Tags: pic, picture, fun, funny picture
آگے ہی آگے
DITA HOCKEY دتہ ہاکی
اللہ دتہ ، پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تعلق، ہاکی بنانے کے فن کا ماہر جانا اور مانا جاتا۔ ابتداء اس نے اپنے محلے سے کی دوکان سے کی۔ اس کی ہاکی کافی پائیدار، نفیس اور اعٰلی ہوتی۔ اللہ دتہ کی ہاکی کی مانگ کافی ذیادہ ہو گئی۔ دتہ کی ہاکی نہ صرف پنجاب کی یا پاکستان کی علاقائی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی استعمال کرتے بلکہ اب تو بین الاقوامی کھلاڑی بھی اس کی بنائی ہوئی ہاکی پر بھروسہ کرتے۔ دتہ کا کام کافی بڑھ گیا۔ اب اس نے ہاکی بنانے کا پورا کارخانہ بنا لیا۔ اس نے اپنے پروڈکٹ کا نام “دتہ ہاکی“ رکھا ۔ یہ لفظ "DITA HOCKEY" جب یورپین پڑھتے تو وہ اسے “ڈی ٹا ہاکی“ کہتے۔
دتہ ایک اَن پڑھ شخص تھا لہذا کہیں نا کہیں مار کھانا تھی۔ جب “دتہ ہاکی“ کی شہرت حد سے بڑھی تو جرمنی کی ایک کمپنی نے اس نام کو اپنے “ٹریڈ مارک“ کے طور پر رجسٹر کروا لیا۔ اب “دتہ ہاکی“ کا ٹریڈ مارک اس کی ملکیت ہو گئی جو اس کا خالق نہ تھا۔ دتی کی اولاد تعلیم یافتہ ہے لہذا انہوں نے اس ٹریڈ مارکہ کے لئے قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جس میں انہیں ناکامی ہوئی۔ اب بھی دتہ ہاکی بنانے کے کام سے وابستہ ہے اس کی ہاکی اب بھی باہر جاتی ہے اسے اب بھی “دتہ ہاکی“ کے نام سے جانا جاتا ہے مگر یہ مارکہ اس کی ملکیت نہیں ہے۔
یہ قصہ یا کہانی (جو سچی ہے) میرے سینئر نے ٹریڈ مارک کی اہمیت بتانے کے لئے بتایا ہے۔
کامیاب حملہ آور
نيا بخار!!!!
دنیا میں کافی سارے احباب اس وقت فٹبال کے عالمی مقابلہ کے بخار میں مبتلا ہے!!!! پاؤں سے کھیلا جانے والا یہ کھیل !!!! دماغ کے استعمال کا بھی محتاج ہے!!!!فٹ بال نے١٩٧٠ سے اب تک کافی ٹھوکرے کھائی ہیں!! یہ بھی سچ ہے کہ اس فٹبال کے بنانے والے مشکلات کا شکار ہیں!!! یہ فٹ بال پاکستان سے جاتے ہیں کچھ کو اس میں شک بھی ہے!!! نہیں جاتے تو لوگ ایسی خبر کیوںلگا دیتے ہیں!!!! سیالکوٹ سے کافی سارا مال فیفا کپ کے لئے گیا ہے!!!
آج کل گوگل بھی اس بخار میں مبتلا ہے!!! اگر آپ “فٹبال“ ، “عالمی کپ“، “فیفا“، “فیفا عالمی مقابلہ“ یا اس مقابلہ میں شریک(کسی دوجو آپس میں میچ کھیلیں) ممالک کے نام لکھ کر سرچ کرے تو سرچ رزلٹ میں گوگل آپ کو پچھلے میچ یا وہ جو کھیلا جارہا ہو (قریب ٥ منٹ کے وقفہ) کا اسکور کارڈ اور اگلے میں کا وقت
بھی بتاتا ہے!!!!
