وہ امیدوار جنہیں اپنے ہارے جانے کی پوری امید تھی وار (جھگڑے) پر اتر آئے۔۔۔۔ اور انہوں نے تمام بیلٹ پیپر کو پھاڑ دیا جس کمرے میں پیپر تھا اسے توڑ دیا۔۔۔ دس افراد نے کیا کیا۔۔۔ اٹھائس سو ووٹ کو ۔۔ افراد کی رائے کو۔۔۔ کچھ نہ جانا۔۔۔۔ مگر بدنامی ہوئی تمام وکلاء کی۔۔۔۔۔۔ اخباری رپوٹرز آئے۔۔۔ تصاویر لیں ۔۔۔ خبر حاصل کی اور چلے گئے۔۔۔ جنگ اخبار کے رپوٹر ( وہ میرے ہم نام ہی تھے) نے خبر حاصل کی ۔۔ جانے جانے کہنے لگا “ ایک بات کہتا ہو بری تو لگے گی، آپ لوگ کریم آف دی سوسائٹی ہیں مگر ساتھ آپ سے اچھے الیکشن تو مراثیوں کے ہوئے ہیں“ (آرٹ کونسل کے الیکشن کی طرف اشارہ)۔۔۔۔ اپنا حصہ جھولی بھر کے ذلت۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

الفاظ

جی چند الفاظ ہمارے اخبارات والے استعمال کرتے ہیں ان سے مجھے اختلاف ہے۔۔۔۔ جیسے “قوم پرست“ جماعت۔۔۔۔۔ اب یہ لفظ ان سیاسی جماعتوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو ملک میں عصبیت کو فروغ دیتی ہیں۔۔۔۔ جو ایک قوم کو تقسیم کر کے کئی قوموں میں منقسم کرنے کی کاوش میں لگی ہوئی ہیں۔۔۔ “کلعدم جہادی تنظیم“۔۔۔۔ کیا وہ جہادی تنظیم ہے ؟؟؟ اگر ہاں تو اسے کلعدم نہ کہا جائے اگر وہ جہادی نہیں تو اسے کلعدم تنظیم کہا جائے یا یہ بھی نہیں تو کم از کم اسے نام نہاد جہادی تنظیم لکھا جائے یعنی صرف نام کی جہادی ورنہ دہشت گرد۔۔۔ آپ کی نظر میں کوئی لفظ؟؟؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

خواب

میرا خواب ہے کہ میرا ملک دنیا کا سب سے اچھا ملک بن جائے۔۔۔۔ اس کی سب برائیاں ختم ہو جائے۔۔۔۔۔۔ اس میں انصاف کا بول بالا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اور۔۔۔۔۔ آواز“روکو تم سوئی ہوئی قوم کے فرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب سوئے ہوئے لوگ دیکھتے ہیں۔۔۔۔ پچاس سال سے خواب پر ہی گزارا کر رہے ہو۔۔۔۔عملا بھی کچھ کرو“
مکمل تحریر پڑھیں ←

مت تھوکیں

ہائی کورٹ میں ایک جگہ یہ جملہ لکھا ہے "برائے مہربانی یہاں پر مت تھوکیں" دوست کہنے (مذاق) لگا جس کے پاس مت(عقل) نہ ہو وہ کیا تھوکے۔۔۔۔ ویسے کیا ہم میں اتنی بھی سمجھ بوجھ نہیں کہ ہم خود سے جانیں کہ کیا غلط ہے کیا درست۔۔۔ جو ایسی سادہ باتیں بھی اب لکھ کر حکم کی شکل میں لگائی جائیں۔۔۔۔۔ مزید افسوس یہ کہ اس پر بھی عمل نہیں ہوتا۔۔۔کیوں؟؟؟ کوئی جواب ہے آپ کے پاس
مکمل تحریر پڑھیں ←

