"برسات کا یہ کیڑا، جو دیمک سے دیملی بنتا ہے، شاید یہ گمان کرتا ہے کہ اندھیروں میں لکڑیاں چاٹ کر بہت جی لیا… اب پر نکل آئے ہیں تو کیوں نہ پروانے کہلائیں، اور شمع پر نثار ہو کر اپنے انجام کو امر کر جائیں!"
🌊 سیلاب اور حکمرانوں کی کارکردگی
آسمان سے برستا پانی ہر سال نئی آزمائش لے کر آتا ہے۔ کبھی پنجاب، کبھی خیبرپختونخوا اور اب سندھ کے حکمرانوں کی کارکردگی اس سیلابی ریلے میں بہہ کر رہ جاتی ہے۔ تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اپنی ناقص کارکردگی کو امدادی سامان اور فوٹو سیشنز کے ذریعے کیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ بارش بذاتِ خود تباہی نہیں لاتی۔ پانی کی یہ بارش قدرت کا تحفہ ہے، مگر تباہی اس وقت آتی ہے جب زمین پر بیٹھے حکمران اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتے۔ وہ بروقت ان تجاوزات کو ختم نہیں کرتے جو پانی کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ یہی رکاوٹیں بستیوں کو اجاڑ دیتی ہیں، کھیت کھلیان ڈبو دیتی ہیں اور انسانی جانیں نگل لیتی ہیں۔
مزید برآں، وہ درخت جو زمین کو مضبوطی اور توازن فراہم کرتے ہیں، ان کی حفاظت بھی نہیں کی جاتی۔ کہاوت ہے: "پانی درختوں کو نہیں مارتا، پتھروں کو بہا لے جاتا ہے۔" لیکن یہاں معاملہ الٹ
ہے—حکمرانوں کی غفلت درختوں کو کاٹ دیتی ہے اور بستیوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
المیہ یہ بھی ہے کہ وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی سب کے سامنے کھلنے کے باوجود سیاسی کارکن اپنی جماعت کے سربراہ پر سوال اٹھانے کے بجائے مخالف جماعت کو نشانہ بناتے ہیں۔ حالانکہ سب سے پہلا سوال اپنی قیادت سے ہونا چاہیے: آخر کیوں ہر سال بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے سامنے یہ نااہلی اور بے بسی دکھائی دیتی ہے؟
مہنگائی و پھل
🍎 سیب دل کی نالیوں کو صاف رکھنے اور کولیسٹرول کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
🍌 کیلا جسم کو پوٹاشیئم فراہم کرتا ہے، جو ہڈیوں کو کیلشیم کے ضیاع سے بچاتا ہے۔
🍈 امرود فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، جو ہاضمہ بہتر کرتا ہے اور قبض کو دور رکھتا ہے۔
🥭 آم میں وٹامن B6 اور اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں، جو دماغی صحت اور نیورونز کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔
🍑 آڑو میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامن C جسم کو فری ریڈیکلز سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
🍇 انگور پانی اور پوٹاشیئم سے بھرپور ہوتا ہے، جو گردوں کو صاف رکھنے اور انہیں بہتر طور پر کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔
اور مہنگائی.. یہ سب کھانے نہیں دیتی!
