میری دو عادتیں تھیں
ایک سگریٹ ، ایک محبوبہ
کہا احباب نے مجھ سے
محبوبہ کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے
مگر سگریٹ
سگریٹ نہیں چھٹتا
کہا میں نے
اے میرے جہاں دیدہ رفیقو، دوستو
سن لو۔۔۔۔۔۔
سگریٹ کو چھوڑا آج سے میں نے
اور محبوبہ
وہ مجھے دہرا سرور زندگی دینے کو
سگریٹ کی طرح میرے ہونٹوں کی لاج رکھے گی
نہ ہونے دے گی مجھے کمی محسوس سگریٹ کی
میری اب ایک ہی عادت ہے
محبوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔(ممکن ہیں قتیل شفائی میں یہ عادتیں ہو مگر مجھ میں نہیں ہیں اور نہ میں یہ عادتیں ڈالنے کا آرزو مند ہوں)۔
کلوننگ
Shoiab Safdar Ghumman
دل
Shoiab Safdar Ghumman
"Control your heart beat ,because it make Passion ,passion make Act, act make Personality,personality made Society, society made Nation"
سوری یار
Shoiab Safdar Ghumman
پہلے پہل وہ خود آتا تھا
پھر بھیجا اس نے گلدستہ
گلدستہ گھٹ کے کارڈ بنا
کارڈ بنا پھر فون کال
اب کال کی بھی کال پڑی ہے
فرصت کی نہ کوئی گھڑی ہے
کہہ دیتا ہے سوری یار
بھول گیا میں اب کی بار
اگلی ساون کی تقریب میں تیرے لئے
لے کر آؤں گا میں ہار
مظفرآباد سے سری نگر
Shoiab Safdar Ghumman
آج ایک بس مقبوضہ کشمیر سری نگر سے مظفرآباد اور دوسری مظفرآباد سے سری نگر پہنچنے گی نصف صدی کے بعد اس روٹ پر کوئی بس سروس چلے گی،دونوں طرف کے لوگ اب دریا کی دو کناروں پر کھڑے ہو کر چلا چلا کر باتیں کرنے کے،کاغذ پر پیغام لکھ کر دریا کے دوسسرے کنارے پر پتھر کے ذریعہ پھیکنے بجائےاب چکوٹھی کے پل کے ذریعےایک دوسرے کے قریب بیٹھ کردل کا حال سنا سکے گے،ایسا صرف ۵۷ سال قبل ہوتا تھا۔آگرہ سے شروع ہونے والے یہ سفر اس موڑ پر کشمیر بس سروس تک آگیا ہے۔سب ٹھیک ہے خوف اس بات کا ہے کہ کہیں اس بس کی دھول میی ہم تاریخ نہ بھول جائے تاریح جو بہت ظالم ہے، نصف صدی کی بات۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
۔"دو چار برس کی بات نہیں یہ نصف صدی کا قصہ ہے"۔
وادی کشمیر کا رقبہ ۸۴۴۷۱ مربع میل اور یہ برصغیر پاک و ہند کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔تقسیم ہند کے وقت اس کی آبادی کی بڑی اکثریت تقریبا ۷۷ فیصد مسلمانوں پر مشتمل تھی،اس وادی کا مہاراجہ ہندو تھا ،چالیس لاکھ آبادی والی یہ ریاست انگریز سے ۷۵ لاکھ میں خریدی گئی ۔مہاراجہ نے بے رحمی سے ٹیکس لگائے،مسلمان کے لئے گائے ذبح کرنے پر سزائے موت ،جسے بعد میں دس سال قید میں بدل دیا۔
۳جون پلان کے اعلان کے بعد مہاراجہ نے ریاست کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کیا،۱۸ جون کو ماؤنٹ بیٹن کشمیر گئے اور ۲۳ کو واپس آگئے جناب نے مہاراجہ کشمیر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آزادی کا اعلان نہ کرے بلکہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلے واضح رہے حیدرآباد اور دوسری ریاستوں کو صاحب ان کے جغرافیائی اور ہندو آبادی کی بنا پر ہندوستان سے الحاق کا مشورہ دیتے رہے۔ یکم اگست کو گاندھی جی سری نگر پہنچ گئے،انہوں نے مہاراجہ کو وزیراعظم پنڈت رام چند کاک کو اس عہدے سےہٹانے کا کہاکیونکہ وہ ریاست کے پاکستان سے الحاق کے حامی تھے۔گاندھی کی واپسی کے بعد بارہ اگست کو کاک کی جگہ ڈوگر جرنل جنک سنگھ کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ جس نے اس عہدے پر آتے ہی ریاست سے قریب پانچ لاکھ مسلمانوں کو باہر نکال دیا جن میں سے دو لاکھ کا کچھ معلوم نہیں کہاں گئے غالب امکان یہ ہے کہ وہ قتل کر دیئے گئے،اس ظلم سے تنگ آ کر جموں کے علاقے پونچھ جہاں دوسری جنگ عظیم کے ۶۵ ہزار سابق فوجی موجود تھے نے ہتھار اٹھا لئے اور مہاراجہ کے فوجیوں کو مار بھگایا اور اس علاقے پر قبصہ کر لیا ۔
