بونوں کا دیس

رفیع الدین احمد 1970ء میں اقوام متحدہ میں ملازم ہوئے اور 29 سال کی خدمات کے بعد 1999ء میں ریٹائر ہو گئے۔زندگی کے ان قیمتی برسوں میں وہ متعدد کلیدی عہدوں پر فائر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ اگر انہیں نیویارک کے پاکستانی مشن میں ایک میز اور ایک کرسی دے دی جائے تو وہ پاکستان کے لئے بلا معاوضہ کام کرنے کو تیار ہیں۔ یہ درخواست اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر احمد کمال کے ذریعے اس دور کے کے سیکرٹری خارجہ شمشاداحمد کے حضور پہنچی ، سیکرٹری خارجہ نے شکریہ کے ساتھ یہ درخواست مسترد کردی۔ چند ہی روز بعد اقوام متحدہ کے انتہائی اہم ادارے “یواین آئی ایف ای ایم“ کے اہڈوائزر اور ولڈٹورازم آرگنائزیشن کے نمائندے بھی منتخب ہو گئے، 2003ء کا اپریل آیا تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے انہیں رفیع الدین احمد کو عراق کے لئے خصوصی مشیر چن لیا، یہ عہدہ لمحہ موجود میں اقوام متحدہ کی سب سے اہم پوزیشن ہے۔ جناب رفیع الدین احمد کی مثال نے ایک بار پھر ثابت کردیا،ارض پاک کو حقیقا اچھے، قابل اور مخلض لوگوں کی ضرورت نہیں۔ ہماری 55 سالہ تاریخ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کی گوہ ہے۔1961ء میں ایوب خان نے ملکی قوانین کو شریعت کے قالب میں ڈھالنے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت پوری دنیا میں دع بڑے مسلم دانشور تھے، ایک جناب پرفیسر حمیداللہ اور دوسرے ڈاکٹر فضل الرحمن۔ پروفیسر صاحب پیرس میں مقیم تھےاور ڈاکٹر صاحب کینڈا کی میکگل یونیورسٹی سے وابستہ تھے۔ ایوب خان نے دونوں سکالروں کو پاکستان بلانے کا فیصلہ کیا۔ یہ فریضہ فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کو سونپا گیا۔ جاوید اقبال دسمبر 1961ء میں کینیڈا اور پیرس گئے، پروفیسر حمیداللہ نے فورا انکار کردیا، پروفیسر صاحب کا کہبا تھا “میں حیدرآباد سے نکلا تو سیدھا پاکستان گیا لیکن پاکستان کی یونیورسٹیوں کے باسیوں نے مجھے وہاں آباد نہیں ہونے دیا جبکہ ڈکٹر فضل الرحمن نے یہ درخواست قبول کرلی۔ ایوب خان نے انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا سربراہ دیا لیکن مقامی علماء نے ان کے خلاف فتوٰی جاری کرنا شروع کردیئے، وہ دلبرداشتہ ہو کر واپس چلے گئے جہاں انہیں شکاگو یونیورسٹی نے قبول کر لیا اور وہیں انتقال فرما گئے آپ ڈاکٹر عبدالسلام کو لیجئے، ڈاکٹر صاحب نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج جوائن کیا، وہ کوئی سنجیدہ کام کرنا چاہتے تھے، انہوں نے انتظامیہ سے درخواست کی“میں سنجیدہ کام کرنا چاہتا ہوں“۔ کالج انتظامیہ نے انہیں فٹبال ٹیم کا کوچ بنادیا۔ انہوں نے کچھ عرصہ بعد دوبارہ درخواست دی تو انہیں ہاسٹل کے وارڈن کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ، وہ 1954ء میں ملک چھوڑ کر چکے گئے۔ انہیں امپریل کالج لندن نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور تھیورٹیکل فزکس کا سربراہ بنا دیا۔ وہاں سے وہ اٹلی گئے اٹلی کی حکومت نے ٹریسٹ میں ان کے نام سے ایک لیبارٹری بنائی، انہیں 1979ء میں بوبل پرائز ملا، معروف مصور گل جی ان سے ملنے گئے، پاکستان کا ذکر آیا تو ڈاکٹر صاحب کھڑے ہو گئے اور گل جی کو سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ انہیں عمر بھر یہ شکوہ رہا پوری دنیا انہیں ہیرو مانتی ہے لیکن اہل وطن کی نظر میں وہ کافر ہیں۔ بھارت کے موجودہ صدر ڈاکٹر عبدلکلام 1972,73ء میں ہالینڈ سے پاکستان آئے، وہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں نوکری کے خوہاں تھے، کمیشن نے انہیں “نالائق“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ چھ ماہ پاکستان رہنے کے بعد وہ واپس لوٹ گئے۔ وہ ہالینڈ سے بھارت گئے، بھارت نے انہیں میزائل پروگرام میں نوکری دے دی، انہوں نے بھارت کو نہ صرف ایٹمی طاقت بنادیا بلکہ اسے میزائل ٹیکنالوجی میں بھی عالمی طاقتوں کے برابر کھڑا کیا۔ خود ڈاکٹر عبدالقدیر جب پہلی بار پاکستان آئے تو سوٹ، ٹائی اور بوٹ والے بابوؤں نے انہیں مسترد کردیا تھا۔ یہ تو اچھا ہوا ذوالفقار علی بھٹو انہیں واپس کھینچ لائے، ورنہ آج ہم بھارت کا اک پسماندہ صوبہ بن کر زندگی گزار رہے ہوتے۔ یہ کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے پوری دینا اپنے ٹیلنٹ کی قدر کرتی ہے، وہاں تو یورپ کے تین سرمایہ دار ملک کارل مارکس کو اپنا شہری قرار دے کر فرضی قبریں بنا لیتے ہیں چارچار سو سال بعد ناسڑاڈیمس کی ہڈیاں نکال واپس فرانس لائی جاتی ہیں، روسوکوڈیگال فرانس قرار دے دیتا ہے لیکن ہمیں دیکھئے ڈاکٹرعبدالسلام، ڈاکٹرفضل الرحٰمن، پروفیسر حمیداللہ، ڈاکٹر عبدلکلام یا پھر رفیع الدین احمد ہمارے پاس ایسے لوگوں کی گنجائش نہیں، ہم لوگ کیا بنتے جا رہے ہیں۔ مجھے طفیل نیازی مرحوم کی بات رہ رہ کر یاد آتی ہے، مرحوم کہا کرتے تھے ہم واہگہ عبور کرتے ہیں تو بھگوان ہوتے ہیں واپس آتے ہیں تو لوگ مہیں کنجر کہتے ہیں۔ آخر ہم ہیں کیا! طفیل نیازی مرحوم کو یہ بات پوری زندگی سمجھ نہ آئی۔ فنکار تھا سمجھ نھی کیسے سکتا تھا ایسی باتیں سمجھنے کے لئے انسان کو بیوپاری ہونا چاہئے اور بیوپار یہ کہتا ہے بونوں کے دیس میں بونے خود کو بلند قامت ثابت کرنے کے لئے ہر لمبے شخض کے پاؤں کاٹ دیتے ہیں۔ ہم اس ملک کو بونوں کا دیس بناتے چلے جا رہے ہیں، اگر ہم نے پاؤں کاٹنے کا یہ سلسلہ بند نہ کیا تو یقین کیجئے عالم چناؤں کا یہ ملک کوڈوؤں کی چھوٹی سی بستی بن کر رہ جائے گا ایسی جس کا آسمان بھی دس فٹ اونچا ہو گا۔
تحریر؛ جاوید چوہدری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اقتباس؛ زیرو پوئنٹ2
مکمل تحریر پڑھیں ←
آسمانی آفت آئی تھی یا جاری ہے؟؟؟؟

