رات کے گپ اندھیرے میں

میں نے رونا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
چاند کو تکنا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
وہ جو ایک عادت تھی میری
تارو سے باتیں کرنے کی
چپکے چپکے بھیگی بھیگی
پلکوں سے موتی چونے کی
گھنٹوں گھنٹوں لیٹے لیٹے
گھڑی کی ٹک ٹک سننے کی
یہ کرنے کی وہ کرنے کی
جانے کتنے سال پرانی
وہ جو ایک عادت تھی میری
خود سے لڑتے رہنے کی
اپنے لئے نظمیں کہہ کہہ کر
دیواروں پر لکھنے کی
یہ بھی کرنا چھوڑ دیا تھا
رات کے گپ اندھیرے میں
کچھ دن گزرے
وہ پرانی عادت مجھ میں
پھر سے لوٹ آئی ہے
میں پھر سے باتیں کرنے لگی ہو
بھیگے موتی چننے لگی ہو
پھر سے خود سے لڑنے لگی ہو
پھر سے نظمیں لکھنے لگی ہو
پھر اس بار ایک عجب سا سناٹا چھایا ہے
اب میں خود سے ڈرنے لگی ہو
رات کے گپ اندھیرے میں
مکمل تحریر پڑھیں ←

تازہ ُتک بندی

چراغ کے بجھ جانے سے
اجالے سمٹ جانے سے
اندھیرا پھیل جانے سے
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

غم کے دلدل میں
آنسوں کے بھنور میں
سسکیوں کے جھرمٹ میں
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

بھیڑ کے چھٹ جانے پر
اپنوں کے بچھڑ جانے پر
تنہا رہ جانے پر
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

مگر درد سے نا آشنائی ہو
اندر بے حسی کی پرچھائی ہو
سانس تو چلتی رہتی ہے
موت تب بھی نہیں آتی
پر زندگی زندگی نہیں رہتی









مکمل تحریر پڑھیں ←

آخری رابطہ

ہائے!! یہ میرا تم سے آخری رابطہ ہے، تمھارا میرا ساتھ خوب رہا! اس ساتھ میں کئی خوشی کے لمحے بھی آئے اور دکھوں کے پل بھی، مگر ہمارا آپس کا تعلق قائم رہا، اب تم سے دوری کا وقت آ گیا ہے،ہاں!میں تم سے دور جا رہا ہوں! مجھے نہیں معلوم تم خوش ہو یا غمگین، میں اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوں! اگلے چند لمحوں میں مر جاؤ گا!میرے مرتے ہی ہمارے درمیان موجود رشتہ ٹوٹ جائے گا، تمہاری کوئی کوشش مجھے مزید زندگی نہیں دے سکتی، لمبے ساتھ کے بعد ایک پل کی مہلت کیا معنٰی رکھتی ہے؟ میری عمر ہی اتنی تھی ! یہ میں جانتا تھا، مجھے معلوم ہے کہ میرے جاتے ہی تم مجھے بھول جاؤ گے!!!! اس لئے میں تم سے یہ نہیں کہوں گا کہ تم مجھے یاد رکھنا! میرا جانا تمہیں یہ سمجھانے کہ لئے کافی ہے کہ ہر شے فانی ہے!!! میں بھی اور تم بھی!! فقط تمہارا سال دو ہزار پانچ ×××××××××××××× آج میں نے دوست سے کہا “بھائی نئے سال کی پیشگی مبارک“ جواب آیا “خیر مبارک!! ویسے میں مسلمان ہوں، میرے نئے سال کا آغاز ابھی نہیں ہوا“ لہذا اگر آپ ایسا نہیں سوچتے (یا سمجھتے) تو “نیا سال مبارک ہو آپ کو“
مکمل تحریر پڑھیں ←
گڑیا

