ہم یہ سمجھتے ہیں

ہم یہ سمجھتے ہیں

جاوید چوہدری میرا پسندیدہ کالم نویس ہے!!! جنگ سے  وہ ایکسپرس میں چلا گیا تو میں سمجھا کہ اب نیٹ پر اس کا کالم پڑھنا ممکن نہیں مگر شکر ہے کہ کہ ایکسپرس بھی اب نیٹ پر آگیا ہے!!!!! البتہ جنگ والوں نے ان کے تمام کالم (شاید) اپنی ویب سائیٹ سے ہٹا دیئے ہیں!! جاوید چوہدری کا پچھلا کالم “ہم یہ سمجھتے ہیں“ یہ رہا!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

لفافوں کی ترسیل

لفافہ بہت اہم شے ہے۔۔ ان سے پوچھے جو اس پر گزارہ کرتے ہیں اس کا کھاتے ہیں اس پر جیتے ہیں!!! تنخواہ کے لفافے کے علاوہ دیگر لفافے بھی عام زندگی میں اہم ہیں اپنی قومی سیاست بھی لفافے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ آج کل  کر رہی ہے!!!!
لفافہ خط کی ترسیل کا کام بھی کرتا ہے!!! خط کوئی بھی لکھ سکتا کسی کو بھی!! یہ تو پڑ ھنے والے پر ہے نا! کہ وہ اسے اہم سمجھے یا نہیں!!! لہذا یاروں نے ایک خط جناب وردی والے صدر کے نام بھی لکھ دیا !!! سنا ایک سے ڈیرھ سال کی مدت صرف ہوا ہے اس کام میں!!!  خط کا متن اٹھارہ افراد نے مل کر ترتیب دیا!!! بھائی اٹھارہ افراد نے لکھا تو مل کر ہی لکھا ہو گا نا!!!! یہ مت پوچھے کہاں ملے!!! کس سے ملے!!! خط کے لکھاریوں میں صدر کے ایک کلاس فیلو بھی شامل ہیں!!! فوجی یار بھی!!! وہ بھی جو ابتدا میں جناب کے ساتھ تھے!! وہ بھی جو شروع سے ساتھ نہ تھے!!! وہ جو جانتے تھے کہ ان کے لفافے نیب کے پاس ہیں اور ان کی جیب میں موجود لفافے ان کی ضرورت کو پورا کر رہے ہیں لہذاانہوں نے اس خط کو بے کار قرار دیا!!! اور کہہ دیا کہ ان کے خط کی وجہ وہ لفافہ ہے جو سپید محل سے سفید لوگ ارسال کرتے ہیں!!!
خط میں موجود وردی والے مشورے کو اپنے ارباب رحیم نے رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھائی کسی کے “مفت مشورہ“ کی ضرورت نہیں ہے!!!! “مشورہ“ اپنے پاس رکھو!!! صدر ان کی اس بات سے خوش ہوئے لہذا اپنے لفافے میں لکھا پڑھ کر سنا دیا کہ سب جان لو سندھ میں “سیٹ اپ“ سیٹ ہے لہذا تبدیل نہیں ہوگا!!! وزارت اعلی کے امید وار اس وار کو برداشت نہ کرسکے!!! ارباب رحیم کے ارباب اختیار قرار دینے پر لندن سے نیا ٹیلی فونک سُر چھیڑا گیا اور نائن زیرو میں اسلام آباد والوں کے لئے الگ طرح کے لفافے تیار کئے گئے!!! سندھ کے “سیٹ اپ“ میں ایسا “اپ سیٹ“، نائن زیرو والوں کے لفافے واپس کر دیئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ آپ کا مطلوبہ لفافہ تلاش کیا جارہا ہے !! دیکھیں ملتا ہے کہ نہیں!! ویسے شیر اور گیدڑ کا فرق معلوم کرنا باقی ہے ابھی!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

بارش!!!