۲۴ اکتوبر ۱۹۴۷کو مسلم کانفرنس نے مہاراجہ کے تسلط سے آزاد کرائے گئے علاقے پر "آزاد کشمیر" کے نام سے اپنی حکومت قائم کر لی۔ ۲۵ اکتوبر ۱۹۴۷ وی پی مینن کشمیر آیا اور مہاراجہ سے کشمیر سے الحاق کے واسطے بات کی۔۲۶ اکتوبر بروز اتوار صبح دہلی پلٹا،ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کو رپورٹ دی کہ مہاراجہ کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ رہا۔مہاراجہ اس وقت ڈوگر کی جگہ مہر چند مہاجن کو وزیراعظم بنا چکا تھا۔جو اس وقت دہلی میں مینن کے ساتھ گیا تھا،۲۷ اکتوبر کو ہوا/ی جہار ہندوستانی فوجیوں کو لے کر دہلی سے سری نگر جانا شروع ہوے،مہاراجہ بھی ائرپورٹ اگیا،مینن بھی وہاں پھنچا اس نے مہاراجہ کشمیر سےالحاق کے رسمی کاغذات پر دستخط کرالئے۔بقول مہاجن کے میبب نے مہاراجہ سے یہ دستخطزبردستی کروائے تھے مہاجن کو بعد میں انڈیا کا چیف جسٹس بنا دیا گیا،صلہ میں۔
قائداعظم کو لاہور میں ہندوستانی فوجیوں کے کشمیر پر حملہ کی اطلاع ملی انہعں نے پاکستان کے قائم مقام کمانڈر انچیف جنرل گریسی کو حکم دیا کہ وہ کشمیر میں فوجیں بھیج دیں اور ہندوستانی فوج کو کشمیر پر قنصہ کرنے سے باز رکھے مگر اس نے ایسا نہ کیا۔ قائداعظم نے دونوں ممالک کے گورنر جنرل اور وزیرعظم کی لاہور میں میٹگ بلانے کی سپریم کمانڈر فیلڈمارشل آکنلگ کی تجویز مان لی یہ میٹگ ۲۹ اکتوبر کو ہونا طے پائی۔ہندوستان نے اس میٹگ سے کریز کیا
۔۳۰ اکتوبر کو پاکستان نے ایک بیان جاری کیا کہ انڈین یونین سے کشمیر کا الحاق دھوکے بازی اور تشدد پر مبنی ہونے کی بنا پے نہ قابل قبول ہے۔۳۱ اکتوبر کو نہرو نے پاکستان کے وزیراعظم کو اپنے تار میں یقین دلایا کہ ہم امن امان قائم ہوتے ہی اپنی فوجیں کشمیر سے وابس بلالیں گے یکم نومبر کو ماؤنٹ بیٹن لاہور آئے قائداعظم سے میٹنگ میں اس نے تسلیم کیا کہ کشمہر کا الحاق تشدد اور دھوکے پر مبنی ہے اور نا جائز ہے۔اس موقعے پر نہرو نے بیماری کا بہانہ کر کے غیر حاضر رہا۔ ۲ نومبر کو نہرو نے اعلان کیا کہ حکومت ہندوستان اس بات پر تیار ہے کہ جب کشمیر میں امن قائم ہو جائے گا تو وہاں بین الاقوامی سر پرستی میں ریفرنڈم کروایا جائے۔وہ خود ہی اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا جہاں اس نے دوبارہ اس ہی طرح کا وعدہ کیا۔
یہ مسئلہ تب سے دونوں ممالک کے درمیان ہے،پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت استصواب رائے کے ذریعہ کشمیری عوام سے ان کی رائے معلوم کرے کیوں کہ ایسا کرنے کا اس نے وعدہ کیا ہے جبکہ بھارت اس سے انکاری ہے۔ اب تک ۸۰۰۰۰کشمیری اس آزادی کی تحریک میں شہید ہوئے،دستیاب اعداد و شمور کے تحت سال ۲۰۰۴ میں۳۰۰۰ کے قریب کشمیری مسلمان شہید ہو بھارتی فوج کے ہاتھوں، ۵۴۱۰ تشدد کا نشانہ بنے، ۵۰۰۰ دوکانیں اور مکانات جلا دیئے کئے، ۴۰۰ خوتین بیوہ ، ۳۷۰ خواتین کی عصمت دری ہوئی اور ۱۱۶۰ بچے یتیم ہوئے۔