غریب کی کرکٹ
معاشی حبس اور بجٹ کی گرمی
حکومت کا دعوٰی ہے کہ بجٹ عوام دوست ہے اور اپوزیشن کی پوزیشن کچھ اور ہے!!! عوام کی کوئی پوزیشن ہی نہیں ہے!!! وہ نہ تو حکومت کی طرف ہے نہ اپوزیشن کے ساتھ!!!
عام آدمی کا بجٹ کم سے کم چار ہزار ماہانہ(پچھلے سال 2500 سے تین ہزار کیا تھا) رکھا گیا ہے اور اس کی آسانی کے لئے دالیں سستی کر دی گئی ہیں!!! اچھا؟؟ ماش کی دال کی قیمت کی نصف سینچری مکمل کروائی گئی ہے اور باقی کے حق میں دعا کی گئی ہے!!! وہ بھی جلد کر لیں گی!
عوام یا عام آدمی دوست بجٹ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ کیا حال ہے!!!! “ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو“ تمہاری دوستی ہی کافی ہے۔۔۔۔ کہتے ہیں ملک میں غربت کا تناسب کم ہوا ہے گزرے سالوں کے مقابلہ میں!! کافی غریب مار دیئے ہیں جو بچ گئے ان کا بھی کام کردیا جائے گا!!
اب آپ بیرون ملک سفر کرے گے تو اس پر 15 فیصد ٹیکس حکومت کو دیں گے! اگر آپ اندروں ملک سفر میں عیاشی کا موڈ کرتے ہوئے اس ٹرین میں بیٹھ جائے جس میں ایئرکنڈیشن لگا ہو تو ساڑھے بارہ فیصد اس میں حکومت کا حصہ ہوگا!! پانچ فیصد ٹیکس پیسے کے ٹرانسفرکرنے پر، آپ مالک مکان کو کرایہ دینے جاؤ تو اس پر بھی پانچ فیصد کے حساب سے ٹیکس حکومت کو دیں (مالک مکان اپنی جیب سے تو نہیں دے گا ٹیکس) ! آپ نے اگر کیبل کا کنیکشن لیا ہے تو اس پر بھی 25 روپے حکومت کو دینے کے لئے تیار رہے! پانچ فیصد ٹیکس بینک کی مہیا کردہ سہولتوں پر ! سنا ہے کہ اگر آپ کا پلاٹ 500 گز کے قیب ہے تو اس پر بھی کسی قسم کا ٹیکس لگے گا!!! یہ اور اس جیسے دوسرے ٹیکس اس لئے کہ حکومت اس سال 835 بلین روپے ٹیکس جمع کرنا ہے! ملک کی ایک فیصد (چند کا خیال ہے اشاریہ آٹھ فیصد) آبادی ٹیکس دیتی ہے اس میں 45 فیصد وہ جو تنخواہ دار ہیں اور ان کی تنخواہ میں سے ٹیکس تنخواہ ملنے سے پہلے ہی کاٹ لیا جاتا ہے! باقی 55 فیصد میں سے کون کون پورا ٹیکس دیتا ہے یہ ایک الگ بحث ہے!!! ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتی مگر کوشش یہ ہو رہی ہے کہ جو دے رہا ہے اسے ہی نچوڑوں “اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا“!!۔
105 بلین روپے زر تلافی کے لئے رکھے گئے ہیں!!! ان میں 10 بلین پیڑولیم کی صنعت کے لئے! 720 ملین سیمنٹ کی صنعت کے لئے کہ فی بوری قیمت 280 تک رہے!! بارہ اشاریہ تین بلین کھاد کی مد میں!! دو اشاریہ پانچ بلین دالوں کے لئے!!
بجٹ پر طاہرانہ نظر
مکمل بجٹ
بلاگ اصلاحات
یہاں پر بلاگ یا بلاگنگ سے متعلق اصلاحات کا کافی سارا مواد ہے !!!!!