ہائے نی اڑیوں

گانا بدھا سہرا بدھا لھدا اینج وچھیرابدھا لڑیاں چُک چُک ویکھن کڑیاں ہائے نی اڑیوں کہڑا بدھا سارے گھر وچ مرچاں لائیاں گلیاں باروں تک سجائیاں چار چوفیرے چانن کرکے میرے آگے نیرا بدھا شادی پھار دا دوجا نانواں دیندا ہر کوئی اے سرناواں جنہوں پچھاں اوہو آکھے کھوتے پیچھے ریڑا بدھا کرماں والا جوڑا ویکھو ماواں دا اج ٹورا ویکھو لکھ سلاماں نائیاں تینوں جھنے سارا ویڑا بدھا خلقت ساری لنگ گئی آگے ہون تے سانوں مہندی لگے کدی نہ کھلیا ساتھو اوہ کر تاگا اساں جیڑا بدھا لکھا جوڑ میں جوڑے آپی ،تیلی نال میں دنیا ناپی آخر اوتھے ہوندا اکبر جتھے لیکھ لکھیڑا بدھا بڑی آزادی بڑیاں لہراں کیتیاں تو رج رج سیراں پنجرہ ویکھ دوالے اپنے آخر توں وی شیرا بدھا نیھری جھکڑ تیز ہواواں تلکن ہو گیاں ساری راواں دھکا مار ڈگانہ مینوں ڈاھڈا پیر وے پیرا بدھا کچا کلا مٹی لاواں تھک گئیاں نے دوویں بانواں بارش مٹی دھو جاندی اے کنی وار بنیرا بدھا ککڑ سارے بانگاں دیندے بانگاں کئیاں رنگاں دیندے اکو گل ای کیندے جاندے ہائے جوائیاں پھیرا بدھا شادی دے دن چھاپہ وجیا ہر کوئی جتیاں چھد کے پجیا کنداں اوہلے لُک لُک چھپن ویکھو کہڑا کہڑا بدھا کنداں نال نے کنداں جڑیاں فیر وی رہندیاں ہر ٹائم لڑیاں بھل گئے سارے اپنی اڑیاں ویکھو رب نے بیڑا بدھا خوشیاں دے دیہاڑے ئے نوے پرانت لاڑے آئے کئی تے سک کے ٹینگر ہو گئے کئیاں نے ماس ودھیڑا بدھا ربا سب وڈھیائیاں تینوں صفتاں نال بَڑائیاں تینوں کدے نہ ٹٹے بندھن اوہ کر رحمت تیری جھیڑا بدھا اکو گل نے گل مکائیے سہرا بہتا نی لٹکائے رانجھےتخت ہزارہ چھڈیا پچھوں لوکاں کہڑا بدھا
یہ مزاحیہ پنجابی کی نظم میرے ماموں نے اپنے بھتیجے اور بھانجی (میری بہن) کی شادی پر لکھی۔۔۔ میری مصروفیت کی وجہ بھی یہ شادی تھی ۔۔۔۔ لاہور سے بارات کراچی آئی تھی۔۔۔ پھر ہم لاہور گئے۔۔۔اللہ اسے اپنے گھر میں خوش رکھے۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

راستوں کی مرضی ہے

بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے بے نشان جزیروں پر بدگمان شہروں میں بے زباں مسافر کو جس طرف بھٹکادیں راستوں کی مرضی ہے روک لیں یا بڑھنے دیں تھام لیں یاگرنے دیں وصل کی لکیروں کو توڑ دیں یا ملنے دیں راستوں کی مرضی ہے اجنبی کوئی لا کر ہمسفر بنا ڈالیں ساتھ چلنے والوں کی راکھ بھی اُڑا ڈالیں یا مسافتیں ساری خاک میں ملا ڈالیں راستوں کی مرضی ہے بے زمین لوگوں کو بے قرار آنکھوں کو بد نصیب قدموں کو جس طرف بھی لے جائیں راستوں کی مرضی ہے (مصروفیت تا حال جاری ہے)۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
کرتا تے ڈیڈھ

