ٓآزادی مبارک

ٓآزادی مبارک

جشن آزادی مبارک ! آج صرف قائداعظم کے دو فرمان۔۔۔ اگر ہم خود کو بنگالی ،پنجابی، بلوچی اور سندھی وغیرہ پہلے اور مسلمان اور پاکستانی بعد میں سمجھنے لگیں گے تو پھر پاکستان لازمّا پارہ پارہ ہو کر رہ جائے گا
ڈھاکہ٣١ مارچ ١٩٤٨
اگر ہم اس مملکت پاکستان کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اور بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی پڑے گی
خظبہ صدارت دستور ساز اسمبلی ۱۹۴۷
مکمل تحریر پڑھیں ←
جشن آزادی

جشن آزادی

جشن آزادی! بچپن میں مجھے اس کا کوئی شعوری احساس سوائے اس کے کہ گھر میں جھنڈیاں لگانی ہے اور چھت پر جھنڈا لگانا ہے نہ تھا۔
اسکول میں جب ١٤اگست کی تقریب کے حوالے سے سرگرمیاں شروع ہوتی تو مجھے معلوم ہوتا کہ یہ دن قریب ہے ( جو بات درست ہو اس کا اعتراف کر لینا چاہئے) اسکول کی ان تقریبات میں میں نے کبھی شرکت نہ کی سوائے آخری دن کے جب میں باقی بچوں کے ہمراہ اسے دیکھنے کے لئے پہنچ جاتا۔۔۔یا پھر کلاس روم کو مختلف جھنڈیوں سےسجانے اور تحریک پاکستان کے رہنماؤں کی تصاویر آویزہ کرنے کی حد تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ محلے میں اس کی تیاری میں پیش پیش ہوتا۔چندہ جمع کرنے سے لے کر جھنڈیاں خریدنے اور ان کو گلی میں باندھنے تک۔۔علاقے میں ہماری گلی اُن چند گلیوں میں شمار ہوتی جہاں جھنڈیوں کے لہرانےکی آواز ہر آنے جانے والے کو اپنی جانب متوجہ کرتی اور سورج کی روشنی کے راستے میں کسی حد تک رکاوٹ کرتی ۔۔۔ اب ایسا نہیںہے۔

گھر میں ذرا رواج مختلف ہے ۔ ١٢ تاریخ تک ہم بہن بھائی جتنی رقم جمع کرے گے اتنی ہی رقم والد صاحب اس میں ملائے گے یہ طے ہوا تھا ایک مرتبہ مگر ہوتا یوں ہے ہم سے جس قدر رقم جمع ہوتی وہ والد ہمیں ہی دے دیتے ہیں اور جتنی رقم ہمیں جھنڈیوں کے لئے درکار ہوتی وہ الگ سے پکڑا دیتے۔۔ مگر رقم جمع کرنے کی شرط نہ ختم کرتے۔۔۔۔۔ اب اس شرط کا اطلاق ہماری چھوٹی بہنوں پر ہوتا ہے۔۔۔۔دوسری پابندی یہ ہے کہ بازار سے بنی بنائی جھنڈیاں نہ لائی جائیں گی بلکہ جھنڈیاں گھر لا کر خود سے دھاگے پر لگا کر سجائی جائیں گی۔۔۔۔ اس پر اب بھی عمل ہوتا ہے۔ ان تیاروں کے سلسلے میں ایک مرتنہ جھنڈیاں لگانے کے بعد بارش سے سب خراب ہو گئیں تو میری چھوٹی بہن بہت روئی تھی ۔۔۔ اور وہ اپنی طرف سے اللہ سے لڑی تھی۔۔۔ہم جھنڈیوں کو دھاگے سے لگانے کے لئے آٹے کی لیوی بنا کر استعمال کرتےہیں۔ یہاں میں اپنے ابو کی ایک بات ضرور بتاؤں گا جو مجھے اچھی لگی ان کا کہنا ہے“مذہب،ملک اور برادری (خاندان) کے لئے اگر کچھ کرو تو اسے احسان سمجھ کر نہ کرو اور اس کے بدلے میں بھی کچھ طلب نہ کرو“۔ اب آخر میں میری انگریزی کی تک بندی جو میری اس زبان میں واحد تک بندی ہے یہ میں نے دسویں جماعت میں کی تھی پھر مجھے پتہ چل کیا کہ میں کتنے پانی میں ہو

MY HOME LAND

In the world ,the best Land That is my Home Land I like its all thing, present here Also its all Field & Sand I want to kill all enemy of my land And want to die for this Land We all , who live here All are Brother & Friend I Love my HOME LAND I Love My
مکمل تحریر پڑھیں ←

