3/03/2013

ناکامی کا جواز

یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ یار لوگ کسی امتحان، مقابلے یا انتخاب کے سلسلے میں اپنی جدوجہد و تیاری کی کوتاہی کو چھپانے کے لئے عموماً ناکامی کی ایسی وجوہات کو تخلیق کرتے ہیں جس میں حقیقت نہیں ہوتی مگر سامنے والے اِس لئے اُسے قبول کر لیتے ہیں کہ انہوں نے بھی زندگی میں ایسے ہی کسی بہانے کو اپنی یا اپنے کسی اپنے کی ناکامی کے جواز کے طور پر پیش کیا تھا۔
کامیابی یقین جانے ایک قابل و ذہین شخص سامنے والی کی صرف ضرورت ہی نہیں ہوتا بلکہ اُس کی مجبوری ہوتا ہے۔ اور مسلسل جدوجہد ہی کسی فرد کو سامنے والے کی مجبوری کے قابل بناتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ جواز ناکام ہونے والا صرف دوسرے کو مطمئین بھرا جواب دینے کے لئے ہی نہیں تراشتا بلکہ بیشتر خود کو تسلی دینے کے لئے استعمال کرتا ہے۔
کامیاب ہونا اور کامیاب رہنا دو مختلف چیزیں یا باتیں ہیں۔ کامیاب ہونے والے لازمی نہیں سدا کامیاب رہے مگر وہ ہمیشہ ناکام نہیں ہوتا جو ناکامی کا جواز تراش کر پیش کرنے کے بجائے اُس وجہ کو ختم کرنے یا مدھم کرنے کی سہی کرے۔
میں نے اپنے اردگرد ایسے لوگوں کو جو جہد مسلسل پر یقین رکھتے ہیں اخلاقیات کے تمام قاعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے کامیاب دیکھا ہے اور اخلاقی اصولوں کو کامیابی کی خاطر پامال کرنے کے باوجود ناکام دیکھا ہے، یہ ہی وہ افراد ہیں جنہیں ناکامی کا جواز چاہئے ہوتا ہے۔