پکوڑے

رمضان کی آمد آمد تھی مٹر اور آلو اور آلو مٹر کھا کھا کر افسر کی جان پر بنی ہوئی تھی۔ عام دنعں میں آلوؤں کے چپس بنا بنا کر چائے کے ساتھ پیش کر دیئے جاتے تو کس حد تک تنوع کا احساس ہوتا لیکن رمضان میں تو دن میں کھانا پینا بھی موقوف ہوتا ہے۔ سو پی ایم سی نے میس کے ارکان کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا کہ رمضان کے لئے مینو تیار کیا جا سکے۔ہم کافی پریشان ہوئے کہ میس میں آلو مٹر کے ڈبوں کے بعد صرف بہسب موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور صرف بیسن کے لئے ہوتے ہوئے کیا مینو تیار ہو سکے گا۔
اجلاس کی کاروائی شروع ہوئی ۔ارکان کی تعداد اس دن اتفاق سے نو تک جا پہنچی تھی، تفصیل سے اجلاس کی اہمیت بتائی گئی اور ان سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنی تجاویز اجلاس میں شرح صدر سے پیش کریں۔ ہم نے اجازت صدر یہ بات بھی گوش گزار کر دی کہ میس میں آلو اور مٹر کے ڈبع کے بعد صرف بیسن موجود ہے، تجاویز “میسر شدہ وسائل“ کی حدود میں ہوں۔
“بیسن سے کیا کچھ بنایا جاسکتا ہے“ ؟ وضاحت چاہی گئی۔
“پکوڑے“
“پکوڑے تو افطاری ہی میں ذیادہ لطف دیں گے اِس لیے انھیں افطاری ہی میں رکھا جائے“۔
“بجا“۔
“پہلے سات دنوں کا صرف افطارری کا مینو تیار کرلیا جائے“۔
“جیسا آپ چاہیں“۔
تو میس سیکرٹری آپ ہمیں افطاری میں کیا کچھ دے سکتے ہیں؟“۔
“جی پکوڑے“۔
“چلیں ایک دن تو پکوڑے ٹھیک ہیں۔ باقی دن ———؟“۔
“یہی سوچنے کے لئے اجلاس بلایا گیا ہے۔آپ تجاویز دیں“۔
“میس میں کیا کچھ موجود ہے؟“۔
“آلو اور مٹر“۔
“انہیں مارو گولی“۔ایک صاحب بھنائے۔
“ٹھیک ہے سر“۔
“اور کیا ہے؟“۔
“بیسن“۔
“بیسن سے کیا کچھ بن سکتا ہے؟“۔
“جی میرے علم کی حد تک تو پکوڑے بنائے جا سکتے ہیں“۔
“چلیں ایک دن تو طے ہو گیا لکھے اتوار کو پکوڑے“۔ایک صاحب نے اختلاف کیا“پکوڑے جمعرات کو کھائے جائیں اور معمولی بحث کے بعد یہ اختیار میص سیکر ٹری کو سونپ دیا گیا کہ جس دن وہ چاہیں پکوڑے بنالیا کریں۔چنانچہ ہم نے لکھا؛
مینو برائے افطار
پکوڑے برائے سوموار
“اچھا یہاں بازار میں کیا کچھ ملتا ہے؟“۔
“اول تو عصر کے بعد سے لوگ دکانیں بند کر کے اپنے اپنے گھر کو سدھار تے ہیں۔دوسرے ان کے ہاں کھانے کی اشیاء نہیں بکتیں۔ صرف ایک چھوٹی سی دوکان کھلی رہتی ہے۔ دیر سے آنے والے ڈرائیوروں کے لئے“۔
“ کیا کچھ ہوتا ہے اس کے پاس افطار کے لئے؟“۔
“جی پکوڑے“۔
وہ تو ہم میس میں بنا لیں گے“۔
“جی جی با لکل“۔
“کس دن رکھے گئے ہیں پکوڑے؟“۔
“جی سوموار کو“۔
“ویری ویل! میس میں اور کچھ نہیں مٹر آلو کے علاوہ“۔
“جی بیسن ہے نا“۔
“بیسن سے کیا کیا چیزیں بنتی ہیں“۔
“جی میں نے عرض کیا تھا نا ———- پکوڑے“۔
خاموشی کا ایک وقفہ۔
ویٹر کو آواز دی گئی۔ خانساماں کو طلب کیا گیا۔
یہ خانساماں مقامی باشندوں میں سے عارضی طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔ اصل خانساماں چھٹی پر تھا۔ وہ ہوتا تو شائد بیسن سے بہے کچھ بنا سکتا۔لیکن عارضی خانساماں اور پی ایم سی کے درمیان مذاکرات بری طرح ناکام ہو گئے۔سنیے ذرا؛
پی ایم سی اور خانساماں کے درمیان مذاکرات ، میس ممبران گوش بر آواز،
“تم افطار کے لئے کیا کیا کچھ بنا سکتے ہو؟“۔
“سب کچھ بنا سکتا ہوں سر جی“۔
“مثلا؟“۔
“سر جی ، ہر چیز بنا سکتا ہوں لیکن یہاں کوئی چیز ملتی ہی نہیں۔میس حوالدار پنڈی سے صرف ڈھائی من بیسن لایا ہے“۔
“بیسن سے تم کیا کیا چیزیں بنا سکتے ہو“۔
“سر جی پکوڑے“۔
“شٹ اپ“۔
اور پی ایم سی میٹنگ ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔
تحریر=کیپٹن اشفاق حسین اقتباس =جنٹل مین الحمدللہ
مکمل تحریر پڑھیں ←

