تم کہتے ہوکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم کہتے ہو اُسے مجھ سے پیار ہے مگر جب وہ مجھ سے ملا تو اُس نے مجھے دیکھا تک نہیں جب میں نے اُسے پکارا تو وہ بولا نہیں جب بولا تو مسکرایا نہیں جب مسکرایا تو اُس میں طنز تھا مگر تم کہتے ہو کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (میری اپنی تُک بندی)۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

کیوں کسی کو برا کہے کوئی

دراصل ساری بات ڈگری کی ہوتی ہے۔برقعے والیاں، بےنقاب لمبی چوٹی والی کو آزاد خیال سمجھتی ہیں۔لمبی چوٹی والی کٹے بالوں والی کو بے حیا جانتی ہے۔بال کٹی کا خیال ہوتا ہے کہ اس کے تو صرف بال کٹے ہیں۔اصل خرافہ تو وہ ہے جو دن کے وقت ماسکارا بھی لگاتی ہے اور آئی شیڈو بھی۔آئی شیڈو والی کو یقین ہوتا ہے کہ وہ بے چاری تو اللہ میاں کی گائے ہے اصل میں تووہ اچھال چھکے جو دوپٹہ نہیںاوڑھتی see through
کپڑے پہنتی ہےاور سب کے سامنے سگریٹ پینے سے نیہں چوکتی۔ سگریٹ نوش بی بی کے سامنے وہ فسادن ہوتی ہے جو نا محرموں کے ساتھ بیٹھ کر بلیو فلم دیکھتی ہے۔وغیرہ وغیرہ اس طرح مردوں میں بھی نیکی تعلی موجود ہوتی ہے اور اس کی کئی ڈگریاں مقرر ہوتی ہیں۔جو شخص صرف نظرباز ہے اوراچٹتی نظر سے لڑکیوں کوآنکتا ہے وہ ان مردوں کو بد معاش سمجھتا ہے جولڑکیوں کی محفل میں راجہ اندر بن کربیٹھتے ہیں اور لطیفوں اور کہانیوں سےفضا کو غزل الغزلات کی طرح رومانٹک کردیتے ہیں۔عورتوں سے باتیں کرنے کےرسیا ان مردوں کوغنڈہ سمجھتے ہیں جو اندھیرے سویرے کواڑ کے پیچھے سیڑھیوں کے سائے میں غسل خانے کی سنک کے پاس چوری چھپے کسی لڑکی کوبازوؤں میں لے لیتے ہیں۔چوری چھپے بلے اڑانے والے ان حضرات کو عادی مجرم سمجتے ہیں جو کھلے بندوں آوازے کستے ہیں جو زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور زنا کار ان پر نکتہ چینی کر کے بے قیاس راحت محسوس کرتے ہیں جو زنا بلجبر کرتے ہیں اور قانون کی گرفت میں ملزم ٹھرائے جاتے ہیں
بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے اقتباس)۔)
مکمل تحریر پڑھیں ←
ایس ایم ایس میسنجر

ایس ایم ایس میسنجر

پاکستان میں سب سے پہلے یوفون نےاپنے صارف کوویب سے ایس ایم ایس کرنے کی سہولت فراہم کی،اس کے بعد باقی موبائل کمپنیاں اس جانب متوجہ ہوئیں اوریوںاب ہم نیٹ سے ایس ایم ایس کرنے کے واسطے جس کمپنی کا کنکشن دوسرے کے پاس ہوتا ہےاس کمپنی کی ویب سائیٹ پر جا کر آپ مطلوبہ شخص کو تحریری پیغام کرسکتے ہیں۔مگر ان کا یوآر ایل یاد رکھنا ایک الگ مسئلہ ہے۔اس مسئلہ کا حل کال پوائنٹ والوں نے ایس ایم ایس پی کےڈاٹ کوم کی صورت میں یوں نکالا کے تمام مطلوبہ یوآر ایل ایک جگہ جمع کر دیئے۔مگر سب سے بہترین کام(میرے نزدیک) ایس ایم ایس میسنجر کی شکل میں کریک ساؤفٹ نے کیا۔ اس کی مدد سے آپ پاکستان میں موجود ان تمام موبائل کمپنیوں کے صارفین کو اپنا تحریری پیغام بھیج اور وصول کرسکتے ہیں جو ویب ٹو موبائل پیغام کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔اس کے استعمال پر کوئی چارجز نہیں ہیں۔اس ساؤفٹ ویئر کا سائز 1.7ایم بی ہے
داؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کرے
مکمل تحریر پڑھیں ←