انگریزی اردو لغت

مجھے معلوم ہے کہ آپ کی انگریزی اچھی ہے مگر میرا تو حال ماندہ (برا) ہےنا۔اب اس بنا پر ہم انگریز یا اس کی انگریزی یا خود مجھ کو جتنا بھی کوس لے مگر تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج کے دور میں اس سے دوری ممکن نہیں اس کو ایک بین الاقوامی زبان کی حیثیت حاصل ہے۔اگر آپ بھی میری طرح (انگریزی سے کم واقف) تو عرض ہے کہ اس سلسلے میں انگریزی سے اردو اور اردو سے انگریزی لغت درکار ہوتی ہے۔اس سلسلے میں کلین ٹچ والوں کی ڈکشنری کافی سو دمند ثابت ہو سکتی ہے۔یہ ایک اچھی لغت ہے۔اس کا سائز قریب قریب چھ (۶)ایم بی ہے اور یہ ہے بھی مفت۔۔۔۔۔۔۔۔! امید کرتا ہو آپ کے کام آئے گی۔۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

نوجوان کے نام

ترے صوفے ہیں افرنگی ، تیرے قالین ہیں ایرانی لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی امارت کیا ،شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل نہ زورِ حیدری تجھ میں نہ استغناے سلمانی نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں کہ پایا میں نے استغنا میں معراج مسلمانی عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں نہ ہو نومید، نومیدی زوال علم و عرفاں ہے امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں (کیا مجھے شاعر کا نام لکھنے کی ضرورت ہے؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

مدارس آرڈ یننس

یہ لو ایک اور آرڈیننس (مدارس آرڈیننس) آرہا ہے آنے دو! دھشت گردی کے خلاف جنگ کے علاوہ کوئی دوسرا کام بڑی روانگی سے کر رہی ہےوہ نئے نئے آرڈیننس پاس کر ہی ہے اور پرانے قوانین کو ترمیم کے بعد نئے نام سے جاری۔نہیں نہیں جناب ہمیں کوئی اعتراز نہیں ہم نے نہ تو حسبہ بل پر اعتراز کیا نہ اس پر اعتراز کرنے پر اعتراز کیا بلا اب کیا کرے گے۔ بھائی ہمیں نہ تو قانون بنانے پر شکایت ہے نہ اس کے پاس ہونے پر نہ اس کے نفاذ پر، بات ساری ہی ہے کہ یہ تو ہو کہ یہ سارے کام ہم اپنی خواہش اور مرضی سے کر رہے ہیں اب اس آرڈیننس کو ہی لے لیں لگتا ہے کہ انکل سام اور اس کے چیلے کے حکم پر بنایا جا رہاہے۔ فارن میڈیا سے خطاب میں صدر صاحب نے ارشاد کیا “دسمبر تک مدارس کی رجسٹریشن مکمل ہونی چاہئے“ ٹھیک ہے جناب مگر! ساتھ ہی حکم جاری ہوا کہ “غیر ملکی طالب علموں دسمبر تک ملک چھوڑ جاؤ“۔ ہان اب وہ کہے گے کہ ہم نے یہ فیصلہ بھی خود کیا ہے،کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔ فلسفی اسپنزنے کہا تھاکہ اگر کسی اینٹ کو ہوا میں پھینک دیا جائے اور پوچھا جائے اے اینٹ کدھر چلی؟ وہ کہی گی میں اپنی مرضی سے جاہی ہو کسی کی کیا ہمت کہ مجھے اس راہ پر ڈالے۔ہماری مثال ابھی کچھ ایسی ہی ہے،جو حکم اس کعبہ (امریکہ) سے آتا ہے اس پر سر تسِلیم خم ہوتا ہے ساتھ کہتے ہیں یہ ہماری اپنی مرضی ہے،اور وہ! خانہ کعبہ پر حملے کی تجویز پیش کرتے ہیں ہے نا کمال! بعد میں بے شک معافی مانگ لو ایک بار دل کی بات تو زبان پر لے آؤ۔ آردیننس آئے اس پر عمل ہو ، مدارس کی رجسٹریشن ہونی چاہیئے۔یوں ان کو ایک مقام حاصل ہو گا۔مگر غیر ملکی طالب علموں کے انخلاء والا معاملہ کچھ ٹھیک نہیں اس سے ان ممالک میں پاکستان کا امیج مجروح ہونے کا اندیشہ ہے جن سے یہ طالب علم یہاں آئے ہاں اگر ان طلبہ کی رجسٹریشن کر لی جاتی تو بہتر تھااور صرف مدارس آرڈیننس کیوں؟ این جی اوز آڈیننس بھی کیوں نہیں؟ اپنی رائے یہاں بھی دیں
مکمل تحریر پڑھیں ←