مدد درکار ہے۔۔۔۔۔بلاگ کے سلسلے میں کوئی کر سکے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آپیرا میں اودوویب پیڈ کام نہیں کر رہا، اگر بلاگ پر موجود کی بورڈ سے کلک کرو تو لکھا جاتا ہے مگر دوسری طرح نہیں۔۔۔۔ دوسرا یہ کی اشتہاری تبصروں سے بچنے کے لئے میں تبصرہ سسٹم میں کیسے تبدیلی کرو(ویسے تو ابھی تک کوئی اشتہاری تبصرہ بلاگ پر نہیں ہوا) وہ آن کرنا تو آتا ہے مگر تبصرہ فارم میں (بلاگ میں ہی) شامل کرنے سے قاصر رہا ہو۔۔۔حارث اور انکل اجمل کے تبصرہ سسٹم سے (سورس دیکھ کر) کوڈ کاپی کیا(صرف الفاظ دوبارہ لکھے والا) مگر وہ ٹھیک طرح کام نہیں کررہا کیا کسی کے پاس حل ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟ انکل اجمل کا کیا گیا تبصرہ ہر مرتبہ ایک آدھ دن گزر جانے کے بعد خود باخود نامعلوم کیوں! (میں نہیں کرتا)غائب ہوجاتا ہے۔۔۔اس کی اجہ اور حل کسے کو معلوم ہے۔۔۔یا انکل آپ خود مٹا دیتے ہیں؟؟؟؟؟ ایک بات اور یہ کہ کیا اب بھی تبصرہ فارم میں ریاضی کے عجیب و غریب فارمولے آتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟ بتا دے شکر گزار ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ××××××× کیا آپ کے لئے یہ ممکن ہے کہ آپ اپنی سالگرہ کے دن سے مجھے آگا ہ کر دے؟؟؟اگر ہاں تو یہاں پر بتا دے۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

انگوٹھا

یوں تو انسانی جسم کے تمام اعضاء بہت اہم ہیں کئی ایسے جو خود انسانی زندگی کی بقاء کے لئے ضروری نھی۔۔۔۔۔۔ان میں انگوٹھے کی ایک اپنی الگ سیاسی، معاشی(؟)،معاشرتی، اخلاقی اور ذاتی حیثیت ہے۔اختلاف؟؟ کرلو۔۔مگر ہمارے پاس بھی اپنے دلائل ہیں۔

