نوبل انعام

"سنو اور غور سے سنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب یہ پرائز نوبل نہیں اگنوبل ہو گیا ہے۔ یہ اب صرف مغرب اور مغربی اقدار پر یقین رکھنے والوں کے لیے ہے۔ یہ آج تک کسی ایسے شخض کو نہیں ملا ،جس نے مغربی بالادستی قبول نہ کی ہو۔ اس میں سیاست اتنی ہوتی ہے کہ ایک زمانے میں جونہی کوئی روسی مصنف بھاگ کر یورپ آ جاتا جو اپنی تحریروں میں اپنے ملک کو گالیاںنکالتا تھا ۔ مثلا سونرے انشن تو فوری طور پر نوبل انعام۔۔۔۔۔ دہشت پسند بیگن کو نوبل امن انعام۔۔۔۔۔۔ علامہ اقبال کو نہیں البتہ ٹیگور کو ادب کا انعام۔۔۔دنیا کے ایک عظیم ناول نویس یاسر کمال کواس لیے انعام نہیں دیا جائے گا کہ وہ کرد ہے اور ترک ناپسند کریں گے۔ ایک ایسے یہودی ادیب کو انعام۔۔۔۔۔۔جو صرف پولینڈ کی پولش زبان میں لکھتا ہے اور انڈونیشیا سےالگ ہو جانے کے لیے جدوجہد کرنے والے مشرقی تیمور کے ایک پادری "بشپ بیلو" اور لیڈر "ہو سے ہوتا" کوامن انعام کہ شاباش بیٹا مسلمان ملک سے الگ ہونے کوشش میں ہم تمارے ساتھ ہیں۔ کیا یہ انعام کسی کشمیری لیڈر کو بھی مل سکتا ہے۔جو اپنی آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔اور آخری بات مدر ٹریسا کوامن انعام اس لیے کہ وہ مغرب سے آئی ہے اور عبدالستار ایدھی جو دنیا کے ہر انعام بلند ہے ۔اسے اس لائق نہیں سمجھا گیا کیونکہ وہ مشرق سے آیا ہے،چنانچہ نوبل پرائز بھی اب گینڈا ایوارڈ بن گئے ہیں" (مستنصڑ حسین تارڑ کی کتاب 'ہزاروں ہیں شکوے' سے اقتباس)۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

نم آنکھ

نم آنکھ سے ہر چیز دھندلی دیکھائی دیتی ہےخواہ یہ نمی کسی دکھ ،تکلیف، مایوسی ،درد،خوف یا خوشی کی بناء پرآئے جب سب دھندلا دیکھائی دے تو حقیقت کا ادراک ناممکن نہ بھی ہو دشوار ضرور ہوتا ہے جب تک یہ نمی آنسو کا روپ دھار کر بہہ نہ جائے اس وقت تک منظر صاف نہیں ہوتا ،بات سمجھ نہیں آتی،آنکھ چاہے بیرونی ہو یا اندرونی(دل کی)۔
*******
ایک خبر کے مطابق برطانوی وزیراعظم اپنے میک اپ پر کافی رقم خرچ کرچکے ہیں، وہ میک اپ کا استعمال میڈیا کے سامنے آنے سے قبل کرتے ہیں،کبھی اسے خواتین کے لئے مخصوص سمجھا جاتا تھا مگر اب سربراہان بھی میک اپ کرتے ہیں،واہ بھائی! بڑی بات ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←

لطیفہ

ممکن ہے یہ لطیفہ آپ کو پسند نہ آئے لہذا پیشگی معافی! ایک امریکی بچے نے راستے میں ایک پادری کو دیکھ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا“ہیلو مسٹر“۔ پادری نے شفقت آمیز لہجہ میں کہا“بیٹا تم مجھے مسٹر کے بجائے فادرکہو تو ذیادہ مناسب ہے“۔ بچے نے حیرت سے اسے دیکھا اور بولا“اچھا!توآپ یہاں گھومتے پھر رہے ہیں اور ممی اتنے برسوں سے مجھے یہ کہ رہی ہیں کہ انہیں معلوم نہیں میرا باپ کہاں ہے“۔ ××××× ذاتی تک بندی تذکرہ جب اُس نے اپنی وفاؤں کا کیا ہر قصہ نے گواہی دی اُس کی بے وفائی کی
مکمل تحریر پڑھیں ←

سانحه گھوٹگی

غفلت ہمیشہ نہ سہی مگر اکثر و بیشتر بڑے حادثات کو جنم دیتی ہے۔گھوٹگی کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ ٹرینوں کا تصادم! جو بڑی ہلاکتوں کا سبب بنتا ہے یہاں بھی دو سو سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔امدادی کاروائیاں جاری ہے۔خدا رحم کرے۔
مکمل تحریر پڑھیں ←