ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: اللہ جانے کون بشر ہے؟

اللہ جانے کون بشر ہے؟

بڑے بزرگ کہتے ہیں انسانوں میں ہونا ایک بات اور انسان ہونا دوسری بات ہے۔آبادی میں میں درندے بھی ہوتے ہیں اور فرشتے بھی! انسان سب سے کم ہوتے ہیں! مگر شکلیں سب کی ایک جیسی! اس انسان نما مخلوق میں ایک گرہ ایسا بھی ہے جو عمر میں مختلف مراحل میں ان تینوں درجات سے گزرتا ہے۔ جس کی کوئی ممکنہ ترتیب نہیں ہے۔ بہروپئے بھی پائے جاتے ہیں جو انسان یا فرشتے کا روپ اپنا کر اپنی درندگی کی تسکین کرتے ہیں۔
یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جیت حق و سچ کی ہوتی ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کئی بار باطل کی حکمرانی کئی تہذییوں و نسلوں کو برداشت کرنی پڑتی ہے اور جب تک حق سچ کا پلڑا بھاری ہوتا ہے آبادی میں موجود بہروپئے ایک مخصوص تعداد کو گمراہ کر کے یہ باور کروا چکے ہوتے ہیں کہ دراصل باطل ہی حق ہے۔
یہ ہی تباہی کا نقطہ عروج کہ ایک گروہ گمراہی کی اُس نہج پر ہو کہ خود کو درست جان کر باطل کی کامیابی کے لئے ایک مخلص جدوجہد کرے۔

4 تبصرے:

  1. یاسر خوامخواہ جاپانی said...

    بجا فرمایا۔
    حق ہمیشہ قلیل تعداد میں ہوتا۔
    اور باطل ہمیشہ عوام کو گمراہ کرنے کے فن سے خوب واقف ہوتا ہے۔

    [جوابی تبصرہ کریں]
  2. ali said...

    بھائی صاحب انسان چیج ای ایسی اے

    [جوابی تبصرہ کریں]
  3. محمد ریاض شاہد said...

    کہتے ہیں کہ باطل اس لئے پھیلتا ہے کہ حق پر چلنے والے لوگ علم و دانش سےاس کا پردہ چاک نہیں کرتے ۔

    [جوابی تبصرہ کریں]
  4. افتخار اجمل بھوپال said...

    حق ايک ايسا گوہر ہے کہ پہاڑ ميں دبا ہو يا سمندر کی گہرائی ميں پڑا ہو گوہر ہی رہتا ہے ۔ بلاشُبہ حق پر چلنے والوں کی تعداد ہميشہ ہی کم رہی ہے ليکن تاريخ گواہ ہے کہ حق قليل ہوتے ہوئے بھی بالطل پر حاوی ہو جاتا ہے ليکن شرط ہے تحريک ۔ يعنی انسان کے اندر حق کو پھيلانے کی تحريک ہو ۔ جب مصلحت اپنا لی جائے تو حق پسِ پُشت چلا جاتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے فرشتے کو حُکم ديا کہ فلاں بستی تباہ کر دو ۔ فرشتے نے عرض کيا "وہاں ايک انسان ايسا ہے جو صبح شام آپ کی ياد ميں رہتا ہے" ۔ حکم ہوا "ہاں اُس سميت کہ اُس نے اپنے سوا کسی کا کچھ سدھارنے کی کوشش نہيں کی"۔

    [جوابی تبصرہ کریں]

Post a Comment

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔

شئیر کریں
Share