ایف سولہ
Shoiab Safdar Ghumman
پچھلے ماہ جب جنرل پرویز مشرف ازبکستان اور کزغیزستان کے دورے پر گئے تو راستے میں ہوائی جہاز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہہ
"personal friendship is half diplomacy in international relation"
جب آخری بار جنرل صاحب امریکہ کے دورے پر کئے تھے تو آپ نے امریکی صدر بش سے ایف سولہ طیارے مانگے، اس وقت اس بات کو پریس میں نہ اچھلنے دیا گیا ۔ ابھی ہفتہ قبل امریکی وزیر خارجہ مس رائس نے پاکستان کو ان طیاروں کی فراہمی کی خوش خبری دی ، چند اطلاعات کے مطابق پاکستان نے چوبیس طیارے مانگے مگر امریکہ اٹھارہ طیاروں کی فروخت پر راضی ہوا ہے جبکہ خورشید قصوری کا کہنا ہے کہ طیاروں کی کوئی تعداد مختص نہیں ہے بلکہ پاکستان فی طیارہ تقریبا ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے حساب سے جس تعداد میں چاہے ایف سولہ خرید سکتا ہے
دونوں ممالک کے درمیان پہلا معاہدہ ایف سولہ کی خرید کا دسمبر ۱۹۸۱ میں ہوا،جس میں پاکستان نے فی جہاز دو سے ڈھائی کروڑ ڈالر کے حساب ہے قریب چالیس طیارے خریدے۔پہلا ایف سولہ اکتوبر ۱۹۸۱ کو فورتورتھ سے روانہ ہو کر ۱۵ جنوری ۱۹۸۳ کو سرگودھا ائربیس پر اترا۔۱۹۸۹ میں پاکستان نے ۶۰ مزید طیارے منگے مگر پراؤن ترمیم کی بنا پر یہ سودا ادورہ رہا۔۱۹۹۸ میں ان طیاروں کی رقم ادا کی ہوئی نواز شریف واپس لانے میں کامیاب ہوئے بمعہ ۱یک سو چالیس ملین ڈالر تلافی کے طور پر۔
مس رائس نے ہمیں ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کی بات کی اور وہاں بھارت کو نہ صرف ایف اٹھارہ کی پیشکش کی بلکہ انہیں بھارت میں بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی مہیا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
؎۔
بڑا منصف مزاج ہے یہ امریکہ
بزعم شیخ سب کو برابر پیار دیتا ہے
کسی کو حملے کے لئے دیتا ہے مزائیل
کسی کوان سے بچنے کے لئے رےڈار اہتا ہے
دونوں کی لڑائی میں جو اس کا فائدہ ہے
تجھےعشق ہو خدا کرے
Shoiab Safdar Ghumman
تجھےعشق ہو خدا کرے
تجھے اس سے کوئی جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائے
تیری آنکھ پرنم رہا کرے
تو اسکی باتیں کرے
تو اسکی باتیں سنا کرے
تو اسے دیکھ کر رُک پڑے
وہ نظر جھکا کر چلا کرے
تجھے ہجر کی وہ چھڑی لگے
تو ہر پل ملن کی دعا کرے
تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر
تو کرچی کرچی چنا کرے
تو نگر نگر پھرا کرے
تو گلی گلی صدا کرے
تجھے عشق ہو پھر یقین ہو
تو تسبیہوں پہ اسے پڑھا کرے
میں کہوں عشق ڈھونگ ہے
تو نہیں نہیں کیا کرے
مجلس کی تال وردی اتار
Shoiab Safdar Ghumman
لو جناب ایم ایم اے نےہرتال کی کال دے دی ہے،کب؟۲ اپریل کو ، وہ کیوں ؟ ایک دن بعد اپریل فول منائے گے نا۔ارے میاں بی بی تو ملک سے باہر ہیں اب وہ ہی پوزیشن والے ہیں اؤ معافی چاہتا ہوں اپوزیشن والے ہیں۔اس لئے دی ہے۔ مطالبہ؟ سادہ سا صدر صاحب وردی اتار دے۔ارے پاگل ہیں کیا صدر تو ڈرائیکلین کروانے کے لئےوردی نہیں اتار تے ان کے کہنے پر اتار دے لوٹ مچی ہے کیا، ویسے بھی جس دن صدر نے وردی اتار دی اس دن یہ آنکھیں بند کر کے استغفار پڑھتے پھرے گے صدر کا کیا ہے وہ تو ویسے بھی کافی لبرل ہیں بغیر روردی کے گزارہ کر لے گے ۔