آسمانی آفت آئی تھی یا جاری ہے؟؟؟؟

سائینس دان یہ تو بتا سکتے ہیں کہ زلزلہ آیااس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی طاقت کتنی ہے؟ قیاس لگا سکتے ہیں کہ پہلے آنے والے زلزلہ کے بعد مزید آئیں گے یا نہیں مگر سائینس نہ تو پیشگی ان کے بارے میں آگاہ کرسکتی ہے نہ نہ آنے سے روک سکتی ہے۔۔۔بس اتنی ہی طاقت ہے سائینس میں؟ جہاں قدرت چاہتی ہے اسے شکست دے دیتی ہے۔
مگر! قدرت ایسا کرتی کیوں ہے؟؟ کوئی کہتا ہے آزمائش ہے،کسی نے کہا آزمائش نیکوں کی ہوتی ہے ہم کون سے نیک ہیں بھٹکے ہوئے ہیں لہذا تنبہہ ہے کہ سدھر جاؤ ، بعض کی رائے ہے کہ تنبہہ اس قدر تباہ کن نہیں ہوتی یہ تو عذاب ہے عذاب کا سلسلہ شروع۔۔۔یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ جو اس کی رضا۔۔۔یہ امتحان ہے یا کسی کردہ یا نا کردہ گناہ کی سزا۔۔۔۔۔ یا محض حادثہ؟؟؟ سائینس کہتی ہے کہ یہ میگا تھرسٹ زلزلہ تھا زمین کی ایک پرت نے دوسری پرت کے نیچے آ کر شدید رگڑ پیدا کی۔۔۔۔ بیس ہزار مربع کلومیٹر پر آنے والی اس قیامت نے سرکاری اعداد شمار کے مطابق چالیس ہزار افراد نگل لیئے غیر سرکاری گنتی و اندازے کے مطابق یہ تعداد لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان ہے، عبدلستارایدھی کا کہنا ہے کہ جان بحق ہونے والے افراد کی تعداد تین لاکھ کے لگ بھگ ہے بیز پچاس ہزار افراد کو وہ سپرد خاک کر چکے ہیں۔۔۔زخمی ہونے والے افراد کی بھی ایک بڑی تعداد ہے۔۔۔ذیادہ تر افراد کے سر پر چوٹ آئی یا جسم میں کئی نا کئی فرکچر آیا ہے،اب ساری عمر یہ آنے والے زخم ان کے جسم پر اس زلزلہ کی نشانی کے طور پر ساتھ رہیں گے۔۔۔سینتیس لاکھ سے چالیس لاکھ تک افراد اس زلزلہ سے متاثر ہوئے۔۔ کئی علاقوں میں نوے سے سو فیصد تک عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، شہر کھنڈر بن گئے۔۔کھنڈر سے کیا نکلتا ہے؟؟لاشیں! سو وہ ہی نکلی۔۔۔معجزہ بھی ہوئے زندہ جسم بھی باہر آئے مگر اندر سے مر چکے تھے۔۔۔کسی کی ماں نہ رہی کوئی یتیم ہو گیا کبھی کوئی “ست بھرائی“ تھی مگر اب اس کا کوئی بھائی نہیں رہا صاحب اولاد بے اولاد ہیں اب!۔۔۔۔۔۔ گیارہ منٹوں میں آنے والے چار جھٹکوں نے سب کچھ بدل دیا اور اگلے دو دن آنے والے ایک سو ساٹھ جھٹکوں نے نمک پاشی کا کام کیا۔۔۔۔۔۔مگر! سچی بات ہے ان لوگوں کا حوصلہ بھی قابل دید تھا۔۔۔دوسرے کا دکھ ایک کو اپنے سے بڑا معلوم ہوتا یہ ہی اس کے کئے صبر کا باعث تھا کہ مجھ پر تو کم پہاڑ گرے ہیں دکھ کے۔۔۔۔ بچے قوموں کا مستقبل کہلاتے ہیں۔۔۔ اس آفت آسمانی میں سب سے ذیادہ یہ ہی متاثر ہوئے۔۔۔جان بحق ہونے والے افراد میں نصف تعداد ان کی ہے۔ اسکول کی عمارتوں میں ان کی بڑی تعداد زندہ دفن ہوئی۔۔۔ اب مردہ باہر آرہی ہے۔۔۔گڑھی حبیب اللہ سے چھ سو بچیاں، بالاکوٹ کے شاہین میموریل سکول سے چار سو بچے۔۔ ایک نسل جو نہیں رہی۔۔۔جو زندہ ہیں وہ خوف کا شکار ، نفسیاتی مریض! تباہ شدہ علاقوں میں ،ان بے حال لوگوں کی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔۔ سرد موسم کا آغاز۔۔۔بارش کی بے رحمی ۔۔ برف باری ۔۔۔ اور اوپر آسمان اور نیچے زمین ۔۔۔ خیمہ اور کمبل کے منتظر ۔۔۔۔ناگہانی آفت ابھی جاری ہے ختم نہیں ہوئی!۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
The blogging generation

