12/22/2014

گوری مندر

سندھی میں اسے گوری جو مندر بتایا گیا ہے یعنی گوری کا مندر پہلے پہل سن کر خیال آیا شاید کسی رنگت کی سفید خاتون کی مناسبت سے یہ نام رکھا گیا ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ نام اس شاید گوری چی نامی جین مذہب کے پیروکار کی وجہ سے ہے جس نے اسے سن سولہویں صدی عیسوی کے شروع میں تعمیر کیا کیا تھا اگرچہ یہاں جین مذہب کے مندروں کی تعمیر 1376 ء سے ہو رہی تھی ایک روایت کے تحت یہ بھی ممکن ہے یہ تب ہی تعمیر ہوا ہو ۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ اسےایک جین مذہب کے پیروکار مینگھو نے تعمیر کیا تھا جوپاری ننگر کا رہائشی تھا،جو کہ پیرس ناتھ پرسوپو کا ماننے والا تھا، یہ پیرس ناتھ پرسوپو وہیجوصاحب خود گورو گورتھ ناتھ کا مرید تھا۔جو پیرس ناتھ پرسوپو وہیجوصاحب گوری چی خاندان سے تھے اس بناء پر اس مندر گوری مندر کے نام سے جانا جارا ہے۔یہ مندر جین مذہب کے فرقے شویت امبر کے پیروکاروں کا مانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بطورمذہبی مدرسہ کے جین مذہب کے پیروکار استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایک روایت یوں بھی ہے کہ یہ گوری نہیں گودی ہے گودی جی پرشاناتھ کی مناسبت سے، گودی جی پرشادناتھ دراصل جین مذہب کے تیسویں گرو یا پیغمبر تھےجین مذہب کے کُل چوبیس گرو یا پیغمبر ہیں۔مگر مقامی آبادی چونکہ اسے گوری مندر کہتے ہیں لہذا ہم بھی گوری مندر ہی لکھ رہے ہیں۔
اس مندر کی تاریخ کی کئی روایات ہے بہرحال یہ مندر اسلام کوٹ اور ننگرپارکر کے درمیان واقع یہ جین مذہب کا مندر ماروی کے گاوں سے قریب چار میل کے فاصلے پر ہے۔ تھرپارکر میں ننگرپارکر کا علاقہ میں کبھی جین مذہب کے کافی پیروکار آباد تھے سنا ہے قریب پچاس کے لگ بھگ یہاں جین مذہب کے چھوٹے بڑے مندر ہیں، ہم نے دو ہی کامشاہدہ کیا ہے۔
اس مندر کی تعمیر میں ماربل کا پتھر استعمال کیا گیا ہے خیال کیا جاتا ہے یہ پتھر گجرات سے لایا گیا تھا۔مندر کی تعمیرقدیم قرون وسطی طرز کی ہے۔تقریبا پچاس کے لگ بھگ چھوٹے بڑے گنبد اس مندر کی چھت پر موجودہیں۔مندر کی بیرونی بارہ دری والے گنبدکی اندرونی جانب نقش نگاری کی گئی ہے جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ نقش و نگار دراصل جین مذہب کے چوبیس گروز کی تشبیہ ہیں اور اس کے علاوہ عبادات کے مناظر و جانوروں (گھوڑا،ہاتھی وغیرہ) کی تشبیہات ہیں۔
اس وقت یہ مندر تباہی کا شکار ہے تیس فیصد مندر ٹوٹ چکا ہے مندر کے اندر چمگاڈروں کا بسیرا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ نے لوگوں کو متنبہ کرنے کو جو بورڈ لگا رکھا ہے وہ خود زمین بوس ہو رہا ہے اور اُس پر سے تنبیہ تحریر مٹ چکی ہے تو مندر کی حفاظت کا امکان ہی نظر نہیں آتا۔ زیر میں مندر کی چند تصاویر آپ کے دیکھنے کو دی جا رہی ہیں اندازہ لگائے کیسا اثاثہ تباہ ہو رہاہے کیسی تاریخی عمارت تاریک ہو رہے ہے۔