قائد

فرینک مورس نے جو ایک ممتاز وکیل اور مصنف تھے عدالت کے کمرے میں قائد کے مقدمہ لڑنے کے بارے میں لکھا ہے کہ جب قائد مقدمے میں دلائل دے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت انہیں دیکھنے میں لطف آتا ہے۔ بہت کم وکلاء کو مقدمہ لڑنے میں وہ مہارت حاصل ہو گی جیسی قائد کو حاصل تھی۔ ان کا مقدمہ لڑنے کا انداز ایک آرٹ ک حیثیت رکھتا تھا۔ قائد مقدمے کا گوشت چھوڑ کر اس کی جڑ اس کے گودے تک پہنچتے تھے۔ انہیں مقدمہ پیش کرنے میں کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ وہ مقدمہ پیش کرنے اور لڑنے میں استادانہ مہارت رکھتے تھے۔ جب وہ کسی مقدمے میں پیش ہوتے تو ان کی ممتاز شخصیت اور پر کشش انداز کو دیکھنے کیلئے عدالت کا کمرہ چھوٹے بڑے وکلاء سے بھر جاتا تھا۔ سننے والوں پر، چاہے وہ جج ہوں یا وکیل ہوں عجیب سحر طاری ہو جاتا تھا۔ وہ نڈر ترین وکیل تھے اور کوئی بھی انہیں مرعوب نہیں سکتا تھا
بشکریہ۔۔۔ نوائے وقت








مکمل تحریر پڑھیں ←

ہم بھی خواب رکھتے ہیں

ہم بھی خواب رکھتے ہیں
نیم وار دریچوں میں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
جاگتی نگاہوں میں
ہم بھی چاہتے ہیں کہ
ہم بھی ایک دن آئیں
بس تیری پناہوں میں
دلنشین بانہوں میں
ہم بھی پیار کرتے ہیں
سے بے پناہ جاناں
اور اس محبت کا
اعتراف کرتے ہیں
روز تیرے کوچے کا
ہم طواف کرتے ہیں
ہم تو اس محبت میں
ایسا حال رکھتے ہیں
روز رنج لمحوں کو تم سے دور رکھتے ہیں
اور اپنے سر پر ہم
دکھ کی شال رکھتے ہیں
ہم تو یوں محبت کا
اہتمام کرتے ہیں
کرب زندگانی کو اپنے نام کرتے ہیں
تجھ کو خوش رکھیں گے کیسے
یہ خیال رکھتے ہیں
بس تیری محبت کے
ماہ سال رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں








مکمل تحریر پڑھیں ←

دو باتیں

میں نے کمرے میں پڑی چیزوں کو ایک نظر دیکھا اور اندازہ لگانے لگا کہ جب میں سیٹھ کو سچ بتاؤں گا تو وہ میرے سر پر گلدان مارے گا یا گلاس۔۔۔۔!!! اگر گلدان مارا پھر تو ٹھیک ہے ، لیکن اگر گلاس مارہ تو دو باتیں ہوں گی، یا تو میرا سر پھٹ جائے گا ،یا گلاس ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔ اگر گلاس ٹوٹ گیا ، پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر میرا سر پھٹ گیا تو دو باتیں ہوگی۔۔۔۔ یا تو میں مر جاؤں گا ،یا مزید زخمی ہو جاؤں گا اور بے ہوش ہو جاؤں گا- اگر بے ہوش ہو گیا پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر مر گیا تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔۔ یا تو سیٹھ میری لاش گھر والوں کے حوالے کر دے گا، یا جنگل میں پھینکوا دے گا۔۔۔۔۔۔۔اگر گھر والوں کے حوالے کردی تو ٹھیک ہے لیکن اگر جنگل میں پھننکوا دی تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔ یا تو مجھے گدھ چاٹ جائیں گے یا کمیٹی والے اٹھا کر لے جائیں گے۔۔۔۔۔۔ گدھ چاٹ گئے ، پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر کمیٹی والے لے گئے تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔۔۔ یا وہ مجھے دفنا دیں گے، یا میرا کیمیکل بنا دیں گے۔۔۔ دفنا دیا تو ٹھیک ہے لیکن اگر کیمیکل بنا دیا تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔ یا تو مجھے کسی تیزاب میں استعمال کیا جائے گا۔۔۔۔یا صابن میں۔۔۔ تیزاب میں استعمال کیا پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اگر صابن میں استعمال کیا تو دو باتیں ہوں گی یا یہ صابن مرد استعمال کریں گے ۔۔۔۔۔ یا عورتیں۔۔۔۔ اگر مردوں نے استعمال کیا پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ لیکن اگر۔۔۔۔۔۔ اوئی اللہ ۔۔۔۔ میں شرم سے سرخ ہو گیا۔۔۔۔۔ “ہرگز نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔“ میں نے جلدی سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
اقتباس؛ “ٹائیں ٹائیں فش“_______________تحریر؛“گل نو خیز اختر
مکمل تحریر پڑھیں ←