بارش ہو رہی ہے کیا بات ہے بھائی!!!
کل کی بارش سے گھر کا فون مر گیا ہے!!! یہ ہی کہے گے نا بھائی!!!!!
ایک پوسٹ بھی لکھی تھی مگر فون ڈیڈ ہونی کی وجہ سے نہیں پوسٹ کر سکا!!!
خیر ابھی تو بارش انجوئے کر رہا ہوں!!! آفس میں!!!عدالت نہیں جا سکتا ناں اس بارش میں!!! کیا کرو نوابوں والی سب حرکتیں ہیں!!!
کراچی والوں بارش مبارک ہو!!! اب اسے برداشت بھی کرنا!! کیوں کہ انتظامیہ کی نااہلی سے اب یہ بارش رحمت سے زحمت بن جائے گی!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

تیرے آنسو

موتی سے بھی قیمتی ہوتے تیرے آنسو
جو میرے دامن میں گرتے تیرے آنسو

میرے خوابوں کو آنکھوں میں بسا لیتی جو تو
زمانے کی آنکھوں میں پھرتے تیرے آنسو

ان کو دنیا کی آنکھوں سے بچا کر رکھنا
کہیں کوئی چرا کے نہ لے جائے تیرے آنسو

اِسی کو شاید اُجلا جل کہتے ہیں لوگ
جب اُس جل میں ہیں ملتے ہیں تیرے آنسو

جو لوگ مےکشی میں بھی خدا کو پا گئے
ان کے پیمانوں  میں ہم نے دیکھے ہیں تیرے آنسو

ان موتیوں کا جگ میں کوئی دام نہ ہوتا
جو سیپ کے منہ میں جا گرتے تیرے انسو

سرد موسم کی بارش کی تپتی بوندو سے
ہم کو جلنے سے ہیں بچاتے تیرے آنسو

مکمل تحریر پڑھیں ←

شہد کی سرزمین میں بارود کی کڑواہٹ

پندرہ دن کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا!!! حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں!!! اب تو یہ بھی نہیں معلوم کتنے گھر بچ گئے ہیں!!! جہاں روزانہ بائیس ٹن بارود مزائل کی شکل میں داغے گئے ہوں!!!  جہاں روزانہ کم سے کم بھی سو کے قریب ہوائی حملہ ہوتے ہوں وہاں بھلا  کچھ بچ سکتا ہے کیا!!!! ہاں ہو گا تو صرف کھنڈر!!!!
لبنان کو زمانہ قدیم میں کنعان کہا جاتا تھا!!! کنعان یعنی شہد کی سرزمین!!! اب اس زمین کے شہد میں بارود کا ذائقہ آ گیا ہو گا!! ملک کی آبادی چالیس سے پنتالیس لاکھ ہے!!! سنا ہے کہ پچس سے تیس لاکھ کے قریب آبادی اب مہاجر بن چکی ہے ان پندرہ دنوں میں!!! ملک کی ساٹھ فیصد آبادی مسلمان اور چالیس فیصد آبادی عیسائی ہے!! یہ عیسائی یہاں صلیبی جنگوں کے زمانے سے آباد ہیں!!!
حملہ آور اسرائیل جو انکل سام کا ناجائز بچہ ہے!!!۔ حملہ کرنے کے لئے بہانہ یہ تھا کہ حزب اللہ نے دو اسرائیلی فوجی اغواء کر لئے ہیں!!! لو اس بات کو وجہ وہ ملک بنا رہا ہے  جو ہر دوسرے دن ایک ملک میں گھس کر نہ صرف بندوں کو گرفتار یا اغواء کرلیتا ہے بلکہ شہید بھی کرتا رہتا ہے!!! اگر لبنان کے معاملہ میں اس عمل کر دیکھا جائے تو بھی یہ اسرائیلی بہانہ یوں درست نہیں کہ پچھلے برس مئی میں اسرائیلی فوج نے لبنان میں داخل ہو کر دو فلسطینی افراد کو گرفتار یا اغواء کیا تھا مگر لبنان نے تو اسرائیل پر حملہ نہیں کیا تھا !!! چلو مان لیا کہ لبنان کی نہ تو کوئی بحریہ ہے نہ فضائیہ، رہ دے کر زمینی فوج ہے وہ بھی مری ہوئی جب ہی تو اب تک کے اسرائیلی حملوں میں نظر نہیں آئی!!! تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ “اغواء“ تو “حزب اللہ“ کرے فوجیوں کو مگر نشانہ بنایا جائے عام شہریوں کو!!!! شائد مارنے کا مقصد “حزب اللہ“ ہی ہے اور اللہ کی جماعت میں تو سب کلمہ گو ہی شامل ہیں نا بھائی!!!
