امتحان!!!! یا ۔۔

آج کل کراچی میں کافی گرمی ہے! ساتھ میں بجلی بھی کا تسلسل کے ساتھ جا رہی ہے !!!! کہاں ؟؟؟ یہ معلوم کروانا پڑے گا۔۔۔ خیر کراچی میں تو نہیں ہے۔۔بجلی!
گرمی!!! اس سے متعلق میں نے دوست سے پوچھا کہ “یار یہ گرمی اتنی کیوں ہو گئی ہے“
جواب آیا “ بھائی یہ تو تم جیسے لوگوں کی حرکتوں کی وجہ سے عذاب نازل ہو رہا ہے نیک لوگوں کو کہاں گرمی لگ رہی ہے“
میں نے پوچھا “ سرکار آپ کو گرمی لگ رہی ہے کہ نہیں“
کہنے لگے ہا“ں لگ رہی ہے“
عرض کیا “ آپ کے کرتوت بھی اچھے نہیں ہیں پھر تو“
فرمانے لگے “ اللہ نیک لوگوں کا امتحان بھی لیتا ہے
مکمل تحریر پڑھیں ←
کش لگاؤ

کش لگاؤ

تمباکو نوشی ایک عادت جو شغل سے جنم لیتی ہے اسٹائل سمجھی جاتی ہے۔۔۔ کہتے ہیں “چھٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی“ اب یہ کافر ہے یا مسلم اس کا تو مجھے علم نہیں !!! البتہ یہ دیکھا ہے کہ جن احباب کو اس کی عادت پڑھ جائے ان کے لئے اسے چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔ کئی کے لئے اتنا بھی مشکل نہیں ہوتا لہذا وہ اکثر سگریٹ نوشی سے توبہ کر لیتے ہیں اور ایسا ہر ایک دو ماہ بعد کرتے ہیں۔۔سیگریٹ پینے سے بھائی چارہ بھی فروغ پاتا ہے، آپ کے پاس سیگریٹ تو ہے مگر ماچس نہیں تو آس پاس موجود افراد مانگ لیا جاتا ہے یوں دعا سلام ہو جاتی ہے مگر اُس کے پاس نہ ہو یا وہ چارہ (گھاس) نہ ڈالے تو ماچس کا طالب دل میں کیا کہتا ہے اسے ہم سنسر کرتے ہیں۔۔ پان کھانے کی عادت بھی کافی احباب کو ہے! اس عادت کا کوئی فائدہ کھانے والے کو ہے یا نہیں مگر اکثر کھانے والے کا ساتھ رہنے والے کو ضرور ہوتا ہے کہ کھانے والے کا منہ جب اس سے بھر جاتا ہے لہذا وہ آپ کا سر نہیں کھاتا!!! یہ ہی حساب گھٹکے کا ہے!!! نسوار کا کیا کہنا ہے بھائی ! واہ۔۔۔۔ کسی خان صاحب سے پوچھے تو وہ ہی بتائے گے !!!! مگر خبردار جو کسی گدھے یا گھوڑے کی خاص شے سے ملایا!!!! کہتے ہیں پاکستان میں ہر روز قریب بارہ سو افراد اس شغل میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک لاکھ افراد ہر سال پاکستان میں اس شوق کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے اس دنیا میں نہیں رہتے۔ ہر سال کہتے ہیں کہ چھ ٹریلین سیگریٹ تیار ہوتے ہیں قریب 1.3 بلین افراد انہیں پی پی کر ختم کرنے پر مامور ہیں، جن میں سے قریب دس ہزار روزانہ اور 3.7 ملین ہر سال اس کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔ دنیا کے 47 فیصد مرد اور بارہ فیصد عورتیں اس عادت کو اپنائے ہوئے ہیں۔ ان میں اکثریت ترقی پذیر ممالک کی عوام ہے۔۔۔۔کینسر کی بیماری سے مرنے والوں میں 30 فیصد تمباکو کی وجہ سے اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ آج دنیا میں تماکو سے پرہیز کا دن منایا جا رہا ہے !!! دنیا کے پنڈتوں نے 31 مئی کو اس کام کے لئے چنا ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

جھاڑیوں میں!!!

جب میں کالج میں پڑھتا تھا تواس وقت کلاس میں ہم لڑکے (لڑکیاں نہیں) ایک شرارتی جملہ یا الفاظ کا سابقہ اکثر اپنے جملوں میں لگالیا کرتے تھے جس سے اُس کا مطلب ذو معٰنی ہو جاتا تھا!!!!! وہ جملہ یا الفاظ کا مرکب تھا “جھاڑیوں میں!!!!“۔ آج کیا کرنے کا ارادہ ہے جھاڑیوں میں!!!! ، شام کو اسٹڈی کرنے آ رہے ہو جھاڑیوں میں!!!! بھائی کلاس اٹینڈ کرنے آ رہے ہو جھاڑیوں میں!!!!! اورایسے بے شمار جملے جو اس سابقہ کی بناء پر ذو معنٰی تاثر دیتا تھا یوں اصل بات کچھ ہوتی اور مطلب کچھ!!! مگر ایک مرتبہ یہ جملہ وہ ذو معنٰی تاثر قائم نہ کر سکا۔۔۔۔۔ چلو نماز پڑھنے چلے جھاڑیوں میں~~~!!! آپ کسی ایسے سابقہ کو جانتے ہیں!!!!؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
آپ کی رائے!!

