5/19/2015

اردو + شوشل میڈیا سمٹ

قریب دو سال اور تین ماہ بعد پاکستان کے مختلف شہروں کے اردو بلاگرز آپس میں مل بیٹھیں جنوری 2013  کے آخری دنوں میں  اردو بلاگرز لاہور میں مل بیٹھے تھے جبکہ  اس بار میزبان کراچی کے اردو بلاگرز تھے مگر کراچی کے ہم بلاگرز نے اسے شوشل میڈیا سمٹ بنا دیا جو کئی اردو بلاگرز کے لئے وجہ شکایت بنا  مگر سمٹ کے بعد.

سوال اٹھائے جاتے ہیں یہ ہی سوچنے  کا حق ہے کہ ہر معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے  ایسے میں خدشات و اعتراضات بھی سامنے آتے ہیں مگر چند اعترازات کا جواب بس یہ ہوتا ہے کہ بندہ انہیں بے بنیاد قرار دے دے تاوقتکہ ان کے درست ہونے کی شہادت مثل پر موجود نہ ہو۔

میں نے خود نے گزشتہ کانفرنس کے متعلق جب لکھا تو اٹھنے والے خدشات سے متعلق یہ کہا تھا کہ جس کا جو مفاد ہو  اُسے عزیز ہمیں تو ملاقات کا ایک عمدہ بہانہ  مل گیا ساتھ میں اختتام ان الفاظ پر کیا تھا

! سو باتوں کی ایک بات اردو بلاگر پھر اردو بلاگر ہے جو اپنی دنیا آپ بناتے ہیں وہ اپنی قیمت نہیں لگاتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں ہمارے انمول ہونے کی ایک نشانی یہ ہے کہ ہم اردو بلاگر ہیں! کوئی لاکھ کوشش کرے مگر ہم رضیہ نہیں ہیں بلکہ کچھ کے لئے “بلا” ہیں جو سچ کہنے کا “گُر” جانتے ہیں!!
باقی آپ سمجھ دار ہیں !!!


اس سمٹ سے مجھے ایک  دلچسپ مشاہدہ ہوا کہ جس طرح میرے جیسے اردو میڈیم والے انگریزی زبان سے جھجک محسوس کرتے ہیں اس ہی طرح ایک مخصوص تعداد میں انگریزی میڈیم والے اردو زبان سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ انگریزی میڈیم اسکول کے فارغ و تحصیل انگلش بلاگرز صاف اردو بولنے کی ناکامی کی وجہ سے سمٹ میں پریزنٹیشن سے انکاری ہوتے رہے، اگرچہ متعلقہ موضوع پر انہیں کافی عبور حاصل تھا بلکل ایسے جس طرح اچھی کارکردگی دیکھانے کے بعد کھلاڑی مین آف دی میچ نہ بننے کی دعا کرتا ہے۔

سمٹ والا دن کافی ہنگامہ خیز تھا یہ ہمارا سمٹ والے دن خیال تھا مگر بعد میں معلوم ہوا ہنگامہ توابھی باقی ہے ۔ انسان خطا کا پتلا ہے غلطیاں ہوئی ہیں اور پہلی بار تھی ہونا بنتی بھی تھیں انہیں نوٹ کریں تاکہ آئندہ نہ ہوں لڑائی یا طنز نہیں۔ سوال اٹھانے اور طنز کرنے میں بڑا فرق ہے. جب طنز کرتے ہوئے یا طنز کرنے کے بعد سوال اٹھائے جاتے ہیں تو یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سوال کا مقصد تنگ کرنا لہذا خاموشی ہی بہترین جواب  ہے.

اس سمٹ سے کیا فائدہ ہوا؟ اس کا مقصد کیا تھا؟ کچھ فوائد فوری ہوتے ہیں اور کچھ کافی عرصے کے بعد سامنے آتے ہیں. ایسے فوائد جو دیر سے حاصل ہونے ہوں ان کے لئے ایک خاص قسم کے فالو اپ کی ضرورت ہوتی ہے خدا کرے ہم اس کے لیے مطلوبہ اقدامات کر سکیں.
اہم بات یہ کہ روایتی میڈیا نے تسلیم کیا سوشل میڈیا ایک بڑا میڈیم ہے، نیز یہ کہ وہ تو روزی روٹی کما رہے ہیں اصل حق گوئی تو صرف سوشل میڈیا پر ہی ممکن ہے. بڑے اداروں میں مالکان کی دی گئی لائن پر کام کرنا ہوتا ہے اور جبکہ سوشل میڈیا پر دل و ضمیر کی. یہ بھی کہ روایتی میڈیا کے سو سال پر سوشل میڈیا کا ایک دن بھاری ہے.

ہم اردو بلاگرز کو اپنا حلقہ احباب بڑھانا ہو گا اپنے کنویں سے باہر جانا ہو گا. اب سے پہلے میرا یہ خیال تھا اردو بلاگرز  خودنمائی نہیں چاہتے مگر معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی جذبہ ہم میں موجود ہے. جہد مسلسل ہمیں خود ہی نمایاں کر دے گی بس سفر جاری رہنا چاہئے اور ایک دوسرے سے منسلک.