ہر بندے کےپاس کل چار انگوٹھے ہوتے ہیں(دو پاؤں کے اور دو ہاتھوں کے) ،ان کے بڑے فائدے ہیں۔۔۔پاؤں کا انگوٹھا اگر نہ ہو تو ہوائی چپل(اس کا تعلق جزیرہ ہوائی سے نہیں) نہیں پہنی جا سکتی۔۔۔علم نجوم نے بھی پاؤں کے انگوٹھے کو اہم گردانا ہے، بتاتے ہیں کہ اس کے پڑوس کی انگلی اگر بڑی ہوتو آپ کا اپنی(یا اپنے) شریک حیات پر رعب ہوتا ہے؛ اسی وجہ سے ہمارے ایک دوست نے گھر والوں کے سامنے شرط رکھی کہ“میری کسی پر نہیں(حکمرانی) چلتی سب مجھ پر (حکم) چلاتے ہیں لہذا بہتر ہے میری بیوی وہ بنائی جائے جس کے پاؤں کے انگوٹھے کے برابر والی انگلی چھوٹی ہو کہ کہیں تو میری بھی(حکمرانی) چلے“ ، تب اُن کی امی نے بیٹے کی خواہش پر ایک رشتہ دیکھتے وقت پاؤں دیکھنے کے لئے لڑکی سے جوتا اتارنے کے لئے کہا تو بولی“آنٹی آپ امی(چبا کر) تو بنے پھر موقع بے موقع جوتی اتارا کرو گی“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس طرح ہاتھی کے دانت دیکھانے کے اور اور کھانے کے اور ہوتے ہیں اسی طرح انسانی انگوٹھا دیکھانے میں اور ہوتا ہے اور لگانے میں اور۔۔۔اگر یہ مٹھی کے اوپر چست حالت میں ہوتا “زبردست“،“شاباش“ کے معنی میں آتا ہے مگر اگر یہ جھول رہا ہوتو چڑانے کے معنی میں اس صورت میں اسے ٹھینگا کہتے ہیں لیکن اگر اس کا رخ زمین کی طرف ہو تو اس کا مقصد نیچا دیکھانا ہوتا ہے۔۔۔(یہ اشارے اگر کوئی دوسرا آپ کے لئے بھی کر سکتا ہے اور بوقت ضرورت آپ بھی دوسروں کے خلاف)۔

نا خواندہ یا ان پڑھ افراد کا انگوٹھا پڑھا لکھا ہوتا ہے تب ہی تو مختلف قانونی دستاویزات پر دستخط کی جگہ جا بجا استعمال ہوتا ہے ان کی جانب سے۔۔۔۔۔یار لوگ ان کو انگوٹھا چھاپ کہتے ہیں ویسے اکثر موقعہ پر خواندہ خضرات بھی انگوٹھا چھاپ بن جاتے ہیں!!کبھی ووٹ ڈالنے جائے یا شناختی کارڈ بنوانے!!

آپ کے انگوٹھے کی پوزیشن میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔چلے تبصرہ میں بتا دے!!!!!!

مکمل تحریر پڑھیں ←

I'm.....

I'm an ordinary man Who desires nothing more Than just an ordinary chance To live exactly as he likes And do precisely what he wants. An average man am I, Of no eccentric whim, Who likes to live his life, free of strife, Doing whatever he thinks is best for him. Oh, Just an ordinary man. I'm a quiet living man, Who prefers to spend the evenings In the silence of his room; Who likes an atmosphere as restful As an undiscovered tomb. A pensive man am I, Of philosophic joys; Who likes to meditate, contemplate, Free from humanity's mad inhuman noise. A quiet living man. Professor Higgins
مکمل تحریر پڑھیں ←

مکالمے

تم “جیو“ ٹی وی دیکھتے ہو؟ ہاں! کیوں؟ دیکھو! وہ اپنی ہر نیوز سیگمنٹ کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ان کے نام یوں رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ “جیو نیوز“، “جیو دنیا“، “جیو ٹریول“، “جیو انٹرٹینمنٹ“، “جیو کھیل“، “جیو کرکٹ“، “جیو ہاکی“ وغیرہ تو! ذرا سوچو! اگر وہ جرائم سے متعلق خبروں کے لئے ایک سیگمنٹ بنائے تو اس کا کیا نام رکھے گے؟ بھلا !کیا؟ “جیو جرائم“
××××××××××××
تم نے وہ اپنے صدر کا بیان سنا! ارے کس بیان کی بات کر رہے ہو! وہ تو ہر وقت ہی بیان دیتے رہتے ہیں؟ یار! وہ ویزہ اور دولت سے متعلق مظلوم خواتین پر جوالزام دھرا ہے ہاں یار نہایت بچگانہ بیان ہے شرم نہ آئی اسے۔۔۔۔۔ ہاں!ہاں!مگر کچھ معلوم ہے کیوں دیا ہے؟ کیوں دیا ہے؟ بھائی “پروفیشنل جیلسی“ہے کیا بکواس ہے یہ بیان اور پروفیشنل جیلسی؟ دماغ تو ٹھیک ہے تمھارا! بھائی! یہ ان جی اوز اور صدر دونوں مغرب کے کہنے پر ملک میں “روشن خیالی“ عام کر رہے ہیں نا! ہاں تو پھر! اب! سمجھ جاؤ ایک فریق دوسرے کی کامیابی پر جیلس نہیں ہو گا تو اور کیا ہو گا!
مکمل تحریر پڑھیں ←