امداد اور۔۔۔۔۔

امداد اور۔۔۔۔۔

زمین کیا لرزی قیامت آ گئی، گھر قبر بن گئے۔گھر کی چھت اور فرش کے درمیان بس گھر کے مکین ہی فاصلے کا سبب تھے۔۔۔ زمین کی تھرتھراہٹ سے جہاں اس میں دڑاڑیں پڑی وہاں ہی پاکستانی قوم کی بظاہر نظر آنے والی دڑاڑیں (فاصلے)ختم ہو گئی۔۔۔زمین کا ہر بار کانپنا دوریوں کو کم کرنے کا سبب بنا۔۔ لوگوں نے اپنے ان مصیبت ذدہ بھائیوں کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔ اہل کراچی نے کمال کردیا۔۔۔ یہاں پی اے ایف میوزیم میں امدادی سامان کا ڈیر لگا ہوا ہے ۔۔۔پی ایف بیس فیصل سے روزانہ تین (C130) سامان لے کر چکلالہ ائیر بیس جاتے ہیں سامان کی ترسیل کے لئے جہازوں کی ہی تعداد کم ہے۔۔۔ کراچی کے مختلف علاقوں سے نوجوان سامان پیک کرنے کے لئے(فری میں) یہاں آ جاتے ہیں ۔۔ یوں ایک ساتھ کام کرنے سے چند نئے اچھے دوست مل جاتے ہیں۔۔۔۔خود ایدھی والوں کا کہنا ہے کہ کراچی سے انہیں قریب پانچ سو ٹرک کے قریب امدادی سامان ملا ہے اس کے علاوہ مختلف سماجی اور سیاسی تنظیموں کی طرف سے دی گئی امداد الگ ہے۔۔شہر میں چند مفاد پرست بھی ہیں۔۔چند لوگ تشہیر کے لئے امدامی اقم دے رہئ ہیں اور کئی نیک دل نام بتائے بغیر(ایک صاحب نے پانچ کروڑ کی رقم نام ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ دی)۔۔پرسوں اصل سے ذیادہ کرایہ مانگنے والے کئی ٹرک ڈرائیور حضرات کی پٹائی کی گئی۔۔معلوم ہوتا ہے ادویات اور دوسرے امدادی سامان کی قیمتیں بڑھانے والے افراد کا بھی یہ ہی حال کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔ساتھ ہی ایک شک دل میں آتا ہے کہ ہم جو یہ سامان جمع کر کے دے رہے ہیں نہ معلوم ان ضرورت مندوں تک پہنچ پائے گا کہ نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←
فرض؟

فرض؟

ان کی مدد ہمارا فرض ہے۔۔۔۔ یہ ہمارے ہیں۔۔۔۔ان کی مدد ہم پر قرض ہے۔۔۔اسے احسان نہ سمجھے۔۔۔۔ اپنا فرض ادا کرے۔۔۔ اس وقت تنقید کرنا درست نہیں۔۔۔۔۔ مدد کی نیت کرے سبب خود ہی بن جائے گا ۔۔۔اللہ ہماری مدد کرے۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
امتحان

امتحان

بالا کوٹ ، مانسھرہ ۔باغ،شمیت کئی شہر علاقے تباہ ہو گئے ہے اپنے ان بھائیوں کی مدد ہم پر لازم ہے ۔۔۔۔اللہ ہمیں ہمت اور حوصلہ دے ان کی مدد کا ۔۔۔ یہ امتحان ہے ہمارے حوصلے کا۔۔صبر کا ۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

دردآشنا

اس کے علاوہ اردو بلاگر کی یہ تحریریں بھی
یہاں جو بات قابل غور ہے ہر فرد زلزلے کے متاثرین کے لئے پریشان ہے نیز ان کی مدد کر رہا ہے جہاں تک اس سے ممکن ہو رہا ہے اور دوسروں کو اس کی نہ صرف تلقین کر رہا ہے بلکہ راستہ بھی بتا رہا ہے ۔۔۔۔۔ہم سب درد آشنا ہیں۔۔ہم سب اس مشکل کی گھڑی میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہیں۔۔۔اللہ ہماری مدد کرے اور رحم فرمائے۔۔۔آمین!۔
مکمل تحریر پڑھیں ←
زلزلہ