ادھار قطعی بند ہے

دوکان بڑے شہر کی ہو یا چھوٹے قصبے کی،قریب ہر دوکاندار نے اپنی دوکان کی نمایاں جگہ پرادھار سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا ہوتا ہے۔اس مقصد کے واسطے یا تو اس نے کوئی رنگین اسٹیکر چپساں کیا ہوتا ہے یا خود اپنے ہاتھ سے کسی کاغذ پرخوشخطی سے کوئی فقرہ تحریر کیا ہوتا ہے اور کسی کے ادھارپر کوئی شے طلب کرنے پر گاہک کی توجہ اس جملے کی طرف مبذول کروا دیتا ہے۔ایسے ہی چند فقرے ذیل میں درج ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۱۔ ادھار قطعی بند ہے۔ ۲۔ نقد بڑے شوق سے ادھار اگلے چوک سے۔ ۳۔ ادھار محبت کی قینچی ہے۔ ۴۔ آپ اچھے ہے ادھار اچھا نہیں۔ ۵۔ ادھار آپ کی عزت اور ہمارے اخلاق کا دشمن ہے۔ ۶۔ ادھار مانگ کر شرمندہ نہ ہو۔ ۷۔ ادھار مانگ کر شرمندہ نہ کرے۔ ۸۔کشمیر کی آزادی تک بھارت کی بربادی تک ادھاربند ہے۔
آپ کو کوئی فقرہ معلوم ہے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

پنجابی نظم و قطعہ

میری زندگی دے چار دن لنگ جان گے کڑے تیرے نال نئیں کسے ہور نال سئی تنوں نخرے وکھان دی لوڑ کوئی نئیں مینوں کڑیاں دی شیر وچ تھوڑ کوئی نئیں تنوں حسن تے اپنے غرور کناں سی تو نہ سوچیا غریب مجبور کنا سی تیری ضد میری اکھیاں دا ہنیر بن گئی مینوں چنڈ مار کے تو دلیر بن گئی میرا خط میرے سامنے تو چیر پھاڑ کے کناں ہنسی ئیں تو میرا کلیجہ ساڑ کے کناں گھٹیا تو فون تے جواب دتا سی میں تے پیار نال تینوں گلاب دتا سی ہون میرے کول بیبیاں دی تھوڑ کوئی نئیں تنوں نخرے وکھان دی لوڑ کوئی نئیں کل مینوں اک کڑی پرپوز کیتا اے میں وی اونوں محبتاں دا تحفہ دتا اے اودا رنگ دودھ دی ملائی ورگا اودا لہجہ میری نکی پرجائی ورگا اودا قد بت میرے نال میل کھاندا اے سانوں ویکھ کے زمانہ سارا سڑ جاندا اے گل مکدی مکاواں اودا جوڑ کوئی نئیں تنوں نخرے وکھان دی لوڑ کوئی نئیں قطعہ کجھ اونجھ وی راواں اوکھیاں سن کجھ گل وچ غم دا طوق وی سی کجھ شیر دے لوک وی ظالم سن کجھ سانوں مرن دا شوق وی سی
مکمل تحریر پڑھیں ←

غزل

شہر کے دکاں٘ دارو! کاروبار الفت میں سود کیا ہے زیاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے دل کے دام کتنے ہیں ، خواب کتنے مہنگے ہیں اور نقد کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے کوئی کیسے ملتا ہے پھول کیسے کھلتا ہے آنکھ کیسے جھکتی ہے سانس کیسے رکتی ہے کیسے رہ نکلتی ہےکیسے بات چلتی ہے شوق کی زباں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے وصل کا سکو ں کیا ہے ہجر کا جنون کیا ہے،حسن کا فسوں کیا ہے،عشق کا دروں کیا ہے تم مریض دانائی مصلحت کے شیدائی راہ گمرہاں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے زخم کیسے پھلتے ہیں داغ کیسے جلتے ہیں درد کیسے ہوتا ہے کو ئی کیسے روتا ہے اشک کیا ہے نالے کیا ، دشت کیا ہے چھالے کیا آہ کیا فغاں کیا ہےتم نہ جان پاؤ گے نامراد دل ایسے صبح وشام کرتے ہیں کیسے زندہ رہتے ہیں اور کیسے مرتے ہیں تم کو کب نظر آئی غم زدوں کی تنہائی زیست بے اماں کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے جانتا ہوں میں تم کو ذوق شاعری بھی ہے، شخصیت سجانے میں اک ماہری بھی ہے پھر بھی حرف چنتے ہو، صرف لفظ سنتے ہو، ان کے درمیان کیا ہے تم نہ جان پاؤ گے
مکمل تحریر پڑھیں ←
ڈاکٹر؟ عامر لیاقت کی لیا قت

ڈاکٹر؟ عامر لیاقت کی لیا قت

خاک ہونے سے قبل بہتر ہے خاک تھوڑی سی اڑا لی جائے ڈاکٹر عامر لیا قت وزیر مملکت برائے مذہبی امور اور مشہور پرائیویٹ چینل "جیو" کے مذہبی پروگرام "عالم آن لائن" کےمیزبان ہیں۔
ان کے بارے میں کراچی کے ایک لوکل اخبار "امت" (یاد رہیے یہ کراچی کا ایک ایسا اخبار ہے جس نے پہلے دن سے اچھی صحافت کی ہے) میں قریب ایک ہفتہ قبل ایک رپورٹ شائع ہوئی جس کے مطابق موصوف کی تعلیمی اسناد جعلی ہیں۔اس خبر کو اب بلاگ میں شامل یوں کیا کے میں اس انتظار میں تھا کے شاید ڈاکٹر صاحب اخبار کے خلاف غلط رپورٹ پر ہتک عزت کا مقدمہ کرے،مگر ایسا نہ ہوا ،جس سے بات کے درست ہونے کا عندیہ ملتا ہے۔
اس خبر پر میں کوئی تبصرہ نہیں کو گا۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