کرتا تے ڈیڈھ

یہ اس وقت کی بات ہے جب میں گریجوایشن میں تھا۔ہمارے ایک کلاس فیلو نے نیٹ کیفے کا آغاز کیا۔ہم اس کے کیفے گئے کہ دیکھے کہ کیسا ہے۔وہ دوست ہمارے نیٹ پر تحریری گفتگو کی لت میں مبتلا نظر آئے۔۔۔۔ ہم دوستوں سے بات کرنے کے علاوہ وہ ایک غیر ملکی خاتون کو بھی بہلا رہے تھے اس سلسلے میں وہ وہاں موجود دوست احباب سے بھی مشورہ کر لیتے کہ اس نے یہ لکھا ہے میں کیا کہوں؟؟؟ اس ہی دوران اس صاحبہ نے کچھ دیر کی مہلت طلب کی کہ ان کا بچہ اٹھ گیا ہے لہذا کچھ دیر کے لئے معذرت۔۔۔۔ پھر وہ کوئی 15سے 20 منٹ بعد دوبارہ نمودار ہوئی ۔۔۔۔ ہمارے دوست پھر ان سے تحریری گفتگو میں لگ گئے۔۔۔۔ اب جو انہوں نے ان کے خاوند کی خیریت معلوم کی تو موصوفہ نے انکشاف کیا کہ کیسا خاوند میں تو اپنے بوائے فرینڈ کے ہمراہ رہ رہی ہو۔۔۔ بچہ ہم دونوں کو تھا۔۔۔ اس راز سے پردہ اٹھنے پر ہمیں اتنی حیرت نہ ہوئی کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یورپی ممالک میں ایسا ہوتا ہے۔۔۔ وہ ہماری نظر میں پہلے ہی ایسے معاملات میں بدنام تھے۔۔۔ “بد سے بدنام برا“ یہ تو لازمی طور پر وہ کیس ہو گا جس میں زنا دونوں ہی کی مرضی سے ہو ہو گا (ممکن ہے میرا قیاس غلط ہو)۔۔۔۔۔ اہل مغرب زناباالجبر کو ہی قابل سزا تصور کیا جاتا ہے۔۔۔ جو باہمی رضامندی سے ہوا وہ تو پیار ہے۔۔۔۔۔ اس وقت امریکہ میں ہر دو منٹ پر ایک عورت جنسی تشدد کا شکار ہو رہی ہے (امریکی محکمہ انصاف)۔یو ایک گھنٹہ میں 30،ایک دن میں(چوبیس گھنٹوں میں) 720 ،ایک ماہ میں21600، اور سال میں یہ تعداد259200 ہے(عام را$ے یہ ہے کہ اصل توداد جچھ ذیادہ ہی ہے کم نہیں)۔۔ دنیا میں سب سے ذیادہ جنسی تشدد اور ریپ سے متعلق جرم امریکہ میں ہوتے ہیں ۔ان میں سے صرف 16 فیصد اس ملک میں پولیس کے علم میں آتے ہیں۔ہر چار میں سے ایک ریپ پبلک پلیس یا پارک میں ہوتا ہے۔۔۔۔ اس میدان میں بھی بھی وہ سپر پاور ہے ۔۔۔ امریکہ میں ریپ کی شرح جرمنی سے چار گنا، انگلینڈ سے 13گنا، اور جاپان سے 20 گنا ذیادہ ہے۔۔۔