The blogging generation

THE news from our ICM poll that a third of young people online have launched their own blog or personal website may come as a surprise to many older people only dimly aware of what blogging is all about.
It is the latest example of the transforming effects of the information revolution that are leaving very few activities unaffected. Blogging simply involves setting up a site on the internet where you can “blog” your views together with photographs and invite comments from friends or interested people anywhere in the world, as long as they are online. It takes only a few minutes to set up a site with one of numerous free programmes available on the web. Michael Howard was quite right in his valedictory speech to yesterday’s Tory conference to say of the new generation: “Their youth has been shaped by the internet and the iPod, by cheap flights and mobile phones.” And not only youth. Blogging is now a mainstream activity for politicians, economists and, increasingly, corporations, plus the army of bloggers around the world who call governments and companies to account with instant rebuttals and who are setting up heir own form of “citizens’ journalism” to provide a grassroots alternative to what is perceived as the corporate-driven agenda of many media organisations. Blogging in turn is only a small part of the digital revolution that has provided practically everyone in the industrialised world who wants one with a mobile phone that is itself cannibalising other gizmos such as cameras, music players, radios and 50 other functions. From cars that know where they are located to robot vacuum cleaners, and from internet shopping to playing online games with millions of others around the world, the digital revolution is sweeping all before it. Above all - thanks to search engines such as Google and Yahoo - there is free access (after paying a monthly fee to a service provider) to practically anything you want to know about anything. The limiting factor on acquiring knowledge these days is not being rich but whether you have the inclination to search for it or not. There are, of course, dangers — from inadequate monitoring of what children are doing to the avalanche of junk mail and pornography that assails users. —The Guardian, London
************************** **************************
thank you= dawn
مکمل تحریر پڑھیں ←
امداد اور۔۔۔۔۔

امداد اور۔۔۔۔۔

زمین کیا لرزی قیامت آ گئی، گھر قبر بن گئے۔گھر کی چھت اور فرش کے درمیان بس گھر کے مکین ہی فاصلے کا سبب تھے۔۔۔ زمین کی تھرتھراہٹ سے جہاں اس میں دڑاڑیں پڑی وہاں ہی پاکستانی قوم کی بظاہر نظر آنے والی دڑاڑیں (فاصلے)ختم ہو گئی۔۔۔زمین کا ہر بار کانپنا دوریوں کو کم کرنے کا سبب بنا۔۔ لوگوں نے اپنے ان مصیبت ذدہ بھائیوں کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔ اہل کراچی نے کمال کردیا۔۔۔ یہاں پی اے ایف میوزیم میں امدادی سامان کا ڈیر لگا ہوا ہے ۔۔۔پی ایف بیس فیصل سے روزانہ تین (C130) سامان لے کر چکلالہ ائیر بیس جاتے ہیں سامان کی ترسیل کے لئے جہازوں کی ہی تعداد کم ہے۔۔۔ کراچی کے مختلف علاقوں سے نوجوان سامان پیک کرنے کے لئے(فری میں) یہاں آ جاتے ہیں ۔۔ یوں ایک ساتھ کام کرنے سے چند نئے اچھے دوست مل جاتے ہیں۔۔۔۔خود ایدھی والوں کا کہنا ہے کہ کراچی سے انہیں قریب پانچ سو ٹرک کے قریب امدادی سامان ملا ہے اس کے علاوہ مختلف سماجی اور سیاسی تنظیموں کی طرف سے دی گئی امداد الگ ہے۔۔شہر میں چند مفاد پرست بھی ہیں۔۔چند لوگ تشہیر کے لئے امدامی اقم دے رہئ ہیں اور کئی نیک دل نام بتائے بغیر(ایک صاحب نے پانچ کروڑ کی رقم نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ دی)۔۔پرسوں اصل سے ذیادہ کرایہ مانگنے والے کئی ٹرک ڈرائیور حضرات کی پٹائی کی گئی۔۔معلوم ہوتا ہے ادویات اور دوسرے امدادی سامان کی قیمتیں بڑھانے والے افراد کا بھی یہ ہی حال کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔ساتھ ہی ایک شک دل میں آتا ہے کہ ہم جو یہ سامان جمع کر کے دے رہے ہیں نہ معلوم ان ضرورت مندوں تک پہنچ پائے گا کہ نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
فرض؟