شیخ صاحب نے بھی کافی انتظام کر لیئے ہیں بلکہ کل تو انہوں نے شکریہ بھی ادا کر دیا کہ شکر ہے تاجروں اور ٹرانسپوٹروں نےہرتال سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ، ساتھ ہی آنکھیں بھی دیکھائی کہ خبر دار جو کل ہرتال کی، ہرتال کرنے والے کی پرتال ہو گی لواور سنو۔ہرتال کا مسئلہ بھی آٹے کے چراغ سا ہو گیا گھر رکھو چوہا کھا جائے باہر رکھو تا کوا لے جائے۔ ہرتال کرو تو حکومت مارے نہ کرو تا مجلس والے۔
وہ کہتی پے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
Shoiab Safdar Ghumman
وہ کہتی ہے کہ کیا اب بھی کسی کے لئے لال ہری چوڑیاں خریدتے ہو؟
میں کہتا ہوں اب کسی کی کلائی پر یہ رنگ اچھا نیہں لگتا
وہ کہتی ہے کہ کیا اب بھی کسی آنچل کو آکاش لکھتے ہو؟
میں کہتا ہوں اب کسی کے آنچل میں اتنی وسعت کہاں ہے
وہ کہتی ہے کہ کیا میرے بعد کسی لڑکی سے محبت ہوئی ہے تمہیں؟
میں کہتا ہوں ، محبت صرف لڑکی پر مشتمل نہیں ہوتی
وہ کہتی ہے کہ جاناں ! لہجے میں بہت اداسیت سی ہے؟
میں کہتا ہوں کہ تتلیوں نے بھی میرے دکھوں کو محسوس کیا ہے
وہ کہتی ہے کہ کیا اب بھی مجھے بے وفا کے نام سے یاد کرتے ہو؟
میں کہتا ہو کہ میرے نصیب میں یہ لفظ شامل نہیں ہے
وہ کہتی ہے کہ کبھی میرے ذکر پر رو بھی لیتے ہو؟
میں کہتا ہو کہ میری آنکھوں کو ہر وقت کی پھوار اچھی لگتی ہے
وہ کہتی ہے کہ تمہاری باتوں میں اتنی گہرائی کیوں ہے؟
میں کہتا ہو کہ تیری جدائی کہ بعد مجھ کو یہ عزاز ملا ہے
اردو میں ای میل
Shoiab Safdar Ghumman
گزرےزمانے میں رابطے کا واحدذریعہ خط تھا،مگر اب کئی ہیں،ان میں سے ایک طریقہ ای میل کا ہے،جو عام طور پر انگریزی یا رومن اردو میں کی جاتی ہے،اردو میں ای میل کے چند طریقوں میں ایک تو یہ ہے کہ آپ کوئ لونگو طرز کی کوئی سروس استعمال کرےیا پھر انپیج میں پیغام لکھ کر اسے تصویری فارمیٹ میں بدل کر اٹیچمنٹ کے ذریعہ بھیج دے۔ہاں جی میل یونیکوڈ کو سپورٹ کرتا ہے،مگر ہر شخص کے پاس (شاید)ابھی تک جی میل کا اکاؤنٹ نہیں ہے۔ویسے اگر کسی دوسری سروس سے ایسا تجربہ کیا جائے تو ای میل عجب طرز تحریر کی صورت میں دوسرے کے پاس جاتی ہے،ایسے ہی ایک تجربے کا ذکر شعیبکے
بلاگ کی ایک پوسٹ میں ہے۔ایک ایسا ہی تجربہ میں نے بھی کیا کسی حد تک کامیاب ہوا ہے۔اردو میں ای میل کرنے کے واسطے ای میل ایچ ٹی ایم ایل فارمیٹ میں بھیجی جائے تو دوسرا فرد ای میل پڑھ سکتا ہےشرط یہ ہے کی اس کے پاس اردو کا فونٹ ہو۔میل یوں تیار کی جائے گی۔
<div style="text-align: right; font-family:urdu font 1,urdu font 2;">
یہاں پر مطلوبہ ای میل یونیکوڈ فارمیٹ میں
</div>
urdu font
کی جگہ میں کوئی اردو کا فونٹبتائے مثلا
Urdu Naskh Asiatype
یادرہے جس لمحے یہ کوڈ لکھا جائے
Enable color and graphic
پر چیک نہ لگا ہو مگر بعد میں لکھ کر لگا دے اگر گرافک والا آپشن نہ ہو(نظر آئے) تو کوڈ کے شروع اور آخر میں ایچ ٹی ایم ایل کے ٹیگ لگا دیں
اس طریقہ کی چند خامیاں بھی ہیں
۱۔اگر جس کو میل کی گئی ہے اس کے پاس مطلوبہ اردو فونٹ نہیں ہیں تو اسے ای میل پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہو گا۔
۲۔ اگر اس نے ایچ ٹی ایم ایل فارمیٹ میں ای میل وصول کرنے کا آپشن بند کیا ہوا ہے تو بھی ای میل نہیں پڑھی جا سکتی۔