آنکھوں کا تارا

اس کی دہائی میں ایک شخض پورے مغرب اور امریکہ کی آنکھوں کا تارا تھا۔ وہ ایک ایسے ملک کا سربراہ تھا جس کے ساتھ وہ گزشتتہ تین دہائیوں سے سرد جنگ لڑ رہے تھے۔ اس ملک کے نظام کو وہ لوگ مغرب کے لائف سٹائل کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ تصور کرتے تھے۔
ہالی ووڈ ان کے بارے میں جیمز بانڈ فلمیں بنا کر ڈائجسٹوں میں لطیفے چھپوا کر اور آزادی رائے اور اظہار پر پابندی کی کہانیاں بیان کرکے اس ملک کو پوری دنیا میں بدنام کیا گیا۔ یہ ملک دوسری بڑی عالمی طاقت تھا اور دنیا بھر میں کیمونسٹ تحریکوں کا سرپرست جسے لوگ عرف عام میں سوویت یونین کہا کرتے تھے۔ اس ملک پر مارچ 1985 میں مغرب کا یاک منظور نظر برسر اقتدار آ گیا۔ گورباچوف جو 1931 میں ایک کسان کے گھر میں پیدا ہوا۔ اس کے آباؤاجداد امیر زمیندار تھے لیکن کیمونسٹ انقلاب کے بعد عام انسانوں کی صف میں آ کھڑے ہوئے۔ گورباچوف زندگی بھر مزدور رہنما اور کیمونسٹ خیالات کی ترویج اور سیاسی سرگرمیوں میں مگن رہا۔ اکیس سال کی عمر سے لیکر ملک کا سربراہ بننے تک اس کی زندگی سیاسی زمینے چڑھتی نظر آتی ہے، اس دوران اس نے مغرب کے بے شمار دورے کئے اور ان حکمرانوں سے اس کے تعلقات دوستانہ سطح پر آ گئے۔
لیکن اس آنکھوں کے تارے کے کے اقتدار میں آنے کی کہانی کا پندرہ سال پہلے آغاز ہوتا ہے۔ 1970 سے لیکر 1985 تک امریکی سی آئی اے ہر چھ ماہ بعد ایک معاشی سروے جاری کرتی جس میں سوویت معیشت کو تباہ حال، اس کے حکمرانوں کی کریشن اور اس کے معاشرے کی بد حالی کا تذکرہ ہوتا اور پھر یہ رپوٹیں کھی کسی تجزیہ کار اور کبھی کسی دوسرے کے نام سے دنیا بھر کے اخباروں، رسالوں اور ٹی وی چینلوں پر جاری ہو جاتیں۔ یہ تمام رپوٹیں جو ایک خاص مقصد سے مرتب ہوتی تھیں اور آج ان “کلاسیفائیڈ“ مواد کے طور پر میسر ہیں۔ یہ سب اس زمانے میں کیا جارہا تھا جب روس ایک عالمی طاقت کی حیثیت رکھتا تھا۔
لیکن 1985 میں گورباچوف کے برسراقتدار آتے ہی ان سب لکھنے والوں کے انداز تحریر ایسے بدلے کہ اس روس کو ابھرتی ہوئی مضبوط معیشتوں میں شمار کیا جانے لگا۔ اس معیشت کو روشن اور مستحکم اور عوامی فلاح سے مزین کیا جاتا تھا۔ جب اس طرح دادو تحسین کے ڈونگرے برسائے جارہے تھے اس وقت امریکہ اور مغرب کا یہ منظور نظر اپنے مضبوط اور مستحکم ملک کے ساتھ ایک اور کھیل کھیل رہا تھا۔ برسراقتدار آتے ہی اس نے کہا کہ میں اس جامد اور غیر متحرک معیشت کو مضبوط بناؤں گا اور اس نے ملک کی 75 سالہ تاریخ میں نیا نعرہ دہا “پیراسڑائیکا“ میڈیا کو آزادی دی تاکہ لوگوں کا غبار نکلے۔ ایک ایسے طنقے کو جنم دیا جس کے کاروبار، گاڑیوں اور تعیش کو دیکھ کر لوگوں کو غصہ آنے لگا۔ مغرب ان تمام تبدیلیوں کو خوش آمدید کہہ رہا تھا۔