فرض؟

ان کی مدد ہمارا فرض ہے۔۔۔۔ یہ ہمارے ہیں۔۔۔۔ان کی مدد ہم پر قرض ہے۔۔۔اسے احسان نہ سمجھے۔۔۔۔ اپنا فرض ادا کرے۔۔۔ اس وقت تنقید کرنا درست نہیں۔۔۔۔۔ مدد کی نیت کرے سبب خود ہی بن جائے گا ۔۔۔اللہ ہماری مدد کرے۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
امتحان

امتحان

بالا کوٹ ، مانسھرہ ۔باغ،شمیت کئی شہر علاقے تباہ ہو گئے ہے اپنے ان بھائیوں کی مدد ہم پر لازم ہے ۔۔۔۔اللہ ہمیں ہمت اور حوصلہ دے ان کی مدد کا ۔۔۔ یہ امتحان ہے ہمارے حوصلے کا۔۔صبر کا ۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

دردآشنا

اس کے علاوہ اردو بلاگر کی یہ تحریریں بھی
یہاں جو بات قابل غور ہے ہر فرد زلزلے کے متاثرین کے لئے پریشان ہے نیز ان کی مدد کر رہا ہے جہاں تک اس سے ممکن ہو رہا ہے اور دوسروں کو اس کی نہ صرف تلقین کر رہا ہے بلکہ راستہ بھی بتا رہا ہے ۔۔۔۔۔ہم سب درد آشنا ہیں۔۔ہم سب اس مشکل کی گھڑی میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔۔۔اللہ ہماری مدد کرے اور رحم فرمائے۔۔۔آمین!۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
زلزلہ

زلزلہ

آج صبح 8.50 پر پاکستان میں زلزلہ آیا ۔شدت 7.6 ۔۔سنا ہے 1000 سے ذیادہ اموات کا اندیشہ ہے۔۔۔۔ خدا رحم کرے۔۔زلزلہ کا مرکز اسلام آباد سے 60 میل شمال مشرق میں اور 6.2 میل گہرائی میں تھا۔۔۔ آپ احباب کیسے ہیں ۔۔جو اسلام آباد اور لاہور کے رہائشی ہیں یا وہ احباب جو اس زلزلے والے علاقے میں ہیں۔۔ ؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

یہ کیا پوسٹ ہے؟؟؟؟

انٹر نیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمیت ٦٥-٦٦ ڈالر فی بیرل (میری اطلاع کے مطابق ممکن ہے درست نہ ہو) ہے اس کے ٹرانسپوٹیشن کے اخراجات ٣٠ سینٹ فی بیرل ہے۔۔چلے آپ دو ملا کر یوں کہہ لے کہ پاکستان کی سرحد پر آتے آتے خام مال ٦٧ ڈالے کا ایک بیرل پڑتا ہے۔۔۔ایک بیرل میں ٤٢ گیلنز ہو نے ہیں اور ٤٢ گیلن ١٥٩ لیٹر کے برابر ہے یو ایک لیٹر خام تیل پڑا کتنے کا پڑا ذرا حساب لگائے۔۔۔اس کی صفائی پر کتنا خرچہ ہو گا۔۔اس میں سے مٹی کا تیل ،ڈیزل ،گریس بھی پیڑول کے ساتھ نکلے گی۔۔۔ وہ بھی فروخت ہو گی ۔۔۔ پھر۔۔۔۔؟؟؟؟؟
×××××××××××××
اب ذرا ان لنک کا وزٹ کرے (اگر وقت ہو تو)۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

تجربہ

Shoiab Safdar LOVES Urdu Blogger
12012 3213 534 87
Love Level: 87%
Name 1: Name 2:
ہم ایک ہیں۔۔۔۔۔
How to make a Shoiab Safdar
Ingredients: 1 part intelligence 1 part courage 3 parts ego
Method: Layer ingredientes in a shot glass. Top it off with a sprinkle of caring and enjoy!
Username:
بس یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کوئی گانا کیسے بلاگ پر ڈالتے ہیں
مکمل تحریر پڑھیں ←