اعتراف

ہم جیسے خود پسند

لوگوں سے چاہت کی

توقع رکھتے ہو!!۔

ارے پاگل!۔

ہم جیسے خود پسند لوگ

کسی سے محبت تو کیا!۔

نفرت بھی نہیں کرتے!۔

مکمل تحریر پڑھیں ←

نظریہ اور تعلیم

کوئی کام اچھا ہے ؟ پہچان کیا ہے؟ آپ اچھا کہتے ہیں یا میں؟کوئی چیز میری نظر میں اچھی ہے اور آپ کی نظر میں بری۔حق پر کون؟ اچھائی و برائی کا معیار کیا ہے؟اور کیوں؟ ہر کوئی ہر بات کو اپنے ترازو میں تولتا ہے۔اس کی سوچ کے ترازو کا معیار کیا ہے؟اس کی سوچ کا ترازو اس کا نقطہ نظر ہے،جس کی بنیاداس کا مذہب،اس کی ثقافت،وہ ماحول جس میں وہ پروان چڑھا،وہ سبق جو اس نے شروع سے پڑھا اور یوں وہ کسی بات کے متعلق اپنا نظریہ قائم کر سکا۔ اب ہر کسی کا اپنا نظریہ ہےکوئی بے حیائی کو بولڈنیس کہتا ہے،کوئی بدتمیزی کو اسٹیٹ فاروڈ کا نام دیتا ہے،کوئی چار سو بیسی(ٹانگ کھنچنے)کرنے کو انٹیلیجنٹ سمجھتا ہے،کسی کو نزدیک فحاشی دراصل گلیمر ہے، مجاہد یا حریت پسند ٹیررسٹ ہے۔ہمیں بھی ایسا ہی شخص چاہئے۔مسئلہ تب کھڑا ہوتا ہے جب مدمقابل دلیری،صاف گوئی،ذہانت،دلفریبی اور دہشت گرد جیسی اصلاحات سے آگاہ ہو اور ان کا مطلب جانتا ہو۔ کیا کیا جائے؟ فنائٹک(جنونی) مولوی اور اس کی نئی نسل کے جنونی پن کو کیسے ختم کیا جائے؟نئی پود سے قدامت پسندی،انتہا پسندی،بنیاد پرستی اور تنگ نظری کے مادے کو کیسے خارج کیا جائے؟ انہیں روشن خیالی کا ٹیکا کیسے لگایا جائے؟لبرل ازم کی خوراک کیسے کھلائی جائے؟ بہترین دماغ چھوڑے گئے اور حل تلاش کیا گیا۔فیصلہ ہو گیا! پرانے سانچے ہٹا دیئے جائے نیا سانچہ بنایا جائے جیسا سانچہ ویسا مال۔پرانے شکاری نیا جال،نظریہ تبدیل کیا جائے۔۔۔ نظریہ کی تبدیلی کے لئے لازم ہےنظام تعلیم میں تبدیلی،تالی بجائی گئی حکم صادر ہوا"نصاب بدلہ جائے"سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا گیا جو حکم میرے آقا،حکم کی تعمیل ہو گی کیا کیا جائے؟ ایسا کرو نصاب میں سے جہاد سے متعلق باتیں نکالو،اقبال کی شاعری کو مت شامل کرو وہ فاشسٹ ہے،نا پختہ ذہنوں کو سورۃ سوسف پڑھائی جائے تاکہ سوچ منتشر ہو،(نعوذ باللہ)حضرت محمد ﷺ اور حضرت عائشہ کی گھریلوں زندگی کو بچوں میں لواسٹوری کی شکل میں پیش کیا جائے۔ دشواری کا سامنا؟ہم ہیں نا۔ نیا تعلیمی بورڈ قائم ہو۔جسے تمام اختیارات حاصل ہواس کے ہر کام کو "نیک نیتی سے کیا گیا کام باور کیا جائے"نیز اس پر کسی قسم کا کوئی قانونی مقدمہ یا عدالتی دعوینہ کیا جائے گا،سمجھے کچھ پلے پڑا۔ ***************************
آغا خان بورڈجو مستقبل میں پورے پاکستان پر نافذعمل ہونے والا تعلیمی بورڈ جو ابھی صرف کراچی میں نافذہوا ہے۔ آخر میں مسٹر فاشسٹ کی شاؑعری
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ ہم سمجھتے تھے لائے گی فراغت تعلیم کیا خبر تھی کی چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
مکمل تحریر پڑھیں ←