برطانوی پولیس کے مطابق 1994ء میں جنسی جرائم کی تعداد 32000 تھی جو رپورٹ ہوئیں۔۔۔ پاکستان میں ہر سال 600ء زنا باالجبر کے واقعات پولیس اسٹیشن میں رپورٹ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ ایک آزاد سروے کے مطابق قریب ہر گھنٹہ میں دو زنا باالجبر کے واقعات ہوتے ہیں (ممکن ہے یہ تعداد ٹھیک نہ ہو مگر یہ ایک اندازہ ضرور دیتی ہے کہ شرح کیا ہے) مگر اس کے باوجود آج بدنامی ہمارے سر ذیادہ ہے۔۔۔۔ ہم بد نہیں بدنام ضرور ہیں۔ اس وقت مختاراں مائی امریکہ کے دورے پر ہے۔۔۔۔ گلیمر ایواڈ وصول ہو چکا ہو گا۔یہ ایواڈ ایک ایسے رسالہ کی طرف سے دیا گیا جو فیشن سے متعلق خبریں دیتا ہے۔۔ میں یہ ہر گز نہیں کہتا نہ سمجھتا ہوں کہ مائی مختاراں غلط ہے۔۔۔ میں اس بات سے سو فیصد متفق ہو کہ اسے انصاف کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے۔۔۔ وہ جرگہ کے غلط فیصلہ کی نظر ہوئی۔۔۔ اس کے لئے پاکستانی قوم کو آواز بلند کرنی چاہئے۔۔۔ ہمیں اس کا ساتھ دینا چاہئے۔۔۔ مگر ۔۔۔ اسے ملک کی بدنامی کا سبب نہیں بنانا چاہئے۔۔۔ وہ باہر گئیں اس سے متعلق بیرونی میڈیا نے فیچر لکھے اس واقعہ پر فیچر مووی تیار کی گئیں لوگوں میں ملک کا روشن ہوا ہو گا؟؟؟؟؟ اچھا تاثر ابھرا ہو گا؟؟؟ کیا لوگ ہمیں جنگلی نہیں کہے گے؟؟؟ وہ جو خود ہم سے ذیادہ اس گناہ میں مبتلا ہیں وہ ہم پر آواز کسے۔۔۔ کیا یہ اچھا ہے؟؟؟ اب معلوم ہوا ہے کہ مختاراں مائی نے کرسٹینا روکا سے مل کر حدود آرڈینس ختم کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جی مختارہ مائی خود مختار ہے۔۔۔۔جو چاہے کرے۔۔۔۔۔شائد کسی “مائی“ نے مختاراں مائی کو پنجابی کا کرتے اور ڈیڈھ (پیٹ) والا محاورہ نہیں بتایا نہ سمجھایا ہے۔۔۔۔ باقی آج کل وہ خود جن کے ساتھ ہوتی ہے ان کا تو کرتے(قمیض) میں دامن ہی نہیں ہوتا۔۔۔۔ خود کرتا(قمیض) اتنی انچی ہوتی ہے کہ اگر سر پر بھی کھجلی کرو تو پیٹ برہنہ ہو جاتا ہے لہذا ان کو اس کا مطلب سمجھانا فضول ہے۔۔۔۔ یہ لو ایک اور زہر افشانی۔۔۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