امریکی صدر رونالڈریکن نے کہا وہ میرا بھائی ہے۔ برطانیہ کی مارگریٹ تھیچر نے کہا میں اس سی متاثر ہوں، جرمنی کے بلمٹ کوبل نے اسے اپنا محسن قراردیا اور یوں اس معیشت سے نکل کر سیاسی تبدیلیوں کا نعرہ بلند کیا اور اسے گلاس نوسٹ کا نام دیا۔ اس نے اپنے تمام محاذوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا جو مغرب کے ساتھ سالوں سے موجود تھے۔ اسے موجودہ تاریخ کا اسب سے بڑا یو ٹرن کہا جاتا ہے۔
1988 میں اسے ٹائم میگزین کے کور پر مین آف دی ایئر کا اعزاز ملا لیکن اس وقت جب اس کی معاشی اور سیاسی پالیسیوں کی دھوم دنیا بھر میں مچی ہوئی تھی۔ روس کا خسارہ صفر سے 109 بلین روبل، سونے کے ذخائر2000 ٹن سے دوسو ٹن اور بیرونی قرضے صفر سے 120 بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ صرف پانچ سالوں میں خودکفیل روس چینی کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوا اور پھر گوشت اور روٹی یعنی گندم بھی لوگوں کی دسترس سے دور ہو گئی۔  یوٹیلیٹی سٹوروں کی طرح ذرا سستے سٹور بنائے گئے لیکن آخر بات جنگ کے زمانے کی طرح راشن کاڈو پر آ پہنچی اور لوگ لمبی لمبی لائنوں میں لگ کر خوراک حاصل کرنے لگے۔
ادھر اسی مغرب کے ممالک جن کی آنکھوں کا وہ تارا تھا اس کے ملک میں علیحدگی کی تحریکوں کی حمایت کرنے لگے۔ بھوک، افلاس اور غربت نے حکومت کا اعتماد ختم کردیا اور سیاسی بد امنی علیحدگی کو ہوا دی۔ اس کا پیراسٹرائیکا اور گلاس نوسٹ کسی کو تو متحد نہ کرسکا یہاں تک کہ ایک ایک کر کے سب علیحدہ ہوتے گئے اور جب آخر میں بالٹک ریاستوں کو اس نے زبردستی اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کی تو پورا مغرب جو اس کا حلیف تھا اس کے مدمقابل آ کھڑا ہوا۔
صرف سات سال کے عرصے میں ایک عالمی طاقت ستر سال سے مغرب کا سب سے بڑا دشمن سوویت روس بدنام ترین شکستوں ذہنوں اور رسوائیوں کے ساتھ بکھر گیا۔
حیرت ہے کہ جب وہ اپنی کتاب پیراسٹرائیکا شائع کر رہا تھا تو پوری مغربی دنیا اسی ترجمہ کر رہی تھی خرید رہی تھی۔ اسے عالمی خبروں کا موضوع بنایا ہواتھا۔ اسے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا اور آج نہ اس کا ذکر کئی ملتا ہے اورع نہ اس کی کتابیں کسی بک اسٹال پر میسر ہیں البتہ کسی ریسرچ میگزین میں کوئی تحقیقی رپورٹ آجاتی ہے کہ سی آئی اے نے کتنی محنت کے ساتھ ایک شخض کو تیار کیا اسے اپنے ہی اندر ایک سپر مین کا غرور دیا، اسے غلط تبصروں سے گمراہ کیا اور اس کو ایسے خیالات دیئے جو ملک توڑ سکتے تھے لیکن وہ اسے نیک نیتی کے ساتھ ملکی مفاد میں نافذ کرتا گیا۔ سی آئی اے کا یہ اتنا بڑا اور کامیاب تجربہ ہے جس کی گونج بھی اگر کسی ملک میں سنائی دے یا تاثر بھی ملے تو اس ملک سے محبت کرنے والے گھبرا جاتے، ڈر جاتے ہیں، انہیں خوف سے راتوں کو نیند نہیں آتی۔