جھولی بھر کے ذلت

پچھلے کچھ دنوں سے اخبار کا مطالعہ والے احباب کو علم ہو گا کہ کراچی بار میں الیکشن تھے۔۔۔ جن میں کچھ حد تک وہ ہی سیاسی رنگ نظر آیا جو ہماری سیاست کا روپ ہے ، لڑائی ۔۔جھگڑا۔۔۔ الزام۔۔۔ اور اور۔۔۔ قانونی بندے غیر قانونی حرکتیں۔۔۔ الیکشن والے دن جھگڑا بلکہ جھگڑے ٹھیک ٹھاک ہوئے۔۔۔ کئی بار (چار سے چھ بار) الیکشن روکنا پڑا۔۔۔۔ الیکشن میں ایک امیدوار کے ساتھ ہم بھی تھے (مگر مجال ہے جو کوئی غلط کام کیا ہو)۔۔۔ وہ تھے میرے سینئر(جنرل سیکریٹری کے لئے)۔۔۔ مگر جو آج ہوا وہ تو آخیر تھا۔۔۔۔ کراچی میں وکلاء کی تعداد ہے تیرہ ہزار۔۔۔ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں چھ ہزار۔۔۔۔ الیکشن میں ووٹ ڈالے گئے اٹھائیس سو۔۔۔۔ ان میں میرا ووٹ نہیں تھا کیوں؟؟؟؟؟۔۔۔ جناب ابھی انرولمنٹ نہیں ہوئی نا!!!!! ۔۔۔۔۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی آج کیا ہوا۔۔۔ آج یہ ہوا کہ کل دس یا بارہ وہ امیدوار جنہیں اپنے ہارے جانے کی پوری امید تھی وار (جھگڑے) پر اتر آئے۔۔۔۔ اور انہوں نے تمام بیلٹ پیپر کو پھاڑ دیا جس کمرے میں پیپر تھا اسے توڑ دیا۔۔۔ دس افراد نے کیا کیا۔۔۔ اٹھائس سو ووٹ کو ۔۔ افراد کی رائے کو۔۔۔ کچھ نہ جانا۔۔۔۔ مگر بدنامی ہوئی تمام وکلاء کی۔۔۔۔۔۔ اخباری رپوٹرز آئے۔۔۔ تصاویر لیں ۔۔۔ خبر حاصل کی اور چلے گئے۔۔۔ جنگ اخبار کے رپوٹر ( وہ میرے ہم نام ہی تھے) نے خبر حاصل کی ۔۔ جانے جانے کہنے لگا “ ایک بات کہتا ہو بری تو لگے گی، آپ لوگ کریم آف دی سوسائٹی ہیں مگر ساتھ آپ سے اچھے الیکشن تو مراثیوں کے ہوئے ہیں“ (آرٹ کونسل کے الیکشن کی طرف اشارہ)۔۔۔۔ اپنا حصہ جھولی بھر کے ذلت۔۔۔۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

الفاظ

جی چند الفاظ ہمارے اخبارات والے استعمال کرتے ہیں ان سے مجھے اختلاف ہے۔۔۔۔ جیسے “قوم پرست“ جماعت۔۔۔۔۔ اب یہ لفظ ان سیاسی جماعتوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو ملک میں عصبیت کو فروغ دیتی ہیں۔۔۔۔ جو ایک قوم کو تقسیم کر کے کئی قوموں میں منقسم کرنے کی کاوش میں لگی ہوئی ہیں۔۔۔ “کلعدم جہادی تنظیم“۔۔۔۔ کیا وہ جہادی تنظیم ہے ؟؟؟ اگر ہاں تو اسے کلعدم نہ کہا جائے اگر وہ جہادی نہیں تو اسے کلعدم تنظیم کہا جائے یا یہ بھی نہیں تو کم از کم اسے نام نہاد جہادی تنظیم لکھا جائے یعنی صرف نام کی جہادی ورنہ دہشت گرد۔۔۔ آپ کی نظر میں کوئی لفظ؟؟؟؟؟؟
مکمل تحریر پڑھیں ←