حزب اللہ جو ایرانی انقلاب سے متاثر جماعت ہے اس کا سربراہ “حسن نصر اللہ“ اب عرب میڈیا کا ہیرو بنتا جا رہا ہے!!! اس ہی جماعت کی وجہ سے اسرائیل کو چھ سال پہلے جنوبی لبنان سے اپنا بائیس سالہ غاصبانہ قبصہ چھوڑنا پڑا!!! اس ہی جماعت کے ایک خود کش حملہ نے قریب 243 امیریکی میرین 1983 میں مارے جس کے بعد پھر امریکہ لبنان میں نہیں گیا!!! یہ جماعت نہ صرف فلاحی کاموں میں شریک ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی کافی مضبوط ہے کہ لبنان کی پارلیمنٹ میں اٹھارہ فیصد نمائیدگی بھی رکھتی ہے!! اپنا ٹی وی چینل چلا رہی ہے!!!
اس ہی کی سخت مزاحمت کی وجہ سے اسرائیل کو لبنان پر قبصہ کرنا مشکل ہو گیاہے جتنا بھی اس نے کرنا ہے!!! اسرائیل کو انتظار ہے کہ کب اس جماعت کے پاس راکٹ ختم ہوتے ہیں!!!
یہ نہایت عجیب بات ہے کہ 9/11 کے بعد ہونے والی تمام جنگیں کسی مخصوص گروہ کے خلاف لڑنے یا اس کا قلع قمع کرنے کا کہا جاتا ہے اور تباہ ملک کئے جاتے ہیں القاعدہ  اور طالبان کے خلاف امریکہ کی کاروائی اور تباہی افغانستان کی!!! صدام کے خلاف کاروائی اور تباہی مکمل عراق کا مقدر ، اسرائیل کی فوجی لڑائی “حزب اللہ“ کے ساتھ اور نشانہ پورا لبنان!!!  مرنے والا ہر جگہ مسلمان اور مارنے والا غیر مسلم ہی ہوتا ہے!!!
عالمی سطح پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اب تک!!! نہ ہوتی نظر آتی ہے!!! بش صاحب نے تو صاف صاف الفاط میں اسرائیل کو وقت دے دیا کہ بھائی یہ دس بارہ دنوں میں یہ “حزب اللہ“ کا کام ختم کرو ساتھ ہی لبنانیوں کا بھی!!!!
مسلم دنیا کی تقسیم بھی وہ ہی پرانی والی حکمران لکیر کے اِس طرف اور عوام اُس طرف!!! ایک بے حس اور دوسرے بے بس!!! ایک مفاد پرست اور دوسرے خدا پرست!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

لب آزاد نہیں اب وہاں بھی!!!! شاید

چلو پاکستان میں تو جمہوریت نہیں!!! آزادی رائے نہیں!!!!! اس لئے کہہ لو کہ بلاگ اسپاٹ پر پابندی لگی!!! مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس کا فائدہ دوراِن مذاکرات ہمارے حکمرانوں نے پڑوسیوں کو بھی سمجھا دیا ہے تب ہی تو ایسا ہوا ہے!!!!.اب وہاں بھی یار لوگ اس راستے کو اپنا رہے ہیں!!!! کیا بات ہے بھائی

ہون آرام ایں

Tags : ، Free Speech, ، ، Asia، , ,, ،,

مکمل تحریر پڑھیں ←

طلب

طلب پیاس کی طرح ہوتی ہے لگتی ہے تو بے تحاشا لگتی ہے، شروع شروع میں بہت بے چین کرتی ہے۔ پوری ہو جائے تو تشنگی اور بڑھ جاتی ہے اگر حد سے بڑھ جائے تو خود ہی سیرابی ہو جاتی ہے جیسے پانی کا قطرہ سیپ کے اندر موتی بن جاتا ہے ۔اسی طرح طلب انسان کے اندر سیرابی بن جاتی ہے۔

مکمل تحریر پڑھیں ←