آپ کی رائے!!

اس فٹ بال کے بارے میں آپ کی رائے!!!!! اس پر سعودی عرب کا جھنڈا ہے۔۔۔۔۔ جس پر پہلا کلمہ!!!! جو اسرائیل اور ڈنمارک کے جھنڈوں کے قریب ہے۔۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم یہ کہاں بنا!!! آیا یہ کسی کھیل میں استعمال ہو گا یا نہیں۔۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

کس کی تلاش ہے تمہیں

گوگلنگ ایک نیا اور بڑے مزے کا شوق ہے بلکہ بعض تو اس کے عادی ہوتے جا رہے ہیں!! اب کو ن کیا تلاش کرتا ہے یہ تو وہ ہی جانتا ہے اگر آپ اس سے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کی مدد کرنے سے قاصر ہوں!!! مگر اس کے بارے میں کچھ شواہد کہ کون کیا تلاش کرتا ہے یا یہ جاننے کی کوشش کہ کہاں کے لوگ کیا تلاش کرتے ہیں تو آپ گوگل ٹرینڈ سے جان یا جانچ سکتے ہیں!!!! اردو کی تلاش میں اہل فیصل آباد سب سے آگے نظر آتے ہیں اور ہندی کی تلاش میں نئی دہلی والے ہیں۔ اسلام آباد کے شہری پاکستان کی تلاش میں سرکردہ ہیں! اہل پاکستان کے بعد ہانک کانک والوں کو پاکستان کی تلاش ہے!!! ارے انہیں کیوں؟؟؟؟ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ پاکستانی کی تلاش میں کوئی اور ہے(سمجھ لیں ناں) مگر یہ تو خود پاکستان کے لوگ ہیں جو پاکستانی کی جستجو میں ہیں!!! واشنگٹن ڈی سی والوں کو بش اور بن لادن کی تلاش ہے!! لو کر لو گل!!!!
مکمل تحریر پڑھیں ←
برلن کا سرد خانہ

برلن کا سرد خانہ

“تم جیو ہزاروں سال ہر سال کے دن ہوں دس ہزار“
ممکن ہے اُس کی عمر کے گزرے ٢٨ سالوں میں کسی نے کبھی تحریری یا زبانی دل سے اسے یہ دعا دی ہو!!!! اس نیک تمنا کا اظہار کیا ہو!!! اور وہ لمحہ قبولیت کا بن گیا!!! ہزاروں برس کی عمر اسے ہی تو کہتے ہیں!!!! یوں ہی تو ملتی ہے شائد!!! جو شہید ہو وہ مرتا نہیں، وہ شہید ہی ہے۔۔۔۔۔۔ ٤ دسمبر ١٩٧٧ کو عامر عبدلرحمان چیمہ حافظ آباد میں پیدا ہوا تھا! تین بہنوں کا ایک بھائی!!! دو بہنیں اس سے بڑی تھی اور ایک چھوٹی!! کافی ذہین تھا!!! نیشنل کالج آف ٹیکسٹال فیصل آباد سی بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعٰلی تعلیم کے لئے ٢٠٠٤ میں جرمنی چلا گیا!!! جرمن یونیورسٹی آف ایپلائیڈ سائنسز میں داخلا لیا! شعبہ ٹیسکسٹائل اینڈ کلودنگ منیجمنٹ میں تیسرے سیمسٹر مکمل ہوئے! چوتھے سیمسٹر کے آغاز میں ابھی ایک ماہ باقی تھا! لہذا ان چھٹیوں کو منانے کرنے کے لئے اپنی ماموں زاد بہن (جو برلن میں اپنے خاوند کے ساتھ رہتی ہے) کے پاس چلا گیا!!! ٢٠ مارچ کو عامر کو جرمن پولیس نے گرفتار کر لیا!!! الزام یہ تھا کہ وہ جرمن اخبار “ڈائی ویلٹ“ کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کیا ہے!!!! حملہ کی وجہ یہ تھی کہ اس اخبار نے “توہین رسالت“ پر مبنی خاکوں کو شائع کیا اور “ناموس رسالت“ پر حملہ کے مرتکب ہوا!!! ٢٠ مارچ کو یہ جانثارِ رسول جرمن پولیس کی حراست میں گیا!! اور ٣ مئی کو صبح ٨ بجے جرمن پولیس کے تشدد کی بناء پر ہلاک ہوا!!!! جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ عامر چیمہ نے خود کشی کی ہے! کیا یہ ممکن ہے ایک عاشق رسول ایک ایسی موت (خود کشی) مرے جسے خود رسول اللہ نے منع فرمایا ہو!!! لازم نہیں!!! یہ جرمن پولیس کا بہانہ ہے!!! ٤٤ دن تک اپنی حراست میں رکھنے کے باوجود جو پولیس اس نوجوان کے خلاف کوئی کیس تیار نہ کرسکی !!! وہ اب ایسے ہی بہانے تراشے گی!!!! جومن پولیس نے ٢٣ مارچ کو عدالت سے اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے کی اجازت مانگی !!! پھر کچھ خاص پیش رفت نہ ہو سکی!!!! اتنی بھی نہیں کہ اس کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا جاسکے!!! برلن کے سرد خانے میں اس کا جسم وطن واپسی کا منتظر ہے!!!! یہ واپسی آٹھ یا نو مئی کو ہو گی شائد!!!!
Tags:
مکمل تحریر پڑھیں ←