زلزلہ

آج صبح 8.50 پر پاکستان میں زلزلہ آیا ۔شدت 7.6 ۔۔سنا ہے 1000 سے ذیادہ اموات کا اندیشہ ہے۔۔۔۔ خدا رحم کرے۔۔زلزلہ کا مرکز اسلام آباد سے 60 میل شمال مشرق میں اور 6.2 میل گہرائی میں تھا۔۔۔ آپ احباب کیسے ہیں ۔۔جو اسلام آباد اور لاہور کے رہائشی ہیں یا وہ احباب جو اس زلزلے والے علاقے میں ہیں۔۔ ؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←

یہ کیا پوسٹ ہے؟؟؟؟

انٹر نیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمیت ٦٥-٦٦ ڈالر فی بیرل (میری اطلاع کے مطابق ممکن ہے درست نہ ہو) ہے اس کے ٹرانسپوٹیشن کے اخراجات ٣٠ سینٹ فی بیرل ہے۔۔چلے آپ دو ملا کر یوں کہہ لے کہ پاکستان کی سرحد پر آتے آتے خام مال ٦٧ ڈالے کا ایک بیرل پڑتا ہے۔۔۔ایک بیرل میں ٤٢ گیلنز ہو نے ہیں اور ٤٢ گیلن ١٥٩ لیٹر کے برابر ہے یو ایک لیٹر خام تیل پڑا کتنے کا پڑا ذرا حساب لگائے۔۔۔اس کی صفائی پر کتنا خرچہ ہو گا۔۔اس میں سے مٹی کا تیل ،ڈیزل ،گریس بھی پیڑول کے ساتھ نکلے گی۔۔۔ وہ بھی فروخت ہو گی ۔۔۔ پھر۔۔۔۔؟؟؟؟؟
×××××××××××××
اب ذرا ان لنک کا وزٹ کرے (اگر وقت ہو تو)۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

تجربہ

Shoiab Safdar LOVES Urdu Blogger
12012 3213 534 87
Love Level: 87%
Name 1: Name 2:
ہم ایک ہیں۔۔۔۔۔
How to make a Shoiab Safdar
Ingredients: 1 part intelligence 1 part courage 3 parts ego
Method: Layer ingredientes in a shot glass. Top it off with a sprinkle of caring and enjoy!
Username:
بس یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کوئی گانا کیسے بلاگ پر ڈالتے ہیں
مکمل تحریر پڑھیں ←

سن لو

لو جی میں پاس ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ جب فون پر یہ بات میں نے گھر پر بتائی تو بہن (چھوٹی) نے کہا “مجھے پتا تھا ہمارے ملک کا تعلیمی نظام خراب ہے مگر اتنا اس کا اندازہ نہیں تھا“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر ۔۔۔۔۔۔۔۔ وکالت اب دور نہیں۔۔۔۔۔۔ نوٹ؛ “نصیحت کرنے والے احباب جان لیں ہمارے پاس دوسرا کان اکثر بد ہضمی دور کرنے کے لئے ہے نصحیتیں“
مکمل تحریر پڑھیں ←