اصل امدادی۔۔۔؟؟؟؟؟

جنیوا میں ڈونرز ممالک نے 58 کروڑ ڈالر امداد دینے کا وعدہ کیا ہے اور عالمی بینک نے بھی 20 کروڑ کا عارضی قرضی دینے کا وعدہ کیا ہے زلزلہ زدگان کی امداد کے لئے۔۔۔ یہ بات میں نے بڑی خوشی سے اپنے دوست کو بتائی تو وہ کہنے لگا بس “لارا“ ہے اور کیا ہے اور اگر دے بھی دیں تو احسان کی جتائے گے۔۔۔۔۔ میں کہا “وہ تمہاری امداد کر رہے ہیں اس مشکل وقت میں اور تم نکھرے کر رہے ہو ہمیں ان کی امداد کی ضرورت بھی ہے ہمارا ملک تیسری دنیا کا ایک غریب ملک ہے، ایک ترقی پزیر ملک، جس کی سلانہ آمدن تقریبا 13.45 بلین ڈالر ہے جس کے سلانہ مصارف 16.51 بلین ڈالر ہو یوں جس ملک کے بجٹ کا خسارہ 3 بلین ڈالر ہو اسے اچانک 5 بلین ڈالر کا نقصان ہو جائے جس ملک میں کئی لوگ یا تو ناگہانی آفت سے ہلاک ہو جائے یا زخمی یا معذور اس کے لئے ایسی امداد کافی ہے بلکہ ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ انہوں نے ہماری مدد کی“۔۔۔۔۔مسکرا کر کہنے لگا“ شکر گزار۔۔۔ہوں!۔۔۔۔تم نے ان کے آگے انسانیت کے نام پر کشکول کیا۔۔۔ دامن پھیلایا اور ان لوگوں نے دیئے 1 بلین ڈالر اب تک ۔۔۔جن میں نصف تو دی بھی نہیں بس وعدہ ہے۔۔۔ “ مجھے اس پر بہت غصہ آیا میں نے کہا “ تم ہر بات کا غلط رخ دیکھتے ہو“ وہ صاحب کہنے لگے“ تم ہی ٹھیک راستہ دیکھ لو۔۔ایک رپورٹ کے مظابق 1998ء یہ تمہارا امریکہ جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمہیں اپنا پاٹنر کہتا ہے اس کے شہریوں نے سالانہ 8 بلین ڈالر تو میک اپ پر خرچ کر ڈالے ،یہ اہل یورپ 11 بلین ڈالر کی تو صرف آئس کریم کھا گئے، اہل امریکہ اور یورپ نے 17 بلین ڈالر کی پرفیوم خرچ کی، جاپان نے 35 بلین ڈالر انٹر ٹینمنٹ پر لگائے، 50 بلین ڈالر کے اہل یورپ نے صرف سگریٹ پھونک ڈالے، یورپ والے 105 بلین ڈالر کی شراب پی کر مست ہوئے، اس دنیا نے 400 بلین ڈالر کی منشیات استعمال کی اور 780 بلین ڈالر اسلحہ پر لگا دیئے اب 2005ء میں اس میں کافی اضافہ ہو گیا ہو گا مثلا اگر 1994ء میں امریکیوں نے اپنے پالتو جانوروں پر 17بلین ڈالر خرچ کئے تو 96ء میں یہ رقم 21بلین ڈالر ہو گئی 99ء میں 23 بلین تک جا پہنچی،2001ء میں 28.5 بلین ڈالر اور 2003ء میں 32.4بلین ڈالر ان امریکیوں نے اپنے جم اور ٹم پر خرچ کئے“۔۔۔۔۔میں نے اس کی طرف گھور کر دیکھا اور کہا“ تو! تم اب کیا چاہتے ہوں کہ وہ اب کیا کرے جتنے انہوں نے تمہیں دے دیئے ہیں اس کے علاوہ کیا اب وہ اپنا پیٹ کاٹ کر دیں کیا۔۔۔۔ویسے بھی ہم خود اپنا خرچہ کم کر رے ہیں اپنے ان بھائیوں کی مدد کے لئے“ اس نے سینے پر ہوتھ باندھے اور اپنے سیدھے ہاتھ سے اپنی ٹھوڈی کو پر کر بولا“ میں تو یہ کہہ رہا ہو کہ اگر وہ دینا چاہے تو ان اخراجات میں سے رقم نکال کر دے سکتے ہیں میں نے ان کے ان خرچوں کی بات نہیں کی جو لازمی ہیں اور دوسرا تم نے کون سے خرچے کم کر دیئے ہیں؟؟“ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا“بھائی! میری مراد اپنے حکمرانوں اور لیڈروں سے ہے۔۔۔۔ اب دیکھوں نا انہوں نے اپنی ایک ایک ماہ کی تنخواہ پوری کی پوری (ذرا زور دے کر) ریلیف فنڈ میں جمع کروادی۔۔۔ اس کے علاوہ بھی وہ متاثرین کی خیریت معلوم کرنے ۔۔۔