گڑیا


جی!!! گڑیا ۔۔۔۔ ویسے تو یہ نک نیم (کہنے کو پیار کا لیکن اصل میں بگڑا ہوا) اکثر گھروں میں کسی نا کسی بچی کا ہوتا ہے ۔۔۔ مگر یہاں اس سے مراد وہ گڑیا ہے جو بچیوں کا کھلونا ہے۔۔۔۔ پہلے پہل ہمارے یہاں مائیں خود سے اپنی بچیوں کو گڑیا بنا کر دیا کرتی تھیں۔۔۔ چونکہ وہ ہی اس گڑیا کی خالق تھی لہذا وہ ہی اس کے متعلق کہانیاں بتاتی۔۔۔ “اس گڑیا کو وہ بچیاں اچھی نہیں لگتی جو بڑوں کا کہنا نہیں مانتی“ ، “ارے! بڑی بہن سے بدتمیزی کرنے والوں سے یہ گڑیا ناراض ہو جاتی ہے“ ، “دیکھو! رات ہو گئی ہے گڑیا کو نیند آ گئی ہو گی تم دونوں اب سو جاؤ تمہاری وجہ سے گڑیا بھی نہیں سوئے گی اور وہ بھی بیمار ہو جائے گی“۔۔۔۔ یوں جو گڑیا بچی کے لئے ایک کھلونا ہے تو ماں کے لئے بچی کی تربیت کا ذریعہ۔۔۔۔ خواہاں کوئی بات ہو گڑیا کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کر کے تربیت کا ذریعہ تھی۔۔۔ بیمار گڑیا کی تیمارداری، اچھی گڑیا کی نشانیاں،اس کے لئے کپڑے تیار کرنے اور آخر میں اس کی شادی اور رخصتی ۔۔۔۔ بات سمجھانے کے طریقے۔۔۔۔
پھر گڑیا گھر میں تیار ہونے کے بجائے بازار سے آنے لگی۔۔۔ نئی نسل کے لئے نئی طرح کی گڑیا! ۔۔۔ جو باتیں کرنے لگی ،لیٹتے ہی آنکھ بند کر لیتی، بغیر سہارے کے کھڑی ہوتی ،بیٹھ جاتی، گانے سناتی، ہنستی، روتی غرض ہر طرح کے کام کرنے لگی۔۔۔۔ پھر ایک گڑیا آئی باربی ڈول! ۔۔۔ آئی اور چھا گئی۔۔۔ اب کوئی عام گڑیا نہیں چاہیے اب باربی چاہئے۔۔۔ اس کا گھر،لباس،اس کی ضرورت کی اشیاء خود سے بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ دکان سے خرید لیں۔۔ اس کی دوست بھی ہیں اور اس کا دوست بھی(کین)۔۔۔
چونکہ یہ یورپین گڑیا تھی لہذا اسے علاقائی کہانیاں منسوب نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ اس کا حلیہ مغربی تھا! لازما غیر اسلامی بھی۔۔۔ لہذا اسلامی گڑیا تخلیق کی جانے کی کوشش کی جانے لگی! کبھی سارہ کے نام سے، کبھی لیٰلی کے نام سے اور کبھی کسی اور نام سے۔۔۔
فلا وہ گڑیا ہے جس نے باربی کو مشرقی وسطیٰ نکال باہر کیا ہے۔۔۔ ساڑھے گیارہ انچ کی اس گڑیا کی جو خوبی سب کو اچھی لگی ہے وہ یہ کہ یہ گھر سے باہر سر پر اسکاف باندھے ہوئے ہے، ایک لمبا لبادہ لے کر باہر جاتی ہے، اپنے والدین کی عزت کرتی ہے، استاد کا حکم مانتی ہے اس کے دوستوں کی فہرست میں یاسمین اور نادہ شامل ہیں اس کا کوئی بوائے فرنڈ نہیں ہے! یہ تخلیق ہے شام کی کمپنی “نیو بوائے“ کی۔۔۔۔۔
مزے کی بات ہے ہانگ کانگ کی جو کمپنی باربی بناتی ہے اسے ہی “نیو بوائے“ نے فلا بنانے کے لئے منتخب کیا ہوا ہے۔۔۔ یعنی جائے پیدائش ایک ہی۔۔۔۔








مکمل تحریر پڑھیں ←