ماضی میں تبدیلی یا ترمیم

کیا تاریخ کے اوراق میں تبدیلی کیا ترمیم ممکن ہے؟ کیا ماضی کو بدلا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب نہایت سیدھا ہے نہیں ایسا ممکن نہیں ۔۔۔۔۔تو کیا اسے چھپانا ممکن ہے؟ اس سے پردہ پوشی ہوسکتی ہے؟ کیا اس سسلے میں کسی کو گمراہ کیا جاسکتا ہے؟ شائد انفرادی سطح پر تو ایسا ممکن ہو مگر اجتماعی سطح پر ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔بہت مشکل ہے۔۔۔ پھر بھی دیکھنے میں آیا ہے ایک ہی دور کے متعلق نیز کسی دور کے کسی حکمران کے متعلق مختلف قسم کی آراء پائی جاتی ہیں،ایک شخض ایک قوم کا ہیرو ہے تو دوسری کے لئے ولن ۔۔۔ ایک کا مسیحا تو دوسری کا قاتل کہلاتا ہے۔۔۔۔۔ایک کے لئے کچھ اور دوسری کا واسطے کچھ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلا صلاح الدین ایوبی اہل مسلم کے لئے ہیرو ہے مگر اہل لوئیہ کے نزدیک جنگجو۔۔۔جس نے انہیں شکست دی ۔۔۔ اسی طرح صلیبی جنگوں کے دوسرے سپہ سالار کا بھی یہ ہی عالم ہے۔۔۔ طارق بن ذیاد جس نے اسپین میں مسلم سلطنت کی بنیاد ڈالی اس کے کشی جلانے کے واقعہ کو مثال بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔کشتیاں جلانے والا محاورہ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے (مجھے تو یہ ہی پتا ہے)۔۔۔۔ اس فرد کو اہل مسلم اعلی حاکم اور مجاہد مانتے ہیں، مگر۔۔۔ اسپین کے ایک عجائب گھر کے باہر اس کے مجسمے کے نیچے یہ الفاط درج ہیں “ ایک جشی قزاق جس نے ٧١٣ء میں اسپین پر حملہ کرکے ایک جابرانہ حکومت کی بنیاد ڈالی جس نے کافی عرصہ تک ایل اسپین پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرائے“ (میں نے یہ پی ٹی وی کے نامہ نگار سرور منیر راؤ کے کالم میں پڑھا تھا) محمد بن قاسم جو ٧١٢ ء میں سندھ فتح کیا۔۔۔ ہندو تاریخ دان اسے بھی بحری قزاق کرار دیتے ہیں۔۔۔ حجاج بن یوسف (کوفہ کا گورنر) واقعی میں ایک سخت اور جابر حاکم بیان کیا جاتا ہے مگر ۔۔۔۔۔ غیر مسلم تاریخ دان اسے جنسی بے واہ روی کا شکار قرار دیتے ہیں مگر کسی مسلم تاریخ دان نے ایسا نہیں کہا نہ مانا۔۔۔ بلکہ قران پاک کا ایک اعلی قاری مانا جاتا ہے۔۔۔ مجھے کنفرم تو نہیں مگر ایک رائے یہ بھی ہے کہ قرآن پاک پر اعراب اس ہی کی رائے پر لگائے گئے تھے۔۔۔۔ اگر “بت شکن“ کہا جائے تو محمود غزنوی کاخیال آتا ہے۔۔ بھارت میں چھٹی جماعت کی کتاب High road of India میں اس کے کردار کو مکرو دکھایا گیا ہے۔۔۔۔ اکبر جس نے اپنے دور حکمرانی میں اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہندؤوں میں شادی کی ۔۔۔۔۔الگ مذہب کی بنیاد ڈالی ۔۔۔ اس بناء پر اسے “مغل اعظم“ کا لقب ملا۔۔۔ اعلی انصاف کی وجہ سے نہیں مسلم تاریخ دانوں کی رائے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب سے ٥٨ برس پہلے کہ بات ہو تو بھی تمام تاریخ دان کسی ایک بات پر متفق نہیں۔۔۔۔۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار لڑائیوں کی آٹھ کہانیاں ہیں ہر جنگ سے متعلق دونوں ملکوں کی اپنی اپنی رائے ہے۔۔۔۔اپنی اپنی کہانیاں۔۔ نائن الیون کے بعد سے اب تک خود دو مختلف گروہ تاریخ کو اپنے انداز میں لکھ کو بیان کر رہے ہیں۔۔۔ آج کا میڈیا بھی جانبدار آج کاتاریخ دان بھی۔۔۔ اب آپ بنائے کون سی تاریخ اہل مسلم سچ مانے۔۔۔۔۔ وہ جو مسلم تاریخ دانوں نے لکھی ۔۔۔۔ اور غیر مسلم نے اسے غلط ثابت نہیں کیا (یا کر سکے)۔۔۔ اور مان جائے کہ وہ ایک برا ماضی رکھتے ہیں۔۔۔۔ اور اپنی نئی نسل کو بھی یہ ہی بتائے؟؟؟ یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