تحریر؛ اوریا مقبول جان

مکمل تحریر پڑھیں ←
سو افراد اور دو حملے

سو افراد اور دو حملے

باجوڑ پر اب تک امریکہ دو بار حملہ کر چکا ہے!!! سو افراد اس میں شہید (جس کا دل کرے وہ ہلاک پڑھ لے) ہوئے!!! سارے پاکستانی تھے!! سارے کلمہ گو!!! دونوں مرتبہ پریڈیٹر جہاز میزائل مار گیا!!! ہم دیکھتے رہ گئے!!! یوں بھی نہیں بلکہ لوگ ہمیں دیکھتے رہ گئے!! یہ کیا کر رہے ہیں کہ کچھ بھی نہیں کر رہے!!! پہلا حملہ اسی سال جنوری میں!!! جس نے 17 افراد کی جان لی!!! اس حملہ پر شوکت سلطان پہلے تو یہ ہی معلوم کرتے رہے کہ یہ کیا ہوا!!!!  کہتے تھے کچھ تو ہوا ہے کیا یہ معلوم نہیں؟؟؟ پھر جو ہوا تھا اس پر احتجاج کرنا پڑ گیا!!! کہ جن پر دباؤ ہے ان کا دباؤ تھا بھائی عوام!!! ادھر سے جواب آیا (سینیٹر جان مکین  اور کنڈولیزا رائس کی زبانی) کہ بھائی!!! بلکہ بھائی نہیں کہا تھا اتحادی کہا ہو گا!!! معافی کے طالب ہیں مگر ایسا پھر ہوسکتا ہے!!!! اور پھر ہو گیا!!!
30 اکتوبر کو دوسرا حملہ ہوا!! علاقے کے لوگ بتاتے ہیں کہ پہلے دھماکے ہوئے پھر ہیلی کاپٹر پہنچے !!!بتانے والے بتاتے ہیں امریکی جہاز کافی دنوں سے علاقے کی پرواز کر رہے تھے!!! کیوں؟؟ کس کی اجازت سے؟؟؟ کیا حکومت نے اجازت دی تھی؟؟ اگر دی تھی تو کیوں؟؟؟ بین الاقوامی فضائی حدود کے قوانین کے مطابق تو سول جہاز بھی کسی ریاست کی اجازت کے بغیر اس کی فضائی حدود میں داخل نہیں ہو سکتا!!! پھر یہ جاسوس طیارے کیسے آتے جاتے رہے؟؟؟؟
سلطان صاحب کہتے ہیں کہ حملہ ہوا نہیں ہے ہم نے بندے (دہشت گرد) مارے ہیں!!! چلو مان لو وہ جو  کم عمر تھے!!! وہ جو جن کی اکثریت پاکستانی قانون کے لحاظ سے ابھی نا بالغ تھی!! کہ 17 سال سے کم عمر تھے!!! جن کے سینوں میں قرآنی آیات اور زبان پر قال قال رسول اللہ تھا!!! وہ جن کی راتیں اللہ کی یاد میں گزرتی تھی!! وہ جو تہجد گزار تھے!! وہ جن کی موت کے بعد بھی ان کے اسکول (مدرسے) سے اس کے جسم کے ٹکڑوں اور درسی کتابوں (وہ بھی جو قرآن پاک ، حدیث و فقہ پر مشتمل تھی) کے علاوہ کچھ نہیں ملا!!! وہ جن پر پچھلے  چار ماہ (جولائی) سے نظر رکھے جانے کا دعویٰ کیا پھر بھی ایک دھندلی سی بچوں کی پی ٹی کی ویڈیو کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں پیش کیا جا سکا!!! وہ دہشت گرد ہی ہوں گے!!! کہ اگر آپ انکاری ہوئے تو بقول اپنے صدر اعلٰی مقام کے آپ جاہل و جھوٹے ہو!!! اور ایسا تو آپ نہیں چاہو گے کہ انہیں معصوم اور بچہ کہہ کر خواہ مخواہ جھوٹے بن جاؤ!!!! چوں کہ وہ دہشت گرد تھے لہذا ان کے تین ساتھی جو بچ گئے تھے ان کا سرکاری علاج بھی نہیں کیا گیا کہ کون دہشت گردوں کا ساتھی بنے!!!
ہمارے ایک دوست کہنے لگے یار جنوری کے حملے پر احتجاج کا جب کوئی فائدہ نہیں ہوا تو بہتر یہ معلوم ہوا کہ اس سے پہلے کہ ریاستی اقتداراعلٰی کا سوال اٹھے یار لوگ اسے ملکی خودمختاری اور آزادی کے بارے میں استفسار کریں!!! حکومت نے اسے اپنا کارنامہ بتادے!!!! جو مر گئے اب وہ تو نہیں بتانے والے کہ وہ گناہ گار تھے کہ نہیں!!!
چند نقاد کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ یہ کام امریکہ کا یوں بھی ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستانی فوج و حکومت  کا قبائلی علاقوں میں دینی گروہوں سے کوئی وزیرستان کی طرز کا معاہدہ ہو!!! جب سرحد کے گورنر جنرل اورک زئی کی کوشش سے ایسا معاہدہ ہونے جا رہا تھا!!! جب سرکاری اور قبائلی سطح پر اس کی قریب تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھی 29 اکتوبر کے اخبار اس بات کے گواہ ہیں کہ اگلے دن اس پر دونوں کی جانب سے  دستخط ہونے تھے!!! تو اتحادی دشمن نے وہاں پر میزائل داغ دیا!!! سوال کرنے والے سوال کرتے ہیں کہ اگر حکومت کو کیا ضرورت تھی کہ وہ ایسے ہونے والے معاہدہ کو خراب کرتی جس طرز کے ایک معاہدہ کی وکالت وہ نیویارک تک کر آئی!!! یہ ان ہی کا کام ہے جن کی نظروں میں پہلا والا معاہدہ قابل اعتراض ہے!!!`````---```
قصوری صاحب کا اب یہ بیان کہ اگر ہم خود اگر ملک میں کاروائی نہیں کریں گے تو امریکہ خود کرلے گا حکمران ٹولے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے!!! افسوس صد افسوس!!!!
tag

