4/28/2013

ہرتال سے سوگ تک؟

ایک دور تھا شہر میں زندگی مفلوج کرنے کو شام پانچ چھ بجے کے بعد ہر علاقے میں ایک دو دکانیں یا بس جلا دی جاتی! یوں یہ حکمت عملی اگلے دن زندگی مفلوج کر دیتی اور سیاسی جماعت اپنے “زور بازو” سے شہر کی نمائندہ جماعت بن کر اپنا سیاسی قد بھی اونچا کر لیتی اور عوام کے خوف کو وہ “عوامی حمایت” بتا شہر کی نمائندہ جماعت بتاتے ! فارمولا ا س قدر کامیاب ہوا کے بعد میں آنے والوں میں نہ صرف اس کو اپنایا بلکہ پرانے نمائندہ نے شہر میں اپنی کم ہوتی “مقبولیت” کو اس ہی فارمولے سے بچانے کی کوشش کی! یوں جمہوریت کا یہ حُسن بھی اہل شہر کے سامنے آیا کہ بدمعاشوں کا خوف ہی مینڈیٹ ٹھہرا!اور یوں کامیاب ہرتال کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت وقت سے منظور ہو جاتے تھے۔
اب خود حاکم ہو کر آئے ہیں! اب میڈیا کا دور ہے! میڈیا والوں سے یاری بھی پکی ہو گئی ہے! پہچان میں آ کر بھی نا معلوم ہوتے ہیں۔ حاکم ہرتال نہیں کرتے مگر کیا کرے مینڈیٹ تو زندگی مفلوج ہوتا ہے لہذا سوگ کا اعلان کر کے مینڈیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ خوف کی تشہیر کو میڈیا جو ہے ، جان کی امان کو سب گھروں میں مقید ہو جاتے ہیں۔
سوگ کا اعلان کرنے والے مانے یا نہ مانے یہ سوگ دراصل خود ان کی زبانی اپنی نا اہلیت کا ثبوت ہے۔ آپ پانچ سال حکومت میں رہے جب سندھ کی حکومت میں آپ کو حصہ نہیں مل رہا تھا تو آپ نے شہر کو آگ لگا کر بلیک میل کر کے حصہ لیا۔ ہمارا کراچی جیسا نعرہ لگایا! شہر آپ کی جاگیر رہا اب اگر جل رہا ہے تو آپ مانے کہ یہ آپکی نا اہلی ہے یا پھر یہ ہی آپ کی اہلیت ہے۔ بڑوں سے سنا ہے اپنی نالائقی پر افسوس کرنا واجب ہے مگر یہ افسوس خود تک محدود ہونا چاہئے نہ کہ سوگ کو پورے شہر پر مسلط کیا جائے۔
گیارہ مئی فیصلے کا دن ہے خدا کرے بارہ مئی کا سورج کراچی کے اعتبار سے کراچی کے دشمنوں کے لئے ایسا ہی ہو جیسا کبھی اُن کے ہاتھوں اہل شہر نے بھگتا تھا!