پکوڑے

رمضان کی آمد آمد تھی مٹر اور آلو اور آلو مٹر کھا کھا کر افسر کی جان پر بنی ہوئی تھی۔ عام دنعں میں آلوؤں کے چپس بنا بنا کر چائے کے ساتھ پیش کر دیئے جاتے تو کس حد تک تنوع کا احساس ہوتا لیکن رمضان میں تو دن میں کھانا پینا بھی موقوف ہوتا ہے۔ سو پی ایم سی نے میس کے ارکان کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا کہ رمضان کے لئے مینو تیار کیا جا سکے۔ہم کافی پریشان ہوئے کہ میس میں آلو مٹر کے ڈبوں کے بعد صرف بہسب موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور صرف بیسن کے لئے ہوتے ہوئے کیا مینو تیار ہو سکے گا۔
اجلاس کی کاروائی شروع ہوئی ۔ارکان کی تعداد اس دن اتفاق سے نو تک جا پہنچی تھی، تفصیل سے اجلاس کی اہمیت بتائی گئی اور ان سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنی تجاویز اجلاس میں شرح صدر سے پیش کریں۔ ہم نے اجازت صدر یہ بات بھی گوش گزار کر دی کہ میس میں آلو اور مٹر کے ڈبع کے بعد صرف بیسن موجود ہے، تجاویز “میسر شدہ وسائل“ کی حدود میں ہوں۔
“بیسن سے کیا کچھ بنایا جاسکتا ہے“ ؟ وضاحت چاہی گئی۔
“پکوڑے“
“پکوڑے تو افطاری ہی میں ذیادہ لطف دیں گے اِس لیے انھیں افطاری ہی میں رکھا جائے“۔
“بجا“۔
“پہلے سات دنوں کا صرف افطارری کا مینو تیار کرلیا جائے“۔
“جیسا آپ چاہیں“۔
تو میس سیکرٹری آپ ہمیں افطاری میں کیا کچھ دے سکتے ہیں؟“۔
“جی پکوڑے“۔
“چلیں ایک دن تو پکوڑے ٹھیک ہیں۔ باقی دن ———؟“۔
“یہی سوچنے کے لئے اجلاس بلایا گیا ہے۔آپ تجاویز دیں“۔
“میس میں کیا کچھ موجود ہے؟“۔
“آلو اور مٹر“۔
“انہیں مارو گولی“۔ایک صاحب بھنائے۔
“ٹھیک ہے سر“۔
“اور کیا ہے؟“۔
“بیسن“۔
“بیسن سے کیا کچھ بن سکتا ہے؟“۔
“جی میرے علم کی حد تک تو پکوڑے بنائے جا سکتے ہیں“۔
“چلیں ایک دن تو طے ہو گیا لکھے اتوار کو پکوڑے“۔ایک صاحب نے اختلاف کیا“پکوڑے جمعرات کو کھائے جائیں اور معمولی بحث کے بعد یہ اختیار میص سیکر ٹری کو سونپ دیا گیا کہ جس دن وہ چاہیں پکوڑے بنالیا کریں۔چنانچہ ہم نے لکھا؛
مینو برائے افطار
پکوڑے برائے سوموار
“اچھا یہاں بازار میں کیا کچھ ملتا ہے؟“۔
“اول تو عصر کے بعد سے لوگ دکانیں بند کر کے اپنے اپنے گھر کو سدھار تے ہیں۔دوسرے ان کے ہاں کھانے کی اشیاء نہیں بکتیں۔ صرف ایک چھوٹی سی دوکان کھلی رہتی ہے۔ دیر سے آنے والے ڈرائیوروں کے لئے“۔
“ کیا کچھ ہوتا ہے اس کے پاس افطار کے لئے؟“۔
“جی پکوڑے“۔
وہ تو ہم میس میں بنا لیں گے“۔
“جی جی با لکل“۔
“کس دن رکھے گئے ہیں پکوڑے؟“۔
“جی سوموار کو“۔
“ویری ویل! میس میں اور کچھ نہیں مٹر آلو کے علاوہ“۔
“جی بیسن ہے نا“۔
“بیسن سے کیا کیا چیزیں بنتی ہیں“۔
“جی میں نے عرض کیا تھا نا ———- پکوڑے“۔
خاموشی کا ایک وقفہ۔
ویٹر کو آواز دی گئی۔ خانساماں کو طلب کیا گیا۔
یہ خانساماں مقامی باشندوں میں سے عارضی طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔ اصل خانساماں چھٹی پر تھا۔ وہ ہوتا تو شائد بیسن سے بہے کچھ بنا سکتا۔لیکن عارضی خانساماں اور پی ایم سی کے درمیان مذاکرات بری طرح ناکام ہو گئے۔سنیے ذرا؛
پی ایم سی اور خانساماں کے درمیان مذاکرات ، میس ممبران گوش بر آواز،
“تم افطار کے لئے کیا کیا کچھ بنا سکتے ہو؟“۔
“سب کچھ بنا سکتا ہوں سر جی“۔
“مثلا؟“۔
“سر جی ، ہر چیز بنا سکتا ہوں لیکن یہاں کوئی چیز ملتی ہی نہیں۔میس حوالدار پنڈی سے صرف ڈھائی من بیسن لایا ہے“۔
“بیسن سے تم کیا کیا چیزیں بنا سکتے ہو“۔
“سر جی پکوڑے“۔
“شٹ اپ“۔
اور پی ایم سی میٹنگ ادھوری چھوڑ کر چلے گئے۔
تحریر=کیپٹن اشفاق حسین اقتباس =جنٹل مین الحمدللہ
مکمل تحریر پڑھیں ←