مکمل تحریر پڑھیں ←

No Dates, No Dancing

ٹائم میگزین کا پنجاب یونیورسٹی پروہ مضمون جس پر پاکستان کے اکثر کالم نگار اور تجزیہ نگار ناراض نطر آ رہے ہیں!!!!اس مضمون پر آپ کی کیا رائے ہے؟؟؟؟؟
ذاتی طور پر میں کسی بھی سیاسی یا مذہبی گروہ کے تعلیمی اداروں میں وجود کا مخالف ہوں!!!!

,,,,,,,,,
مکمل تحریر پڑھیں ←

ایک ماہ کے مسلمان


رمضان ختم! روزے ختم! میرے جیسوں کے تو فاقے ہی تھے لہذا فاقوں کے سلسلے کا خاتمہ ہوا!!! بھوک پیاس ہی برداشت کی عمل تو وہ ہی پرانے والے تھے سارے کے سارے!! حلال اشیاء کھانے کی حد تک ہی ایک خاص مدت کےلئے حرام ہوتی تھیں!!! مگر باقی کئی حرام کام حلال کاموں کی طرح ہی جاری رہے!!! جیسے ایک دن کورٹ\دفتر جاتے ہوئے کانوں سے ہیڈفون لگائے کانے سن رہا تھا، ایک بزرگ نے منع کیا کہ بیٹا گانے سننا اسلام میں ویسے ہی منع ہے پھر روزے کی حالت میں تو خاص احتیاط کرنی چاہئے!!! کہا آپ درست فرماتے ہیں!!! اور کانوں سے ہیڈفون اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیا!!! پانچ منٹ بعد ہم پھر ایف ایم سن رہے تھے!! انہوں نے ہمیں دیکھا مگر خاموش رہے!!! رات کو خود احتسابی کے وقت افسوس ہوا کہ وہ بزرگ کیا سوچ رہے ہو گے!!! کیسا بندہ ہے!! مگر اگلے دن ہم پھر ایف ایم سن رہے تھے!!! ایسا میرے ساتھ صرف موسیقی کی حد تک ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی معاملات میں ہوتا ہے رمضان میں!!! اب یہ حال ہے کہ معلوم ہے کہ یہ غلط کام ہے پھر بھی کر رہے ہیں!!! جس قدر غلط آدمی ہیں ہم !!! خدا رحم کرے!!!!
اس ماہ کئی افراد عملاَ بھی مسلمان ہوئے اور کئی زبانی جمع خرچ کرتے رہے میری طرح!!! شہر میں افطار پاڑٹیاں بھی کافی ہوئیں آخری عشرے میں تو دو دو جگہ سے دعوتیں موصول ہو رہیں تھیں!!! سمجھ نہ آتا تھا کہ کہاں جائیں کہاں نہ جائیں!! افطار پارٹی کا ایک فائدہ ہے کہ پرانے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے!! افطار پارٹی میں شرکت کرنے والوں میں کئی احباب ایسے بھی تھے جو سارا دن افطار کرتے رہتے تھے اور شام کو صرف پارٹی اٹینڈ کرنے آ جاتے!!! ان کی خوش خوراکی معاملے کی وضاحت کر دیتی تھی!!!
اکثر نیک لوگوں نے روزے داروں کی افطاری کا انتظام راستے میں ہی کررکھا ہوتا تھا کہ جو لوگ گھر نہ پہنچ پائیں وہ وہاں ہی رُک کر روزہ افطار کرلیں!!! کچھ حقیقت میں مجبوراَ وہاں روزہ افطار کرتے اور بعض نیتَ وہاں پہنچ جاتے تھے!!! اعمال کا دارومدار نیت پر ہے!! خیر سڑک کے کنارے ایسا افطاری کا انتظام ایک مسلم معاشرے ہی میں ممکن ہے!!!
رمضان میں اللہ کے گھر میں حاضری دینے والوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ،مساجد میں نمازیوں کی تعداد دوگنی سے بھی ذیادہ ہو گئی!!!! بلکہ علاقے کی مسجد کے مولوی صاحب تو تلقین کرنے لگے کہ بھائی رمضان کے علاوہ بھی مسجد میں حاضری قائم رکھی جائے!!! تراویح کا معاملے میں البتہ گھر سے مسجد کے لئے نکلنے والوں کی تعداد مسجد میں حاضر ہونے والوں کے مقابلے میں ذیادہ ہوتی تھی!!!! باقی مسجد سے باہر ہوتے!!!
امید ہے کہ آج ساحلی علاقوں میں چاند نطر آجائے گا!! لہذا کل یہاں پاکستان میں عید ہو!!! ممکن ہے کہ جس لمحے آپ یہ پڑھ رہے ہو عید کا اعلان ہو چکا ہو!!! ویسے پاکستان میں کئی مقامات پر بھی آج عید منائی گئی اور عید کے اجتمات میں ملی یکجہتی کو فروغ دینے کا درس دیا گیا!!! ملت یکجا ہو کر عید تو مناتی نہیں ملی یکجہتی کیسے فروغ پائے؟؟؟؟
پاکستان میں تین دن کی سرکاری چھٹی دی گئی ہے!!! پیر، منگل اور بدھ!!! پیر کی چھٹی کس تُک میں دی گئی یہ بات سمجھ سے بالا ہے!!! فرض کیا کہ آج چاند نظر نہیں آتا تو عید کے دوسرے دن کام پر جانا کیسا لگے گا؟؟؟؟
خیر عید مبارک ہو !!! وہ بھی بہت بہت!!!!! اور عیدی!!! یار !! چھڈ اوے!!! نہ منگ یار!!!!