😤😆
نو عمر آفیسر
آفسری ایک خطرناک بیماری ہے۔ یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے، لیکن اس کا سب سے تباہ کن اثر اُس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب ایک نو عمر افسر کے ماتحت کوئی ایسا شخص آ جائے جو عمر میں اس کے باپ کے برابر ہو اور ہر بات پر "جی سر، جی سر" کہنے پر مجبور ہو۔
ایسے میں کم عمر افسر اپنے سے کئی گنا تجربہ رکھنے والے بزرگ ماتحت کو محض ایک "چاکر" سمجھنے لگتا ہے۔ سوچیے، اس رویے کا نفسیاتی اثر اس بزرگ ملازم پر جو ہو گا سو ہو گا مگر اس نو عمر آفیسر پر جو اثر ہوتا ہے، وہ شاید زیادہ گہرا، دیرپا اور تباہ کن ہوتا ہے — جو اسے انسانیت، شائستگی اور ادارہ جاتی حکمت و احترام سے محروم کر دیتا ہے۔
اپنی زندگی میں ہم نے خود یہ منظر بارہا دیکھا — کسی کم عقل نو عمر "مالک" کے ہاتھوں اُن ملازمین کو بے توقیر ہوتے دیکھا جنہوں نے اپنی پوری عمر محنت، دیانت اور تجربے سے نظام چلایا تھا۔
آج کے دور میں عمر اور تجربہ، طاقت اور اختیار کے مقابلے میں اکثر بے وقعت نظر آتے ہیں۔
تخت یا تختہ
سیاستدان ملزم ہو تو جیل کاٹنا بہادری نہیں مجبوری ہوتی ہے ڈیل کرنے والے وہ نہیں ہوتے جو اسے اندر ڈالتے ہیں وہ ہوتے ہیں جو اسے اندر رکھ نہیں سکتے۔ ایسی مجبوری بہادری نہیں ہوتی کمزوری ہوتی ہے۔ سیاسی قیدی اگر طاقتور ہو تو وہ قیدی نہیں ہوتا۔ ہر قید سے بھاگ جانے والا مفرور و بگھوڑا ہوتا ہے تحت و تختہ، تاج و زندان میں سے ایک کا چناؤ
طاقت و کمزور کے درمیان ہوتا ہے۔
#شغل #رائے
شاہ دولہ کے چوہوں جیسے
مائیکرو سیفلی پیدائش کے دوران لگے والی ایک ایسی بیماری ہے جس کی بناء پر نومولود کے دماغ کی پرورش رک جاتی ہے۔ گجرات کے ایک بزرگ شاہ دولے کا مزار ایسے بچوں کی پناہ گاہ ہے۔ اس بناء پر ان بچوں کو شاہ دولہ کے چوہے کہا جاتا ہے کہ سر و دماغ چھوٹا رہ جانے سے چہرہ بہت باریک و پتلا ہوتا ہے۔ ایک قیاس والا الزام یہ بھی افواہ کی صورت میں مشہور ہے کہ یہاں اولاد کی منٹ قبول ہونے پر جو پہلی اولاد یہاں چھوڑ کر جاتی ہے وہ مکمل تندرست ہوتی ہے مگر مکینیکل طریقے سے سر کو کسی سانچے نما شے میں قید کر کے دماغ کی پرورش روک دی جاتی ہے اور آکسیجن کی کمی سے سر و دماغ کی ساخت چھوٹی رہ جاتی ہے۔
شاہ دولہ کے چوہے اس اعتبار سے آسانی سے پہچانے جاتے ہیں کہ ان کے سر و دماغ کی ساخت چھوٹی ہوتی ہے۔ اگر دماغ کی بڑھوتی رک جائے تو دولہ شاہ کے چوہے تخلیق ہوتے ہیں تو اگر سوچ کی بڑھوتی کو کسی خاص سیاسی لیڈر کی محبت میں قید کر دیا جائے، کسی مخصوص مذہبی رنگ میں مقید کر دیا جائے، کسی لسانی تعصب کے سانچے میں باندھ دیا جائے تو کیا وہ بھی ایک طرح کے دولے شاہ کے چوہوں کے مقابلے کا گروہ نہیں بن جائے گا؟
