2/22/2013

ہر گھر سے بھٹو نکلے گا!!

اڑے سنا کچھ تم نے کیا؟
“کیا کچھ نیا ہو گیا ہے؟”
نہیں کچھ نیا تو نہیں ہے مگر نئے نئے جیسا ہی سمجھو!!
“اچھا! کیا ہوا اب کے “
سنا ہے کہ ایوان صدر سے قائداعظم کی تصویر اُتارنے کی ناکام کوشش کی بعد سرکار نے اب پمز اسپتال کا نام بھٹو کے نام پر رکھنے کا ارادہ کیا ہے
“اوہ! اس معاملے کی بات کر رہے ہو”
تو تمہارے لئے یہ کوئی بات ہی نہیں؟
“بات تو ہے مگر ٹیشن کیو ں لیتا ہے”
کیوں نہ لو؟
har gar say bhutto nikly ga
“ابے نام تبدیل کرنے والوں نے یہ کام اپنے گھر سے شروع کیا ہے اور اس کا کوئی مقصد ہے جناب!”
کیا کہہ رہا ہے؟ گھر سے کیسے شروع کیا اُنہوں نے؟
“یار سب سے پہلے ایوان صدر والوں نے اپنی سب سے اہم شے پر بھٹو کا لیبل لگایا تھا”
کیا شے؟
“اوہ! اللہ کے بندے اولاد کی بات کر رہا ہوں! اُس کا نام بھی بدل کر بھٹو کیا تھا ناں”
اور مقصد؟
“یار تجھے ان کا نعرہ نہیں یاد کیا؟”
کون سا وہ روٹی کپڑا اور مکان والا؟
“نہیں یار وہ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا والا”
اچھا!! ویسے یہ اولاد سے لے کر اداروں اور اداروں سے عمارتوں تک کے نام بھٹو کرنے والے اپنے روش بندل لےتو اچھا ہے کہیں ایسا نہ ہو ہر گھر سے واقعی بھٹو نکل باہر ہو!!