اپ ڈیٹ؛- عید بدھ کو ہے!!! اور جمعرات کو بھی چھٹی!!! کیا بات ہے بھائی!
مکمل تحریر پڑھیں ←

لطیفہ

یہ لطیفہ چند دن پہلے ایک کالم میں پڑھا تھا!!!!!
ایک بازار سے ایک سرکاری افسر کا گزر ہوا، اس نے وہاں موجود ایک لڑکی پر آواز کَسی!!! لڑکی کا بھائی وہاں موجود تھا اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اس افسر کو مارنا شروع کردیا!!! لڑکی کا باپ وہاں سے گزرا اسے اصل بات کا علم ہوا تو اس نے بھی بیٹے کا ساتھ دیا!!! لڑکی کا منگیتر بھی اتفاق سے آ پہنچا!!! حالات کا علم ہوا تو وہ بھی افسر کو پیٹنے لگا!!! اہل بازار بھی کچھ دیر بعد افسر کو مارنے والوں میں شامل ہو گئے!
اب افسر کی مدد کو تھانیدار بمعہ سپاہیوں کو آگیا!! افسر صاحب کو ان سے بچا لیا گیا!!! اور تمام لوگوں کو ایک قطار نے کھڑا کردیا گیا!!!
سرکاری افسر نے لڑکی کے بھائی سے سوال کیا “تم نے کیوں مارا مجھے“
اس نے بتایا کہ میں لڑکی کا بھائی ہو، باپ سے پوچھا تو اس نے بتایا کی میں لڑکی کا باپ ہو!!! منگیتر کا جواب بھی یہ ہی تھا کہ لڑکی کا منگیتر ہونے کی وجہ سے میری غیرت نے مجھے مجبور کیا!!!!
اس کے بعد سرکاری افسر نے باقی لوگوں سے پوچھا تو ان کا جواب تھا!!
ہم سمجھے کہ حکومت چلی گئی ہے

مکمل تحریر پڑھیں ←

اسلامُ گیمنگ

اس خبر کے بارے میں آپ کی رائے!!!! کیا ہے!!! ایران و امریکہ!!! سیاسی جنگ !!!! اور ایک ویڈیو گیم!!!!کیا یہ واقعی مسلمانوں کا ویڈیو گیم ہو گا؟؟؟؟؟

مکمل تحریر پڑھیں ←