خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں سے جو پھول کھلے، کھلا رہے صدیوں
یہاں سے خزاں کو گزرنے کی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزا اُگے ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
خدا کرے کہ نہ خم ہو سر وقار وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک فرد ہو، تہذیب و فن کا اوج کمال
کوئی ملول نہ ہو، کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو
جشن آزادی مبارک
جواب دیںحذف کریںameen
جواب دیںحذف کریںameen
جواب دیںحذف کریںExcellent, love it! » »
جواب دیںحذف کریںآمین
جواب دیںحذف کریںدوا تو ہوتی نہیں ہم سے چلو دعا سے ہی کام چلاتے ہیں
:)