کیا ہم ہم میں سے اکثر اپنے منفرد انداز کے دولے شاہ کے چوہے نہیں ہیں؟ غور کریں؟ کیا ہم نے اپنے شعور کی پرورش کو روک نہیں دیا؟ کیا ہم نے اپنی پسند سے متضاد سچائیوں کو نہ ماننے کے لئے تاویلیں نہیں جمع کر رکھیں؟ کیا ہمیں صرف اپنی پسند کا سچ سننے کی عادت نہیں ہو گی؟
کچھ دھیان تو دیں؟
پاک بیتی
شیری مزاری پارٹی چھوڑ گئی وجہ بیٹی، شاہ محمود قریشی اور پرویز الٰہی اب تک پارٹی کا حصہ ہیں وجہ ان کے بیٹے۔ جو پارٹی میں ہیں وہ محدود ہیں، یا تو جیل تک یا پھر گھر تک۔
کسی نے کہاں جنہوں نے electable پارٹی کو دیئے تھے اب وہ ہی انہیں نکال رہے ہیں۔ پانچ چھ سال پہلے پی ٹی آئی کے لئے جو ن۔لیگ کے ساتھ کیا گیا تھا وہ اب پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ فرق یہ ہے پہلے نیازی صاحب لاڈلے تھے تو گود لیئے گئے تھے جنہوں نے گود لیا یہ جب ان کے ہی سر چڑھے تو پہلے انہوں نے عاق کیا اب در بدر کرنے کا ارادہ ہے۔ اول اول دربدر کرنے کا ارادہ نہ تھا مگر اس گھمنڈ نے ہی مروایا جس کی بنا پر یہ بد تمیزی کا شکار تھے۔
اچھے بچے بنو تو تحت عطا کرنے والے بد تمیزی کرنے پر تختہ دار پر بھی چڑھا دیتے ہیں۔ پہلے بھی ایک کو وزیراعظم بنانے کو ملک دولخت کیا تھا مگر پھر بگڑنے پر سزا موت سنا دی۔ پہلے بھی ایک کو شہر کا بھائی بنایا تھا پھر آوارہ ہونے پر اسے اپنی ہی بنائی پارٹی سے بے دخل کر کے عبرت کا نشان بنا دیا۔ پہلے بھی ایک کو اہل بتاتے تھا مگر ڈسنے کی تیاری دیکھ کر نااہل قرار دیا۔ اب والا کیسے بچے گا؟
طاقتور اس وقت تک طاقتور ہیں جب تک اقتدار میں رہنے والا اس کا احسان مند رہے۔ صاحب اقتدار ہونے کا احساس اصل اقتدار ملنے سے ذیادہ پرفریب ہوتا ہے۔ احساس میں مبتلا احسان کی گرفت میں رہتا ہے۔ بادشاہ گر ہونا بادشاہ ہونے سے ذیادہ بہتر ہیں۔ وہ بادشاہ گر ہیں اب تک۔ آپ مانے یا نہ مانے وہ ثابت کر رہے ہیں۔
کوفے والے ہر جگہ آباد ہیں۔ مشکل وقت آئے تو پہچانے جاتے ہیں۔ اقتدار میں شریک ہی بعد میں ملزم ٹھہرنے پر سلطانی گواہ بنتے ہیں۔ ان کا سلطانی گواہ بنانا تو ان کی فطرت ہے جیسے اقتدار ملتے ہی اپنا اصل چہرہ آشکار کرنا جناب کا ایک فطری عمل تھا۔ اگر جناب اقتدار کو پانے و اقتدار میں رہنے کو سب کچھ کر سکتے ہیں تو مخالف کو ایسا کرنے پر اب طعنہ دینا بھی منافقت ہے۔
انصاف یا رعایت
وقت
"ایک دور تھا سر پر اتنے بال تھے کہ بالوں میں کنگھی ٹوٹتی تھی اب یہ حال ہے کہ کنگھی میں بال ٹوٹتے ہیں۔ ایک یہ دور ہے کہ کوئی واجبی صورت دوشیزہ بھی متوجہ نہیں ہوتی ایک دور تھا مرد و زن دونوں سے بڑی محنت خود کو بچانا پڑتا تھا"