ان کی حوصلہ افزائی۔۔۔ان کا دکھ بانٹنے۔۔۔۔ان کے آنسو پونچنے۔۔۔کے لئے ان کے درمیاں ہوتے ہیں“ وہ مسکرایا(مجھے یوں لگا جیسے وہ میرا مذاق اڑا رہا ہو)۔۔“ کہنے لگا یہ تمہارے لیڈر جو ان متاثرین کے پاس جاتے ہیں ان کا مقصد مدد کرنا نہیں مدد لینا ہوتا ہے۔۔۔یہ میڈیا سے اس موقعہ پر مدد لیتے ہیں اپنی تشہیر کی ۔۔۔ یہ دکھ نہیں بانٹتے یہ آنسو نہیں صاف کرتے یہ تو اپنی فلم بناتے ہیں یہ اگر امداد کرے تو خبر لگاتے ہیں اتنی امداد دی کسی اور نے دی کیا۔۔۔ان کی امداد اخباری بیانات اور تصاویر پر مشتمل ہو تی ہے۔۔۔یہ تو امداد میں دیئے گئے کفن پر بھی اپنے نام کے ٹھپے لگاتے ہیں۔۔“ میں نے آہستگی سے کہا “اور وہ پوری تنخواہ“۔۔۔ کہنے لگا“ اس کی بھی خوب کہی ۔۔۔ اگر مجھ سے پوچھوں تو میں تو کہتا ہو کہ یہ تنخواہ خود لے لیتے مگر یہ جو انہیں مختلف مراعات کی مد میں جو رقم ملتی ہے وہ ریلیف فنڈ میں جمع کروا دیتے۔۔۔تنخواہ کتنی ہے ان کی یہ ہی کوئی 35 سے 50 ہزار نا بس! مگر ان کو مہینے کے آخر میں رقم ملتی ہے کو 7سے8 لاکھ یا اس سے کچھ ذیادہ ۔۔۔یہ کیا ہے جی یہ گھر کی سجاوٹ کی مد میں ہے کوئی ڈیڑھ لاکھ تک یہ کیا ہے جی یہ ٹریول الاؤنس ہے یہ کیا ہے جی یہ فلاں الاونس اور یہ فلاں۔۔۔اگر یہ دیتے تو بات تھی مگر یہ اس ملک کے 50 ارب روپے حکومت چلانے کے نام پر خود پر تو خرچ کرسکتے ہیں مگر امداد میں بس اپنی تنخواہ دہتے ہیں نہ مراعات کی مد میں ملنے والی رقم نہ کمیشن “۔۔۔۔میں نے اس سے پوچھا تو کیا اس ملک کے عوام نے بھی کیا مدد نہیں کی اپنے ان متاثرین بھائیوں کی۔۔۔۔“ اس نے ایک لمبی سانس لی اور کہا “ہاں! کی ہے ۔۔۔ اس ملک کی غریب عوام نے ہی تو مدد کی ہے۔۔۔ان ہی کی تو امداد پہنچی ہے۔۔۔۔اس ملک کے ان ڈھائی فیصد نے نہیں کی جو ملک کے 98 فیصد پر قابض ہیں۔۔۔جو ملک کے 160 ارب روپے کھا گئے جو 10ارب روپے کی غیر ملکی شراب پینے ہیں سالانہ، جو27ارب روپے جوئے میں ہار جاتے ہیں،ہر سال 5ارب سے کچھ ذیادہ مجروں،ریچھ کی لڑائیوں،کتا ریسوں، اور بٹیربازیوں جیسی خرافات میں خرچ کرتے ہیں، جو ہر سال 40 کروڑ کی نئی گاڑیاں لیتے ہیں،2 کروڑ کا تمباکو پیتے ہیں،انہیں نے نہیں دی امداد۔۔۔۔اگر دی بھی تو صرف اتنی جو ان کے ایک یا دو دن کے خرچے جتنی ہو ۔۔۔وہ بھی خبر لگوا کر“۔۔۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا“ تمہیں تنقید کی بیماری ہو گئی ہے بھائی! اپنا علاج کرواں“۔۔۔۔یہ سنتے ہی وہ بھڑک اٹھا“ تم اسے تنقید کہتے ہو،تم اسے بیماری کہتے ہو،تمہیں اس میں میرا دکھ نظر نہیں آتا“ میں ے کہا “ہاں یہ تنقید ہے ۔۔۔۔ تنقید۔۔۔۔اور بس۔۔۔خومخواہ کی نقطہ چینی“ اور یہ کہتے ہوئے اٹھا اس سے ہاتھ ملایا اور گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔وہ پیچھے سے کہنے لگا یہ تنقید نہیں یہ دکھ ہے۔۔۔۔یہ واویلا ہے۔۔۔۔یہ حق کی آواز ہے۔۔۔۔۔ مجھے منہاجین کا جملہ یاد آ گیا جو اس نے محفل میں کئی جگہ پر لکھا ہے “لکھ دیا ہے تا کہ سند رہے“ (کچھ حوالوں کی تصدیق یہاں(1,2,3) سے ہو جائے گی باقی اخباری رپوٹوں اور مختلف کالموں سے مستعار لیئے ہیں ان کے لنک فراہم کرنا ممکن نہیں کیونکہ وہ نیٹ پر نہیں ملے)
مکمل تحریر پڑھیں ←